| فیض احمد فیض فیض احمد فیض |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 30
کمائي: 450
شکریہ: 24
13 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور کچھ دیر میں ، جب پھر مرے تنہا دل کو
فکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرے دردآئے گا دبے پاؤں لیے سرخ چراغ وہ جو اک درد دھڑکتا ہے کہیں دل سے پرے شعلۂ درد جو پہلو میں لپک اٹھے گا دل کی دیوار پہ ہر نقش دمک اٹھے گا حلقۂ زلف کہیں، گوشۂ رخسار کہیں ہجر کا دشت کہیں، گلشنِ دیدار کہیں لطف کی بات کہیں، پیار کا اقرار کہیں |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 30
کمائي: 450
شکریہ: 24
13 مراسلہ میں 44 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دل سے پھر ہوگی مری بات کہ اے دل اے دل
یہ جو محبوب بنا ہے تری تنہائی کا یہ تو مہماں ہے گھڑی بھر کا، چلا جائے گا اس سے کب تیری مصیبت کا مداوا ہوگا مشتعل ہو کے ابھی اٹھّیں گے وحشی سائے یہ چلا جائے گا، رہ جائیں گے باقی سائے رات بھر جن سے ترا خون خرابا ہوگا جنگ ٹھہری ہے کوئی کھیل نہیں ہے اے دل دشمنِ جاں ہیں سبھی، سارے کے سارے قاتل یہ کڑی رات بھی ، یہ سائے بھی ، تنہائی بھی درد اور جنگ میں کچھ میل نہیں ہے اے دل لاؤ سلگاؤ کوئی جوشِ غضب کا انگار طیش کی آتشِ جرار کہاں ہے لاؤ وہ دہکتا ہوا گلزار کہاں سے لاؤ جس میں گرمی بھی ہے ، حرکت بھی توانائی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر ان کو شعلوںکے رجز اپنا پتا تو دیںگے خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی ، صدا تودیں گے دور کتنی ہے ابھی صبح ، بتا تو دیں گے |
|
|
|
| علی عمران کا شکریہ ادا کیا گیا | Shani (08-11-08) |
|
|
#3 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: K S A
مراسلات: 61
کمائي: 1,291
شکریہ: 167
29 مراسلہ میں 46 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی زبردست بھائی جاری رکھیں
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 8,547
کمائي: 934,142
شکریہ: 4,411
5,329 مراسلہ میں 13,189 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
Assalam-o-Allykom Wrt Wbrkt
|
|
|
|