واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


اماں (چند یادیں)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-04-09, 02:06 PM  
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اماں (چند یادیں)

گورا رنگ، کشادہ پیشانی، سفید بال، بھاری بھرکم جسم اور چہرے پر پڑی جھریاں جس میں نہ جانے کتنی الف لیلہ جیسی کہانیاں چُھی ہوئیں تھیں۔ یہ تھیں "اماں" میری دادی۔
ہم نے اپنے بچپن ہی سے اُنھیں محنت مشقت کرتے دیکھا تھا۔ آنکھ کھولی تو گھر میں دودھ کا کاروبار ہوتے ہوئے پایا اور اس سارے کاروبار کی روح رواں تھیں "امّاں" ۔ کوئی اُنہیں "موٹی خالہ" کہتا تو کوئی "دودھ والی امّاں" مگر مشہور وہ "اماں" ہی کے نام سے تھیں۔
محلے بھر کی خواتین مختلف قسم کے طبّی مشوروں کے لیئے اُن سے رجوع کرتیں مثلاً کسی بچے کی ہنسلی اُترجائے، کسی بچے کو "گلے آ جائیں" خصوصاً "ناف بیٹھانے" میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ "ناف " چڑھوانے والی خواتین نہار منہ ہمارے گھر آتیں اور اُس عمل کے بعد ہمارے گھر سے ناشتہ کر کے خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتیں۔
دودھ کے کاروبار کی وجہ سے گھر میں دودھ، دہی، اصلی گھی اور مکھن جیسی نعمتوں کی بھرمار تھی، مگر ہم جیسے ناشکُرے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ امّاں خود ہی بالائی کو بِلو کر مکھن نکالا کرتیں تھیں۔ گھر میں ایک الماری تھی جسے "نعمت خانہ" کہہ کر پکارا جاتا تھا ۔ لکڑی کی اس الماری کے چاروں طرف مہین سی جالی لگی ہوئی تھی فروخت کے لیئے دودھ اسی الماری میں رکھا جاتا تھا۔ ویسے تو امّاں گھروں میں دودھ سپلائی کرتی تھیں مگر کچھ لوگ ہمارے گھر آ کر بھی دودھ خریدا کرتے تھے۔میں اکثر دودھ بیچ کر پیسے رکھ لیا کرتا تھااور اماں کو نہیں بتاتا تھا۔ یہ میری اُوپر کی کمائی تھی۔

میری بچپن کی یادوں میں یہ یاد بھی شامل ہے کے میں نے اپنے گھر میں اکثر نئے چہرے دیکھا کرتا۔ ہم ان چہروں کو تائی، ماما، چچا، پھوپھو وغیرہ کے نام سے پکارتے تھے یہ چہرے جس تیزی سے آتے تھے اُتنی ہی تیزی سے غائب ہوجاتے تھے۔ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کے یہ دراصل وہ لوگ تھے جو بنگلہ دیش سے پاکستان آتے تھے اور اپنی رہائش کا بندبست ہونے تک ہمارے گھر میں بطور مہمان ٹہرتے تھے۔ میں نے اپنی شفیق ماں کو ہمیشہ اتنے بڑے کنبے کے لیئے کھانا پکاتے دیکھا مگر کبھی بھی اُن کی زبان پر حرف شکایت نہیں آیا۔یہ سب کچھ محض امّاں کے دم سے تھا۔ میرے ماموں نے مجھے بتایا کے میرے دادا "ریڈ کراس " کے عہدے دار تھے تو اُن کے ذمے بنگالی مہاجرین کی ذمہ داری تھی، اُن کی یہ ڈیوٹی امّاں اُن کی موت کے 15 سال بھی نبھا رہی تھیں۔

ایک مرتبہ اماں کے ایک پرانے سے بکس کے تالے کی چابی گم ہوگئی، میں چابی بنانے والے کو بُلا کر لایا، جب اُس نے تالا کھولا تو اُس میں سے بہت سارے کارڈ نکلے جن پر چابی کا نشان بنا ہوا تھا۔ یہ ووٹ تھے تب مجھے پتہ چلا کے میرے داد مرحوم (نور محمد خانصاحب) قومی اسمبلی کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جانب سے کھڑے ہوئے تھے اور حسب توقع ھار گئے تھے یہاں تک کے اُن کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی تھی۔ اُن کارڈز کو دیکھ کے دادی کی خوبصورت آنکھوں میں بہتی گنگا جمنا مجھے ابھی تک یاد ہے۔میں نے اُنکی آنکھ بچا کر کچھ کارڈز اپنی جیب میں ڈال لیا اوربعد اپنے دوستوں کے ساتھ ان سے تاش تاش کھیلتا تھا۔

ہم سب بہن بھائیوں کو اُن سے ایک خاص لگاؤ تھا یہ لگاؤ اس محبت جیسا نہیں تھا جو عموماً دادی اور پوتے پوتیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ہم امّاں کو اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔ کوئی خوشی ہو یا غم ، کوئی دکھ ہو یا تکلیف پہلا لفظ جو نکلتا وہ "امّاں" تھا۔ اُن کے بستر کی دائیں جانب کی جگہ پر بڑے بھائی کا دائمی قبضہ تھا۔ ہم میں سے ہر ایک اُنہی کے بستر میں سونے کی ضد کرتا مگر اکثر میری جیت ہوتی۔ ہمیں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کے امّاں ہماری ماں نہیں بلکے دادی ہیں ۔ہماری امّی بھی شاید گھر میں موجود بچوں میں سب سے بڑی "بچی" تھیں۔

اماں کو مختلف قسم کے کھانے پکانے اور مٹھائیاں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ میں اُن کے ھاتھ سے بنے ہوئے بادامی قورمے، کھوپرے کا پلاؤ، پسندے، بریانی، سموسوں، مٹھائیوں کے ایک خاص ذائقے کو اب تک بھول نہیں پایا۔ وہ محض کھانے کی بو سونگھ کر ہی اُس کے عیوب و خصوصیات بتا دیا کرتیں تھی۔ دادی جس چیز کوبھی پکاتیں وہ مزیدار ہوتی یہ شاید اُن کی ہاتھ کی کرامت تھی۔ کھانے میں سبزیوں کو پسند کرتیں اورگوشت سے انہیں پرہیز تھا۔ ہمیں ایک مرتبہ اُنہوں نے بتایا وہ چونکے انڈیا میں ہندؤں کے گاؤں میں رہا کرتی تھی لہذا اُنھیں بھی گوشت کھانا پسند نہیں۔اُنکے بقول اُنکے گاؤں کے پنڈت محض اُن کے ہاتھ کا کھانا کھاتے تھے اور کہتے تھے "تُو تو برھمن ہے

رات کو سونے سے پہلے ہم سب کو کہانی سنانا شاید اُن کی خود ساختہ ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ ہم کہانیوں کے ذریعے ہندوستان کے قدیم کھیلوں، رسم و رواجوں، افسانوی داستانوں،خوفناک شیروں ، اژدھوں، بھوت پریت، آگیا بیتال، راکھشسوں ، وغیرہ سے واقف ہوچکے تھے۔ درجنوں مرتبہ کی سنی ہوئی کہانی کو بھی اُن کی زبان سے بار بار سُننا اچھا لگتا تھا۔ اُن کی داستانوں کے کردار گاؤں، دیہاتوں، دریاؤں، تالابوں، جنگلوں میں پائے جاتے تھے۔ اب سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کے وہ ہمارے ساتھ رہ تو رہی تھیں مگر اُن کی روح ہندوستان کے کسی دور اُفتادہ گاؤں میں بھٹک رہی تھی۔

امّاں نماز روزے کی بڑی پابند تھیں سخت سردیوں میں بھی ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا اُنکا معمول تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد دیر تک کلمہ طیبہ اور درود شریف پڑھنا اُن کا معمول تھا۔ ایک بات کا اُنھیں افسوس تھا کے وہ قرآن نہیں پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے اُنھیں کہہ دیا کے اگر آپ قرآن کھول کرہر سطر پر صرف بسم اللہ ہی پڑھتی رہیں تو آپ کو قرآن پڑھنے کا ثواب مل جائے گا۔ تو اس طرح امّاں نے درجنوں قرآن شریف "ختم" کیئے۔وہ کلمہ اور درود پڑھ کر ہم لوگوں سے ایک ڈائری میں اُس کی تعداد لکھوا لیا کرتیں تاکہ انہیں بخشوانے کے موقعے پر گننے میں آسانی ہو۔

پھر ایک دن اُن کی طبیعت خراب ہوئی، ہسپتال لے جانے پر معلوم ہوا کے اُنھیں دل کا عارضہ لاحق ہے۔ وہ دل جس نے سینکڑوں لوگوں کی دل جوئی کی اُسی دل کے دو والو بند تھے۔ ڈاکٹر حیران تھے کے اُنھیں ابھی تک دل کی تکلیف کی شکایت تک کیوں نہ ہوئی؟
میں اُن کے پاس ہسپتال میں تین دن رُکا، اور ا ن تین دنوںمیں نے ایک عہد کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا۔ امّاں بہت کمزور ہو گئیں تھیں۔ بظاہر صحت مند نظر آنے والے جسم نے ہمت ہار دی تھی۔ ہسپتال سے واپسی پہ امّاں کے سامان میں ایک لاٹھی (عصا) کا اضافہ ہوچکا تھا۔ اب اُن کا اکثر وقت گھر ہی میں گذرتا۔ دودھ کے کاروبار کو محدودکردیا گیا تھا۔ وہ اپنے بستر پر ہی نماز ادا کرتیں، تسبیح پڑھتیں یا رلّی بناتی رہتیں۔

ایک رات امّاں کا موڈ بہت اچھا تھا ہم سب رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ٹی وی کے گرد جمع تھے۔ امّاں اپنی چارپائی پر بیٹھی "رلّی" بنا رہی تھیں۔اچانک بجلی چلی گئی امّاں نے مونگ پھلی منگوائی ہم مونگ پھلی کھاتے جارہے تھے اور امّاں کی کہانی سنتے جا رہے تھے، مجھے یاد ہے امّاں لمبی کہانیاں نہیں سناتی تھی مگر اُس رات کہانی قدرے لمبی تھی۔

اُس رات انہوں نے مجھے کچھ نصیحت کیں ، اُن کی کچھ باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں، مگر اُس رات مجھے نیند آ رہی تھی۔ اُسی رات مجھے اُن کے خوفناک خرانٹوں نے جگا دیا ۔ میں نے اُٹھ کردیکھا تو مجھے لگا کے جیسے اُن کی ناک میں کچھ پھنس سا گیا ہو ۔ اُن کی سانسیں رُک سی رہیں تھیں۔ میں نے دوڑ کر ابو کو جگایا، جلدی سی گاڑی نکال کر میں ، امّی اور ابو انھیں لے کر جناح ہسپتال کی طرف بھاگے۔ میں نے اُن کے سر کو اپنے کاندھے پر ٹکایا ہوا تھا، میرے کان اُن کی مدھم پڑتی سانسوں کو سُن رہے تھے۔ اُن کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں اور دوسرا امّی کے ہاتھ میں تھا۔ میں اُن کے گالوں پر بتحاشہ پیار کررہا تھا، کیونکہ میرا ایسا کرنا اُنہیں پسند تھا، مگر آج وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تھیں۔
پھر مجھے ایسا لگا جیسے سب کچھ تھم سا گیا ہو، ہر طرف خاموشی سی پھیل گئی تھی۔ میرے کان کسی بھی آواز کو سُن نہیں پا رہے تھے۔ امّی نے میری طرف دیکھا، میں نے دیکھا کے اُن کی آنکھوں سے بارش کا ایک قطر گرا اور آکاش میں کہیں گم ہوگیا۔

ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک فیصلہ کیا۔ جب اُنھیں اسٹریچر پر لٹا کر لےجایا جارہا تھا تو میں نے دیکھا کے آرمی کے ٹرینگ سینٹر میں اپنے ایک ہی مکے سے حریف کی بتیسی توڑ کر فرار ہونے والا شخص، میرے والد (عبدالرحمن صدیقی) ایک کٹے ہوئے تنے کی طرح زمین پر بیٹھے جارہے ہیں، اُن کا دایاں ہاتھ تیزی سے اُن کے سر پر چل رہا تھا جیسے وہ کسی نادیدہ مخلوق کو اپنے سر سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ میں اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا "ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کے معمولی ہارڈ اٹیک ہوا ہے ، دو چار گھنٹے میں ہوش آجائے گا"۔ آپ امی کو لے کر گھر جائیں میں امّاں کے پاس رُک جاؤں گا۔
امی نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا وہ میرا مقصد سمجھ چکی تھیں۔ ابو کے گھر جانے کے بعد میں ICU کی طرف گیا، میں نے دیکھا کے کچھ لوگ اُن کے جسم پر جُھکے ہوئے اُن کو الیکٹرک شاک دے رہے تھے۔ میں نے اُن کے جسم کو جھٹکے سے اُٹھتے اور گرتے دیکھا۔ میں اُن کے قریب گیا اُن کے کے منہ سے جھاگ سے نکل رہے تھے۔ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کے کیا میں ان کے ساتھ ہوں میرے اثبات پر اُس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ دیا اور کچھ نہ بولا۔

ہسپتال کے باہر کھڑی ایدھی کی ایمبولینس میں اُن کی لاش کو لے کر میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میں نے دیکھا کے اُن کے چہرے پر قیامت کا نور تھا سفید چہرے پر سفید بال بکھرے ہوئے تھے، میں نے پیار سے ان کے بالوں کو تقدس سے سمیٹا اب شاید انہیں کنگی کی ضرورت نہیں تھی۔گھر پہنجنے پر میں نے بیل بجائی، پہلی ہی بیل پر بڑے بھائی نے دروازہ کھولا اور ایمبولینس دیکھ کر رونے لگا، پیجھے سے ابو کی آواز آئی "کیا ہوا امّاں کہاں ہیں؟"
"وہ واپس چلی گئیں ابو" میں نے چیخ کر جواب دیا!


نوٹ:مندرجہ بالا مضمون اپنی پیاری دادی مرحومہ کی یاد میں آج مورخہ یکم اپریل سن دوہزار نو کو ایک ہی نشت میں بیٹھ کر لکھا ہے ۔ پڑھنے والوں سے مرحومہ کے لیئے دُعا کی درخواست ہے۔
شاہد علی صدیقی
Attached Images
 

Last edited by shafresha; 16-06-10 at 01:19 AM. وجہ: چند الفاظ کی تصیح
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
33 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (05-11-10), skjatala (09-05-11), فیصل ناصر (01-04-09), کنعان (24-01-10), پاکستانی لڑکی (08-09-09), ھارون اعظم (13-05-10), نورالدین (01-09-10), منتظمین (01-04-09), مباح (12-06-09), محمدعدنان (08-06-09), مرزا عامر (02-10-10), ایکسٹو (01-04-09), ایس اے نقوی (01-12-09), ام غزل (01-04-09), ابو عمار (22-01-10), ابرارحسین (07-04-09), احمد بلال (05-09-09), اخترحسین (07-09-09), اسد لطیف (02-04-09), بلال اویسی (05-11-10), بابرنایاب (16-06-10), بزم خیال (22-01-10), رضی (24-05-09), سیپ (01-04-09), سام (03-04-09), سحر (24-05-09), سعود (02-04-09), طاھر (24-05-09), طارق راحیل (04-04-09), عبداللہ آدم (27-05-10), عبداللہ حیدر (01-04-09), عدنان دانی (26-01-10), عروج (14-11-10)
کمائي نے shafresha کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-11-10 زارا Love for your Dadi ammi 150
27-01-10 The Great دستیاب نہیں 10
پرانا 26-01-10, 09:26 AM   #31
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,335
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ بھایی یہ تم نے کیا کردیا یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مجھ سے پڑھا نہیں جاتا
ہمیں تو موت بھی تنہا نہ کرسکے گی ندیم
کہ ہر طرف سے زمیں کو قریب پاینگے یم
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (09-05-11)
پرانا 26-01-10, 09:48 AM   #32
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عدنان دانی مراسلہ دیکھیں
شاہ بھایی یہ تم نے کیا کردیا یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مجھ سے پڑھا نہیں جاتا
ہمیں تو موت بھی تنہا نہ کرسکے گی ندیم
کہ ہر طرف سے زمیں کو قریب پاینگے یم
شکریہ دانی!
میری جان ممکن ہے کہ درجِ ذیل لنکس بھی آپ کی دل چسپی کا باعث ہوں:

وہ کاغذ کی کشتی!

وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "تیسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "چوتھا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "پانچواں حصہ"

آپ کی آراء‌کا انتظار رہے گا!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
عدنان دانی (26-01-10)
پرانا 26-01-10, 01:13 PM   #33
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,335
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ شاہ بھائی۔۔۔۔۔۔۔ میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔ شاید اس پر میری نظر نہیں پڑی۔۔۔
آپ ایک نہایت نفیس لکھاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ پاک آپ کے قلم میں برکت ڈال دے
عدنان دانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (26-01-10)
پرانا 01-09-10, 02:28 AM   #34
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اپنے نئے ساتھیوں‌کی خدمت میں پیش ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
skjatala (09-05-11), مرزا عامر (02-10-10), ایس اے نقوی (05-11-10)
پرانا 05-11-10, 03:26 PM   #35
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم !
شاہد علی بھائی ۔۔۔
ایک ہی نشت میں لکھی گئی اس تحریر کو ایک ہی نشست میں پڑھ لیا ۔۔۔ورنہ عموما طویل مراسلات کم ہی پڑھ پاتی ہوں ۔۔
آپ کی اس تحریر نے رُلا دیا ۔۔
واقعی یہ رشتے ہی ایسے ہوتے ہیں جو کبھی بھلائے نہ جا سکیں ۔۔
افسوس کا مقام ہےآج جدید تہذیب کے رنگ میں رنگ کر ہم لوگ رشتوں کا تقدس بھولتے جا رہے ہیں ۔۔
اللہ تعالیٰ ۔۔۔۔ ہمیں اپنے بزرگوں سے محبت اور ان کی بے لوث خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔
اور تمام مرحومیں کو جنت الفردوس عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
farhana (06-11-10), shafresha (09-05-11), فیصل ناصر (05-11-10), ھارون اعظم (05-11-10), مرزا عامر (05-11-10), رضی (05-11-10)
پرانا 05-11-10, 04:01 PM   #36
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 8,466
کمائي: 264,103
شکریہ: 386
5,327 مراسلہ میں 12,138 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

میں نے ایک ہی بار کام روک کر پڑھا جیسا کہ Arhamنے کہا واقعی یہ رشتے ہی ایسے ہوتے ہیں جو کبھی بھلائے نہ جا سکیں۔

اِنسان چلا جاتا ہے بس یادیں رہ جاتی ہیں۔

اللہ تعالی دادی ماں کو جنت میں جگہ دے۔ آمین
__________________
زارا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
farhana (06-11-10), shafresha (05-11-10), مرزا عامر (05-11-10), رضی (05-11-10)
پرانا 05-11-10, 08:43 PM   #37
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 641
کمائي: 17,832
شکریہ: 1,363
592 مراسلہ میں 1,892 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گود ماں دی درس گاہ پہلی ایتھوں زندگی دا نصب العین بنڑدا
ایتھوں داتا، خواجہ، فرید ورگے دکھی دلاں دے واستے چین بنٹردا
شرم و حیا دی ماں جے ہووے پیکر فیر پتر وی غوث ثقلین بنڑدا
سیدہ خاتون جنت جے ماں ہووے تے پتر وی سخی حسین بنڑدا


اللہ تعالٰی آپ کو جزادے شاھد بھائی، روح کو چھولینے والی تحریر لکھنے پر، شکریہ
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی
بلال اویسی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
farhana (06-11-10), shafresha (05-11-10)
پرانا 14-11-10, 02:08 PM   #38
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 39
مراسلات: 3,699
کمائي: 42,836
شکریہ: 11,456
2,252 مراسلہ میں 5,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی فیصل اور شاہ بھائی کے لیے صبر کی دعا کے ساتھ اماں کے لیے اللہ کے حضور رحمت کاخصوصی معاملہ کرنے کی استدعا ھے۔
عروج آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (14-11-10)
پرانا 09-05-11, 01:41 PM   #39
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میں‌اگرچہ مدرز ڈے منانے کا قائل نہیں‌ہوں!!!
یہ تحریر آپ کی نذر ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (09-05-11)
جواب

Tags
Amman, color, Memories, Noor Jehan, فروخت, کمال, کارڈ, پاکستان, قرآن, لوگ, نیند, نماز, نظر, موت, محبت, معلوم, آج, اللہ, بھائی, بچوں, تحریر, خواتین, درود شریف, ظالم, علی, عالم, صحت, صدیقی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger