واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


38 ارب کے اسکینڈل کی کہانی !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-12-09, 11:03 AM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default 38 ارب کے اسکینڈل کی کہانی !

38 ارب کے اسکینڈل کی کہانی !

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن کی رپورٹ پڑھ کر مجھے 2001ء کا ایک 38 ارب روپے کا اسکینڈل یاد آ گیا ہے۔ سیاسی حکومتوں کے برعکس پاکستان میں فوجی حکومتوں کو ہمیشہ سے عالمی طاقتوں اور ان کے زیر نگرانی چلنے والے اداروں اور میڈیا کی بڑی سپورٹ حاصل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل مشرف اور شوکت عزیز کے بڑے بڑے اسکینڈلز کبھی منظر عام پر نہیں آ سکے۔ اگر کسی نے وہ اسکینڈل سامنے لانے کی کوشش بھی کی تو فوجی حکومتوں نے اخبارات پر بے پناہ دباؤ ڈال کر وہ کہانیاں نہیں چھپنے دیں۔ یہ 38 ارب روپے کی کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے جو نہ کبھی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو نظر آئی اور نہ ہی اخبارات اسے چھاپنے کی جرأت کر سکے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کو گن پوائنٹ پر ملک کا اقتدار لئے ہوئے کچھ عرصہ ہوا تھا کہ شوکت عزیز نے انہیں مشورہ دیا کہ حکومت کے منافع میں چلنے والے بینکوں کو فروخت کرکے دولت کما ئیں۔ جنرل مشرف کو ایک سرکاری بینک کے صدر نے ایک بریفنگ دی۔ جنرل مشرف اس وقت چونک گئے جب انہیں یہ بتایا گیا کہ خلیجی ملک کے ایک فرد نے 1971ء میں اس بینک سے اٹھارہ ارب روپے کی مالیت کا ڈالروں میں ایک قرضہ لیا تھا جو 30 سال بعد بھی واجب الادا تھا۔ یہ قرضہ اس نے اس وقت لیا جب اس ملک میں اس بینک نے اپنی ایک برانچ کھولی تھی۔ جنرل مشرف کو بتایا گیا کہ اس قرضے پر واجب الادا سود دس ارب روپے کا تھا۔ یوں کل ملا کر اٹھائیس ارب روپے ایک شخص نے ادا کرنے تھے۔

جنرل مشرف کو بتایا گیا اگر یہ قرضہ واپس نہ ہوا تو بینک فروخت نہیں ہوسکے گا اور حکومت کو جیب سے یہ سارے پیسے ادا کرنے پڑیں گے۔ بینک نے اس فرد کے خلاف کورٹ میں ایک مقدمہ بھی کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کے اس فرد نے کہا کہ اگر اس پر واجب الادا دس ارب روپیہ سود معاف کردیا جائے تو وہ اصل زر دینے کو تیار ہے۔ اس سرکاری بینک نے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے وہ دس ارب روپے معاف کردیئے۔ جونہی یہ سود معاف ہوا اس فرد نے عدالت میں یہ جواز لے لیا کہ کیونکہ بینک خود اپنے اصل کلیم سے ہٹ گیا تھا لہذا اس سے ثابت ہوتا تھا کہ بینک کا موقف بڑا کمزور تھا۔ وہ عدالت جس کی صدارت اس مقروض کے رشتے دار خود فرما رہے تھے وہ مسکرائے اور بولے کہ بھتیجے کیا دور کی کوڑی لائے ہو۔

یہ سن کر جنرل مشرف نے اس ملک کے حکمران کو ایک خط لکھا ۔ جنرل مشرف کے دستخطوں سے جاری ہونے والے اس خط کی کاپی آٹھ سال گزرنے کے بعد آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے اس خط میں اس حکمران کے نام یہ تمام حقائق لکھے اور ان سے درخواست کی کہ مذکورہ شخص پر زور ڈال کر یہ قرضہ واپس کروائیں وگرنہ ان کا بینک فروخت نہیں ہو سکے گا۔
اس خط کے کچھ دنوں بعد اس شخص نے وزیر خزانہ شوکت عزیز سے رابطہ کیا۔ شوکت عزیز نے اس کو بڑی تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں آخر ہم کس مرض کی دوا ہیں۔ آپ بس دیکھتے جائیں کہ ہم کیا کرتب کرتے ہیں۔

شوکت عزیز نے ایک دفعہ پھر اس بینک کی ایک اور میٹنگ بلالی اور اٹھارہ ارب روپے کا یہ قرضہ اس کے ایجنڈے پر رکھ دیا گیا۔ بینک کے لوگوں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ صرف اٹھارہ ارب روپے کی خاطر ایک ریاست سے دوسری ریاست کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کئے جا سکتے تھے لہذا وہ اس سارے قصے کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھول جائیں۔ بینک کے صدر کو بھی چونکہ ملکی مفادات اور عوام کے ڈوبنے والے اس پیسے سے زیادہ اپنی نوکری عزیز تھی لہذا اس نے سر تسلیم خم کیا۔ تاہم بڑی عزت سے شوکت عزیز کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ یہ قرضہ معاف کرنے سے بھی معاملہ حل نہیں ہوگا کیونکہ جب تک یہ رقم بینک کے اکاؤنٹس میں ایک Bad loan کے طور پر موجود رہے گی کوئی بھی پارٹی اس بینک کو خریدنے پر تیار نہیں ہوگی۔ شوکت عزیز مسکرائے اور سیکرٹری خزانہ کو حکم دیا کہ عوام کے ٹیکسوں سے اکٹھی ہونے والی رقوم سے دس ارب روپے اس بینک کو اس قرضے کا نقصان پورا کرنے کے نام پر دے دیئے جائیں۔ ساری بیورو کریسی نے شوکت عزیز کے آگے سر جھکایا اور دس ارب روپے اس بینک کو حکومت پاکستان کی طرف سے Equity کے نام پر دے دیئے گئے۔ یوں ایک فرد کے خلاف اس قرضے کو ایک Normal business loss قرار دے کر ختم کردیا گیا۔ ایک فرد کو خوش کرنے کے لئے اس ملک کو شوکت عزیز کے اس فیصلے نے 38 ارب روپے کا نقصان دیا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ کچھ دنوں بعد جب اس بینک کو فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا تو جس پارٹی نے سب سے پہلے اس کو خریدنے کے لئے بولی لگائی وہ اسی فرد کا ایک عزیز تھا جس نے اس بینک کو 38 ارب روپے کا نقصان دیا تھا۔ یوں ایک نے قرضہ معاف کرا لیا تھا اور ا ب دوسرا خریدنا چاہ رہا تھا۔

جب میں نے اس سارے اسکینڈل پر محنت کرنے کے بعد شوکت عزیز سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو یوں لگا جیسے ایک آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ مجھے بڑے سخت لفظوں میں بتایا گیا کہ کیونکہ آپ کو بینکنگ اور فنانشنل معاملات کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں لہذا آپ اس چکر میں نہ پڑیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ حضرت اس بات کو سمجھنے کے لئے کتنی بڑی ڈگری کی ضرورت تھی کہ اٹھارہ ارب روپے کے قرضے پر دس ارب روپے کا سود معاف کرکے اس پر مزید دس ارب روپے نقصان پورا کرنے کے لئے دے کر کل 38 ارب روپے کا نقصان اس ریاست کو پہنچایا گیا۔
آخر میرے ایڈیٹر نے میرے اخبار کی کولیگ ماریانا بابر اور ندیم ملک کو میرے ساتھ شوکت عزیز سے ملنے بھیجا جہاں اس وقت کے اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ایک ایڈیشنل سیکرٹری موجود تھے۔ میرے ہر سوال کے مزاحیہ انداز میں جوابات دیئے جاتے رہے۔ میں اپنے دفتر واپس آیا اور اپنے اخبار کے لئے اسکینڈل فائل کیا۔ بھلا یہ کیونکر ممکن تھا کہ ایک فوجی حکمران کے دور میں یہ اسکینڈل چھپ سکتا اور مجھے شوکت عزیز کی ہنسی کا راز سمجھ آ گیا تھا۔

آج آٹھ سال بعد جب میں اس اسکینڈل کی پوری فائل کھول کر پھر پڑھ رہا ہوں تو ایک عجیب سا دکھ ہو رہا ہے کہ اس ملک کو کس کس نے اور کیسے کیسے لوٹا لیکن پھر بھی کسی اخبار یا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں اس اسکینڈل کی جگہ نہیں بنی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے مل کر جتنی بھی کرپشن کی ہو وہ کم از کم شوکت عزیز کے ایک قلم سے کی گئی 38 ارب روپے کی کرپشن سے بہت کم ہوگی۔ نواز شریف اور بینظیر آج تک کرپٹ مشہور ہیں۔ بینظیر بھٹو کے تو ریڈ وارنٹ تک جاری کر دیئے گئے تھے جبکہ شوکت عزیز آج بھی انتہائی ادب و احترام کے ساتھ پوری دنیا میں سفر کرتے ہیں۔

یہ دنیا ایک دوسرے کو فائدہ نقصان دینے پر چلتی ہے۔ شوکت عزیز نے اس فلسفے کا راز بہت پہلے ہی پا لیا تھا۔ اس قیمتی نروان کو پالینے کی وجہ سے ہی وہ اس ملک کے نو سال تک بلاشرکت غیرے حکمران بنے رہے جبکہ ہمارے بیوقوف سیاستدان اپنی چھوٹی موٹی کرپشن بھی نہیں چھپا سکتے۔ یہ سیاستدان شوکت عزیز سے نو سالوں میں اتنی سی بات بھی نہیں سیکھ سکے کہ 38 ارب روپے کے اسکینڈل کو کیسے برسوں تک چھپائے رکھنا ہوتا ہے لہذا اب وہ بھگتیں اور پڑھیں اپنے نام ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں جنہیں صرف سیاستدانوں کی کرپشن نظر آتی ہے !

بشکریہ
جناب رؤف کلاسرا صاحب
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-12-09)
پرانا 02-12-09, 08:43 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,218
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,729 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی اسلام علیکم
آپ کا اور رؤف کلاسرا صاحب کا بہت بہت شکریہ!
کاش اُس بینک کا نام بھی دے دیا جاتا!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (03-12-09)
جواب

Tags
business, فروخت, کورٹ, پاکستان, وزیر, نوکری, نواز شریف, چور, ممکن, مزاحیہ, آج, حل, خوش, خلاف, درخواست, رشتے, سفر, سال, شخص, عدالت, عزیز, عزت, صدارت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger