| قران پراجیکٹ (http://quran.pak.net) قران پراجیکٹ http://quran.pak.net/ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 12 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | farhanshandy (29-05-11), Student (11-12-09), S_S_G_Commando (02-12-09), فرحان دانش (26-11-09), گلز (21-11-09), محمدمبشرعلی (19-03-10), مرزا عامر (14-07-10), اویسی (03-06-10), بلال اویسی (14-07-10), بزم خیال (27-11-09), حسنین ایوب (25-12-09), شاہد جمیل حفیظ (25-11-09) |
| کمائي نے خرم شہزاد خرم کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 14-07-10 | بلال اویسی | کنزالایمان کا مکمل شیئر کرنے پرمجھے اجازت اتنی کمائی دینے کی ہے | 150 |
|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (14-07-10) |
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
|
|
#18 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
|
|
#19 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
|
|
#21 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(ف۱۸۰) لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو (ف۱۸۱) تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچا سکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے (ف۱۸۲) اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا- (ف۱۸۳)
(۱۰۳) اور اگر وہ ایمان لاتے (ف۱۸۴) اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا - (۱۰۴) اے ایمان والو! (ف۱۸۵) راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو (ف۱۸۶) اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (ف۱۸۷) (۱۰۵) وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک (ف۱۸۸) وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے (ف۱۸۹) اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے - (۱۰۶) جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں (ف۱۹۰) تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے- (۱۰۷) کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار، (۱۰۸) کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویسا سوال کرو جو موسیٰ سے پہلے ہوا تھا (ف۱۹۱) اور جو ایمان کے بدلے کفر لے (ف۱۹۲) وہ ٹھیک راستہ بہک گیا - (۱۰۹) بہت کتابیوں نے چاہا (ف۱۹۳) کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے (ف۱۹۴) بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے - (۱۱۰) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو (ف۱۹۵) اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے- (۱۱۱) اور اہل کتاب بولے ، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو (ف۱۹۶) یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل (ف۱۹۷) اگر سچے ہو- (۱۱۲) ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نیکو کار ہے (ف۱۹۸) تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم-(ف۱۹۹) (۱۱۳) اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں (ف۲۰۰) حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں، (ف۲۰۱) اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی (ف۲۰۲) تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں- (۱۱۴) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون (ف۲۰۳) جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے (ف۲۰۴) اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے (ف۲۰۵) ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (ف۲۰۶) اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب - (ف۲۰۷) (۱۱۵) اور پورب و پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۱۱۶) اور بولے خدا نے اپنے لیے اولاد رکھی پاکی ہے اسے (ف۲۰۸) بلکہ اسی کی مِلک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (ف۲۰۹) سب اس کے حضور گردن ڈالے ہیں، (۱۱۷) نیا پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا (ف۲۱۰) اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا وہ فورا ً ہوجاتی ہے-(ف۲۱۱) (۱۱۸) اور جاہل بولے (ف۲۱۲) اللہ ہم سے کیوں نہیں کلام کرتا (ف۲۱۳) یا ہمیں کوئی نشانی ملے (ف۲۱۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسی ہی کہی ان کی سی بات اِن کے اُن کے دل ایک سے ہیں (ف۲۱۵) بیشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لئے -(ف۲۱۶) (۱۱۹) بیشک ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور تم سے دوزخ والوں کا سوال نہ ہوگا -(ف۲۱۷) (۱۲۰) اور ہرگز تم سے یہود اور نصاری ٰ راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیروی نہ کرو (ف۲۱۸) تم فرمادو اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے (ف۲۱۹) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں کا پیرو ہوا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ سے تیرا کوئی بچانے والا نہ ہوگا او ر نہ مددگار (ف۲۲۰) (۱۲۱) جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تلاوت کرتے ہیں وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے منکر ہوں تو وہی زیاں کار ہیں -(ف۲۲۱) (۱۲۲) اے اولاد یعقوب یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا او ر وہ جو میں نے اس زمانہ کے سب لوگوں پر تمہیں بڑائی دی - (۱۲۳) اور ڈرو اس دن سے کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑیں اور نہ کافر کو کوئی سفارش نفع دے (ف۲۲۲) اور نہ ان کی مدد ہو - (۱۲۴) اور جب (ف۲۲۳) ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا (ف۲۲۴) تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں (ف۲۲۵) فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا-(ف۲۲۶) (۱۲۵) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو (ف۲۲۷) لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا (ف۲۲۸) اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ (ف۲۲۹) اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے - (۱۲۶) اور جب عرض کی ابراہیم ؑ نے کہ اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں (ف۲۳۰) فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کردوں گا اور بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی- (۱۲۷) اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم ؑ اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل ؑ یہ کہتے ہوئے اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما (ف۲۳۱) بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا ، (۱۲۸) اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والا (ف۲۳۲) اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (ف۲۳۳) بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (۱۲۹) اے رب ہمارے اور بھیج ان میں (ف۲۳۴) ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب (ف۲۳۵) اور پختہ علم سکھائے (ف۲۳۶) اور انہیں خوب ستھرا فرمادے (ف۲۳۷) بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا- (۱۳۰) اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے (ف۲۳۸) سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا (ف۲۳۹) اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے -(ف۲۴۰) (۱۳۱) جبکہ اس سے اس کے رب نے فرمایا گردن رکھ عرض کی میں نے گردن رکھی اس کے لئے جو رب ہے سارے جہان کا- (۱۳۲) اور اسی دین کی وصیت کی ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے کہ اے میرے بیٹو! بیشک اللہ نے یہ دین تمہارے لئے چن لیا تو نہ مرنا مگر مسلمان - (۱۳۳) بلکہ تم میں کے خود موجود تھے (ف۲۴۱) جب یعقوب ؑ کو موت آئی جبکہ اس نے اپنے بیٹوں سے فرمایا میرے بعد کس کی پوجا کروگے بولے ہم پوجیں گے اسے جو خدا ہے آپ کا اور آپ کے آباء ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ (ف۲۴۲) و اسحاقؑ کا ایک خدا اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں، (۱۳۴) یہ (ف۲۴۳) ایک امت ہے کہ گزرچکی (ف۲۴۴) ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم کماؤ اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی- (۱۳۵) اور کتابی بولے (ف۲۴۵) یہودی یا نصرانی ہوجاؤ راہ پاؤگے تم فرماؤ بلکہ ہم تو ابراہیم ؑ کا دین لیتے ہیں جو ہر باطل سے جدا تھے اور مشرکوں سے نہ تھے -(ف۲۴۶) (۱۳۶) یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوبؑ اور ان کی اولاد پر اور جو عطا کئے گئے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ اور جو عطا کئے گئے باقی انبیاء اپنے رب کے پاس سے ہم ان پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے حضور گردن رکھے ہیں- (۱۳۷) پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو وہ نری ضد میں ہیں (ف۲۴۷) تو اے محبوب! عنقریب اللہ ان کی طرف سے تمہیں کفایت کرے گا اور وہی ہے سنتا جانتا -(ف۲۴۸) (۱۳۸) ہم نے اللہ کی رینی (رنگائی) لی (ف۲۴۹) اور اللہ سے بہتر کس کی رینی؟ (رنگائی) اور ہم اسی کو پوجتے ہیں، (۱۳۹) تم فرماؤ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو (ف۲۵۰) حالانکہ وہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی (ف۲۵۱) اور ہماری کرنی (ہمارے اعمال) ہمارے ساتھ اور تمہاری کرنی (تمہارے اعمال) تمہارے ساتھ اور ہم نِرے اسی کے ہیں- (ف۲۵۲) (۱۴۰) بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو (ف۲۵۳) اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے (ف ۲۵۴) اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۱) وہ ایک گروہ ہے کہ گزر گیا ان کے لئے ان کی کمائی اور تمہارے لئے تمہاری کمائی اور ان کے کاموں کی تم سے پرسش نہ ہوگی۔ (۱۴۲) اب کہیں گے (ف ۲۵۵) بیوقوف لوگ، کس نے پھیردیامسلمانوں کو، ان کے اس قبلہ سے، جس پر تھے (ف۲۵۶) تم فرمادو کہ پورب پچھم (مشرق مغرب) سب اللہ ہی کا ہے (ف۲۵۷) جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔ (۱۴۳) اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو (ف۲۵۸) اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ (ف۲۵۹) اور اے محبوب!تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ (ف۲۶۰) اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے (ف۲۶۱) بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔ (۱۴۴) ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا (ف ۲۶۲) تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو (ف۲۶۳) اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے کہ یہ انکے رب کی طرف سے حق ہے (ف۲۶۴) اور اللہ ان کے کوتکوں (اعمال) سے بے خبر نہیں- (۱۴۵) اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے (ف۲۶۵) اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو (ف ۲۶۶) اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں (ف۲۶۷) اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔ (۱۴۶) جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی (ف۲۶۸) وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے (۲۶۹) اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -(ف۲۷۰) (۱۴۷) (اے سننے والو) یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے (یا حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہو) تو خبردار توشک نہ کرنا - (۱۴۸) اور ہر ایک کے لئے توجہ ایک سمعت ہے کہ وہ اسی طرف منہ کرتا ہے تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں تو کہیں ہو اللہ تم سب کو اکٹھا لے آئے گا (ف ۲۷۱) بیشک اللہ جو چاہے کرے- (۱۴۹) اور جہاں سے ا ٓ ؤ (ف۲۷۲) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں- (۱۵۰) اور اے محبوب تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے (ف۲۷۳) مگر جو ان میں ناانصافی کریں (ف۲۷۴) تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ، (۱۵۰) (۱۵۱) جیسا کہ ہم نے تم میں بھیجا ایک رسول تم میں سے (ف۲۷۵) کہ تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک کرتا (ف۲۷۴) اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے (ف۲۷۷) اور تمہیں وہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا، (۱۵۲) تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا (ف۲۷۸) اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو- (۱۵۳) اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد چاہو (ف۲۷۹) بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے - (۱۵۴) اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو (ف۲۸۰) بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-(ف۲۸۱) (۱۵۵) اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے (ف۲۸۲) اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے (ف۲۸۳) اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو - (۱۵۶) کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا-(ف۲۸۴) (۱۵۷) یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دروُ دیں ہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں ، (۱۵۸) بیشک صفا اور مروہ (ف۲۸۵) اللہ کے نشانوں سے ہیں (ف۲۸۶) تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے (ف۲۸۷) اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے خبردار ہے- (۱۵۹) بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں (ف۲۸۸) بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرماچکے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنت -(ف۲۸۹) (۱۶۰) مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان، (۱۶۱) بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی، (ف۲۹۰) (۱۶۲) ہمیشہ رہیں گے اس میں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، (۱۶۳) اور تمہارا معبود ایک معبود ہے (ف۲۹۱) اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان (۱۶۴) بیشک آسمانوں (ف۲۹۲) اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کا بدلتے آنا اور کشتی کہ دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور وہ جو اللہ نے آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو اس سے جِلا دیا اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ان سب میں عقلمندوں کے لئے ضرور نشانیاں ہیں ، (۱۶۵) اور کچھ لوگ اللہ کے سوا اور معبود بنالیتے ہیں کہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں اور کیسے ہو اگر دیکھیں ظالم وہ وقت جب کہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آئے گا اس لئے کہ سارا زور خدا کو ہے اور اس لئے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے، (۱۶۶) جب بیزار ہوں گے پیشوا اپنے پیروؤں سے (ف۲۹۳) اور دیکھیں گے عذاب اور کٹ جائیں گی ان کی سب ڈوریں (ف۲۹۴) (۱۶۷) اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں) تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی ، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر (ف۲۹۵) اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۸) اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں (ف۲۹۶) حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۱۶۹) وہ تو تمہیں یہی حکم دے گا بدی اور بے حیائی کا اور یہ کہ اللہ پر وہ بات جوڑو جس کی تمہیں خبر نہیں، (۱۷۰) اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو (ف۲۹۷) تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت (ف۲۹۸) |
|
|
|
|
|
#22 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (14-07-10) |
|
|
#23 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#24 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#25 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#26 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#27 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#28 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۱۷۱) اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے (ف۲۹۹) بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں (ف۳۰۰)
(۱۷۲) اے ایمان والو! کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور اللہ کا احسان مانو اگر تم اسی کو پوجتے ہو (ف۳۰۱) (۱۷۳) اس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار (ف۳۰۲) اور خون (ف۳۰۳) اور سُور کا گوشت (ف۳۰۴) اور وہ جانور جو غیر خدان کا نام لے کر ذبح کیا گیا (ف۳۰۵) تو جو نا چار ہو (ف۳۰۶) نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۷۴) وہ جو چھپاتے ہیں (ف۳۰۸) اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں (ف۳۰۹) اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، (۱۷۵) وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے (۱۷۶) یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے (ف۳۱۰) وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں، (۱۷۷) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو (ف۳۱۱) ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر (ف۳۱۲) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں (ف ۳۱۳) اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں ، (۱۷۸) اے ایمان والوں تم پر فرض ہے (ف۳۴۱) کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو (ف۳۱۵) آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت (ف۳۱۶) تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ (ف۳۱۷) تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے (ف۳۱۸) اس کے لئے دردناک عذاب ہے (۱۷۹) اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقل مندو (ف۳۱۹) کہ تم کہیں بچو، (۱۸۰) تم پر فرض ہوا کہ جب تم میں کسی کو موت آئے اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کرجائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں کے لئے موافق دستور (ف۳۲۰) یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۱۸۱) تو جو وصیت کو سن سنا کر بدل دے (ف۳۲۱) اس کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہے (ف۳۲۲) بیشک اللہ سنتا جانتا ہے، (۱۸۲) پھر جسے اندیشہ ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ بے انصافی یا گناہ کیا تو اس نے ان میں صلح کرادی اس پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۲۳) بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۱۸۳) اے ایمان والو! (ف۳۲۴) تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ،(ف۳۲۵) (۱۸۴) گنتی کے دن ہیں (ف۳۲۶) تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو (ف۳۲۷) تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا (ف۳۲۸) پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے (ف۳۲۹) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو (ف۳۳۰) (۱۸۵) رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا (ف۳۳۱) لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے، ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو (ف۳۳۲) اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو، (۱۸۶) اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں (ف۳۳۳) دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے (ف۳۳۴) تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں، (۱۸۷) روزہ کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا (ف۳۳۵) وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس، اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا (ف۳۳۶) تو اب ان سے صحبت کرو (ف۳۳۷) اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو (ف۳۳۸) اور کھاؤ اور پیئو (ف۳۳۹) یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) (ف۳۴۰) پھر رات آنے تک روزے پورے کرو (ف۳۴۱) اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو (ف۳۴۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ اللہ یوں ہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیزگاری ملے، (۱۸۸) اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھاؤ (ف۳۴۳) جان بوجھ کر ، (۱۸۹) تم سے نئے چاند کو پوچھتے ہیں (ف۳۴۴) تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لئے (ف۳۴۵) اور یہ کچھ بھلائی نہیں کہ (ف۳۴۶) گھروں میں پچھیت (پچھلی دیوار) توڑ کر آ ؤ ہاں بھلائی تو پرہیزگاری ہے، اور گھروں میں دروازوں سے آ ؤ (ف۳۴۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ (۱۹۰) اور اللہ کی راہ میں لڑو (ف۳۴۸) ان سے جو تم سے لڑتے ہیں (ف۳۴۹) اور حد سے نہ بڑھو (ف۳۵۰) اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ، (۱۹۱) اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو (ف۳۵۱) اور انہیں نکال دو (ف۳۵۲) جہاں سے انہوں نے تمہیں نکا لا تھا (ف۳۵۳) اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے (ف۳۵۴) اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں (ف۳۵۵) اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو (ف۳۵۶) کافروں کی یہی سزا ہے، (۱۹۲) پھر اگر وہ باز رہیں (ف۳۵۷) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۱۹۳) اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں (ف۳۵۸) تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر، (۱۹۴) ماہ حرام کے بدلے ماہ حرام اور ادب کے بدلے ادب ہے (ف۳۵۹) جو تم پر زیادتی کرے اس پر زیادتی کرو اتنی ہی جتنی اس نے کی اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ڈر والوں کے ساتھ ہے، (۱۹۵) اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (ف۳۶۰) اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو (ف۳۶۱) اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں، (۱۹۶) اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو (ف۳۶۲) پھر اگر تم روکے جاؤ (ف۳۶۳) تو قربانی بھیجو جو میسر آئے (ف۳۶۴) اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے (ف۳۶۵) پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے (ف۳۶۶) تو بدلے دے روزے (ف۳۶۷) یا خیرات (ف۳۶۸) یا قربانی ، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے (ف۳۶۹) اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے (ف۳۷۰) پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے (ف۳۷۱) اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو (ف۳۷۲) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے، (۱۹۷) حج کے کئی مہینہ ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو ،(ف۳۷۸) (۱۹۸) تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، تو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بیشک اس سے پہلے تم بہکے ہوئے تھے ،(ف۳۸۳) (۱۹۹) پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے، (۲۰۰) پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں، (۲۰۱) اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷) (۲۰۲) ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ (خوش نصیبی) ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹) (۲۰۳) اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گنا نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے، (۲۰۴) اور بعض آدمی وہ ہیں کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے، (۲۰۵) اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں (۲۰۶) اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے، (۲۰۷) اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے، (۲۰۸) اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلے (ف۳۹۶) بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، (۲۰۹) اور اگر اس کے بعد بھی بچلو کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۱۰) کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ کی طرف ہے، (۲۱۱) بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے، (۲۱۲) کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے، (۲۱۳) لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف اُنہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس میں سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے، اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے، (۲۱۴) کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے، (۲۱۵) تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں، تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو و ہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بیشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶) (۲۱۶) تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸) (۲۱۷) تم سے پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنے کا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۲۰) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا ، اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (ف۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا ، (۲۱۸) وه جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امیداور ہیں ، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵-الف) (۲۱۹) تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (ف۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم دنیا ، (۲۲۰) اور ا ٓ خرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے، اور اللہ چاہتا ہے تو تمہیں مشقت میں ڈالتا، بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے، (۲۲۱) اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۱۳) اور بیشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی ہے (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بیشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا ہے اگرچہ وہ تمہیں بھاتا ہو، وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں، (۲۲۲) اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم (ف۴۳۵) تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں پھر جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ، بیشک اللہ پسند کرتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے سھتروں کو، (۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں، تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو (ف۴۳۶) اور اپنے بھلے کا کام پہلے کرو (ف۴۳۷) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے اور اے محبوب بشارت دو ایمان والوں کو، (۲۲۴) اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو (ف۴۳۸) کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۲۵) اور تمہیں نہیں پکڑ تا ان قسموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دلوں نے کئے (ف۴۳۹) اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، (۲۲۶) اور وہ جو قسم کھا بیٹھتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی انہیں چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں پھر آئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (۲۲۷) اور اگر چھوڑ دینے کا ارادہ پکا کرلیا تو اللہ سنتا جانتا ہے(ف۴۴۰) (۲۲۸) اور طلاق والیاں اپنی جانوں کو روکے رہیں تین حیض تک (ف۴۴۱) اور انہیں حلال نہیں کہ چھپائیں وہ جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا (ف۴۴۲) اگر اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہیں (ف۴۴۳) اور ان کے شوہروں کو اس مدت کے اندر ان کے پھیر لینے کا حق پہنچتا ہے اگر ملاپ چاہیں (ف۴۴۴) اور عورتوں کا بھی حق ایسا ہی ہے جیسا ان پر ہے شرع کے موافق (ف۴۴۵) اور مردوں کو ان پر فضیلت ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۲۹) یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے، (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں، (۲۳۰) پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، (ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے، (۲۳۱) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲) (۲۳۲) اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والِیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لئے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے، (۲۳۳) اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھا جائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھہرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے، (۲۳۴) اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپن ے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو! تم پر مؤاخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۳۵) اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام د و یا اپنے دل میں چھپا رکھو اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی بات کہو جو شرع میں معروف ہے، اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے، |
|
|
|
|
|
#29 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,503
شکریہ: 7,483
3,651 مراسلہ میں 9,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(۲۳۶) تم پر کچھ مطالبہ نہیں (ف۴۷۷) تم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ ن ہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو (ف۴۷۸) اور ان کو کچھ برتنے کو دو (ف۴۷۹) مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر (ف۴۸۰)
(۲۳۷) اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں (ف۴۸۱) یا وہ زیاد ه دے (ف۴۸۲) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (ف۴۸۳) اور اے مرَدو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بُھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۴۸۴) (۲۳۸) نگہبانی کرو سب نمازوں کی (ف۴۸۵) اور بیچ کی نماز کی (ف۴۸۶) اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے(ف۴۸۷) (۲۳۹) پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے، (۲۴۰) اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں، وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کرجائیں (ف۴۸۸) سال بھر تک نان نفقہ دینے کی بے نکالے (ف۴۸۹) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے، (۲۴۱) اور طلاق والیوں کے لئے بھی مناسب طور پر نان و نفقہ ہے، یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر، (۲۴۲) اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں کہ کہیں تمہیں سمجھ ہو، (۲۴۳) اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں (ف۴۹۰) (۲۴۴) اور لڑو اللہ کی راہ میں (ف۴۹۱) اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۴۵) ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے (ف۴۹۲) تو اللہ اس کے لئے بہت گنُا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائیش کرتا ہے (ف۴۹۳) اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا، (۲۴۶) اے محبوب !کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا (ف۴۹۴) جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں، نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے (ف۴۹۵) تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے (ف۴۹۶) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو، (۲۴۷) اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بیشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (ف۴۹۷) بولے اسے ہم پر بادشاہی کیونکر ہوگی (ف۴۹۸) اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی (ف۴۹۹) فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا (ف۵۰۰) اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی (ف۵۰۱) اور اللہ اپنا ملک جسے چاہ ے دے (ف۵۰۲) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے (ف۵۰۳) (۲۴۸) اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت (ف۵۰۴) جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسی ٰ او ر معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے ، بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے اگر ایمان رکھتے ہو، (۲۴۹) پھر جب طالوت لشکروں کو لے کر شہر سے جدا ہوا بولا بیشک اللہ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے تو جو اس کا پانی پئے وہ میرا نہیں اور جو نہ پیئے وہ میرا ہے مگر وہ جو ایک چلُو اپنے ہاتھ سے لے لے (ف۵۰۶) تو سب نے اس سے پیا مگر تھوڑوں نے (ف۵۰۷) پھر جب طالوت اور اس کے ساتھ کے مسلمان نہر کے پار گئے بولے ہم میں آج طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکروں کی بولے وہ جنہیں اللہ سے ملنے کا یقین تھا کہ بارہا کم جماعت غالب آئی ہے زیادہ گروہ پر اللہ کے حکم سے، اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف۵۰۸) (۲۵۰) پھر جب سامنے آئے جالوت اور اس کے لشکروں کے عرض کی اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل اور ہمارے پاؤں جمے رکھ کافر لوگوں پرہماری مدد کر، (۲۵۱) تو انہوں نے ان کو بھگا دیا اللہ کے حکم سے ، اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو (ف۵۰۹) اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت (ف۵۱۰) عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا (ف۵۱۱) اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے (ف۵۱۲) تو ضرور زمین تباہ ہوجائے مگر اللہ سارے جہان پر فضل کرنے والا ہے، (۲۵۲) یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم اے محبوب تم پر ٹھیک ٹھیک پڑھتے ہیں، اور تم بےشک رسولوں میں ہو۔ (۲۵۳) یہ (ف۵۱۳) رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر افضل کیا (ف۵۱۴) ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا (ف۵۱۵) اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند کیا (ف۵۱۶) اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں (ف۵۱۷) اور پاکیزہ روح سے اس کی مدد کی (ف۵۱۸) اور اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے آپس میں نہ لڑتے نہ اس کے کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں (ف۵۱۹) لیکن وہ مختلف ہوگئے ان میں کوئی ایمان پر رہا اور کوئی کافر ہوگیا (ف۵۲۰) اور اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے مگر اللہ جو چاہے کرے(ف۵۲۱) (۲۵۴) اے ایمان والو! اللہ کی راہ میں ہمارے دیئے میں سے خرچ کرو وہ دن آنے سے پہلے جس میں نہ خرید و فروخت ہے اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت، اور کافر خود ہی ظالم ہیں (ف۵۲۲) (۲۵۵) اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (ف۵۲۳) وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا (ف۵۲۴) اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (ف۵۲۵) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۵۲۶) وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے (ف۵۲۷) جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (ف۵۲۹) اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے مگر جتنا وہ چاہے (ف۵۲۹) اس کی کرسی میں سمائے ہوئے آسمان اور زمین (ف۵۳۰) اور اسے بھاری نہیں ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا (ف۵۳۱) (۲۵۶) کچھ زبردستی نہیں (ف۵۳۲) دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے (ف۵۳۳) اس نے بڑی محکم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں، اور اللہ سنتا جانتا ہے، (۲۵۷) اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے (ف۵۳۴) نور کی طرف نکلتا ہے، اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا، (۲۵۸) اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر (ف۵۳۵) کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی (ف۵۳۶) جبکہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جِلاتا اور مارتا ہے (ف۵۳۷) بولا میں جِلاتا اور مارتا ہوں (ف۵۳۸) ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب (مشرق) سے تو اس کو پچھم (مغرب) سے لے آ (ف۵۳۹) تو ہوش اڑ گئے کافروں کے، اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو، (۲۵۹) یا اس کی طرح جو گزرا ایک بستی پر (ف۵۴۰) اور وہ ڈھئی (مسمار ہوئی) پڑی تھی اپنی چھتوں پر (ف۵۴۱) بولا اسے کیونکر جِلائے گا اللہ اس کی موت کے بعد تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کردیا، فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا، عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم، فرمایا نہیں تجھے سو برس گزر گئے اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ اب تک بو نہ لایا اور اپنے گدھے کو دیکھ کہ جس کی ہڈیاں تک سلامت نہ رہیں اور یہ اس لئے کہ تجھے ہم لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور ان ہڈیوں کو دیکھ کیونکر ہم انہیں اٹھان دیتے پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں جب یہ معاملہ اس پر ظاہر ہوگیا بولا میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، (۲۶۰) اور جب عرض کی ابراہیم نے (ف۵۴۲) اے رب میرے مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جِلائے گا فرمایا کیا تجھے یقین نہیں (ف۵۴۳) عرض کی یقین کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آجائے (ف۵۴۴) فرمایا تو اچھا، چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلالے (ف۵۴۵) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے (ف۵۴۶) اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۶۱) ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۴۷) اس دانہ کی طرح جس نے اگائیں سات بالیں (ف۵۴۸) ہر بال میں سو دانے (ف۵۴۹) اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے، (۲۶۲) وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں (ف۵۵۰) پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں (ف۵۵۱) ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ، (۲۶۳) اچھی بات کہنا اور درگزر کرنا (ف۵۵۲) اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو (ف۵۵۳) اور اللہ بے پراہ حلم والا ہے، (۲۶۴) اے ایمان والوں اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر (ف۵۵۴) اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے، تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا (ف۵۵۵) اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے، اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا، (۲۶۵) اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو (ف۵۵۶) اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (رتیلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دُونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے (ف۵۵۷) اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۵۵۸) (۲۶۶) کیا تم میں کوئی اسے پسند رکھے گا (ف۵۵۹) کہ اس کے پاس ایک باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا (ف۵۶۰) جس کے نیچے ندیاں بہتیں اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھلوں سے ہے (ف۵۶۱) اور اسے بڑھاپا آیا (ف۵۶۲) اور اس کے ناتوان بچے ہیں (ف۵۶۳) تو آیا اس پر ایک بگولا جس میں آگ تھی تو جل گیا (ف۵۶۴) ایسا ہی بیان کرتا ہے اللہ تم سے اپنی آیتیں کہ کہیں تم دھیان لگاؤ (ف۵۶۵) (۲۶۷) اے ایمان والو! اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ دو (ف۵۶۶) اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا (ف۵۶۷) اور خاص ناقص کا ارادہ نہ کرو کہ دو تو اس میں سے (ف۵۶۸) اور تمہیں ملے تو نہ لوگے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو اور جان رکھو کہ اللہ بے پروانہ سراہا گیا ہے۔ (۲۶۸) شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے (ف۵۶۹) محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا (ف۵۷۰) اور اللہ تم سے وعدہ فرماتا ہے بخشش اور فضل کا (ف۵۷۱) اور اللہ وسعت و الا علم والا ہے، (۲۶۹) اللہ حکمت دیتا ہے (ف۵۷۲) جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی، اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے، (۲۷۰) اور تم جو خرچ کرو (ف۵۷۳) یا منت مانو (ف۵۷۴) اللہ کو اس کی خبر ہے (ف۵۷۵) اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، (۲۷۱) اگر خیرات اعلانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے (ف۵۷۶) اور اسمیں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے، (۲۷۲) انہیں راہ دینا تمہارے ذمہ لازم نہیں، (ف۵۷۷) ہاں اللہ راہ دیتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور تم جو اچھی چیز دو تو تمہارا ہی بھلا ہے (ف۵۷۸) اور تمہیں خرچ کرنا مناسب نہیں مگر اللہ کی مرضی چاہنے کے لئے، اور جو مال دو تمہیں پورا ملے گا اور نقصان نہ دیئے جاؤ گے، (۲۷۳) ان فقیروں کے لئے جو راہ خدا میں روکے گئے (ف۵۷۹) زمین میں چل نہیں سکتے (ف۵۸۰) نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب (ف۵۸۱) تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا (ف۵۸۲) لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے اور تم جو خیرات کرو اللہ اسے جانتا ہے، (۲۷۴) وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے اور ظاہر (ف۵۸۳) ان کے لئے ان کا نیگ (انعام، حصہ) ہے ان کے رب کے پاس ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم، (۲۷۵) وہ جو سود کھاتے ہیں (ف۵۸۴) قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر، جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیا ہو (ف۵۸۵) اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے، اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا، (ف۵۸۶) اور اس کا کام خدا کے سپرد ہے (ف۵۸۷) اور جو اب ایسی حرکت کرے گا تو وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتو ں رہیں گے (ف۵۸۸) (۲۷۶) اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو (ف۵۸۹) اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ف۵۹۰) اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار، (۲۷۷) بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور نماز قائم کی اور زکوٰة دی ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو، نہ کچھ غم، (۲۷۸) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو (ف۵۹۱) (۲۷۹) پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا (ف۵۹۲) اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہچاؤ (ف۵۹۳) نہ تمہیں نقصان ہو (ف۵۹۴) (۲۸۰) اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک، اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو(ف۵۹۵) (۲۸۱) اور ڈرو اس دن سے جس میں اللہ کی طرف پھرو گے، اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھردی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف۵۹۶) (۲۸۲) اے ایمان والو! جب تم ایک مقرر مدت تک کسی دین کا لین دین کرو (ف۵۹۷) تو اسے لکھ لو (ف۵۹۸) اور چاہئے کہ تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے (ف۵۹۹) اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اسے اللہ نے سکھایا ہے (ف۶۰۰) تو اسے لکھ دینا چاہئے اور جس بات پر حق آتا ہے وہ لکھا تا جائے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ رکھ نہ چھوڑے پھر جس پر حق آتا ہے اگر بے عقل یا ناتواں ہو یا لکھا نہ سکے (ف۶۰۱) تو اس کا ولی انصاف سے لکھائے، اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے (ف۶۰۲) پھر اگر دو مرد نہ ہوں(ف۶۰۳) تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو (ف۶۰۴) کہ کہیں ان میں ایک عورت بھولے تو اس کو دوسری یاد دلادے، اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں (ف۶۰۵) اور اسے بھاری نہ جانو کہ دین چھوٹا ہو یا بڑا اس کی میعاد تک لکھت کرلو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے اس میں گواہی خوب ٹھیک رہے گی اور یہ اس سے قریب ہے کہ تمہیں شبہ نہ پڑے مگر یہ کہ کوئی سردست کا سودا دست بدست ہو تو اس کے نہ لکھنے کا تم پر گناہ نہیں (ف۶۰۶) اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ کرلو (ف۶۰۷) اور نہ کسی لکھنے والے کو ضَرر دیا جائے، نہ گواہ کو (یا ، نہ لکھنے والا ضَرر دے نہ گواہ) (ف۶۰۸) اور جو تم ایسا کرو تو یہ تمہارا فسق ہوگا، اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے، (۲۸۳) اور اگر تم سفر میں ہو (ف۶۰۹) اور لکھنے والا نہ پاؤ (ف۶۱۰) تو گِرو (رہن) ہو قبضہ میں دیا ہوا (ف۶۱۱) اور اگر تم ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا (ف۶۱۲) اپنی امانت ادا کردے (ف۶۱۳) اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور گواہی نہ چھپاؤ (ف۶۱۴) اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اسکا دل گنہگار ہے (ف۶۱۵) اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے، (۲۸۴) اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ (ف۶۱۶) تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا (ف۶۱۷) تو جسے چاہے گا بخشے گا (ف۶۱۸) اور جسے چاہے گا سزادے گا (ف۶۱۹) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے، (۲۸۵) سب نے مانا (ف۶۲۰) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو (ف۶۲۱) یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے (ف۶۲۲) اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا (ف۶۲۳) تیری معافی ہو اے رب ہمارے! اور تیری ہی طرف پھرنا ہے، (۲۸۶) اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر، اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی (ف۶۲۴) اے رب ہمارے! ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں (ف۶۲۵) یا چوُکیں اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار (برداشت) نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے۔ تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔ |
|
|
|
|
|
#30 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: |