|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
گورا رنگ، کشادہ پیشانی، سفید بال، بھاری بھرکم جسم اور چہرے پر پڑی جھریاں جس میں نہ جانے کتنی الف لیلہ جیسی کہانیاں چُھی ہوئیں تھیں۔ یہ تھیں "اماں" میری دادی۔
ہم نے اپنے بچپن ہی سے اُنھیں محنت مشقت کرتے دیکھا تھا۔ آنکھ کھولی تو گھر میں دودھ کا کاروبار ہوتے ہوئے پایا اور اس سارے کاروبار کی روح رواں تھیں "امّاں" ۔ کوئی اُنہیں "موٹی خالہ" کہتا تو کوئی "دودھ والی امّاں" مگر مشہور وہ "اماں" ہی کے نام سے تھیں۔ محلے بھر کی خواتین مختلف قسم کے طبّی مشوروں کے لیئے اُن سے رجوع کرتیں مثلاً کسی بچے کی ہنسلی اُترجائے، کسی بچے کو "گلے آ جائیں" خصوصاً "ناف بیٹھانے" میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ "ناف " چڑھوانے والی خواتین نہار منہ ہمارے گھر آتیں اور اُس عمل کے بعد ہمارے گھر سے ناشتہ کر کے خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتیں۔ دودھ کے کاروبار کی وجہ سے گھر میں دودھ، دہی، اصلی گھی اور مکھن جیسی نعمتوں کی بھرمار تھی، مگر ہم جیسے ناشکُرے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ امّاں خود ہی بالائی کو بِلو کر مکھن نکالا کرتیں تھیں۔ گھر میں ایک الماری تھی جسے "نعمت خانہ" کہہ کر پکارا جاتا تھا ۔ لکڑی کی اس الماری کے چاروں طرف مہین سی جالی لگی ہوئی تھی فروخت کے لیئے دودھ اسی الماری میں رکھا جاتا تھا۔ ویسے تو امّاں گھروں میں دودھ سپلائی کرتی تھیں مگر کچھ لوگ ہمارے گھر آ کر بھی دودھ خریدا کرتے تھے۔میں اکثر دودھ بیچ کر پیسے رکھ لیا کرتا تھااور اماں کو نہیں بتاتا تھا۔ یہ میری اُوپر کی کمائی تھی۔ میری بچپن کی یادوں میں یہ یاد بھی شامل ہے کے میں نے اپنے گھر میں اکثر نئے چہرے دیکھا کرتا۔ ہم ان چہروں کو تائی، ماما، چچا، پھوپھو وغیرہ کے نام سے پکارتے تھے یہ چہرے جس تیزی سے آتے تھے اُتنی ہی تیزی سے غائب ہوجاتے تھے۔ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کے یہ دراصل وہ لوگ تھے جو بنگلہ دیش سے پاکستان آتے تھے اور اپنی رہائش کا بندبست ہونے تک ہمارے گھر میں بطور مہمان ٹہرتے تھے۔ میں نے اپنی شفیق ماں کو ہمیشہ اتنے بڑے کنبے کے لیئے کھانا پکاتے دیکھا مگر کبھی بھی اُن کی زبان پر حرف شکایت نہیں آیا۔یہ سب کچھ محض امّاں کے دم سے تھا۔ میرے ماموں نے مجھے بتایا کے میرے دادا "ریڈ کراس " کے عہدے دار تھے تو اُن کے ذمے بنگالی مہاجرین کی ذمہ داری تھی، اُن کی یہ ڈیوٹی امّاں اُن کی موت کے 15 سال بھی نبھا رہی تھیں۔ ایک مرتبہ اماں کے ایک پرانے سے بکس کے تالے کی چابی گم ہوگئی، میں چابی بنانے والے کو بُلا کر لایا، جب اُس نے تالا کھولا تو اُس میں سے بہت سارے کارڈ نکلے جن پر چابی کا نشان بنا ہوا تھا۔ یہ ووٹ تھے تب مجھے پتہ چلا کے میرے داد مرحوم (نور محمد خانصاحب) قومی اسمبلی کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جانب سے کھڑے ہوئے تھے اور حسب توقع ھار گئے تھے یہاں تک کے اُن کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی تھی۔ اُن کارڈز کو دیکھ کے دادی کی خوبصورت آنکھوں میں بہتی گنگا جمنا مجھے ابھی تک یاد ہے۔میں نے اُنکی آنکھ بچا کر کچھ کارڈز اپنی جیب میں ڈال لیا اوربعد اپنے دوستوں کے ساتھ ان سے تاش تاش کھیلتا تھا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو اُن سے ایک خاص لگاؤ تھا یہ لگاؤ اس محبت جیسا نہیں تھا جو عموماً دادی اور پوتے پوتیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ہم امّاں کو اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔ کوئی خوشی ہو یا غم ، کوئی دکھ ہو یا تکلیف پہلا لفظ جو نکلتا وہ "امّاں" تھا۔ اُن کے بستر کی دائیں جانب کی جگہ پر بڑے بھائی کا دائمی قبضہ تھا۔ ہم میں سے ہر ایک اُنہی کے بستر میں سونے کی ضد کرتا مگر اکثر میری جیت ہوتی۔ ہمیں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کے امّاں ہماری ماں نہیں بلکے دادی ہیں ۔ہماری امّی بھی شاید گھر میں موجود بچوں میں سب سے بڑی "بچی" تھیں۔ اماں کو مختلف قسم کے کھانے پکانے اور مٹھائیاں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ میں اُن کے ھاتھ سے بنے ہوئے بادامی قورمے، کھوپرے کا پلاؤ، پسندے، بریانی، سموسوں، مٹھائیوں کے ایک خاص ذائقے کو اب تک بھول نہیں پایا۔ وہ محض کھانے کی بو سونگھ کر ہی اُس کے عیوب و خصوصیات بتا دیا کرتیں تھی۔ دادی جس چیز کوبھی پکاتیں وہ مزیدار ہوتی یہ شاید اُن کی ہاتھ کی کرامت تھی۔ کھانے میں سبزیوں کو پسند کرتیں اورگوشت سے انہیں پرہیز تھا۔ ہمیں ایک مرتبہ اُنہوں نے بتایا وہ چونکے انڈیا میں ہندؤں کے گاؤں میں رہا کرتی تھی لہذا اُنھیں بھی گوشت کھانا پسند نہیں۔اُنکے بقول اُنکے گاؤں کے پنڈت محض اُن کے ہاتھ کا کھانا کھاتے تھے اور کہتے تھے "تُو تو برھمن ہے"۔ رات کو سونے سے پہلے ہم سب کو کہانی سنانا شاید اُن کی خود ساختہ ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ ہم کہانیوں کے ذریعے ہندوستان کے قدیم کھیلوں، رسم و رواجوں، افسانوی داستانوں،خوفناک شیروں ، اژدھوں، بھوت پریت، آگیا بیتال، راکھشسوں ، وغیرہ سے واقف ہوچکے تھے۔ درجنوں مرتبہ کی سنی ہوئی کہانی کو بھی اُن کی زبان سے بار بار سُننا اچھا لگتا تھا۔ اُن کی داستانوں کے کردار گاؤں، دیہاتوں، دریاؤں، تالابوں، جنگلوں میں پائے جاتے تھے۔ اب سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کے وہ ہمارے ساتھ رہ تو رہی تھیں مگر اُن کی روح ہندوستان کے کسی دور اُفتادہ گاؤں میں بھٹک رہی تھی۔ امّاں نماز روزے کی بڑی پابند تھیں سخت سردیوں میں بھی ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا اُنکا معمول تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد دیر تک کلمہ طیبہ اور درود شریف پڑھنا اُن کا معمول تھا۔ ایک بات کا اُنھیں افسوس تھا کے وہ قرآن نہیں پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے اُنھیں کہہ دیا کے اگر آپ قرآن کھول کرہر سطر پر صرف بسم اللہ ہی پڑھتی رہیں تو آپ کو قرآن پڑھنے کا ثواب مل جائے گا۔ تو اس طرح امّاں نے درجنوں قرآن شریف "ختم" کیئے۔وہ کلمہ اور درود پڑھ کر ہم لوگوں سے ایک ڈائری میں اُس کی تعداد لکھوا لیا کرتیں تاکہ انہیں بخشوانے کے موقعے پر گننے میں آسانی ہو۔ پھر ایک دن اُن کی طبیعت خراب ہوئی، ہسپتال لے جانے پر معلوم ہوا کے اُنھیں دل کا عارضہ لاحق ہے۔ وہ دل جس نے سینکڑوں لوگوں کی دل جوئی کی اُسی دل کے دو والو بند تھے۔ ڈاکٹر حیران تھے کے اُنھیں ابھی تک دل کی تکلیف کی شکایت تک کیوں نہ ہوئی؟ میں اُن کے پاس ہسپتال میں تین دن رُکا، اور ا ن تین دنوںمیں نے ایک عہد کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا۔ امّاں بہت کمزور ہو گئیں تھیں۔ بظاہر صحت مند نظر آنے والے جسم نے ہمت ہار دی تھی۔ ہسپتال سے واپسی پہ امّاں کے سامان میں ایک لاٹھی (عصا) کا اضافہ ہوچکا تھا۔ اب اُن کا اکثر وقت گھر ہی میں گذرتا۔ دودھ کے کاروبار کو محدودکردیا گیا تھا۔ وہ اپنے بستر پر ہی نماز ادا کرتیں، تسبیح پڑھتیں یا رلّی بناتی رہتیں۔ ایک رات امّاں کا موڈ بہت اچھا تھا ہم سب رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ٹی وی کے گرد جمع تھے۔ امّاں اپنی چارپائی پر بیٹھی "رلّی" بنا رہی تھیں۔اچانک بجلی چلی گئی امّاں نے مونگ پھلی منگوائی ہم مونگ پھلی کھاتے جارہے تھے اور امّاں کی کہانی سنتے جا رہے تھے، مجھے یاد ہے امّاں لمبی کہانیاں نہیں سناتی تھی مگر اُس رات کہانی قدرے لمبی تھی۔ اُس رات انہوں نے مجھے کچھ نصیحت کیں ، اُن کی کچھ باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں، مگر اُس رات مجھے نیند آ رہی تھی۔ اُسی رات مجھے اُن کے خوفناک خرانٹوں نے جگا دیا ۔ میں نے اُٹھ کردیکھا تو مجھے لگا کے جیسے اُن کی ناک میں کچھ پھنس سا گیا ہو ۔ اُن کی سانسیں رُک سی رہیں تھیں۔ میں نے دوڑ کر ابو کو جگایا، جلدی سی گاڑی نکال کر میں ، امّی اور ابو انھیں لے کر جناح ہسپتال کی طرف بھاگے۔ میں نے اُن کے سر کو اپنے کاندھے پر ٹکایا ہوا تھا، میرے کان اُن کی مدھم پڑتی سانسوں کو سُن رہے تھے۔ اُن کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں اور دوسرا امّی کے ہاتھ میں تھا۔ میں اُن کے گالوں پر بتحاشہ پیار کررہا تھا، کیونکہ میرا ایسا کرنا اُنہیں پسند تھا، مگر آج وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تھیں۔ پھر مجھے ایسا لگا جیسے سب کچھ تھم سا گیا ہو، ہر طرف خاموشی سی پھیل گئی تھی۔ میرے کان کسی بھی آواز کو سُن نہیں پا رہے تھے۔ امّی نے میری طرف دیکھا، میں نے دیکھا کے اُن کی آنکھوں سے بارش کا ایک قطر گرا اور آکاش میں کہیں گم ہوگیا۔ ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک فیصلہ کیا۔ جب اُنھیں اسٹریچر پر لٹا کر لےجایا جارہا تھا تو میں نے دیکھا کے آرمی کے ٹرینگ سینٹر میں اپنے ایک ہی مکے سے حریف کی بتیسی توڑ کر فرار ہونے والا شخص، میرے والد (عبدالرحمن صدیقی) ایک کٹے ہوئے تنے کی طرح زمین پر بیٹھے جارہے ہیں، اُن کا دایاں ہاتھ تیزی سے اُن کے سر پر چل رہا تھا جیسے وہ کسی نادیدہ مخلوق کو اپنے سر سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ میں اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا "ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کے معمولی ہارڈ اٹیک ہوا ہے ، دو چار گھنٹے میں ہوش آجائے گا"۔ آپ امی کو لے کر گھر جائیں میں امّاں کے پاس رُک جاؤں گا۔ امی نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا وہ میرا مقصد سمجھ چکی تھیں۔ ابو کے گھر جانے کے بعد میں ICU کی طرف گیا، میں نے دیکھا کے کچھ لوگ اُن کے جسم پر جُھکے ہوئے اُن کو الیکٹرک شاک دے رہے تھے۔ میں نے اُن کے جسم کو جھٹکے سے اُٹھتے اور گرتے دیکھا۔ میں اُن کے قریب گیا اُن کے کے منہ سے جھاگ سے نکل رہے تھے۔ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کے کیا میں ان کے ساتھ ہوں میرے اثبات پر اُس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ دیا اور کچھ نہ بولا۔ ہسپتال کے باہر کھڑی ایدھی کی ایمبولینس میں اُن کی لاش کو لے کر میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میں نے دیکھا کے اُن کے چہرے پر قیامت کا نور تھا سفید چہرے پر سفید بال بکھرے ہوئے تھے، میں نے پیار سے ان کے بالوں کو تقدس سے سمیٹا اب شاید انہیں کنگی کی ضرورت نہیں تھی۔گھر پہنجنے پر میں نے بیل بجائی، پہلی ہی بیل پر بڑے بھائی نے دروازہ کھولا اور ایمبولینس دیکھ کر رونے لگا، پیجھے سے ابو کی آواز آئی "کیا ہوا امّاں کہاں ہیں؟" "وہ واپس چلی گئیں ابو" میں نے چیخ کر جواب دیا! نوٹ:مندرجہ بالا مضمون اپنی پیاری دادی مرحومہ کی یاد میں آج مورخہ یکم اپریل سن دوہزار نو کو ایک ہی نشت میں بیٹھ کر لکھا ہے ۔ پڑھنے والوں سے مرحومہ کے لیئے دُعا کی درخواست ہے۔ شاہد علی صدیقی Last edited by shafresha; 16-06-10 at 01:19 AM. وجہ: چند الفاظ کی تصیح |
|
|
|
| 33 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (05-11-10), skjatala (09-05-11), فیصل ناصر (01-04-09), کنعان (24-01-10), پاکستانی لڑکی (08-09-09), ھارون اعظم (13-05-10), نورالدین (01-09-10), منتظمین (01-04-09), مباح (12-06-09), محمدعدنان (08-06-09), مرزا عامر (02-10-10), ایکسٹو (01-04-09), ایس اے نقوی (01-12-09), ام غزل (01-04-09), ابو عمار (22-01-10), ابرارحسین (07-04-09), احمد بلال (05-09-09), اخترحسین (07-09-09), اسد لطیف (02-04-09), بلال اویسی (05-11-10), بابرنایاب (16-06-10), بزم خیال (22-01-10), رضی (24-05-09), سیپ (01-04-09), سام (03-04-09), سحر (24-05-09), سعود (02-04-09), طاھر (24-05-09), طارق راحیل (04-04-09), عبداللہ آدم (27-05-10), عبداللہ حیدر (01-04-09), عدنان دانی (26-01-10), عروج (14-11-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت ہی خوبصورت اور معصوم سی تحریر ہے ، اپنی یادوں میںہمیںشامل کیا اور ایسا کہ ، سماں بندھ گیا۔۔میری طرف سے بہت بہت مبارک باد وصول کریں ۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
شکریہ بہن اس تحریر کو لکھتے ہوئے کئی آنسوؤں نے میرے رخسار کو بھی تر کیا!
آفس سے گھر پہنچ کر اُن کی ایک تصویر بھی اَپ لوڈ کروں گا۔ Last edited by shafresha; 01-04-09 at 02:49 PM. وجہ: ایک سطر کا اضافہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 754
کمائي: 12,509
شکریہ: 1,186
518 مراسلہ میں 1,528 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار آنکھیں نم کر دیں تم نے . اللہ ان کے درجات بلند کرے .
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,801
شکریہ: 33,210
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,801
شکریہ: 33,210
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وضاحت اسلئے کے ظالم اتنا بھی کوئی رلاتا ہے
میری والدہ 10 جون 2008 کو اس عالم فانی سے رخصت ہوئیں اور اُن کو ہم امّاں کہتے تھے |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اے اللہ ہماری "امّاؤں" کا سایہ ہمرے سروں پر تادیر قائم فرما، آمین یا رب العالمین ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آے ہمارے رب اپنی رحمت کے صقے، یا اللہ، یارحمن، یا رحیم ہمارے مُردوں کی مغفرت فرما اور اپنے حبیب کے صدقے اُن ہر سے قسم کے عذابات کو دور فرما۔ آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رب العالمین |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 99
کمائي: 4,684
شکریہ: 3
100 مراسلہ میں 411 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے دوست شاہ فریشاہ نے امان کے حوالے سے جو یادیں لکھی ہیں ان میں سے کچھ مجھے بھی بطور تبرک کے حاصل رہی ہیں ۔اماں کا جانوروں سے پیار بھی بے مثالی تھا۔مجھے یاد ہے کہ تمھارا بھائی ایک زخمی گھوڑے کو کہیں سے لے آیا تھا جسے اس کے مالک نے چھڑ دیا تھا تو اماں نے کیسے دیسی دواوں سے اس کا علاج کر کے اس کے زخم ٹھیک کیئے تھے۔بہر حال اماں کے لیئے یہی کافی ہے کہ وہ اماں تھیں اور مجھے بھی ان کی صحبت میسر آئی۔نوشاد احمد
|
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
ایک نظر زرا اس لنک پر بھی ڈال لینا! وہ کاغذ کی کشتی! Last edited by shafresha; 15-04-09 at 06:44 PM. |
|
|
|
|
|
|
#13 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,801
شکریہ: 33,210
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یار لوگوں
ایک اہم اعلان سنئے میرا نام آج سے امُی فیصل ہے پیار سے مجھے امُی کہا جاسکتا ہے جیسا کے ابھی شاہد صدیقی نے کہا اعلان ختم |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| Amman, color, Memories, Noor Jehan, فروخت, کمال, کارڈ, پاکستان, قرآن, لوگ, نیند, نماز, نظر, موت, محبت, معلوم, آج, اللہ, بھائی, بچوں, تحریر, خواتین, درود شریف, ظالم, علی, عالم, صحت, صدیقی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|