| قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
|
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
مودودی صاحب کے ترجمہ قرآن کی مکمل ٹیکسٹ فائل یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجئے۔ بشکریہ برادران ابوشامل و باذوق۔ سید مودودی علیہ الرحمۃ قرآن ترجمانی ٹکسٹ فائل Last edited by عبداللہ حیدر; 15-08-11 at 08:07 AM. وجہ: ترجمے کی مکمل ٹیکسٹ فائل کا اضافہ، |
|
|
|
| 33 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | Arabian (01-07-09), arslansun (25-02-09), Aurangzeb Yousaf (20-04-09), champion_pakistani (20-10-08), sjk (17-04-09), skjatala (04-06-11), فیصل ناصر (14-03-09), ہادی (01-06-11), فخر بٹ (15-08-11), پاکستانی (28-07-10), ھارون اعظم (14-08-11), یاسر عمران مرزا (27-07-10), وقار عباسی (23-01-12), چیتا چالباز (30-05-09), نویدظفرکیانی (05-08-11), میاں شاہد (18-10-08), مون لائیٹ آفریدی (07-06-09), موجو (19-08-09), منتظمین (17-10-08), محمد عاصم (18-08-10), محمدمبشرعلی (28-07-10), مرزا عامر (30-06-10), مسافر (19-08-09), ابن آدم (15-08-10), ابن جلال (17-10-08), ابرارحسین (31-05-09), احمد نذیر (09-06-11), احمدنواز (20-08-09), باذوق (17-10-08), حیدر (16-04-10), طارق اقبال (11-10-10), عُکاشہ (21-04-09), عبداللہ آدم (26-10-10) |
|
|
#16 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
سورۃ الصف کا ترجمہ از مودودی صاحب
اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ اور یاد کرو موسیٰ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ "اے میری قوم کے لوگو، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں"؟ پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اور یاد کرو عیسیٰ بن مریمّ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہو گا۔ مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام(اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ اے نبی، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسٰی ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے ) میں میرا مددگار"؟ اور حواریوں نے جواب دیا تھا "ہم ہیں اللہ کے مددگار"۔ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا، پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم بھائی
بہت شکریہ Last edited by Aurangzeb Yousaf; 11-06-10 at 03:04 PM. |
|
|
|
| Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (16-04-10) |
|
|
#18 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم عبداللہ بھائی
اسلام علیکم میرے پاس درج ذیل سورتوں کا ترجمہ نہیں ہے ہو سکتا ہے آپ کے پاس ٹائپ شدہ ہو، اور آپ اپ لوڑ کرنا بھول گئے ہوں۔ براہ کرم چیک کر لیجیے۔ سورت نمبر 1 تا 7، 12تا17، سبا34،یس36،ص38،الزمر39،خم السجدہ41،شوری42، الدخان44،جاثیہ45، 62 تا 114) والسلام آپکا بھائی |
|
|
|
| Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (16-04-10) |
|
|
#19 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم عبداللہ بھائی
السلام علیکم کیا آپ نے کچھ اور سورتوں کے ترجمے پر کوئی کام کیا؟ میں منتظر ہوں۔۔۔۔۔ فی امان اللہ |
|
|
|
| Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (16-04-10) |
|
|
#23 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 172
کمائي: 5,413
شکریہ: 99
143 مراسلہ میں 521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
تفہیم القرآن ایم-ایس ورڈ میں اعجاز صاحب نے اَپ لوڈ کی ہے : مقدمہ سورت نمبر 18 تا 26 سورت نمبر 31 تا 42 سورت نمبر 43 تا 53 سورت نمبر 54 تا 65 زیر تکمیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ نمبر:1 تا 17 (17) سورہ نمبر:27 تا 30 (4) سورہ نمبر:66 تا 114 (49) اس طرح جملہ 70 سورتوں کی کمپوزنگ ابھی باقی ہے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-07-10), حیدر (16-04-10) |
|
|
#24 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 368
کمائي: 8,455
شکریہ: 1,407
276 مراسلہ میں 813 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بہت شکریہ عبداللہ حیدر بھائی مولانا کا ترجمہ قرآن تو مکمل ہے لیکن اسکو یونیکوڈ کرنے کے بعد پروف ریڈنگ ہوگی اس پہ ان شاء اللہ میںجلد ہی اپ سب کو خوشخبری دوں گا۔ یاد رہے کہ ترجمہ قرآن اور تفہیم والے ترجمے میں کچھ فرق ہے یہ ترجمہ قرآن ہندوستان میںترجمانی قرآن کے نام سے پرنٹ ہوتا ہے۔
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو( |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-07-10), حیدر (16-04-10) |
|
|
#25 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 172
کمائي: 5,413
شکریہ: 99
143 مراسلہ میں 521 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-07-10), حیدر (16-04-10) |
|
|
#26 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی اگر آپ کے پاس مکمل ترجمہ قرآن ہے تو پلیز مجھے ای میل کیجئے گا۔ بہت مہربانی ہوگی۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (02-07-10), حیدر (16-04-10) |
|
|
#27 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم قارئين
اسلام علیکم ذیل میں سورہ نوح سے سورہ الناس کا مودودی صاحب کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ پروف ریڈنگ درکار ہو گي۔ یہ ہماری ایک بہن کی کاوش ہے ۔ اللہ قبول فرمائے اور ان کواس کا اجر عطا فرمائے۔ والسلام 71۔سورۃ نوح: ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ( اس ہدایت کے ساتھ ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے۔ اس نے کہا " اے میری قوم کے لوگو! میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کر دینے والا (پیغمبر) ہوں۔ ( تم کو آگاہ کرتا ہوں ) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا ۔ کاش تمہیں اس کا علم ہو"۔ اس نے عرض کیا " اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا مگر میری پکار نے ان کے فرار ہی میں اضافہ کیا ۔ اور جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا ۔ پھر میں نے انکو ہانکے پکارے دعوت دی۔ پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔ میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے لئے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟ حالانکہ اس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ کیا دیکھتے نہیں ہوکہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا ، پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ اور اللہ نے زمین کو تمہار ے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو"۔ نوح عہ نے کہا ، " میرے رب، انہوں نے میری بات رد کر دی اور ان (رئیسوں ) کی پیروری کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں۔ ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا ہرگز نا چھوڑو اپنے معبودوں کو ، اور نہ چھوڑو ود اور سواع کو، اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو ، انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی ان ظالموں کو گمریہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے۔" اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کئے گئے ہیں اور آک میں جھونک دئیے گئے ، تھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی مدد گار نہ پایا۔ اور نوح عہ نے کہا "میرے رب، ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا۔ میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے ، اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"۔ 72۔سورۃ الجن: اے نبی صہ کہو ، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر (جا کر اپنی قوم کےلوگوں سے) کہا: " ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہےجو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔" اور یہ کہ: " ہمارے رب کی شان بہت اعلی و ارفع ہے ، اس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے۔" اور یہ کہ: " ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت اختلاف حق باتیں کہتے رہتے ہیں ۔" اور یہ کہ:" ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے۔" اور یہ کہ: انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اس طرح انہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا۔" اور یہ کہ: " انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا۔" اور یہ کہ: " ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے ۔" اور یہ کہ: " پہلے ہم سن گن لینے کے لئے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتاہے وہ اپنے لئے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے۔" اور یہ کہ: " ہمارے سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کا رب انہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے۔" اور یہ کہ:" ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں ، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔" اور یہ کہ:" ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں " اور یہ کہ: " ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا ۔" اور یہ کہ:" ہم میں سے کچھ مسلم ( اللہ کے اطاعت گذار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف۔تو جنہوں نے اسلام ( اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی ، اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔" اور ( اے نبی، کہو مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے ، تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں ۔ اور جو اپنے رب کے زکر سے منہ موڑے گا اس کا رب اسےسخت عذاب میں مبتلا کر دے گا ۔ اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں ، لہذا ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کس لئے کھڑا ہو تو لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اے نبی، کہو کہ" میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔" کہو:" میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا ۔" کہو:" مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتااور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں۔ میرا کام اسکے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اسکے پیغامات پہنچا دوں ، اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لئے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔" ( یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے ) یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔ کہو:" میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لئے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے ۔ وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، سوائے اس رسول کے جسے اس نے (عیب کا کوئی علم دینے کے لئے) پسند کر لیا ہو ، تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے ۔ تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ، اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے۔" 73۔سورۃ المزمل: اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ، رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لئے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں ۔ اپنے رب کے نام کا زکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو ۔ وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، لہذا اسی کو اپنا وکیل بنا لو۔ اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ۔ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور انہیں زرا کچھ دیر اسی حالت پر رہنے دو ۔ ہمارے پاس ( ان کے لئے)بھارے بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔ یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑلرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیرہیں جر بکھرے جا رہے ہیں۔ تم لوگوں کے پاس ہم نے اسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا ۔ (پھر دیکھ لو کہ جب ) فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کس ساتھ پکڑ لیا۔ اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تم اس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کردےگا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہو گا ؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے۔ یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ اے نبی، تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی در تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو ، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔ اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے ، اسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی ، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو ۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہونگے ، کچھ دوسرے لوگ اللہ کےفضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ۔ پس جتنا قرآن آسانی سے پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو ۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے۔ وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کے اجر بہت بڑا ہے۔ اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بےشک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ 74۔سورۃ المدثر: اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور خبردار کرو۔ اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔ اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ اور گندگی سے دور رہو۔ اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے۔ اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔ اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی، وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا ، کافروں کے لئے ہلکا نہ ہوگا ۔ چھوڑ دو مجھے اور اس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ، بہت سا مال اس کو دیا، اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے ۔ اور اس کے لئے ریاست کی راہ ہوار کی، پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں، وہ ہمارے آیات سے عناد رکھتا ہے۔ میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا ۔ اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی، تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے ای کوشش کی۔ ہاں، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے۔ عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟ نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ کھال جھلس دینے والی۔ انیس کارکن اس پر مقرر ہیں _____ ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لئے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں ، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے ۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اسکے سوا کوئی نہیں جانتا ____ اور اس دوزخ کا زکر اس کے سوا کسی غرض کے لئے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔ ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے، اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے ، یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے ، انسانوں کے لئے ڈراوا، تم میں سے ہر اس شخص کس لئے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔ ہر متنفس اپنے کسب کے بدلے رہن ہے ، دائیں بازو والوں کے سوا ، جو جنتوں میں ہونگے۔ وہاں وہ مجرموں سے پوچھیں گے "تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟" وہ کہیں گے "ہم نماز پڑھنے والوں میں سےنہ تھے ، اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے، اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا۔" اس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں ۔ بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں۔ ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کر لے۔ اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ وہ اسکا حقدار ہے کہ اس سے تقوہ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ ( تقوہ والوں کو ) بخش دے۔ 75۔سورۃ القیامۃ: نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ، اور نہیں میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔ کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہیں کر سکیں گے ؟ کیوں نہیں؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔ مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیکمت کا دن؟" پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بے نور ہو جائے گا۔ اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے اس وقت یہی انسان کہے گا"کہاں بھاگ کر جاؤں؟" ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا۔ اس روز انسان کو اسکا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔ بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے____ اے نبی ، اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو، اس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے زمے ہے، لہذا جب ہم اسے پڑھ رہے ہوں اس وقت تم اس کی قرات کو غور سے سنتے رہو ، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی زمہ ہے ___ ہرگز نہیں اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ اس روز کچھ چہرے تروتازہ ہونگے ، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ اور کچھ چہرے اداس ہونگے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے۔ ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی ، اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا، اور آدمی سمجھ لے گاکہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی، وہ دن ہو گا تیرے رب کی طرف روانگی کا۔ مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی، بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا، پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا۔ یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہےاور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہےاور تجھی کو زیب دیتی ہے۔ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضاء درست کئے، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کر دے۔ 76۔سورۃ الدھر: کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گذرا ہے جب وہ کوئی قابل زکر چیز نہ تھا؟ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔ کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ نیک لوگ ( جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی ، یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو (دنیا میں) نذر پوری کرتے ہیں اوراس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اور اللہ کی محبت میں مسکین اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں ( اور ان سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں طرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، ہمیں تو اپنے رب سے اس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا ۔ پس اللہ تعالی انہیں اس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا۔ اور ان کے صبر کے بدلے میں انہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ انہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی اور نہ جاڑے کی ٹھر۔ جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی۔ اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔( کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ لیں)۔ ان کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جا رہے ہوں گے ، شیشے بھی وہ چاندی کی قسم کے ہوں گے۔ اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کی آمیزش ہوگییہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے،اور ان کا رب ان کونہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔یہ ہے تمہاری جزا اورتمہاری کارگذاری قابل قدر ٹھہری ہے۔ اے نبی ہم نے ہی تم پہ یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے ، لہذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو۔ اور ان میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔ اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔ یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ہم نے ہی ان کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے ہیں، اور ہم جب چاہیں ان کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں ۔ یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ، جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ یقینا اللہ بڑا علیم اور حکیم ہے ، اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 77۔سورۃ المرسلات: قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں، پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں اور بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں، پھر ( ان کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں، پھر ( دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں، عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر ، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہےوہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔پھر جب ستارے مانند پڑ جائیں گے، اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا ( اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟ فیصلے کے روز کے لئے ۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟ پھر انہیں کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا اور ایک مقررہ مدت تک اسے ایک محفوظ جگہ ٹھرائے رکھا؟ تو دیکھو، ہم اس پر قادر تھے، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا، زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی اورا س میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔نہ ٹھنڈک پہنچانے والا ہے اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا۔ وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی (جو اچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ ذرد اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ یہ وہ دن ہے جس میں نہ وہ کچھ بولیں گے اور نا انہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گذرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے ۔ اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلے میں چل دیکھو۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں اور جو پھل وہ چاہیں ( ان کے لئے حاضر ہیں) ۔ کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ کھا لو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔ حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کا (اللہ کے آگے) جھکو تو نہیں جھکتے۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کےلئے۔ اب اس (قرآن) کے بعد اور کون سا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ 78۔سورۃ النبا: یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟ کیا اس بڑی خبر کے بارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ منگوئیاں ارنے میں لگے ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا، اور تمہیں (مردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا، اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا، اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کئے، اور ایک نہابت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا۔ اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے زریعے سے غلہ اور سبزی اور گھنے باغ اگائیں؟ بےشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی ، تم فوج در فوج نکل آؤ گے۔ اور آسمان کھول دیا جائے گا حتی کہ وہ دروازے ہی دروازے ہو کر وہ جائے گا ، اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے۔درحقیقت جہنم ایک گھات ہے، سرکشوں کا ٹھکانہ ، جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نا چکھیں گے ، کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون ، (ان کے کرتوتوں کا) بھر پور بدلہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نا رکھتے تھے اور ہماری آیات کو انہوں نے بلکل جھٹلا دیا تھا اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی ۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے۔ یقینا متقیوں کے لئے کامرانی کا ایک مقام ہے، باغ اور انگور اور نوخیز ہم سن لڑکیاں، اور چھلکتے ہوئے جام، وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے۔ جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے ، اس نہابت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔ جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ۔ وہ دن برحق ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے۔ ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرا دیا ہےجو قریب آ لگا ہے۔ جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔ 79۔سورۃ الناذعت: قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو ڈوب کر کھینچتے ہیں ، اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں، اور (ان فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں ، پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں، پھر (احکام الہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔ جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا ، کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی۔یہ لوگ کہتے ہیں" کیا واقعی ہم پلٹا کر واپس لائے جائیں گے؟ کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟ " کہنے لگے" یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی؟ " حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ کیا تمہیں موسی کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟ جب اس کے رب نے اسے طوی کی مقدس وادی میں پکارا تھا۔کہ " فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟ پھر موسی نے (فرعون کے پاس جا کر) اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اورنہ مانا، پھر چالبازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا" میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ، آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا، درحقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے۔ کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اس کو بنایا، اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اس کا توازن قائم کیا ، اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا، اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے۔ پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا ، جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا،اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی، تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہوگی۔ اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا، جنت اسکا ٹھکانہ ہوگی۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ" آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟" تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ۔ اس کا علم تو اللہ کے پاس ختم ہے۔ تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اس شخص کو جو اس کا خوف کرے۔ جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ ( یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔ 80۔سورۃ العبس: ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آ گیا ۔ تمہیں کیا خبر شایدوہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو؟ جو شخص بےپروائی برتتا ہے، اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو ، حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا زمہ داری ہے؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے ، اس سے تم بےرخی برتتے ہو۔ ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے ، جس کا جی چاہے اسے قبول کرے، یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں، بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، معزز اور نیک کاتبوں کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔لعنت ہو انسان پر ، کیسا سخت منکر حق ہےیہ۔ کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ نطفہ کی ایک بوند سے۔ اللہ نے اسے پیدا کیا، پھر اس کی تقدیر مقرر کی، پھر اس کے لئے زندگی کی راہ آسان کی،پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ پھر جب چاہے وہ اسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے۔ہرکز نہیں، اس نےوہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا ۔ پھر زرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ ہم نے خوب پانی لنڈھایا، پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا ، پھر اس کے اندر اگائے غلے اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل اور چارےتمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر۔آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہو گی------ اس روز آدمی ، اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہر شخص پراس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ کچھ چہرے اس روز دمک رہے ہوں گے ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہونگے ۔ اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی اور کلونس چھائی ہوگی یہی کافر و فاجر لوگ ہونگے۔ 81۔سورۃ التکویر: جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ، اور جب تارے بکھر جائیں گے ، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پرچھوڑ دی جائیں گی۔ اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکھٹے کر دیے جائیں گے۔اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے، اور جب جانیں ( جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی ، اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قھور میں ماری گئی ؟ اور جب اعمال نامےکھولے جائیں گے ، اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا ، اور جب جہنم دہکائی جائے گی، اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی ۔ اس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کو وہ کیا لے کر آیا ہے۔پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی ، اور رات کی جب وہ رخصت ہوئی اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا۔یہ فی الوہقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے جو بڑی توانائی رکھتا ہے۔عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے، وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے۔ اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے، اس نے اس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے۔اور وہ غیب ( کے اس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے۔ اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے ۔ پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو؟ یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے، تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو ۔ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ رب العالمین نہ چاہے۔ 82۔سورۃ الانفطار: جب آسمان پھٹ جائے گا ، اور جب تارے بکھر جائیں گے ، اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے ، اور جب قبریں کھول دے جائیں گی ، اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا۔ اے انسان ، کس چیز نےتجھے اپنے اس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا ، تجھے نک سک سے درست کیا ، تجھے متناسب بنایا اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا ؟ ہرگز نہیں ، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو حالانکہ تم پر نگران مقرر ہیں، ایسے معززکاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔ یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے۔ اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لئے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔ فیصلہ اس دن بلکل اللہ کے اختیار میں ہوگا۔ 83۔سورۃ المطففین: تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لئے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں ، اور جب ان کو ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟اس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونگے ۔ ہرگز نہیں، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قیدخانے کے دفتر میں ہے ۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قیدخانے کا دفتر کیا ہے؟ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی ۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گذر جانے والا بدعمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں۔ ہرگز نہیں، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے ۔ ہرگز نہیں، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے، پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے پھر ان سےکہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔ بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہونگے ، اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے ، ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔ ان کو نفیس ترین سربند شراب پلائی جائے گیجس پر مشک کی مہر لگی ہوگی۔ جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو جاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔ اس شرابمیں تسنیم کی آمیزش ہوگی، یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے۔ مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب ان کے پاس سے گذرتے تو آنکھیں مار مار کر ان کی طرف اشارہ کرتے تھے ، اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے ، اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں ، حالانکہ وہ ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں ، مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں ، مل گیا نہ کافروں کو ان کی حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے۔ 84۔سورۃ الانشقاق: جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے ( کہ اپنے رب کا حکم مانے) ۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لئے حق یہی ہے کہ ( اس کی تعمیل کرے)۔ اے انسان تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہےاور اس سے ملنے والا ہے ۔ پھر جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا ۔ رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اسکے پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا ۔ اس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے۔ پلٹنا کیسے نہ تھا ، اس کا رب اس کے کرتوت دیکھ رہا تھا۔ پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ، اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے، اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہو جاتا ہے ، تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔ پھر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے ؟ بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں، حالانکہ جو کچھ یہ ( اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ لہذا ان کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ 85۔سورۃ البروج: قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی، اور اس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی کہ مارے گئے گڑھے والے ( اس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی ۔ جبکہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے ۔ اور ان اہل ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سےنہ تھی کہ وہ اس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی زات میں آپ محمود ہے ، جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے ، یقینا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلائے جانے کی سزا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ، یقینا ان کے لئے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، یہ ہے بڑی کامیابی ۔ درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا ہے، محبت کرنے والا ہے، عرش کا مالک ہے، بزرگ و بر تر ہے، اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے ؟ فرعون اور ثمود کی لشکروں کی؟ مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ( ان کے جھٹلانے سے اس قرآن کی کچھ نہیں بگڑتا) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہےاس لوح میں (نقش ہے) جو محفوظ ہے۔ 86۔سورۃ الطارق: قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی ۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟ چمکتا ہوا تارا۔ کو ئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ پھر زرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یقینا وہ (خالق) اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی اس وقتانسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا۔ قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی اور ( نباتات اگتے وقت ) پھٹ جانے والی زمین کی ، یہ ایک جچی تلی بات ہے ، ہنسی مڈاق نہیں ہے۔ یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں ۔ پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ایک زرا کی زرا ان کے حال پر چھوڑ دو۔ 87۔سورۃ الاعلی: (اے نبی) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا۔ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولو گے سوائے اس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی۔اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں ، لہذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کرے گا، اور اس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بدبخت جو بڑی آگ میں جائے گا، پھر نہ اس میں مرے گا نہ جئیے گا۔ فلاح ّ پا گیا وہ جس نےپاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نمازپڑھی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی، ابراھیم اور موسی کے صحیفوں میں۔ 88۔سورۃ الغاشیہ: کیا تمہیں اس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے ؟ کچھ چہرے اس روز خوفزدہ ہونگے ، سخت مشقت کر رہے ہوں گے ، تھکے جاتے ہونگے ، شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے ، کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا، خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا، جو نہ موٹا کرے نا بھوک مٹائے۔ کچھ چہرے اس روز بارونق ہونگے ، اپنی کارگذاری پر خوش ہونگے۔عالی مقام جنت میں ہوں گے ، کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے، اس میں چشمے رواں ہونگے ، اس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی۔ ساغر رکھے ہوئے ہونگے ، گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔ (یہ لوگ نہیں مانتے ) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ؟ آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا ؟ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ؟ اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟اچھا تو ( اے نبی) نصیحت کئے جاؤ ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا۔ ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے، پھر ان کا حساب لینا ہمارے ہی زمہ ہے۔ 89۔سورۃ الفجر: قسم ہے فجر کی ، اور دس راتوں کی، اور جفت اور طاق کی ، اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔ کیا اس میں کسی صاحب عقل کے لئے کوئی قسم ہے؟ تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ ، جن کےمانند کو ئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟ اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخرکار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے۔مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اسکو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا اور جب وہ اسکو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے زلیل کر دیا۔ ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے ، اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے ، اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ہر گز نہیں ،جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی ، اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑف ہونگے، اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی ، اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں۔ اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ (دوسری طرف ارشاد ہوگا ) اے نفس مطمئن ، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو ( اپنے انجام نیک سے) خوش ( اور اپنے رب کے نذدیک) پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔ 90۔سورۃ البلد: نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی اور حال یہ ہے کہ ( اے نبی) اس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے ، اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس کی اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی ، درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے ۔ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑادیا۔کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا؟ کیا ہم نے اسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دوہونٹ نہیں دیے؟ اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھا دیے؟ مگر اس نے دشوار گذار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ دشوار گذار گھاٹی کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا ، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا ۔ پھر ( اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ( خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی۔یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے ۔ اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں، ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ 91۔سورۃ الشمس: سورج اور اس کی دھوپ کی قسم اور چاند کی قسم جبکہ وہ اسکے پیچھے آتا ہے ، اور دن کی قسم جبکہ وہ ( سورج کو) نمایاں کر دیتا ہے ، اور رات کی قسم جبکہ وہ ( سورج کو) ڈھانک لیتی ہے ، اور آسمان کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے قائم کیا،اور زمین کی اور اس زات کی قسم جس نے اسے بچھایا، اور نفس انسانی کی اور اس زات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ، پھر اس کی بدی اور اس کی پرتیزگاری اس پر الہام کر دی، یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کی تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا۔ ثورد نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جب اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھا تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ خبردار ، اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اور اس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)۔ مگر انہوں نے اس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔آخر کار ان کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا، اور اسے ( اپنے اس فعل کے) کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ 92۔سورۃ اللیل: قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو ، اور اس زات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا، درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں ۔ تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے ) پرہیز کیا ، اور بھلائی کو سچ مانا، اس کو ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے۔اور جس نے بخل کیا اور (اپنےخدا سے ) بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کے لئے سہولت دیں گے۔ اور اس کا مال آخر کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے؟بےشک راستہ بتانا ہمارے زمہ ہے، اور درحقیقت آخرت اور دنیا دونوں کے ہم ہی مالک ہیں ۔ پس میں نے تم کو خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے ۔ اس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا ۔ اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔ اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اسے دینا ہو ۔ وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کرتا ہے اور ضرور وہ (اس سے) خوش ہوگا۔ 93۔سورۃ الضحی: قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے ( اے نبی) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور وہ ناراض ہوا۔ اور یقینا تمہارے لئے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے ، اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانہ فراہم کیا ؟ اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔ لہذا یتیم پر سختی نہ کرو ، اور سائل کو نہ جھڑکو ، اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔ 94۔سورۃ الم نشرہ: (اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا؟ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا بلند آواز ہ بلند کر دیا۔ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ۔ بےشک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ لہذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو ۔ 95۔سورۃ التین: قسم ہے انجیر اور زیتون کی اور طور سینا اور اس پر امن شہر (مکہ) کی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا ، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ پس (اے نبی) اس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے؟ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟ 96۔سورۃ العلق: پڑھو (اے نبی) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ۔ پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے زریعے سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے (حالانکہ) پلٹنا یقینا تیرے رب ہی کی طرف ہے۔ تم نے دیکھا اس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز 97۔سورۃ القدر: ہم نے اس ( قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔ 98۔سورۃ البینہ: اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے ( وہ اپنے افر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے جن میں بلکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں۔ پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی ان میں تفرقہ برپا نہیں ہو ا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس ( راہ راست کا) بیان واضع آ چکا تھا۔ اور ان کو اس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے بلکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ۔ یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں۔ ان کی جزا ان کے رب کے یہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔ یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو۔ 99۔سورۃ الزلزال: جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی، اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی ، اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو کیا ہو رہا ہے ، اس روز وہ اپنے ( اوپر گذرے ہوئے) حالات بیان کرے گی ، کیونکہ تیرے رب نے اسے ( ایسا کرنے کا) حکم دیا ہوگا ۔ اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ ان کے اعمال انکو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے زرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسکو دیکھ لے گا ، اور جس نے زرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اسکو دیکھ لے گا۔ 100۔سورۃ العادیت: قسم ہے ان (گھوڑوں ) کی جو پھنکاریں مارتے ہوئے دوڑتے ہیں ، پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں ، پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں، پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں ، پھر اسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، اور وہ خود اس پر گواہ ہے، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔ تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اسے نکال لیا جائے گا، اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ یقینا ان کا رب اس روز ان سے خوب باخبر ہوگا۔ 101۔سورۃ القارعۃ: عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہونگے ۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہونگے وہ دلپسند عیش میں ہوگا اور جس کے پلڑے ہلکے ہونگے اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے ؟ بھڑکتی ہوئی آگ۔ 102۔سورۃ التکاثر: تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ ( اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ہرگز نہیں عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا ۔ پھر (سن لو کہ) عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا ۔ ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے ( اس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے ( تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے ۔ پھر ( سن لو کہ) تم بلکل یقین کے ساتھ اسے دیکھ لوگے ۔ پھر ضرور اس روز تم سے ان نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ 103۔سورۃ العصر: زمانے کی قسم، انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، اور نیک اعمال کرتے رہے ، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ 104۔سورۃ الھمزہ: تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو (منہ در منہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسکا مال ہمیشہ اسکے پاس رہے گا۔ ہرگز نہیں، وہ شخص تو چکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا ۔ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟ اللہ کی آگ، خوب بھڑکائی ہوئی، جو دلوں تک پہنچے گی ۔ وہ ان پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی( اس حالت میں کہ وہ) اونچے اونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے)۔ 105۔سورۃ الفیل: تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟ اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے، پھر ان کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا۔ 106۔سورۃ القریش: چونکہ قریش مانوس ہوئے ، (یعنی ) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس ، لہذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ 107۔سورۃ الماعون: تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریا کاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔ 108۔سورۃ الکوثر: (اے نبی) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا۔ پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ تمہارا دشمن ہی جڑکٹا ہے۔ 109۔سورۃ الکافرون: کہہ دو کہ اے کافروں، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو، اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین۔ 110۔سورۃ النصر: جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے اور ( اے نبی) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو، بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 111۔سورۃ اللھب: ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے اسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ شعلہ زن آک میں ڈالا جائے گا اور ( اس کے ساتھ) اس کی جورو بھی، لگائی بجھائی کرنے والی، اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی۔ 112۔سورۃ الاخلاص: کہو، وہ اللہ ہے، یکتا۔ اللہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ۔اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ 113۔سورۃ الفلق: کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی ، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے اور گرہوں میں پھونکنے والوں( یا والیوں ) کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ 114۔سورۃ الناس: کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ، انسانوں کے حقیقی معبود کی اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے، جو لوگوں کے دلوں ویں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ Last edited by Aurangzeb Yousaf; 11-06-10 at 03:01 PM. |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (11-06-10), فاروق سرورخان (02-07-10), فخر بٹ (15-08-11), پاکستانی (28-07-10), ھارون اعظم (11-06-10), محمدمبشرعلی (17-08-10), ابرارحسین (11-06-10) |
|
|
#28 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم قارئين
اسلام علیکم ذیل میں سورہ الحدید سے سورہ االحاقۃتک کا مودودی صاحب کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ پروف ریڈنگ درکار ہو گي۔ یہ ہماری ایک بہن کی کاوش ہے ۔ اللہ قبول فرمائے اور ان کواس کا اجر عطا فرمائے۔ والسلام 57۔سورۃ الحدید: اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے اور وہی زبردست دانا ہے۔زمین اور آسمان کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اورموت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی ، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہےاور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ۔ وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔ وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لئے اسی کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں ۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پراور خرچ کرو ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گےان کے لئے بڑا اجر ہے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہےاور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لئے ہے۔ تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گناہ بڑھا کر واپس دے، اور اس کے لئے بہترین اجر ہے اس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ ( ان سے کہا جائے گا کہ)"آج بشارت ہے تمہارے لئے۔" جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں ، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا ۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب ۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا تم ہمارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکےباز تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دیتا رہا۔ لہذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے ۔ کیا ایمان لانے والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے زکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گذر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو فرض حسن دیا ہے ، ان کو یقینا کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لئے بہترین اجر ہے ۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نذدیک صدیق اور شہید ہیں ، ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے ۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔ خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دللگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ ذرد ہو گئی ۔ پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے ۔ اس کے بر عکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اوراس کی خوشنودی ہے ۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں ۔ دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ، جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اسکو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے ۔ ( یہ سب کچھ اس لئے ہے ) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں ۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔ ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں ۔ یہ اس لئے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہکون اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے ۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ ہم نے نوح اور ابراھیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی ۔ پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے۔ ان کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے اور ان سب کے بعد عیسی ابن مریم کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی ، اور جن لوگوں نے اس کی پیروری اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کر لی ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا ، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا ، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ( محمد صلی اللہ علیہ و سلم) پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ ( تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے ، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ 58۔سورۃ المجادلہ: اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کئے جاتی ہے ۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو لوگ اپنی جیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی،تو قبل اسکے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آذاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اسکے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر قادر نہ ہو وہ 60 مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ یہ حکم اس لئے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لاؤ ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لئے دردناک سزا ہے ۔ جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل وخوار کر دیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کئے جا چکے ہیں۔ ہم نے صاف صاف آیات نازل کردی ہیں ، اور کافروں کے لئے زلت کا عذاب ہے ۔ اس دن ( یہ زلت کا عذاب ہونا ہے ) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کر کے اٹھائے گا اور انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں ۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھرا گن گن کر محفوظ کر رکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے ؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ خفیہ بات کرنے والے خواہ اس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں اہ ہماری ان باتوں پر ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں دیتا۔ ان کے لئے جہنم ہی کافی ہے، اسی کا وہ ایندھن بنیں گے ۔ بڑا ہی برا انجام ہے انکا۔ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقوی کی باتیں کرو اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہو نا ہے ۔ کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے ازن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو ، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اسکی خبر ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لئے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور رحیم ہے ۔ کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہونگے؟ اچھا اگر تم ایسا نہ کرو ------ اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا _____ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوۃ دیتے رہو اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، اس پر ان کے لئے ڑلت کا عذاب ہے ۔ اللہ سے بچانے کے لئے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نذدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا ۔ خوب جان لو ، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں ۔ شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے ۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ یقینا زلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے ۔ فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے۔ تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے ۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔ 59۔الحشر: اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہی غالب اور حکیم ہے۔ وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائيں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا چیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور مو منوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت جاصل کرو اے دیھہ بینا رکھنے والو! اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عڈاب ہے ہی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہانہوں نے اللہ اور اسکے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اسکو سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا۔ اور ( اللہ نے یہ اذن اس لیے دیا ) تاکہ فاسقوں کو زلیل و خوار کرے۔ اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیے، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو کچھ بھی اللہ ان بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (نیز وہ مال) ان غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اسکے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔یہی راستباز لوگ ہیں۔ (اور وہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے) جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لا کر دار الہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دیدیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی زات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں ۔ (اور وہ ان لوگوں کے لیے بھی ہے) جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں،جو کہتے ہیں کہ " اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں، اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نا رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔" تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں " اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔" مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں ۔ اگر وہ نکالے کئی تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے، اور اگر یہ انکی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔ ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے، اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ یہ کبھی اکھٹے ہو کر ( کھلے میدان میں)تمہارا مقابلہ نہ کریں گے، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر۔ یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکھٹا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں ۔ ان کا یہ حال اس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔ یہ انہی لوگوں کے مانند ہیں جو ان سے تھوڑی ہی مدت پہلے اپنے کئے کا مزا چکھ چکے ہیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، مجھے تو رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں، اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کےلیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔ دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔ جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ ( اپنی حالت پر) غور کریں۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا ، وہی رحمن اور رحیم ہے۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے نہایت مقدس، سراسر سلامتی ، امن دینے والا، نگہبان، سب پر غالب، اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا۔ پاک ہے اللہ اس شرک سے جو لوگ کر رہے ہیں۔ وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کو نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔ اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کر رہی ہے، اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ 60۔الممتحنہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضاجوئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے ) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۔ تم ان کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو ، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کر چکے ہیں اور ان کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم چھپا کر ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو ، ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ راست سے بھٹک گیا۔ ان کا رویہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پا جائيں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آذار دیں۔ مہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ۔ قیامت کے دن نہ تمہاری رشتے داریاں کسی کام آئيں گی نہ تمہاری اولاد۔ اس روز اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا ، اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے۔ تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا " ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو قطعی بیزار ہیں، ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بیر پڑ گیا۔ جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔" مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا ( اس سے مستثنی ہے) کہ " میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گآ، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے" ( اور ابراہیم اور اصحاب ابراہیم کی دعا یہ تھی کہ) " اے ہمارے رب،تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے ۔ اے ہمارے رب، ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا دے۔ اور اے ہمارے رب، ہمارے قصوروں سے درگزر فرما، بے شک تو ہی زبردست اوردانا ہے۔" انہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر اس شخص کے لیے اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور روز آخر کا امیدوار ہو۔ اس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی زات میں آپ محمود ہے۔ بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور رحیم ہے۔اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کےمعاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو (ان کے مومن ہونے کی) جانچ پڑتال کرلو، اور ان کے ایمان کی حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو ۔ نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لیے حلال۔ ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیے تھے وہ انہیں پھیر دو۔ اور ان سے نکاح کر لینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جبکہ تم ان کے مہران کو ادا کر دو۔ اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ رو کے رہو۔ جو مہر تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے ۔ اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئیہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیے ہوئے مہروں کے برابر ہو۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اے نبی ، جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی، اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی، تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے حق میں اللہ سے دعا مغفرت کرو، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں۔ 61۔الصف: اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ اس لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نذدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ اور یاد کرو موسی کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ " اے میری قوم کے لوگو، تم کیوں مجھے ازیت دیتے ہوحالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟" پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے انکے دل ٹیڑھے کر دیے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اور یاد کرو عیسی ابن مریم کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ " اے بنی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ، تصدیق کرنے والا ہوں اس تورات کی جو وجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ مگر جب وہ انکے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو صریح دھوکہ ہے ۔ اب بھلا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام ( اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جارہی ہو؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔ یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ناگوار ہو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے۔ ایمان لاؤ اللہ اور اسکے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہونگی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی ، اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا۔، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی ، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسی ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا:"کون ہے اللہ کی طرف (بلانے ) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا:" ہم ہیں اللہ کے مددگار"۔ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان دشمنوں اے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے۔ 62۔الجمعہ: اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے ___ بادشاہ ہے، قدوس ہے ، زبردست اور حکیم ہے۔ وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا ، جو انہیں اسکی آیات سناتا ہے ، ان کی زندگی سنوارتا ہے ، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ اور (اس رسول کی بعّت) ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ یہ اس کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گيا تھا مگر انہوں نے اسکا بار نہ اٹھایا ، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں ۔ اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ان سے کہو۔" اے لوگو جو یہودی بن گئے ہو، اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو۔" لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کر چکے ہیں ، اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے ۔ ان سے کہو " جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اس کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے زکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہو جائے۔ اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو، جو اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ 63۔المنافقون: اے نبی ، جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں " ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔" ہاں، اللہ جانتا ہے تم ضرور اس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔ کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔ انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں ۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ ۔ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے ، تو سر جھٹکتےہیں اور تم دیکھتے ہو کہ گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں۔ اے نبی، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نا کرو ، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں دیتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں۔ حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خذانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائيں تو جو عزت والا ہے وہ زلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے ، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔ اس لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اسکے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اس وقت وہ کہے کہ " اے میرب رب ، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا ۔" حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پروی ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ اس کے ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ 64۔التغابن: اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے ۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا،پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے، اور اسی کی طرف آخرکار تمہیں پلٹنا ہے۔ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب اسکو معلوم ہے، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔کیا تمہیں ان لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ اس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر انہوں نے کہا " کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟" اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی زات میں آپ محمود۔ منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ ان سے کہو" نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے ( دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔" پس ایمان لاؤ اللہ پر، اور اس کے رسول پر ، اور اس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے ۔ ( اس کا پتہ تمہیں اس روز چل جائے گا) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکھٹا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا۔جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانہ ہے۔ کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے ازن ہی سے آتی ہے ۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ۔ لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑ تے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی زمہ داری نہیں ہے۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کو ئی خدا نہیں ، لہذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے ۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ لہذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو ، اور سنو اور اطاعت کرو ، اور اپنے مال خرچ کرو ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے ۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔ اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گناہ بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا، اللہ بڑا قدردان اور بردبار ہے، حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے، زبردست اور دانا ہے۔ 65۔الطلاق : اے نبی، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو۔ اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانہ عدت میں) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر شدہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے ، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی )کوئی صورت پیدا کر دے۔ پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمے پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہو جاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں۔ اور ( اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو ( تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہو جائے۔ جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے ۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اسکی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ ان کو ( زمانہ عدت میں ) اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو ، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے ۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طہہ کر لو۔ لیکن اگر تم نے (اجرت طہہ کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی۔ خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسےمکلف نہیں کرتا۔ بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی میں فراخدستی بھی عطا فرما دے۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم کی سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کئے کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے، اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے۔ ایک ایسا رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے۔ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے ۔ (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے ) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ 66۔التحریم: اے نبی، تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ ____ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تمہارا مولا ہے ، اور وہی علیم و حکیم ہے۔ ( اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک جیوی سے راز میں کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے ( کسی اور پر ) وہ راز ظاہر کر دیا ، اور اللہ نے نبی کو اس ( افشائے راز ) کی اطلاع دے دی ، تو نبی نے اس پر کسی حد تک ( اس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا۔ جھر جب نبی نے اسے (افشائے رازکی ) یہ بات بتائی تو اس نے پرچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا "مجھے اس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے۔" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو ( تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے باہم جتھا بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولا ہے اور اس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اورمددگار ہیں۔ بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو اللہ اسے ایےی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں ، سچی مسلمان ، باایمان ، اطاعت گزار ، توبہ گذار ، عبادت گذار، اور روزہ دار ، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہونگے ، جس پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں ( اس وقت کہا جائے گا کہ ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو ، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیآن تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نا کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گےکہ اے ہمارے رب ، ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے نبی ، کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح اور لوط کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے ۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں، مگر انہرں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی نہ کام آسکے ۔ دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جاؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ ۔ اور اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی " اے میرے رب، میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے ۔" اور عمران کی بیٹی مریم کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی۔ 67۔الملک: نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے ، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھتے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے ۔ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نگاہ دوڑاؤ ۔ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔ ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا زریعہ بنا دیا ہے۔ ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے۔ اور وہ جوش کھا رہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی ۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے " کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟" وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا ، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔" اور وہ کہیں گے کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے"۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے۔ لعنت ہے ان دوزخیوں پر۔ جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، یقینا ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔ تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے ( اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے ۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں ہے اور باخبر ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کررکھا ہے ، چلو اس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق ، اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔ کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ آسمان میں ہےتمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟ کیا تم اس سے بے خوف ہو کہ وہ آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔ ان سے پہلے گذرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی۔ کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ بتاؤ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ یا پھر بتاؤ ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں۔ بھلا سوچو ، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو ؟ ان سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دی اور سوچنے اور سمجھنے والے دل دیے ، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ ان سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔ چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے۔ ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے ، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچالےگا؟ ان سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے۔ ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟ 68۔القلم: ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں، تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہو۔ اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ اور بےشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔ عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔ تمہارا رب ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں ، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں ۔ لہذا تم ان جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ ۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ ہر گزنہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے ، طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے ، ظلم اور زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے۔ جفاکار ہے ، اور ان سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے، اس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے۔ جب ہماری آیات اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔ ہم نے ان (اہل مکہ) کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ، جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی اور اس کا ایسا حال ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ صبح ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے ۔ وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کئے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں۔ مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے " ہم راستہ بھول گئے ہیں،____نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے۔" ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا" میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟" وہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہگار تھے۔ پھر ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔ آخر کو انہوں نے کہا " افسوس ہمارے حال پر ، بےشک ہم سرکش ہوگئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔" ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اس کو جانتے۔ یقینا خدا ترس لوگوں کے لئے ان کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں۔ کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، کیسے حکم لگاتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیماں ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کاتم حکم لگاؤ؟ ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے؟ یا پھر ان کے ٹھرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اس کا زمہ لیا ہو )؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔ جس روز سخت وقت آپڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لئے بلایا جائے گاتو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے، ان کی نگاہیں نیچی ہونگی ، زلت ان پر چھا رہی ہوگی ۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اس وقت انہیں سجدے کے لئے بلایا جاتا تھا ( اور یہ انکار کرتے تھے)۔ پس اے نبی ، تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے۔ کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کر رہے ہوکہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟ پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے ( یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔ اگر اس کے رب کی مہربانی اس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا۔ آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کر دیا۔ جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے۔ اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے ، حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ 69۔الحاقۃ: ہونی شد نی! کیا ہے وہ ہونی شدنی؟ اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شدنی؟ ثمود اور عاد نے اس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا۔ تو ثمود ایک سخت حادثہ سے ہلاک کئے گئے۔ اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے ۔ اللہ تعالی نے اس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط رکھا ۔ ( تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں ۔ اب کیا ان میں سے کوئی تمہیں باقی نظر آتا ہے؟ اور اسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اس سے پہلے کے لوگوں نے اور تل پٹ ہو جانے والی بستیوں نے کیا۔ ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔ جب پانی کا طوفان حد سے گذر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا تاکہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموز یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔ پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی اور زمین او رپہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا ، اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی ۔ فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کئے جاؤ گے ، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا۔ اس وقت جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا۔ " لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال ، میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔" پس وہ دلپسند عیش میں ہوگا، عالی مقام جنت میں ، جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ ( ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گذرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں۔ اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا۔" کاش میرا نامہ اعمال مجھے نہ دیا گیا ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت ( جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی۔ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ۔ میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا۔ " ( حکم ہوگا) کپڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ،پھر اسے جہنم میں جھونک دو ، پھر اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یار غم خوار ہے اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا ، جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔ پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طر ف منسوب کی ہوتی تو ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ، پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔ درحقیقت یہ پرہیزگار لوگوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔ ایسے کافروں کے لئے یقینا یہ موجب حسرت ہے۔ اور یہ بلکل یقینی حق ہے۔ پس اے نبی، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#29 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
ماشاء اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#30 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
کمائي: 3,477
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 281 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترم قارئين
اسلام علیکم سورہ ابراھیم، الحجر اور سورہ المعارج کا مودودی صاحب کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔ پروف ریڈنگ درکار ہو گي۔ یہ ہماری ایک بہن کا کام ہے ۔ اللہ قبول فرمائے اور ان کواس کا اجر عطا فرمائے۔ والسلام سورۃ ابراھیم: آ ۔ل ۔ر۔ اے محمد ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہق نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے، اس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی زات میں آپ محمود ہے اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔ اور سخت تباہ کن سڑا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیںاور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ ( ان کی خواہشات کے مطابق ) ٹیڑھا ہو جائے۔ یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نےاپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے ۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے ، وہ بالا دست اور حکیم ہے۔ ہم اس سے پہلے موسی کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر۔ ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ یاد کرو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا " اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا۔ جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے ۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکرگذار بنو گے تو میں تم کو نور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے"۔ اور موسی نے کہا کہ "اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں محمود ہے۔" کیا تمہیں ان قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوح ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ ان کے رسول جب ان کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ" جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔" ان کے رسولوں نے کہا" کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مقرر مدت تک مہلت دے۔" انہوں نے جواب دیا " تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں ۔ تم ہمیں ان ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے۔ اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند۔ ان کے رسولوں نے ان سے کہا واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان ۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے آ سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ۔ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو ازیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو ان پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہئے" آخرکار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہدیا کہ"یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔" تب ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ"ہم ان ظالموں کو ہلاک کر دیں گےاور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے ۔ یہ انعام ہے اسکا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔" انہوں نے فیصلہ چاہا تھا ( تو یوں انکا فیصلہ ہوا ) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ۔ پھر اسکے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے ۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گاجیے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا ۔ موت ہر طرف اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو۔ وہ اپنے کئے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ۔ اور یہ لوگ جب اکھٹے اللہ کے سامنے بے نقاب ہونگے تو اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے" دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟" وہ جواب دیں گے " اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے ۔ اب تو یکساں ہے ، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔" اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا " حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سےکئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدا ئی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الزمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔" بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اسکی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی زات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں، ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سےاپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدزات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔ ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت ، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ تم نے دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا____ یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے ___ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں ۔ ان سے کہو، اچھا مزے کر لو ، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے۔ اے نبی، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں ، ان سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اسکے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔ اللہ وہی تم ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے زریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کئے، جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیاکہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا ۔ جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا ۔ جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا ۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہوتو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ یاد کرو وہ وقت جب ابراھیم نے دعا کی تھی کہ " پروردگار ، اس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔ پروردگار ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھییہ گمراہ کر دیں، لہذا ان میں سے ) جو میرے طریعہ پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقینا تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔ پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایاہے۔ پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکرگذار بنیں۔ پروردگار تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ___ اور واقعی اللہ سے کچھ چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ____ شکر ہے اس خدا کا جس نے وجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے۔ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں)۔پروردگار میری دعا قبول کر۔ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجئو جبکہ حساب قائم ہوگا۔" اب یہ ظالم لوگ جو کر رہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں۔ اے محمد اس دن سے تم انہیں ڈراؤ جبکہ عذاب انہیں آ لے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ " اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروری کریں گے ۔" ( مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل کر دیکھیں، مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگر چہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں اہ پہاڑ ان سے ٹل جائیں۔ پس اے نبی، تم ہرکز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔ ڈراؤ انہیں اس دن سے جبکہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ کے کچھ کر دیے جائیں گےاور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے۔ اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہونگے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے۔ یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے ، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ ان کو اس کے زریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں۔ سورۃ الحجر: ا ۔ل۔ ر۔ یہ آیات ہیں کتاب الہی اور قرآن مبین کی۔ بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج( دعوت اسلام کو قبول کرنے سے ) انکار کر دیا ہے، پچھتا پچھتا کر کہیں گےکہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا ۔ چھوڑو انہیں، کھائیں پیئں اور مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے ان کو جھوٹی امید۔ عنفریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جا چکی ہے۔ کوئی قوم نہ اپنے وفت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے ، نہ اسکے بعد چھوٹ سکتی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں،" اے وہ شخص جس پر زکر نازل ہوا ہے، تو یقینا دیوانہ ہے۔ اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا؟" ___ ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے ۔ وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔ رہا یہ زکر، تو اس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔ اے محمد، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔ مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس زکر کو اسی طرح ( سلاخ کی مانند) گزارتے ہیں۔ وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے۔ قدیم سے اس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے۔ اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے ، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔ یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، ان کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا، اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا۔ کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا الا یہ کہکچھ سن گن لے لے – اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اس کا پیچھا کرتا ہے۔ہم نے زمین کو پھیلایا ، اس میں پہاڑ جمائے ، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی، اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کئے ، تمہارے لیے بھی اور ان بہت سے مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو۔ کوئی چیز ایسی نہیںجس کے خذانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں۔ بارآور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ اس دولت کے خذانہ دار تم نہیں ہو۔ زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں۔ پہلے جو لوگ تم میں سے ہو گزرے ہیںان کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں۔ یقینا تمہارا رب ان سب کو اکھٹا کرے گا۔ وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ ہم نے انسان کو سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا۔ اور اس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔ پھر یاد کرو اس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ" میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔ جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔" چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ، سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ رب نے پوچھا " اے ابلیس ، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟" اس نے کہا" میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہو ئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے۔" رب نے فرمایا" اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے، اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے۔" اس نے عرض کیا" میرے رب یہ بات ہے تو پھر مجھے اس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔" فرمایا" اچھا، تجھے مہلت ہے اس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے ۔" وہ بولا " میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے ان سب کو بہکا دوں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے ان میں سے خالص کر لیا ہو۔" فرمایا" یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے۔ بے شک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا۔ تیرا بس تو صرف ان بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گاجو تیری پیروری کریں، اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے۔" یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے ) اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے۔ بخلاف اسکے متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر۔ ان کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں کے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے۔ انہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ اے نبی، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں۔ مگر اس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے۔ اور انہیں زرا ابراھیم کے مہمانوں کا قصہ سناؤ ۔ جب وہ آئے اس کے ہاں اور کہا " سلام ہو تم پر" تو اس نے کہا" ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے" ۔ انہوں نے جواب دیا" ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔" ابراھیم نے کہا" کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ زرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟" انہوں نے جواب دیا" ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو" ابراھیم نے کہا" اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔" پھر ابراھیم نے پوچھا " اے فرستادگان الہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟" وہ بولے" ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں، صرف لوط کے گھروالے مستثنی ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے ، سوائے اس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔ پھر جب یہ فرستادے لوط کے ہاں پہنچے تو اس نے کہا" آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔" انہوں نے جواب دیا" نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں، لہذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھروالوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو۔ تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے۔ بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔" اور اسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بیتاب ہو کر لوط کے گھر چڑھ آئے ۔ لوط کے کہا" بھائیو ، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو، اللہ سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو۔" وہ بولے" کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کر چکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو؟" لوط نے عاجز ہو کر کہا" اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں۔" تیری جان کی قسم اے نبی، اس وقت ان پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے۔ آخرکار پو پھٹتے ہی ان کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا اور ہم نے ان کی بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش بر سادی۔ اس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں۔ اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزر گاہ عام پر واقع ہے ، اس میں سامان عبرت ہےان لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں۔ اور ایکہ والے ظالم تھے، تو دیکھ لو کہ ہم نےبھی ان سے انتقام لیا، اور ان دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہے۔ حجر کے لوگ بھی رسولوں کی تکزیب کر چکے ہیں۔ ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں ان کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظر انداز ہی کرتے رہے۔ وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بلکل بے خوف اور مطمئن تھے۔ آخرکار ایک زبردست دھماکے نے ان کو صبح ہوتے آ لیا اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔ ہم نے زمین او ر آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقینا آنے والی ہے، پس اے محمد ، تم ( ان لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو۔ یقینا تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے۔ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہے نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ ان کے حال پر اپنا دل گڑھاؤ۔ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو اور ( نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں۔ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے ان تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکرے ٹکرے کر ڈالا ہے۔ تم قسم ہے تیرے رب کی ، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ پس اے نبی، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی زرا پروا نا کرو۔ تمہاری طرف سے ہم ان مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے۔ " اس کا علاج یہ ہے کہ" اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ ، اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہوجس کا آنا یقینی ہے۔ سورۃ المعارج: مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے ، کافروں کے لیے ہے، کوئی اسے دفع کرنے والا نہیں ہے ، اس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ۔ ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے ۔ پس اے نبی ، صبر کرو ، شائستہ صبر ۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ (وہ عذاب اس روز ہوگا ) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہو ئے اون جیسے ہو جائیں گے۔ اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے ۔ مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو، بیوی کو ، اپنےبھائی کو، اپنے قریب ترین چاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کس سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اسے نجات دلا دے ۔ ہرگز نہیں۔ وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی۔ پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا ۔ انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہےاور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔ مگر وہ لوگ ( اس عیب سے بچے ہوئے ہیں ) جو نماز پڑھنے والے ہیں، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرنے ہیں جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں، جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو، جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ____ بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر ملامت نہیں ، البتہ جو اسکے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ___ جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں ، جو اپنی گواہیوں میں راستباز ی پر قائم رہتے ہیں، اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے۔ پس اے نبی کیا بات ہے کہ یا منکرین دائیں اور بائیں سے گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ کیا ان میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں۔ پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اس پر قادر ہیں کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم نے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔ لہذا انہیں اپنی بیہودہ باتوں اور کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، زلت ان پر چھا رہی ہوگی ۔ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (07-08-10), فخر بٹ (15-08-11), ھارون اعظم (07-08-10), ابرارحسین (07-08-10), عبداللہ آدم (11-08-10) |
![]() |
| Tags |
| color, com, پاکستان, ویب, ورڈ, قرآن, نظر, مکمل, منتقل, آج, ایمان, اللہ, اردو, اسلام, بہترین, بھائی, تحریر, جواب, جلد, دل, شخص, ظالم, عیسیٰ, صرف, صریح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|