واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


عظیم بھائی کی عظیم بہن "محترمہ فاطمہ جناح"

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-08-09, 05:34 PM   #1
عظیم بھائی کی عظیم بہن "محترمہ فاطمہ جناح"
مرزا محمد فاروق مرزا محمد فاروق آف لائن ہے 07-08-09, 05:34 PM

محترمہ فاطمہ جناح‌جولائی 1891 میں اپنے آبائی مکان نیو نہم روڈ کراچی میں پیدا ہوئیں ،اپنے عزیز بھائی قائد اعظم ٌ سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں 1892میں جس وقت قائد اعظم وکالت کی تعلیم کے لئے بیرون ملک تشریف لے جارہے تھے تو اس وقت محترمہ عمر صرف ایک سال کی تھی کون جانتا تھا کہ یہ ننھی منھی فاطمہ جناح‌مسلمانوں‌کے آزاد اور عظیم مملک پاکستان کے حصول کی جدوجہد کےلئے اپنے بھائی کے شانہ بشانہ ہونگی ۔ ابھی صرف دو ہی سال کی تھیں کہ والدہ مٹھی بائی سے محرومی کا دکھ جھیلنا پڑا۔1895 میں ان کے والد جناح پونجا انہیں اپنے ہمراہ لے کر مستقل طور پر بمبئی میں رہائش پذیر ہو گئے۔محترمہ کو صرف دس سال کی عمر میں والد کی شفقت سے بھی محروم ہونا پڑا۔
1902میں قائد اعظم محمد علی جناح نے محترمہ فاطمہ جناح‌کو سینٹ پیٹرک ہائی سکول کھنڈالہ میں داخل کرا دیا۔ 1910 میں انہوں‌نے میٹرک اور 1913 میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کیا ۔ 1922 وہ سال ہے جب محترمہ نے ڈینٹیسٹ کی تعلیم مکمل کر لی ۔ اور اگلے ہی سال 1923 میں عبدالرحمٰن اسٹریٹ بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کی ، تاہم 1929 میں جب قائد اعظم محمد علی جناح کی زوجہ رتن بائی کا انتقال ہوا تو انہوں‌نے اپنی زندگی بھائی کی خدمت کےلئے وقت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ان کی دیکھ بھال کی غرض‌سے ان کےساتھ رہنے لگیں ۔ اس کے بعد سے محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا مقصد بھائی کی خدمت اور ہر میدان میں ان کا ساتھ دینا بن گیا تھا
انہوں نے نہ صرف نجی زندگی میں بلکہ سیاسی زندگی میں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی ۔1940میں جب قائد اعظم تقسیم ہند کی تاریخ‌ساز قرار داد میں شرکت کے لئے لاہور تشریف لائے تو محترمہ فاطمہ جناح‌بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔
محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کا جس طرح ساتھ دیا وہ اسی کا اعجاز تھا کہ برصغیر کے گلی کوچوں اور بازاروں میں مردوں کے دوش بدوش خواتین سرگرمی سے حصہ لینے لگیں‌تھیں‌۔ اس زمانے میں خواتین کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ گلیوں‌، کوچوں اور بازاروں میں‌مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں اٹھائے "لے کے رہیں گے پاکستان ، دینا پڑے گا پاکستان ،پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ "کے فلک شگاف نعرے لگا کر تحریک پاکستان کے مقاصد کو تقویت پہنچا رہی تھیں‌۔ ان کو اس پر عزم جدوجہد کے باعث ایک وقت وہ بھی آیا جب ان کے جلوسوں‌پر ریاستی تشدد بھی کیا گیا لیکن ان کے پایہ استقبال میں‌کوئی لغزش نہیں آئی الغرض یہ وہ ایمان افروز جذبے تھے جو مادرِ ملت نے مسلم خواتین کے دلوں‌میں کوٹ کوٹ کر بھر دییے تھے جس کی بدولت 80 پزارخواتین کی عصمتوں‌کی قربانیاں‌اور 10لاکھ مسلمانوں کی شہادت کے باعث ہمیں آزادی کی گرانقدرنعمت حاصل ہو گئی ۔ 7اگست 1947کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں‌۔ اور اگلے سالوں‌میں بھائی کی جدوجہد اور مسائل میں ان کے ہمراہ رہیں‌۔1964 میں پیرانہ سالی کے باوجود منصب صدارت کے مقابلے میں اتریں‌۔
محترمہ فاطمہ جناح‌نے اپنی زندگی میں خواتین کی صلاحیتوں‌کو اجاگر کرنے ،انہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھانے کے حوالے سے بہت سے کام کیے ،وہ تعلیم نسواں کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں ۔ وہ اپنے لندن میں‌قیام کے دوران اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی تھیں‌کہ انگریز خواتین تعلیم میں برصغیر پاک و ہند کی مسلم خواتین کے مقابلے میں بہت آگے تھیں‌۔ محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم خواتین کی بیداری کا ذمہ لیا اور قیام پاکستان سے قبل ہی کئی شہروں‌میں خواتین کے تعلیمی مراکز قائم کیے جن میں‌سلائی کڑھائی کے مراکز بھی کھولے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی محترمہ اپنی اس ذمہ داری سے غافل نہ ہوئی جس کا ثبوت 30جون 1959 کو مدرسہ بنات الاسلام کا افتتاح کیا 15جون 1950 کو لیڈیز کلب حیدر آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "جب میں حصول پاکستان کے ضمن میں‌ہندوستان کی خواتین کی جدوجہد کو یاد کرتی ہوں‌تو میرا دل فخر سے معمور ہو جاتا ہے وہ آپ ہی تھیں جنہوں‌نے مردوں‌کے تخیل میں انقلاب پیدا کیا "12 مئی 1950کو نیو ٹائون گرلز سکول کا افتتاح کیا فاطمہ جناح‌میڈیکل کالج کی بنیاد آپ ہی کی ایماپر رکھی گئی 25دسمبر1955کو خاتون پاکستان سکول کراچی محترمہ فاطمہ جناح نے خود کھولا اور قائد اعظم فنڈ سے ایک لاکھ روپیہ عطیہ دیا اس سکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریبا13 ایکڑ زمین دی گئی 1962 میں اس سکول کو کالج کا درجہ دے دیا گیا ۔
محترمہ فاطمہ جناح ہر مقام اور ہر میدان میں خواتین کو مردوں‌کے شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہاں تھیں وہ جب تک زندہ رہیں تب تک انہوں‌نے خواتین کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی ،وہ لٹے پٹے مہاجرین کے لئے ایک مشعل راہ تھیں ۔ انہوں نے خواتین کو گھروں‌سے نکال کر خدمت خلق کےلئے آمادہ کیا ، بیماری اور ضعیفی میں بھی وہ دن رات محنت کرتیں ،کھبی کیمپوں کا دورہ کرتیں تو کھبی سکولوں کے افتتاح میں شریک دکھائی دیتیں ۔ ان کےساتھ کام کرنےو الی خواتین کے حوصلے انہیں دیکھ کر بلند رہتے تھے بھائی سے بے پناہ محبت کی مثال قائم کرنے والی محترمہ فاطمہ جناح بھائی کی جدائی کا صدمہ زیادہ عرصہ نہ سہہ سکیں‌۔8اور 9جولائی 1968ء کی درمیانی شب میں قصر فاطمہ کلنٹن میں 76سال کی عمر میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد خاک کر دی ۔





تحریر :خواجہ افتخار
میں نے پڑھی مجھے اچھی لگی تو آپ لوگوں‌کی معلومات میں اضافہ کے لئے شئر کر دی۔
__________________
مرزا محمد فاروق

 
مرزا محمد فاروق's Avatar
مرزا محمد فاروق
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,737 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1237
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا
J.S (07-08-09), نورالدین (07-08-10), ایس اے نقوی (07-08-09), رضی (07-08-09)
پرانا 07-08-09, 05:38 PM   #2
Senior Member
 
مرزا محمد فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,444
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,737 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default عظیم بھائی کی عظیم بہن "محترمہ فاطمہ جناح"

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا محمد فاروق مراسلہ دیکھیں
محترمہ فاطمہ جناح‌جولائی 1891 میں اپنے آبائی مکان نیو نہم روڈ کراچی میں پیدا ہوئیں ،اپنے عزیز بھائی قائد اعظم ٌ سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں 1892میں جس وقت قائد اعظم وکالت کی تعلیم کے لئے بیرون ملک تشریف لے جارہے تھے تو اس وقت محترمہ عمر صرف ایک سال کی تھی کون جانتا تھا کہ یہ ننھی منھی فاطمہ جناح‌مسلمانوں‌کے آزاد اور عظیم مملک پاکستان کے حصول کی جدوجہد کےلئے اپنے بھائی کے شانہ بشانہ ہونگی ۔ ابھی صرف دو ہی سال کی تھیں کہ والدہ مٹھی بائی سے محرومی کا دکھ جھیلنا پڑا۔1895 میں ان کے والد جناح پونجا انہیں اپنے ہمراہ لے کر مستقل طور پر بمبئی میں رہائش پذیر ہو گئے۔محترمہ کو صرف دس سال کی عمر میں والد کی شفقت سے بھی محروم ہونا پڑا۔
1902میں قائد اعظم محمد علی جناح نے محترمہ فاطمہ جناح‌کو سینٹ پیٹرک ہائی سکول کھنڈالہ میں داخل کرا دیا۔ 1910 میں انہوں‌نے میٹرک اور 1913 میں سینئر کیمرج کا امتحان پرائیویٹ طالبہ کی حیثیت سے پاس کیا ۔ 1922 وہ سال ہے جب محترمہ نے ڈینٹیسٹ کی تعلیم مکمل کر لی ۔ اور اگلے ہی سال 1923 میں عبدالرحمٰن اسٹریٹ بمبئی میں ڈینٹل کلینک کھول کر پریکٹس شروع کی ، تاہم 1929 میں جب قائد اعظم محمد علی جناح کی زوجہ رتن بائی کا انتقال ہوا تو انہوں‌نے اپنی زندگی بھائی کی خدمت کےلئے وقت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ان کی دیکھ بھال کی غرض‌سے ان کےساتھ رہنے لگیں ۔ اس کے بعد سے محترمہ فاطمہ جناح کی زندگی کا مقصد بھائی کی خدمت اور ہر میدان میں ان کا ساتھ دینا بن گیا تھا
انہوں نے نہ صرف نجی زندگی میں بلکہ سیاسی زندگی میں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی ۔1940میں جب قائد اعظم تقسیم ہند کی تاریخ‌ساز قرار داد میں شرکت کے لئے لاہور تشریف لائے تو محترمہ فاطمہ جناح‌بھی ان کے ہمراہ تھیں ۔
محترمہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کا جس طرح ساتھ دیا وہ اسی کا اعجاز تھا کہ برصغیر کے گلی کوچوں اور بازاروں میں مردوں کے دوش بدوش خواتین سرگرمی سے حصہ لینے لگیں‌تھیں‌۔ اس زمانے میں خواتین کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ گلیوں‌، کوچوں اور بازاروں میں‌مسلم لیگ کے سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں اٹھائے "لے کے رہیں گے پاکستان ، دینا پڑے گا پاکستان ،پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ "کے فلک شگاف نعرے لگا کر تحریک پاکستان کے مقاصد کو تقویت پہنچا رہی تھیں‌۔ ان کو اس پر عزم جدوجہد کے باعث ایک وقت وہ بھی آیا جب ان کے جلوسوں‌پر ریاستی تشدد بھی کیا گیا لیکن ان کے پایہ استقبال میں‌کوئی لغزش نہیں آئی الغرض یہ وہ ایمان افروز جذبے تھے جو مادرِ ملت نے مسلم خواتین کے دلوں‌میں کوٹ کوٹ کر بھر دییے تھے جس کی بدولت 80 پزارخواتین کی عصمتوں‌کی قربانیاں‌اور 10لاکھ مسلمانوں کی شہادت کے باعث ہمیں آزادی کی گرانقدرنعمت حاصل ہو گئی ۔ 7اگست 1947کو محترمہ فاطمہ جناح 56 سال کے بعد دہلی کو الوداع کہہ کر کراچی منتقل ہو گئیں‌۔ اور اگلے سالوں‌میں بھائی کی جدوجہد اور مسائل میں ان کے ہمراہ رہیں‌۔1964 میں پیرانہ سالی کے باوجود منصب صدارت کے مقابلے میں اتریں‌۔
محترمہ فاطمہ جناح‌نے اپنی زندگی میں خواتین کی صلاحیتوں‌کو اجاگر کرنے ،انہیں ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھانے کے حوالے سے بہت سے کام کیے ،وہ تعلیم نسواں کی اہمیت سے بخوبی واقف تھیں ۔ وہ اپنے لندن میں‌قیام کے دوران اس حقیقت سے آگاہ ہو چکی تھیں‌کہ انگریز خواتین تعلیم میں برصغیر پاک و ہند کی مسلم خواتین کے مقابلے میں بہت آگے تھیں‌۔ محترمہ فاطمہ جناح نے مسلم خواتین کی بیداری کا ذمہ لیا اور قیام پاکستان سے قبل ہی کئی شہروں‌میں خواتین کے تعلیمی مراکز قائم کیے جن میں‌سلائی کڑھائی کے مراکز بھی کھولے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی محترمہ اپنی اس ذمہ داری سے غافل نہ ہوئی جس کا ثبوت 30جون 1959 کو مدرسہ بنات الاسلام کا افتتاح کیا 15جون 1950 کو لیڈیز کلب حیدر آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "جب میں حصول پاکستان کے ضمن میں‌ہندوستان کی خواتین کی جدوجہد کو یاد کرتی ہوں‌تو میرا دل فخر سے معمور ہو جاتا ہے وہ آپ ہی تھیں جنہوں‌نے مردوں‌کے تخیل میں انقلاب پیدا کیا "12 مئی 1950کو نیو ٹائون گرلز سکول کا افتتاح کیا فاطمہ جناح‌میڈیکل کالج کی بنیاد آپ ہی کی ایماپر رکھی گئی 25دسمبر1955کو خاتون پاکستان سکول کراچی محترمہ فاطمہ جناح نے خود کھولا اور قائد اعظم فنڈ سے ایک لاکھ روپیہ عطیہ دیا اس سکول کے لئے حکومت کی جانب سے تقریبا13 ایکڑ زمین دی گئی 1962 میں اس سکول کو کالج کا درجہ دے دیا گیا ۔
محترمہ فاطمہ جناح ہر مقام اور ہر میدان میں خواتین کو مردوں‌کے شانہ بشانہ دیکھنے کی خواہاں تھیں وہ جب تک زندہ رہیں تب تک انہوں‌نے خواتین کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی ،وہ لٹے پٹے مہاجرین کے لئے ایک مشعل راہ تھیں ۔ انہوں نے خواتین کو گھروں‌سے نکال کر خدمت خلق کےلئے آمادہ کیا ، بیماری اور ضعیفی میں بھی وہ دن رات محنت کرتیں ،کھبی کیمپوں کا دورہ کرتیں تو کھبی سکولوں کے افتتاح میں شریک دکھائی دیتیں ۔ ان کےساتھ کام کرنےو الی خواتین کے حوصلے انہیں دیکھ کر بلند رہتے تھے بھائی سے بے پناہ محبت کی مثال قائم کرنے والی محترمہ فاطمہ جناح بھائی کی جدائی کا صدمہ زیادہ عرصہ نہ سہہ سکیں‌۔8اور 9جولائی 1968ء کی درمیانی شب میں قصر فاطمہ کلنٹن میں 76سال کی عمر میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد خاک کر دی ۔





تحریر :خواجہ افتخار
میں نے پڑھی مجھے اچھی لگی تو آپ لوگوں‌کی معلومات میں اضافہ کے لئے شئر کر دی۔
اللہ تعالیٰ‌ہر کسی کو فاطمہ جناح‌جیسی بہن دے آمین
Attached Images
File Type: bmp untitled.bmp (265.7 KB, 26 views)
مرزا محمد فاروق آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا
J.S (07-08-09), shafresha (07-08-10), رضی (07-08-09)
پرانا 31-08-09, 10:13 AM   #3
Senior Member
 
وجدان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 30
مراسلات: 1,284
کمائي: 25,152
شکریہ: 919
594 مراسلہ میں 1,518 بارشکریہ ادا کیا گیا
وجدان کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں وجدان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوبصورت تحریرہے جناب شئرنگ کا شکریہ۔
وجدان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے وجدان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-08-10), مرزا محمد فاروق (31-08-09)
پرانا 31-08-09, 02:43 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-08-10), مرزا محمد فاروق (31-08-09)
پرانا 01-09-09, 03:58 AM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,514
کمائي: 118,821
شکریہ: 13,538
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اضافی معلومات کے ساتھ


انیس سو باسٹھ کے آئین کے تحت ایک سو چھپن ارکان پر مشتمل جو قومی اسمبلی تین برس کے لئے وجود میں آئی، اس کا چناؤ عوام نے نہیں بلکہ صدر ایوب کے بنیادی جمہوریتی نظام کے تحت عوامی ووٹ سے بننے والے اسی ہزار بیسک ڈیموکریٹس نے کیا۔ بعد ازاں آئین میں ترمیم کرکے اسمبلی کے ارکان کی تعداد دو سو اٹھارہ اور الیکٹورل کالج ( بیسک ڈیموکریٹس) کے ارکان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک کر دی گئی۔

انہی بیسک ڈیمو کریٹس نے جنوری انیس سو پینسٹھ کے صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ایوب خان کو ایک اور مدت کے لئے صدر منتخب کیا۔

ایوب خان اس دوڑ میں مسلم لیگ کنونشن کے حمائیت یافتہ تھے۔

جبکہ فاطمہ جناح کی حمائیت کمبائینڈ اپوزیشن پارٹیز نامی پانچ جماعتی اتحاد کررھا تھا۔

الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے لئے ایک ماہ کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی۔لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوا کہ عام لوگ فاطمہ جناح کو سننے کے لئے جوق در جوق آ رہے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن نے ہر فریق کے لئے زیادہ سے زیادہ نو پروجیکشن میٹنگز منعقد کرنے کی حد لگادی ۔

جن میں صرف الیکٹورل کالج کے بیسک ڈیموکریٹس یا صحافی شریک ہو سکتے تھے۔عوام کو ان اجلاسوں میں آنے کی ممانعت تھی۔

عجیب بات ہے کہ ایوب خان جنہیں عام طور پر ایک لبرل اور سیکولر شخصیت سمجھا جاتا تھا انہوں نے کئی علماء سے عورت کے سربراہ مملکت ہونے کے خلاف فتوی لیا۔ جبکہ جماعتِ اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی۔

ایوب خان کو یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ وہ باسٹھ کے آئین کے تحت اسوقت تک صدر رہ سکتے تھے جب تک انکا جانشین منتخب نہ ہوجائے۔

چنانچہ ایوب خان بحثیت صدر پوری سرکاری مشینری اور ہر طرح کا دباؤ برتنے کے بعد حسبِ توقع بھاری اکثریت سے فاطمہ جناح کو ہرانے میں کامیاب ہوگئے۔

اسکے نتیجے میں سیاسی حلقوں میں جو مایوسی پھیلی اس نے تین برس بعد ایوب خان کے خلاف بھرپور ملک گیر ایجی ٹیشن کی بنیاد رکھ دی۔
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-08-10), نورالدین (07-08-10), مرزا محمد فاروق (01-09-09)
پرانا 01-09-09, 09:33 AM   #6
Senior Member
 
مرزا محمد فاروق's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: lalamusa
مراسلات: 2,361
کمائي: 27,444
شکریہ: 5,971
1,796 مراسلہ میں 3,737 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھا کنعان بھائی کیا بات ہے آپ کی تو شئیرنگ کا شکریہ
مرزا محمد فاروق آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا محمد فاروق کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-08-10), کنعان (01-09-09)
پرانا 07-08-10, 09:34 AM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہ سرورق پر لگائی جا چکی ہے؟
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (07-08-10)
جواب

Tags
کالج, کراچی, ٹیشن, پاکستان, لندن, مکمل, منتقل, محبت, مسائل, مشعل, ایمان, اللہ, امتحان, بھائی, تعلیم, خواتین, رات, زندگی, سال, عالم, عزیز, صدمہ, صدارت, صدارتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" مژگان فیشن اور بیوٹی ٹپس 29 01-01-12 02:34 AM
انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" Hashims Search Engines 8 02-09-11 03:24 PM
اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 17 23-02-11 07:37 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
کراچی میں پولیس کا "ناکے پہ ناکہ "اور ڈاکو ں کا "ڈاکے پہ ڈاکہ"جاری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 06:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger