|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صبح کی اذان گونجی تو وہ مشین کی طرح اٹھ بیٹھی۔ جلدی سے لکڑیاں رکھیں اور پھونکنی سے چولھا جلانے لگی۔ آنکھوں سے بہتے پانی کو نظر انداز کرتے ہوئے،پانی لینے دوڑی اور وضو کیلئے پانی رکھا۔پانی رکھتے رکھتے شوہر کی غصیلی آواز نے اسے چونکا دیا۔
آگ بھی جلانی نہیں آتی کیا؟ سارا گھر دھوئیں سے بھر دیا۔ ڈرتے ڈرتے کچھ دیر بعد شوہر کو اٹھایا، اتھیں جی پانی گرم ہو گیا وضو کر لیں، شوہر نے وضو کیا پھر اسنے بھی وضو کرکے نماز پڑھی اور جلدی جلدی ناشتہ بنانے لگی، کام کرتے کرتے دھواں انکھوں میں لگا اور آنکھیں پھر بہہ نکلیں۔ روٹی پکڑاتے ہوئے شوہر کی نظر پڑی تو بھڑک اٹھا۔ کون مر گیا جو آنسو بہا رہی ہے؟ وہ گھبرا کر بولی نہیں دھواں لگ گیا تھا اسلئے پانی آگیا۔ تو کیا تیری ماں نے چولہا جلانا بھی نہیں سکھایا تھا کیا جو اب تک آنسو بہاتی ہے۔ ماں کا نام سن کر تڑپ اٹھی لیکن ہونٹ سی لئے، یہ سوچ کر کہ اگر ایک لفظ بھی کہا تو ماں کے نام اور معلوم نہیں کیا کیا سننا پڑے گا، شوہر نے ناشتہ کیا اور کھیتوں کی طرف نکل گیا، جاتے جاتے آواز لگائی، کھانا وقت پر لے آناسست عورت!! سارا دن محنت کر کے بھوکا بیٹھا رہتا ہوں۔ شوہر کے جاتے ہی بچوں کو اٹھایا۔ منہ ہاتھ دھلایا اور ناشتہ کرایا اور سکول کی تیاری کی۔ بڑی بیٹی بولی اماں میں نے سکول نہیں جانا، کیوں بیٹا! سکول کیوں نہیں جانا؟ اماں استانی ڈنڈے سے مارتی ہے، جھاڑو بھی لگواتی ہے اور اپنے گھر کا کام بھی کرواتی ہے۔ کوئی بات نہیں بیٹا! استاد کی خدمت سے تو پھل ملتا ہے۔ نہیں نا اماں! اگر میں نے جھاڑو پونچھا ہی کرنا ہے تو تیرے ساتھ کیوں نا کروں، استانی کی مار کیوں کھاؤں؟ نا بیٹا! تو نے پڑھنا ہے، استانی بننا ہے۔ تو تو میری رانی ہے شان سے رہے گی میری طرح تھوڑی جئے گی۔ چل شاباش میرا بچہ، بھائیوں کو بھی دھیان سے لیکر جانا۔ بچوں کے جاتے ہی جلدی جلدی صفائی کی۔چھوٹے دونوں بچوں کو صاف کیا ناشتہ کرایا، مویشیوں کو چارہ ڈالا،دودھ دوھ کر رکھا۔ پھر پانی کے برتن اٹھائے، چھوٹے کو جھولی باندھ کرلٹکایا اور دوسرے بچے کا ہاتھ پکڑ کنویں کی طرف چلی۔ کنویں پر رش لگا تھا۔ ہرعورت کو جلدی تھی، ایک عورت کہنے لگی، بھئی مرد بیچارے سارا دن محنت کرتے ہیں، روٹی تو جلدی ملنی چاہئے نا، جلدی جلدی کرو۔ وہ بیچاری ایک طرف اپنی باری کا انتظار کرنے لگی، اچانک ایک بزرگ عورت کی نظر اس پر پڑی، وہ بولی ہائے ہائے تو نے ایسی حالت میں بچے کو کیوں لٹکا رکھا ہے کچھ ہو گیا تو؟ نہیں چاچی ! یہ کوئی پہلا بچہ تو نہیں ہے نا، پہلے بھی تو میرے چھ بچے ہیں۔ لیکن چار مرے بھی تو تھے یہ بھول گئی؟ ایک عورت بولی، ارے چاچی کیا ہو گیا تجھے! اس گاؤں میں کوئی ایک عورت بتادے جس کا کوئی بچہ مرا نہ ہو۔ کچھ جیتے ہیں تو کچھ مرتے ہیں۔ یہ تو ہمارے ساتھ لگا ہی ہے۔ اب مجھے دیکھو، بارہ بچے ہوئے تھے میرے، پر اب صرف آٹھ ہیں۔ وہ سب کی سننے کے بعد سر ہلاتے ہوئے بولی، اور کیا چاچی، یہ تو ہماری زندگی ہے۔ اور پھر انکو نہ لاؤں تو کس کے پاس چھوڑوں، لانا تو پڑتا ہی ہے۔ چاچی بڑبڑانے لگی، مرنا ہے پر سال کے سال نیا جی ضرور لانا ہے۔ ارے ہمارے زمانے میں تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔تم لوگ تو عقل کرو۔ ارے چاچی! انکا ابا تو کہتا ہے دس بیٹے چاہئیں جو کھیتوں میں میرا بازو بنیں اور میں چوہدری بن جاؤں، ابھی تو پانچ ہی ہیں۔ پانی کے دو گھڑے اوپر تلے سر پر ٹکائے،دو بچوں کے ساتھ وہ گھر پہنچی اور جلدی جلدی کھانا بنانے میں جت گئی، سبزی بنائی اور جلدی جلدی بھوننے لگی، اتنے میں چھوٹے کی رونے کی آواز آئی، اس نے اسے اندر چارپائی میں چادر کا جھولہ بنا کر باندھ رکھا تھا،سوچا بھوک سے رویا ہو گا۔اچانک اور زور سے رویا تووہ بھاگی۔ دیکھا تو منا اسے اٹھا نے کی کوشش میں جھولے سے گرا چکا تھا اور اب دونوں ہی چیخ چیخ کر رو رہے تھے۔چھوٹے کا ماتھا چوٹ سے ابھر گیا تھا۔چھوٹے کو اٹھایا اور منے کی بھی انگلی پکڑ باہر لے آئی۔ اب دو سال کے بچے کو کیا کہتی۔ باہر ہانڈی کو دیکھا شکر کیا کہ لگتے لگتے بچ گئی، سوچا اگر جل جاتی تو پھر شوہر کی مار کھانی پڑتی۔ جلدی سے کھانا بنایا۔روٹی ڈالی اور کھانا باندھ کر کھیت پہنچ گئی۔ شوہر درخت کے نیچے بھنا بیٹھا تھا۔ دیکھتے ہی اٹھا اور ایک ہاتھ جڑدیا، سست عورت!اتنی دیر سے کھانا لائی ہے؟ کرتی کیا ہے سارا دن؟ وہ میں، وہ کچہ کہنا چاہتی تھی مگر سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کہے۔ غور کیا تو بوکھلا سی گئی،سوچتی ہی رہ گئی کہ واقعی وہ کرتی کیا ہے سارا دن۔ شوہر نے کھانا کھایا اور ایک ٹکڑا روٹی کا بچادیا۔ بڑبڑاتا ہوا اٹھ گیا، روٹی تک نہیں بنانی آتی،سواد ہی نہیں اس عورت کے ہاتھ میں۔ اس نے سوچا چلو یہ بچا ہوا ٹکڑا میں کھالوں۔صبح سے کچھ نہیں کھایا، آنے والا بھی تو بھوکا ہو گا۔ابھی نوالہ منہ تک ہی پہنچا تھا کہ شوہر کی نظرچھوٹے کے ابھرے ہوئے ماتھے پر پڑی۔ یہ کیا ہوا ہے اسے؟ وہ منے نے جھولے سے گرا دیا تھا،چوٹ لگ گئی۔بس سننے کی دیر تھی کہ شوہر نے پے درپے کئی ہاتھ جڑ دئے، سست عورت! ہوش نہیں ہوتا بچوں کا، ہاں سوئی پڑی ہوگی نا اور کیا کرنا ہے تو نے، تو انوکھی بچہ پیدا کررہی ہے نا، ابھی بھی دیکھو اپنا پیٹ بھرنے کی فکر ہے بچے کو چوٹ لگا کر۔ جا یہاں سے۔ اس نے کھانا اسی طرح سمیٹا اور گھر روانہ ہو گئی۔ گھر پہنچی تو بچے آگئے۔ انہیں کھانا کھلایا، گھر سمیٹا، شام کی ہانڈی بنائی، دوبارہ پانی لائی؛ اکٹھا زیادہ پانی لایا جو نہیں جاتا تھا اس سے۔مغرب ہو گئی تو شوہر گھر آگیا۔وہ چھوٹے کو صاف کر رہی تھی۔ اچانک پتہ چلا شوہر گھر آگیا تو بھاگی ہاتھ دھونے۔ شوہر تھکا ہارا آیا تھا،پانی جو دینا تھا۔ جلدی سے پانی لائی۔شوہر نے گلاس زمین پر دے مارا۔ سست عورت!! تجھے اتنا نہیں پتہ کہ شوہر تھکا ہارا گھر آئے تو فوراً پانی پلاتے ہیں۔ اتنی دیر سے آئی ہے۔ کام کی نہ کاج کی، ہاں ہاں مفت کی روٹی جو مل رہی ہے بیٹھے بٹھائے، اسکو کیا پتہ محنت کیا ہوتی ہے۔کیسے خون پسینہ بہتا ہے۔ وہ سوچ میں پڑ گئی، میں کیا کروں کہ مجھ سے ایسی خطائیں نہ ہوں، پانی لائی اور پھر نماز پڑھنے لگی، نماز میں اللہ سے دعا مانگنے لگی،" اے اللہ میری مدد کر دے، میری سستی کی عادت چھڑا دے، مجھے ویسا تیز بنا دے جیسا میرا مجازی خدا چاہتا ہے۔میرے شوہر کو مجھ سے راضی کر دے۔ وہ دن بھر محنت کرتا ہے، اسکی ہمت بڑھا دے اور اسکا دل مجھ سے خوش کر دے" اتنے میں شوہر کی آواز آئی،"ارے کھانا بھی دے گی یا میرے مرنے کی دعائیں ہی مانگتی رہے گی۔ اس نے جلدی سے مصلہ سمیٹا اورسب کیلئے کھانا لے آئی۔آخر اسے بھی تو بھوک لگنی ہی تھی میرا آپ سب سے ایک سوال ہے۔ کیا وہ واقعی سست عورت تھی؟؟؟
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 28 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), فرحان دانش (27-11-09), یاسر عمران مرزا (27-12-09), یحیٰی (26-11-09), نورالدین (21-09-10), محمدمبشرعلی (14-02-10), محمدخلیل (28-11-09), محمدعمر (27-11-09), مرزا عامر (21-09-10), معظم (07-12-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ابن آدم (21-09-10), ابن جلال (26-11-09), ابرارحسین (24-11-09), احمد بلال (08-01-10), احمدنواز (09-12-09), بلال الراعی (24-09-10), باسط (08-02-10), بزم خیال (24-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (25-11-09), حریم خان (09-02-10), حسنین ایوب (25-11-09), راجہ اکرام (26-11-09), سائرہ علی (25-11-09), سحر (24-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09), عثمان پرویز (27-12-09), عدنان دانی (24-11-09) |
| کمائي نے ام طلحہ کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 28-11-09 | ایس اے نقوی | سست عورت | 150 |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,684
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ یہ تو ہر گھر کی کہانی ہے ۔
کیوں عورت گھر سے نکل کر نوکری کرنے کو اپنے لیے بہتر سمجھتی ہے اور دوہری ذمہ داری اپنے سر لے لیتی ہے اس لیے کہ شوہر سمجھتے ہیں کہ گھر میں تو کوئی کام نہیں ہوتا اور شوہر کے کام پر جانے کے بعد اس کی بیوی پورا دن سوتی رہتی ہے ۔ اسی لیے گھر میں رہنی والی عورت کو عزت نہیں دی جاتی ہے ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
توجہ کا شکریہ سحر! میں مرحلہ وار ہر طبقہ کی خواتین کے مسائل پر لکھنے کی کوشش کروں گی۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (08-02-10), بزم خیال (24-11-09), تانیہ رحمان ستارہ (25-11-09), سحر (24-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,336
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپ کی کہانی بہت اچھی ہے۔۔بہت بہت شکریہ
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), باسط (08-02-10), بزم خیال (24-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09), عدنان دانی (24-11-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ok
مراسلات: 1,248
کمائي: 27,531
شکریہ: 4,251
981 مراسلہ میں 2,929 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام و علیکم
ام طلحہ بہن بہت خوبصورت انداز بیان ہے ہمارے معاشرے میں خاص کر دیہاتی کلچر میں عورت کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے نہایت اچھے انداز میں تصویر کشی کی آپ نے خوش رہیں |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ام طلحہ (25-11-09), باسط (08-02-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,702
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ بہت خوبصورت کہانی بیان کی ہے ، بلکہ ہمارے معاشرے کی مظلم عورت کی تصویر کشی ۔ جب تک عورت خود اپنے اوپر ترس کھائے گی یوں ہی پاوں کی جوتی رہی گئے ، سب سے پہلے جب ہم اپنی بہن بیٹی کو اپنے گھر سے شوہر کے گھر رخصت کرتے ہیں ۔ تو ماں باپ کے گھر کے دروازے بند ہو جاتے ہیں ۔کہ بیٹی اب تیرا مرا ہوا منہ دیکھیں گے ، چاہے جیے کہ مرے لیکن وہاں رہنا ہے اب یہ گھر تیرے لیے پرایا ہے ۔۔اپنے گھروالوں کی عزت اب تیرے ہاتھ میں ہے ۔۔کس عزت کی ہم بات کرتے ہیں ۔۔ بیٹا چاہے کچھ کر لے ماں باپ کو عزت کا خیال نہیں آتا لیکن سارے ظلم بیٹی پر ہی کیوں اگر ہماری یہ سوچ ہو کہ بیٹی جہاں تم جا رہی ہو وہ تمھارا پہلا گھر ہے جہاں پوری کوشش کرنا سب کی عزت پیار و محبت سے رہنے کی لیکن اگر وہاں تمھارے ساتھ ظلم جبر ہوتا ہے تو ہم زندہ ہیں ۔۔ آپ دیکھیں گے کہ کسی کی ہمت نہیں ہو گی عورت پر ظلم کرنے کی یا اس کو سست کہنے کی ۔سب سے بڑا قصور اور ظلم ماں باپ ہوتے ہیں ۔۔ جو بیٹی کی شادی اس کی خوشی کے لیے نہیں اپنے سر سے بوجھ اترنے کے لیے کرتے ہیں ۔۔۔
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), مسٹر شیف (21-09-10), ایس اے نقوی (28-11-09), ام طلحہ (25-11-09), باسط (08-02-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
آپکا تبصرہ میرے لئے بیحد قیمتی ہے۔ بات یہی ہے کہ جب تک عورت خود اپنے حقوق کا تعین نہیں کرے گی یونہی مظلوم رہے گی۔یوں تو ہر طبقے کی عورت پستی ہے لیکن اس کہانی میں میں نے اپنی توجہ دیہات کی خواتین پر مرکوز رکھی ہے۔ کاش کہ کبھی وہ وقت آئے جب یہ معاشرہ عورت کے وجود کی اہمیت کا اعتراف کرے۔ |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (08-02-10), تانیہ رحمان ستارہ (26-11-09), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کاش کہ اس تحریر کے مقاصد حاصل ہو سکیں،معاشرے کی عمومی سوچ میں کچھ تبدیلی آ سکے۔ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (08-02-10), سائرہ علی (25-11-09), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,383
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ام طلحہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے ۔ شہروں میں یا جن علاقوں میں تعلیم عام ہے وہاں پہ تو ایسی سچوئشن نہ ہے لیکن جن علاقوں میں تعلیم عام نہ ہے اور عورت پڑھی لکھی نہ ہے وہاں پہ ایسا ہی ہوتا ہے
__________________
مجھے تم سے محبت ہے ! |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), محمدعدنان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ام طلحہ (25-11-09), باسط (08-02-10), شاہ جی 90 (26-11-09) |
|
|
#11 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,384
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
تعلیم عام ہونے سے حالات بہتر ہوتے ہیں لیکن آپس کی بات ہے، پڑھی لکھی خواتین کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے،انتہائی محنت کے باوجود بھی اسے ایسے ہی طعنے سننے پڑتے ہیں۔ عورت کی محنت کا اعتراف ہے ہی نہیں ہمارے معاشرے میں یہ دیکھئے ایک سچی کہانی |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), محمدعدنان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (08-02-10), سائرہ علی (25-11-09), سحر (25-11-09) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,383
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), محمدعدنان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), باسط (08-02-10), سحر (25-11-09) |
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() |
خواتین کے مسائیل کی درست عکاسی صرف خواتین ہی کرسکتی ہیں۔ اس کا حل بھی صرف خواتین ہی پیش کرسکتی ہیں۔ آپ اپنا فرض بخوبی نبھا رہی ہیں۔
اقتباس:
اللہ تعالی نے قانون سازی ( يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ) کے عمل میں خواتین کو مساوی رفیق ومددگار ٹہرایا ہے۔ یہ کام تعلیم حاصل کئے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ 9:71 وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَـئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّهُ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اہلِ ایمان مرد اور اہلِ ایمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں کہ وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے ہیں، ان ہی لوگوں پر اللہ عنقریب رحم فرمائے گا، بیشک اللہ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف Last edited by فاروق سرورخان; 25-11-09 at 02:10 PM. |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | محمدعدنان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ام طلحہ (25-11-09), احمد بلال (08-01-10), سحر (25-11-09) |
|
|
#14 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,684
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کو مرد کے برابر عزت ملنی چاہیے ۔ لیکن جب نہیں ملتی تو وہ زیادہ فریشٹریشن کا شکار ہوتی ہے ۔ جب کہ ان پڑھ خواتین کو یہ معلوم ہی نہیں کہ عزت مرد اور عورت کی برابر ہے اس لیے وہ لا علمی میں زندگی گزارلیتی ہے ۔ شکریہ |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (25-11-09), محمدعدنان (25-11-09), ایس اے نقوی (28-11-09), ام طلحہ (25-11-09), باسط (08-02-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہنا
کہانی تو کمال کی ہے اور انداز بیان وہی جانا پہچانا من موہنا ، اگر انسان آدھے میں چھوڑ کر اٹھنا بھی چاہے تو کہانی نہ اٹھنے دے ۔ لیکن ایک بات سے ہم متفق نہیں ہیں اور وہ یہ کہ یہ ہر گھر کی کہانی نہیں ہے ایسے تو وہی لوگ کرتے ہوں گے جو تہزیب و شرافت کے نام سے بھی نا آشنا ہوں گے زیر دست پر ظالم اور زبر دست کے قدموں میں لوٹنے والے حالانکہ ہمارے خیال میں بہادری یہ نہیں کہ اپنے اختیار میں جو لوگ ہوں انہیں تنگ کرو بہادری تو یہ ہے کہ حق کے لیئے اپنے سے کئی گنا Powerful آدمی کے سامنے ڈٹ جائو اسی طرح جو خواتین ظلم برداشت کرتی ہیں میرے خیال میں وہ اپنے ساتھ خود ظلم کر رہی ہوتی ہیں شوہر تو بڑا ناسمجھ سا جاندار ہوتا ہے جسے قابو کرنے کے ایک ہزار ایک گر موجود ہیں پھر اتنی پریشانی کاہے کی ؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, لوگ, نماز, نظر, مفت, ماں, ماں کے نام, معلوم, اللہ, استاد, بچوں, خون, خوش, خدا, دل, دعا, دعائیں, زندگی, سال, شام, عورت, عقل, صاف, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| حکمت ( ہربل) میں مردانہ جراثیم کم یا سست ہونے کا کامیاب علاج !!! | سہیل اسلم | شعبہ طب | 2 | 20-10-11 12:24 PM |
| کمپیوٹر بہت سست رفتار میں کام کرتا ہے۔ | ahadar002 | Ask Experts ماہرین کی رائے | 10 | 16-04-11 04:08 PM |
| کمپیوٹر اور ویڈیو گیمز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوانوں کو سست اور کاہل بنا دیا | وجدان | کھیل اور کھلاڑی | 7 | 15-10-10 04:36 PM |
| شاہراہ پاکستان کے تعمیراتی کام میں سست رفتاری پر ٹھیکیدار فرم بلیک لسٹ | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 14-04-08 10:41 AM |