واپس چلیں   پاکستان کی آواز > خواتین کا سیکشن > عورت کہانی



عورت کہانی عورت کہانی


اماں (چند یادیں)

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-04-09, 02:06 PM  
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default اماں (چند یادیں)

گورا رنگ، کشادہ پیشانی، سفید بال، بھاری بھرکم جسم اور چہرے پر پڑی جھریاں جس میں نہ جانے کتنی الف لیلہ جیسی کہانیاں چُھی ہوئیں تھیں۔ یہ تھیں "اماں" میری دادی۔
ہم نے اپنے بچپن ہی سے اُنھیں محنت مشقت کرتے دیکھا تھا۔ آنکھ کھولی تو گھر میں دودھ کا کاروبار ہوتے ہوئے پایا اور اس سارے کاروبار کی روح رواں تھیں "امّاں" ۔ کوئی اُنہیں "موٹی خالہ" کہتا تو کوئی "دودھ والی امّاں" مگر مشہور وہ "اماں" ہی کے نام سے تھیں۔
محلے بھر کی خواتین مختلف قسم کے طبّی مشوروں کے لیئے اُن سے رجوع کرتیں مثلاً کسی بچے کی ہنسلی اُترجائے، کسی بچے کو "گلے آ جائیں" خصوصاً "ناف بیٹھانے" میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ "ناف " چڑھوانے والی خواتین نہار منہ ہمارے گھر آتیں اور اُس عمل کے بعد ہمارے گھر سے ناشتہ کر کے خوشی خوشی اپنے گھروں کو روانہ ہوجاتیں۔
دودھ کے کاروبار کی وجہ سے گھر میں دودھ، دہی، اصلی گھی اور مکھن جیسی نعمتوں کی بھرمار تھی، مگر ہم جیسے ناشکُرے انہیں ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے۔ امّاں خود ہی بالائی کو بِلو کر مکھن نکالا کرتیں تھیں۔ گھر میں ایک الماری تھی جسے "نعمت خانہ" کہہ کر پکارا جاتا تھا ۔ لکڑی کی اس الماری کے چاروں طرف مہین سی جالی لگی ہوئی تھی فروخت کے لیئے دودھ اسی الماری میں رکھا جاتا تھا۔ ویسے تو امّاں گھروں میں دودھ سپلائی کرتی تھیں مگر کچھ لوگ ہمارے گھر آ کر بھی دودھ خریدا کرتے تھے۔میں اکثر دودھ بیچ کر پیسے رکھ لیا کرتا تھااور اماں کو نہیں بتاتا تھا۔ یہ میری اُوپر کی کمائی تھی۔

میری بچپن کی یادوں میں یہ یاد بھی شامل ہے کے میں نے اپنے گھر میں اکثر نئے چہرے دیکھا کرتا۔ ہم ان چہروں کو تائی، ماما، چچا، پھوپھو وغیرہ کے نام سے پکارتے تھے یہ چہرے جس تیزی سے آتے تھے اُتنی ہی تیزی سے غائب ہوجاتے تھے۔ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کے یہ دراصل وہ لوگ تھے جو بنگلہ دیش سے پاکستان آتے تھے اور اپنی رہائش کا بندبست ہونے تک ہمارے گھر میں بطور مہمان ٹہرتے تھے۔ میں نے اپنی شفیق ماں کو ہمیشہ اتنے بڑے کنبے کے لیئے کھانا پکاتے دیکھا مگر کبھی بھی اُن کی زبان پر حرف شکایت نہیں آیا۔یہ سب کچھ محض امّاں کے دم سے تھا۔ میرے ماموں نے مجھے بتایا کے میرے دادا "ریڈ کراس " کے عہدے دار تھے تو اُن کے ذمے بنگالی مہاجرین کی ذمہ داری تھی، اُن کی یہ ڈیوٹی امّاں اُن کی موت کے 15 سال بھی نبھا رہی تھیں۔

ایک مرتبہ اماں کے ایک پرانے سے بکس کے تالے کی چابی گم ہوگئی، میں چابی بنانے والے کو بُلا کر لایا، جب اُس نے تالا کھولا تو اُس میں سے بہت سارے کارڈ نکلے جن پر چابی کا نشان بنا ہوا تھا۔ یہ ووٹ تھے تب مجھے پتہ چلا کے میرے داد مرحوم (نور محمد خانصاحب) قومی اسمبلی کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کی جانب سے کھڑے ہوئے تھے اور حسب توقع ھار گئے تھے یہاں تک کے اُن کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی تھی۔ اُن کارڈز کو دیکھ کے دادی کی خوبصورت آنکھوں میں بہتی گنگا جمنا مجھے ابھی تک یاد ہے۔میں نے اُنکی آنکھ بچا کر کچھ کارڈز اپنی جیب میں ڈال لیا اوربعد اپنے دوستوں کے ساتھ ان سے تاش تاش کھیلتا تھا۔

ہم سب بہن بھائیوں کو اُن سے ایک خاص لگاؤ تھا یہ لگاؤ اس محبت جیسا نہیں تھا جو عموماً دادی اور پوتے پوتیوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ہم امّاں کو اپنا سب کچھ سمجھتے تھے۔ کوئی خوشی ہو یا غم ، کوئی دکھ ہو یا تکلیف پہلا لفظ جو نکلتا وہ "امّاں" تھا۔ اُن کے بستر کی دائیں جانب کی جگہ پر بڑے بھائی کا دائمی قبضہ تھا۔ ہم میں سے ہر ایک اُنہی کے بستر میں سونے کی ضد کرتا مگر اکثر میری جیت ہوتی۔ ہمیں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کے امّاں ہماری ماں نہیں بلکے دادی ہیں ۔ہماری امّی بھی شاید گھر میں موجود بچوں میں سب سے بڑی "بچی" تھیں۔

اماں کو مختلف قسم کے کھانے پکانے اور مٹھائیاں بنانے میں ملکہ حاصل تھا ۔ میں اُن کے ھاتھ سے بنے ہوئے بادامی قورمے، کھوپرے کا پلاؤ، پسندے، بریانی، سموسوں، مٹھائیوں کے ایک خاص ذائقے کو اب تک بھول نہیں پایا۔ وہ محض کھانے کی بو سونگھ کر ہی اُس کے عیوب و خصوصیات بتا دیا کرتیں تھی۔ دادی جس چیز کوبھی پکاتیں وہ مزیدار ہوتی یہ شاید اُن کی ہاتھ کی کرامت تھی۔ کھانے میں سبزیوں کو پسند کرتیں اورگوشت سے انہیں پرہیز تھا۔ ہمیں ایک مرتبہ اُنہوں نے بتایا وہ چونکے انڈیا میں ہندؤں کے گاؤں میں رہا کرتی تھی لہذا اُنھیں بھی گوشت کھانا پسند نہیں۔اُنکے بقول اُنکے گاؤں کے پنڈت محض اُن کے ہاتھ کا کھانا کھاتے تھے اور کہتے تھے "تُو تو برھمن ہے

رات کو سونے سے پہلے ہم سب کو کہانی سنانا شاید اُن کی خود ساختہ ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ ہم کہانیوں کے ذریعے ہندوستان کے قدیم کھیلوں، رسم و رواجوں، افسانوی داستانوں،خوفناک شیروں ، اژدھوں، بھوت پریت، آگیا بیتال، راکھشسوں ، وغیرہ سے واقف ہوچکے تھے۔ درجنوں مرتبہ کی سنی ہوئی کہانی کو بھی اُن کی زبان سے بار بار سُننا اچھا لگتا تھا۔ اُن کی داستانوں کے کردار گاؤں، دیہاتوں، دریاؤں، تالابوں، جنگلوں میں پائے جاتے تھے۔ اب سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کے وہ ہمارے ساتھ رہ تو رہی تھیں مگر اُن کی روح ہندوستان کے کسی دور اُفتادہ گاؤں میں بھٹک رہی تھی۔

امّاں نماز روزے کی بڑی پابند تھیں سخت سردیوں میں بھی ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا اُنکا معمول تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد دیر تک کلمہ طیبہ اور درود شریف پڑھنا اُن کا معمول تھا۔ ایک بات کا اُنھیں افسوس تھا کے وہ قرآن نہیں پڑھ سکتی تھیں، ایک مرتبہ کسی نے اُنھیں کہہ دیا کے اگر آپ قرآن کھول کرہر سطر پر صرف بسم اللہ ہی پڑھتی رہیں تو آپ کو قرآن پڑھنے کا ثواب مل جائے گا۔ تو اس طرح امّاں نے درجنوں قرآن شریف "ختم" کیئے۔وہ کلمہ اور درود پڑھ کر ہم لوگوں سے ایک ڈائری میں اُس کی تعداد لکھوا لیا کرتیں تاکہ انہیں بخشوانے کے موقعے پر گننے میں آسانی ہو۔

پھر ایک دن اُن کی طبیعت خراب ہوئی، ہسپتال لے جانے پر معلوم ہوا کے اُنھیں دل کا عارضہ لاحق ہے۔ وہ دل جس نے سینکڑوں لوگوں کی دل جوئی کی اُسی دل کے دو والو بند تھے۔ ڈاکٹر حیران تھے کے اُنھیں ابھی تک دل کی تکلیف کی شکایت تک کیوں نہ ہوئی؟
میں اُن کے پاس ہسپتال میں تین دن رُکا، اور ا ن تین دنوںمیں نے ایک عہد کو ختم ہوتے ہوئے دیکھا۔ امّاں بہت کمزور ہو گئیں تھیں۔ بظاہر صحت مند نظر آنے والے جسم نے ہمت ہار دی تھی۔ ہسپتال سے واپسی پہ امّاں کے سامان میں ایک لاٹھی (عصا) کا اضافہ ہوچکا تھا۔ اب اُن کا اکثر وقت گھر ہی میں گذرتا۔ دودھ کے کاروبار کو محدودکردیا گیا تھا۔ وہ اپنے بستر پر ہی نماز ادا کرتیں، تسبیح پڑھتیں یا رلّی بناتی رہتیں۔

ایک رات امّاں کا موڈ بہت اچھا تھا ہم سب رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ٹی وی کے گرد جمع تھے۔ امّاں اپنی چارپائی پر بیٹھی "رلّی" بنا رہی تھیں۔اچانک بجلی چلی گئی امّاں نے مونگ پھلی منگوائی ہم مونگ پھلی کھاتے جارہے تھے اور امّاں کی کہانی سنتے جا رہے تھے، مجھے یاد ہے امّاں لمبی کہانیاں نہیں سناتی تھی مگر اُس رات کہانی قدرے لمبی تھی۔

اُس رات انہوں نے مجھے کچھ نصیحت کیں ، اُن کی کچھ باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں، مگر اُس رات مجھے نیند آ رہی تھی۔ اُسی رات مجھے اُن کے خوفناک خرانٹوں نے جگا دیا ۔ میں نے اُٹھ کردیکھا تو مجھے لگا کے جیسے اُن کی ناک میں کچھ پھنس سا گیا ہو ۔ اُن کی سانسیں رُک سی رہیں تھیں۔ میں نے دوڑ کر ابو کو جگایا، جلدی سی گاڑی نکال کر میں ، امّی اور ابو انھیں لے کر جناح ہسپتال کی طرف بھاگے۔ میں نے اُن کے سر کو اپنے کاندھے پر ٹکایا ہوا تھا، میرے کان اُن کی مدھم پڑتی سانسوں کو سُن رہے تھے۔ اُن کا ایک ہاتھ میرے ہاتھ میں اور دوسرا امّی کے ہاتھ میں تھا۔ میں اُن کے گالوں پر بتحاشہ پیار کررہا تھا، کیونکہ میرا ایسا کرنا اُنہیں پسند تھا، مگر آج وہ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی تھیں۔
پھر مجھے ایسا لگا جیسے سب کچھ تھم سا گیا ہو، ہر طرف خاموشی سی پھیل گئی تھی۔ میرے کان کسی بھی آواز کو سُن نہیں پا رہے تھے۔ امّی نے میری طرف دیکھا، میں نے دیکھا کے اُن کی آنکھوں سے بارش کا ایک قطر گرا اور آکاش میں کہیں گم ہوگیا۔

ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک فیصلہ کیا۔ جب اُنھیں اسٹریچر پر لٹا کر لےجایا جارہا تھا تو میں نے دیکھا کے آرمی کے ٹرینگ سینٹر میں اپنے ایک ہی مکے سے حریف کی بتیسی توڑ کر فرار ہونے والا شخص، میرے والد (عبدالرحمن صدیقی) ایک کٹے ہوئے تنے کی طرح زمین پر بیٹھے جارہے ہیں، اُن کا دایاں ہاتھ تیزی سے اُن کے سر پر چل رہا تھا جیسے وہ کسی نادیدہ مخلوق کو اپنے سر سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ میں اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا "ڈاکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کے معمولی ہارڈ اٹیک ہوا ہے ، دو چار گھنٹے میں ہوش آجائے گا"۔ آپ امی کو لے کر گھر جائیں میں امّاں کے پاس رُک جاؤں گا۔
امی نے نم آنکھوں سے میری طرف دیکھا وہ میرا مقصد سمجھ چکی تھیں۔ ابو کے گھر جانے کے بعد میں ICU کی طرف گیا، میں نے دیکھا کے کچھ لوگ اُن کے جسم پر جُھکے ہوئے اُن کو الیکٹرک شاک دے رہے تھے۔ میں نے اُن کے جسم کو جھٹکے سے اُٹھتے اور گرتے دیکھا۔ میں اُن کے قریب گیا اُن کے کے منہ سے جھاگ سے نکل رہے تھے۔ ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کے کیا میں ان کے ساتھ ہوں میرے اثبات پر اُس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھ دیا اور کچھ نہ بولا۔

ہسپتال کے باہر کھڑی ایدھی کی ایمبولینس میں اُن کی لاش کو لے کر میں گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں میں نے دیکھا کے اُن کے چہرے پر قیامت کا نور تھا سفید چہرے پر سفید بال بکھرے ہوئے تھے، میں نے پیار سے ان کے بالوں کو تقدس سے سمیٹا اب شاید انہیں کنگی کی ضرورت نہیں تھی۔گھر پہنجنے پر میں نے بیل بجائی، پہلی ہی بیل پر بڑے بھائی نے دروازہ کھولا اور ایمبولینس دیکھ کر رونے لگا، پیجھے سے ابو کی آواز آئی "کیا ہوا امّاں کہاں ہیں؟"
"وہ واپس چلی گئیں ابو" میں نے چیخ کر جواب دیا!


نوٹ:مندرجہ بالا مضمون اپنی پیاری دادی مرحومہ کی یاد میں آج مورخہ یکم اپریل سن دوہزار نو کو ایک ہی نشت میں بیٹھ کر لکھا ہے ۔ پڑھنے والوں سے مرحومہ کے لیئے دُعا کی درخواست ہے۔
شاہد علی صدیقی
Attached Images
 

Last edited by shafresha; 16-06-10 at 01:19 AM. وجہ: چند الفاظ کی تصیح
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
33 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (05-11-10), skjatala (09-05-11), فیصل ناصر (01-04-09), کنعان (24-01-10), پاکستانی لڑکی (08-09-09), ھارون اعظم (13-05-10), نورالدین (01-09-10), منتظمین (01-04-09), مباح (12-06-09), محمدعدنان (08-06-09), مرزا عامر (02-10-10), ایکسٹو (01-04-09), ایس اے نقوی (01-12-09), ام غزل (01-04-09), ابو عمار (22-01-10), ابرارحسین (07-04-09), احمد بلال (05-09-09), اخترحسین (07-09-09), اسد لطیف (02-04-09), بلال اویسی (05-11-10), بابرنایاب (16-06-10), بزم خیال (22-01-10), رضی (24-05-09), سیپ (01-04-09), سام (03-04-09), سحر (24-05-09), سعود (02-04-09), طاھر (24-05-09), طارق راحیل (04-04-09), عبداللہ آدم (27-05-10), عبداللہ حیدر (01-04-09), عدنان دانی (26-01-10), عروج (14-11-10)
کمائي نے shafresha کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-11-10 زارا Love for your Dadi ammi 150
27-01-10 The Great دستیاب نہیں 10
پرانا 14-04-09, 02:15 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
یار لوگوں
ایک اہم اعلان سنئے
میرا نام آج سے امُی فیصل ہے
پیار سے مجھے امُی کہا جاسکتا ہے
جیسا کے ابھی شاہد صدیقی نے کہا
اعلان ختم
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (07-09-09), رضی (24-05-09)
پرانا 15-04-09, 08:12 AM   #17
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
یار لوگوں
ایک اہم اعلان سنئے
میرا نام آج سے امُی فیصل ہے
پیار سے مجھے امُی کہا جاسکتا ہے
جیسا کے ابھی شاہد صدیقی نے کہا
اعلان ختم

شاہد صدیقی صاحب نے آپ کو "اُمی" کب کہا ہے؟؟؟
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (15-04-09), اخترحسین (07-09-09), رضی (24-05-09), عبداللہ آدم (27-05-10)
پرانا 24-05-09, 01:49 AM   #18
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہد بھائی میں نے آج سوچا کیوں نہ میں سر ورق کے لیئے تجویز کردہ تمام تحاریر کو پڑھوں وہ تو سب اچھی تحاریر ہوں گی مگر آپ کی تحریر پڑھ کر تو مزید تحاریر پڑھنے کی ہمت ہی نہی ہو رہی
اللہ اماں کو جنت الفردوس میں جگہ دے ۔آمین
__________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-09-09), کنعان (24-01-10), ھارون اعظم (13-05-10), ام غزل (31-05-09), اخترحسین (08-09-09), عبداللہ آدم (27-05-10)
پرانا 24-05-09, 02:17 AM   #19
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,250
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم،

جناب سب سے پہلے تو آپ کی اماں‌ کے درجات بلند ہونے کی دعا۔

واللہ ! کمال کی تحریر ہے، جس شخصیت کیلیئے تحریر کیا جانے والا مضمون اتنا عمدہ ہو تو وہ خود کتنی اچھی ہوں گی - اللہ انہیں جنت الفردوس کے اعلی مقام سرفراز کرے - آمین !

ان کے درجات میں‌مزید بلندی کے لیئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنا اولاد کی ذمہ داری ہے۔

اللہ ہم سب پر بزرگوں اور والدین کے شجر سایہ دار کو سلامت رکھے۔ آمین !

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
طاھر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-09-09), فیصل ناصر (24-05-09), کنعان (24-01-10), ام غزل (31-05-09), اخترحسین (07-09-09), رضی (24-05-09), عبداللہ آدم (27-05-10)
پرانا 24-05-09, 02:44 AM   #20
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

Razi اور طاھرخلیل بھائی سلام،
میری تحریر کو پسند کرنے کا شکریہ!
دراصل یہ تحریر وارفتگی کے عالم میں لکھی گئی تھی اور بخدا مجھے خود نہیں پتہ کے کب اور کیسے میں یہ سب کچھ لکھتا چلا گیا؟
آپ سے میری دیگر یادیں پڑھنے کی درخواست ہے:

وہ کاغذ کی کشتی!

وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "تیسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "چوتھا حصہ"

شکریہ،
شاہد علی صدیقی
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
compaq (29-01-12), ام غزل (31-05-09), اخترحسین (07-09-09), رضی (24-05-09)
پرانا 30-05-09, 10:24 PM   #21
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاھد بھائی، میں نے پاک نیٹ پر اپنی رائے دینا چھوڑ دیا ھے کیونکہ لوگ برا مناتے ھیں اور ایک عجیب بحث شروع ھو جاتی ھےاور ویسے بھی یہ گپ شپ کے لئے زیادہ استعمال ھوتا ھے۔ آپکا مضمون اماں اپنی جگہ پر ایک مکمل تحریر ھے اور مجھے اس میں کوئی غلطی نظر نہیں آ رھی، یہ مضموں آپکی زندگی کے بارے میں اچھی معلومات فراھم کرتا ھے اور آپکی سوچ کے بارے میں بھی لوگوں کو آگاھی ھوتی ھے اور یقینا آپکا مقصد و منشا بھی یہی ھے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ھوئے سرکار، اللہ مرحومہ کو جوار رحمت میں جگہ عطا کرے۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
compaq (29-01-12), shafresha (30-05-09), کنعان (24-01-10), منتظمین (30-05-09), ام غزل (31-05-09), ابو عمار (22-01-10), اخترحسین (07-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (31-05-09)
پرانا 30-05-09, 11:15 PM   #22
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,167
کمائي: 167,129
شکریہ: 9,674
7,363 مراسلہ میں 22,051 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سدید بھائی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اپ تنقید برائے تعمیر کر سکتے ہیں۔ اور اچھے اراکین ہمیشہ اس بات کے متمنی رہتے ہیں کہ اچھی اور معیاری تنقید ملتی رہے۔
ویسے اپ کافی دنوں‌کے بعد تشریف لائے ہیں میں اپکو مس کر رہا تھا۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (31-05-09), اخترحسین (07-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (31-05-09)
پرانا 30-05-09, 11:28 PM   #23
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب سدید بھائی السلام علیکم،
مجھے بھی منتظمین صاھب کی اس بات سے اتفاق ہے۔ پاک نیٹ پر آپ کی کمی مجھے بھی شدت سے محسوس ہورہی ہے۔ پلیز آپ ہمیں دوبارہ جوائن کریں۔ آپ کی تعمیری تنقید میرے سر آنکھوں پر،
اور یار کیا اب آپ کو بھی منانا پڑے گا؟
شکریہ
آپ کی آمد کا منتظر!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (31-05-09), ام غزل (31-05-09), اخترحسین (07-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (31-05-09)
پرانا 31-05-09, 12:28 PM   #24
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ برادرم، آپکی وسعت نظری و قلبی ہر لکھنے والے کی میراث نہیں ھے، پاک نیٹ پر لوگ آبگینوں کی طرح ھیں ھوا کا ننھا سا جھونکا باعث ٹیس ھوتا ھے اور ھر کوئی اپنی جگہ علم کا ایک سمندر ھے اور رائے مخالف گویا کہ ایک تلوار ھے۔ بہر کیف میں آپ دوستوں کا مشکور ھوں جنہوں نے مجھے مس کیا اور کوشش کروں گا کہ کہیں نہ کہیں شمولیت کرتا رھوں۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-05-09), منتظمین (31-05-09), ام غزل (31-05-09), ابو عمار (22-01-10), احمد بلال (05-09-09), اخترحسین (07-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (05-11-10)
پرانا 07-09-09, 12:43 AM   #25
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,036
کمائي: 75,190
شکریہ: 49,970
10,104 مراسلہ میں 31,948 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میری دادی۔ یار رُلا دیا۔ واقعی رلا دیا۔ حالانکہ میں بڑا ڈھیٹ بندا ہوں۔ جب لوگ رو رہے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔میں ہنس رہا ہوتا ہوں۔ مگر دادی چلی گئیں

حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-09-09), فیصل ناصر (23-09-09), اخترحسین (07-09-09), بزم خیال (22-01-10), رضی (23-09-09)
پرانا 07-09-09, 11:02 PM   #26
Senior Member
 
اخترحسین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: karachi
مراسلات: 1,529
کمائي: 36,971
شکریہ: 4,903
808 مراسلہ میں 1,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
اخترحسین کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں اخترحسین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماں

یا اللہ اماں جی کے درجات بلند فرما
اماں جی کو جنت الفردوس میں مقام عطاء فرما
اور میری ماں کو سحت و تندرستی و عافیت والی زندگی عطاء فرما
اور میری ماں کو مجھ سے راضی فرمائے رکھ
آمین ثم آمین
اخترحسین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-09-09), فیصل ناصر (23-09-09), بزم خیال (22-01-10)
پرانا 08-09-09, 01:18 PM   #27
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,246
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی
_________________
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-09-09), فیصل ناصر (23-09-09), کنعان (24-01-10), اخترحسین (08-09-09), بزم خیال (22-01-10)
پرانا 23-09-09, 04:01 PM   #28
Junior Member
اجنبی
 
Khali's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 14
کمائي: 654
شکریہ: 0
7 مراسلہ میں 14 بارشکریہ ادا کیا گیا
Khali کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ آپ کی اماں کو جنت فردوس میں جگہ دے آمین
Khali آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Khali کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-09-09), فیصل ناصر (23-09-09), کنعان (24-01-10), بزم خیال (22-01-10)
پرانا 22-01-10, 09:50 AM   #29
Senior Member
 
ابو عمار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 4,216
کمائي: 65,774
شکریہ: 6,140
2,303 مراسلہ میں 5,836 بارشکریہ ادا کیا گیا
ابو عمار کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاہد بھائی اتنی خوبصورت تحریرکا کن الفاظ میں تعریف کروں۔ اتنی پیاری دادی کی اتنی پیاری تحریر۔ بس اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ آپ کی دادی کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائیں اور ہمیں اپنے بزرگوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے میری دادی بہت یاد آئیں۔
ابو عمار آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ابو عمار کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (22-01-10), کنعان (24-01-10), بزم خیال (22-01-10)
پرانا 26-01-10, 01:07 AM   #30
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,128
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,712 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ابو عمار مراسلہ دیکھیں
شاہد بھائی اتنی خوبصورت تحریرکا کن الفاظ میں تعریف کروں۔ اتنی پیاری دادی کی اتنی پیاری تحریر۔ بس اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ آپ کی دادی کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائیں اور ہمیں اپنے بزرگوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

آپ کی تحریر پڑھ کر مجھے میری دادی بہت یاد آئیں۔

شکریہ جناب!

انشاء اللہ اس مضمون کی دوسری قسط لکھنے کا بھی ارادہ ہے!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
Amman, color, Memories, Noor Jehan, فروخت, کمال, کارڈ, پاکستان, قرآن, لوگ, نیند, نماز, نظر, موت, محبت, معلوم, آج, اللہ, بھائی, بچوں, تحریر, خواتین, درود شریف, ظالم, علی, عالم, صحت, صدیقی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:23 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger