| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے
August 2, 2008 at 8:14 am | راقم : افتخار اجمل بھوپال | سماج میں شائع کیا گیا دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ “ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے” دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا علامہ اقبال صاحب نے کیا خُوب کہا ہے ۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی بیہوشی کی حالت کے علاوہ کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز بھی نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟ اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔ سُورت 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةِ إِنَّ الصَّلَاةِ تَنْهىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّہِ أَكْبَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔ مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔ سُورت ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیت ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے سورت ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیت 2 ۔ أحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُونَ ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔ تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟ سورت ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیت 208 ۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّہً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّہُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔ حرفِ آخر ۔ میں نے مُسلمان کے فرائض کا احاطہ نہیں کیا وہ پوری زندگی ۔ سلوک ۔ لین دین بلکہ زندگی کے ہر شعبہ کے متعلق ہیں اور قرآن شریف میں واضح طور پر مرقوم ہیں ۔ ماخذ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ صاحب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی اس پر میں تو تھک گیا ہوں بحث کر کر کے۔
میرے خیال ہے علامہ اقبال جی کا شعر کی اس کی تفصیر ہے
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
کمائي: 24,745
شکریہ: 1,293
978 مراسلہ میں 1,848 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیئرنگ کی ہے آپ نے۔
شکریہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
مقبول
|
میں تو ایک ہی مثال دیا کرتا ہوں، محمد(ص۔ل۔ع۔و( کی اور فاطمہ (ر۔ض۔ع( کی کہ محمد (ص۔ل۔ع۔و( نے اپنی بیٹی فاظمہ سے کہا تھا تو یہ مت سمجھنا کہ تو نبی کی بیٹی تو بخشی جائے گی بلکہ اگر تو بخشی گئی تو صرف اپنے صالح اعمال کی وجہ سے۔
جب نبی کی بیٹی صرف اپنے اعمال سے بخشی جائے گی تو عام لوگ کیسے صرف مسلمان ہونے یا اپنے پیر فقیر کی دعا سے بخشے جا سکتے ہیں۔ Last edited by عبدالقدوس; 03-08-08 at 09:13 PM. |
|
|
|
| شہزاد وحید کا شکریہ ادا کیا گیا | تفسیر حیدر (04-08-08) |
|
|
#5 | ||
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
مراسلات: 1,715
کمائي: 35,872
شکریہ: 165
748 مراسلہ میں 1,727 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
پسندیدگی کے لئے شکریہ اقتباس:
|
||
|
|
|
![]() |
| Tags |
| blog, گمان, لوگ, نماز, ایمان, اللہ, امتحان, اسلام, بھائی, جواب, حکم, دعا, زندگی, شہزاد, شخص, شعر, عبادت, صالح, صبر, صحیح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|