| فیض احمد فیض فیض احمد فیض |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,894
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 641 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیض احمد فیض كي برسى اردو ادب کو دنیا بھر میں روشناس کرانے اور ادب کی آبیاری میں جو مقام فیض احمد فیض کا ہے وہ کسی اور شاعر کو حاصل نہیں ہوا۔ فیض احمد فیض نے سات جنوری انیس سو گیارہ کو سیالکوٹ کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں آنکھ کھولی، فیض نے قلم کاری کا آغاز شاعری سے کیا اور اردو اور پنجابی میں شاعری کی۔ بعد میں وہ صحافت سے منسلک ہوگئے اور صدائے حق بلند کی۔ فیض احمد فیض کی اعلیٰ ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشانِ امتیاز اور سوویت یونین کی جانب سے لینن پرائزعطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگار ایوارڈ اور پاکستان ہیومن رائٹس سوسائٹی کی طرف سے امن انعام سے بھی نوازا گیا۔ فیض احمدفیض کے دس شعری مجموعے منصئہ شہود پر طلوع ہوئے اور اردو ادب میں ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔ ان کی شعری کلیات 'نسخہ ہائے وفا' کی نام سے آج بھی عمدہ شاعری کا ذوق رکھنے والوں کی پسندیدہ کتاب ہے۔ فیض کی شاعری کو اردو، پنجابی، ہندی، انگریزی اور روسی سمیت متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ فیض احمد فیض بیس نومبر انیس سو چوراسی کو انتقال کرگئے۔ مگر ظلم اور آمریت کے خلاف ان کی شاعری ہمیشہ مشعل راہ کی طرح روشن رہے گی۔ نہ آج لطف کر اتنا کہ کل گزر نہ سکے وہ رات جو کہ ترے گیسوؤں کی رات نہیں یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم وصالِ یار فقط آرزو کی بات نہیں ----------------------------------------- چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رولیں اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس کے ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں لیکن اب ظلم کی میعاد کےدن تھوڑے ہیں اک ذرا صبر، کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں ہم کو رہنا ہے پہ یونہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام گرانبار ستم آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے یہ ترے حسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار چاندنی راتوں کا بے کار دہکتا ہوا درد دل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایوس پکار چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز فیض احمد فیض کو بچھڑے پچیس برس بیت گئے |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مقام: Karachi
عمر: 28
مراسلات: 1,336
کمائي: 12,976
شکریہ: 2,292
779 مراسلہ میں 1,710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Qafas udaas hai yaro, saba say kuch to kaho
KaheeN to behr-e-KHuda aaj zikr-e-yaar chalay Faiz Sahab k baray main achi sharing hain janab. |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 1,867
کمائي: 22,249
شکریہ: 6,378
1,339 مراسلہ میں 3,035 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے تو فیض صاحب کی تمام شاعری میں سے محض ایک اچھا لگا۔
![]() وہ کیا تھا کہ کل شب پھر تیری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے چُپکے سے ویرانے میں بہار ا جائے جیسے ہولے سے چلے چمن میں باد نسیم جیسے دل بےقرار کو قرار آ جائے کیوں کہ میں نے انکی شاعری میں سے محض یہی ہی پڑھا ہے
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, khuda, say, sharing, کلیات, پاکستان, پسندیدہ, وفا, قید, میراث, مشعل, zikr, آج, انعام, اعلیٰ, حسن, خلاف, خدا, روزہ, رات, شاعری, عمدہ, صبر،, صحافت, صدائے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جواس حال میں فوت ہو جائے کہ نہ تو جہاد میں شریک ہوا اور نہ کبھی دل میں خیال پیدا ہوا۔ | میاں شاہد | صحیح المسلم | 4 | 25-02-11 03:04 PM |
| حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- | Haya 786 | گپ شپ | 7 | 25-02-11 11:42 AM |
| عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی | جاویداسد | خبریں | 2 | 21-09-10 08:12 PM |
| کلاس میں وہ آتے ہیں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں | The Great | مزاحیہ شاعری | 2 | 20-09-09 11:59 PM |
| سبز شاخیں کبھی ایسے تو نہیں چیختی ہیں | Shani | شعر و شاعری | 0 | 08-11-08 06:34 PM |