واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-11-09, 04:27 PM   #1
Senior Member
 
Wahid Mahmood's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Dil ky As Pa'as
مراسلات: 335
کمائي: 6,894
شکریہ: 879
243 مراسلہ میں 641 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے ؟

ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے ؟

ہم مسلمان ہیں بخشے جائینگے ؟ ؟ ؟

دوسرے ممالک کے مُسلمانوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میرے ہموطنوں کی بھاری اکثریت کو یہ یقین ہے کہ


“ہم مُسلمان ہیں ۔ ہم بخشے جائینگے”
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیاوی کاموں میں ایسے لوگوں کا نظریہ بالکل اس کے بر عکس ہے ۔ ذہین سے ذہین طالب علم کے متعلق بھی یہ کوئی نہیں کہے گا کہ وہ بغیر تمام مضامین اچھی طرح سے پڑھے کامیاب ہو جائے گا ۔ یا کوئی شخص بغیر محنت کئے تجارت میں منافع حاصل کرے گا ۔ یا بغیر محنت سے کام کئے دفتر میں ترقی پا جائے گا

قرآن شریف کے ذریعہ عمل کیلئے دیئے گئے تمام احکامات کے ساتھ کوئی نا کوئی شرط ہے جس کی وجہ سے کُلی یا جزوی یا وقتی استثنٰی مِل جاتا ہے سوائے نماز کے جس کی سوائے بیہوشی کی حالت کے کسی صورت معافی نہیں ۔ ہمارے ہموطن ایسے بھی ہیں جو نماز نہیں پڑھتے اور دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور چونکہ وہ سب کچھ جانتے ہیں اسلئے اُنہیں کوئی کچھ نہیں سِکھا سکتا ۔ کیا اس سائنسی دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ریاضی اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی ریاضی دان بن جائے یا کیمسٹری اچھی طرح پڑھے بغیر کوئی کیمسٹ بن جائے ۔ علٰی ھٰذالقیاس ؟

اگر ہم اللہ کی کتاب کا بغور مطالعہ کریں تو ہم ہر لغو خیال سے بچ سکتے ہیں ۔

سُورة 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیة 45 ۔ اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ

ترجمہ ۔ جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھیں اور نماز قائم کریں ۔ یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے ۔ بیشک اﷲ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے ۔تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے اﷲ خبردار ہے

تبصرہ ۔ اگر نماز پڑھنے والا بے حیائی اور بُرائی میں ملوث رہتا ہے تو اس میں نماز کا نہیں بلکہ نماز پڑھنے والے کا قصور ہے یعنی وہ نماز صرف عادت کے طور پر یا بے مقصد پڑھتا ہے ۔ نماز میں جو کچھ پڑھتا ہے اُسے سمجھ کر نہیں پڑھتا ۔

مسلمان ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے اُس کا ہر عمل اللہ کے حکم کی بجا آوری میں ہو اور اللہ ہی کی خوشنودی کیلئے ہو یہاں تک کہ وہ مَرے بھی تو اللہ کی خوشنودی کیلئے ۔

سُورة ۔ 6 ۔ الْأَنْعَام ۔ آیة ۔ 162 ۔ قُلْ إِنَّ صَلاَتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

ترجمہ ۔ کہہ دیں کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اﷲ ہی کا ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے

سورة ۔ 29 ۔ الْعَنْکَبُوْت ۔ آیة 2 ۔ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ

ترجمہ ۔ کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھ ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے ۔

تبصرہ ۔ یہاں آزمانے سے مُراد امتحان لینا ہی ہے جس میں کامیابی کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جیسے ہر دنیاوی کام یا علم کیلئے امتحان اور مشکل مراحل میں صبر و تحمل اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر ہم دین کو اس سے مستثنٰی کیوں سمجھتے ہیں ؟

سورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة 208 ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ

ترجمہ ۔ اے ایمان والو ۔ اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو ۔ بیشک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے

وضاحت ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے تمام احکامات کی پابندی کرو ۔
Wahid Mahmood آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Wahid Mahmood کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), فاروق سرورخان (10-11-09), wajee (10-11-09), راجہ اکرام (10-11-09)
پرانا 10-11-09, 06:21 PM   #2
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,696
شکریہ: 8,078
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واحد بھائی
آپ کی بات بالکل صحیح ہے ۔
لیکن حدیث نبوی ہے جس کا مفہوم ہے
اللہ تمھارے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہے ۔

ہم بھی ہر وقت اپنے آپ کو بُرا کہنے میں مشغول رہتے ہیں ۔
میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن پہر بھی کوئی رہ جاتی ہے تو اس کو قضا پڑھ لیتی ہوں
لیکن میں نے ایک جگہ پڑھا کہ اگر کوئی نماز قضا بھی پڑھ لے تب بھی اس کو قیامت کے دن سزا ملے گی ۔ اب یہ بات کہاں تک سچ ہے اس کا تو علم نہیں لیکن اس طرح کی باتوں سے لوگ نماز کے قریب آنے کے بجائے دور ہوجاتے ہیں ۔

اور جہاں تک جنت میں جانے کی بات ہے میرے خیال میں تو جنت میں جانے کی انسان کو خواہش اور یقین بھی کرنا چاہیے ،
جب ہم اتنے مایوس ہوجائیں گے کہ ہم تو جنت میں نہیں جاسکتے تو پہر اس کے لیے کوشش بھی نہیں کریں گے

یہ میری رائے ہے اس سے آپ سب کو اختلاف ہوسکتا ہے
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), فاروق سرورخان (10-11-09), Wahid Mahmood (11-11-09), راجہ اکرام (10-11-09)
پرانا 10-11-09, 06:33 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حقیقی کامیابی تو وہ ہے کہ انسان قیامت کے دن پل صراط سے خیریت سے گزر جائے، اپنے رب کا دیدار کر لے، اپنے رب کے عرش تلے سایہ پا سکے، ساقی کوثر کے ہاتھوں جام کوثر نوش کرنے کی سعادت حاصل کر سکے، اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں وصول کرے اور ہمیشہ کے لئے جنت کا باسی بن جائے۔۔۔ اس کامیابی کا فیصلہ تو یقینا رب ذوالجلال قیامت کے دن خود فرمائیں گے۔۔۔
لیکن اس کامیابی کے حصول کے لئے ہمیں طریقہ کار بتا دیا گیا ہے، وہ کام بتا دیئے گئے ہیں کہ جن کو دیکھ کر انسان سوچ سکتا ہے کہ وہ کامیابی کے کس درجے پر فائز ہے ۔ اور اگر کوئی وہ اعمال نہیں کرتا تو اسے اپنی ناکامی کا احساس بھی ہو جانا چاہیے۔

اللہ تعالی نے قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی سورت میں کامیابی اور ناکامی کی شرائط اور معیاردو ٹوک انداز میں بیان کر دیا ہے، بظاہر وہ چند آیات ہیں‌ لیکن علماء کرام کا قول ہے کہ اگر صرف یہی سورت نازل کی جاتی تو انسانیت کی ہدایت کے لئے کافی تھی۔ اور وہ ہے ’’سورۃ العصر‘‘

اس سورت مبارکہ میں حلفیہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ تمام کے تمام انسان خسارے میں ہیں، سوائے ان لوگوں کے جوہ یہ چار کام کرتے ہیں
ایمان ، عمل صالح، حق کی تلقین، صبر کی تلقین

ان چار شرائط میں سے عمل ایک بنیادی شرط ہے، ایمان کے بعد عمل صالح انتہائی ضروری ہے اور اس سے کنارہ کشی کر کے کامیابی کے دعوے کرنا اور یہ کہنا کہ ’ہم مسلمان ہیں اس لئے بخشے جائیں گے‘ سراسر ظلم ہوگا۔
یقینا اگر خدا چاہے تو معاف کر سکتا ہے وہ الغفور ہے الرحیم ہے، لیکن وہ جبار اور قھار بھی ہے۔ اس لئے بے عملی کی زندگی گزار کر اس خوشفہمی میں رہنا کہ بخشے جائیں‌گے عقلمندی نہیں، بلکہ یہ اباحیت پسندی ہے جس نے اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچایا، اور آج امت مسلمہ کی جو حالت زار ہے اس میں اس اباحیت پسندی اور بے عملی کا بڑا ہاتھ ہے۔
دنیاوی معاملات میں اس کے بالکل برعکس دگنی محنت کی جاتی ہے، زیادہ سے زیادہ مال کمانے، آرام و آسائشیں حاصل کرنے، اسٹیٹس حاصل کرنے کے لئے دن رات محنت اور تگ و دو کی جاتی ہے۔ یہاں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ’میں فلاں قوم سے ہوں اس لئے کامیاب ہو جاؤں گا‘، اللہ رزاق ہے وہ مجھے خود ہی رزق دے دے گا۔ خدا کے رحمن و رحیم ہونے پر جتنا یقین آخرت کے حوالے سے ہے ویسا یقین خدا کے رزاق ہونے پر دنیاوی معاملات میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔
حالانکہ رزق کے معاملے میں اللہ نے کہا ہے کہ رزق ہمارا ذمہ ہے، لیکن مغفرت اور خوشنودی رب حاصل کرنے کے لئے فاستبقوا الخیرات۔۔۔۔ فاسعوا الی ذکر اللہ،۔۔۔اور۔۔۔ و سارعوا الی مغفرۃ من ربکم جیسے احکامات ہیں، اور پھر تتجافی جنوبھم عن المضاجع اور و الذین یبیتون لربھم سجدا و قیاما جیسی آیات کے ذریعے کامیاب انسانوں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔
پھر دنیا کے کامیاب ترین انسان، پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کر دیا گیا کہ کامیابی کایہ معیار ہے، ایسی زندگی گزارنی ہو گی اگر کامیاب ہونا ہے۔۔۔۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ قرآن کریم کی زندہ تفسری ہے۔

اگر صرف مسلمان ہونا بخشش کے لئے کافی ہوتا تو کیا سرور کائنات کا ایمان، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان اتنا مضبوط نہیں تھا کہ انہیں اس قدر عمل کی ضرورت محسوس ہوئی۔۔ ان کی زندگیاں ہمارے لئے رہنمائی ہیں کہ صرف مسلمان ہونا یا مسلمان ہونے کا دعوی کرنا کامیابی کے لئے کافی نہیں۔۔۔

اب اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ یا اس خوش فہمی میں ہو کہ ’ہم مسلمان ہیں اس لئے بخشے جائیں گے‘ تو اسے اپنی ذہنی حالت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔۔
اللہ ہمیں عقل صحیح کو استعمال کرنے اور نقل صحیح پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔آمین

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), Wahid Mahmood (11-11-09), سحر (10-11-09)
پرانا 10-11-09, 06:43 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ میری رائے ہے جو میری سمجھ پر منحصر ہے۔ مجھے اپنی علمی کم مائیگی کا پورا احساس ہے، اس لئے اختلاف ہر کسی کا بنیادی حق ہے، اور اہل علم سے درخواست ہے کہ جہاں تصحیح کی ضرورت ہو ضرور رہنمائی کریں۔۔۔ شکریہ

Last edited by راجہ اکرام; 10-11-09 at 07:01 PM.
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), Wahid Mahmood (11-11-09)
پرانا 10-11-09, 07:22 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بالکل جناب وحید محمود بھائی ایسے ہی کوئی جنت میں جائے گا ۔ حلاوہ کھانے کے لیے پہلے بنانا پڑھتا ہے اسکے لیے بڑی محنت کرنی پڑھتی ہے تب جا کر حلاوہ کھایا جاتا ہے ۔تو جنت کے لیے بھی جنت جیسے اعمال ہونے چاہیے ۔
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.
wajee آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), فاروق سرورخان (10-11-09), Wahid Mahmood (11-11-09), راجہ اکرام (11-11-09)
پرانا 10-11-09, 07:28 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,784
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

2:201 وِمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
Tahir ul Qadri اور انہی میں سے ایسے بھی ہیں جو عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی (سے نواز) اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-11-09), Wahid Mahmood (11-11-09)
جواب

Tags
color, کوشش, گمان, قرآن, لوگ, نماز, آج, ایمان, اللہ, انسان, امتحان, اسلام, بھائی, حکم, حدیث, حدیث نبوی, خدا, شخص, علم, عادت, عبادت, صبر, صحیح, صحابہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger