| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہدف پاکستان ہے!.,,,,…
صدر بارک حسین او باما کی افغان پالیسی تقریر، دراصل اس پاکستان پالیسی کا اعلان ہے جو 2010ء میں روبہ عمل آنے والی ہے اور جس کیلئے ہمارے ہاں نہ کوئی سنجیدگی پائی جاتی ہے نہ ٹھوس منصوبہ بندی۔ نیو یارک کی فوجی اکیڈمی کو اس نئی پالیسی کیلئے منتخب کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ اوباما ، امریکہ کی جنگجو لابی کے شدید دباؤ میں ہیں اور وہ لشکر کشی کو ہی افغان مسئلے کے حل کی کلید خیال کرتے ہیں۔ ایسی اطلاعات آ رہی تھیں کہ وہ فوج کی تعداد میں اضافے کے حق میں نہ تھے لیکن وہ لابی کامیاب رہی جو بش کے فلسفہ جنگ کی حامی تھی۔ افغانستان میں امریکی سپاہ کے کماندارِ اعلیٰ جنرل میک کرسٹل بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے کہ انہیں تازہ دم فوجی کمک میسر آ جائے۔ سو تیس ہزار امریکی اگلے چھ ماہ کے اندر اندر افغانستان پہنچنے کو ہیں۔68 ہزار امریکی فوجی پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں یوں اگلے سال کے وسط تک امریکیوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہو جائے گی۔ برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، اٹلی، ہالینڈ ، پولینڈ، آسٹریلیا، اسپین ، رومانیہ، ترکی، ڈنمارک، ناروے، بیلجیئم، سوئیڈن، بلغاریہ، چیک ری پبلک، کروشیا، ہنگری اور کئی دوسرے ممالک کے تقریباً چالیس ہزار فوجی بھی افغانستان میں جنگ آزما ہیں۔ اوباما نے نیٹو سے بھی فوجوں کی تعداد بڑھانے کی درخواست کی ہے اندازہ ہے کہ اگلے سال کے وسط تک امریکی اور نیٹو افواج کی مجموعی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ افغان فوج کو ملا کر یہ لشکر ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر سکتا ہے فضائی قوت، ساز و سامان جنگ، جدید ہتھیاروں اور موثر ٹیکنالوجی سے لیس اتنا بڑا لشکر جو کسی ملک عین کے وسط میں بیٹھا ہو اور جس کے مقابلے میں سرے سے کوئی منظم فوجی دستہ ہی نہ ہو، کیا کچھ نہیں کر سکتا لیکن عجب کھیل ہے کہ سات سمندر پار سے آئی افواج قاہرہ کو فضاؤں سے میزائل برساتے اور زمینی آپریشن کرتے آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن فتح ابھی تک کوہ قاف کے کسی اندھے غار میں گہری نیند سو رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت تین درجن دوسرے ممالک کے ساتھ سنگلاخ پہاڑوں سے سر پھوڑ رہی ہے۔ افتادگان خاک کا لہو پی رہی ہے، بستیاں بھسم کر رہی ہے لیکن فتح اس سے کوسوں دور ہے اور وہ ابھی تک نہیں جان پائی کہ دسمبر 2001ء کے انہی برفاب موسموں میں پہاڑوں کو نگل جانے والا مرد جری کہاں ہے اور اسامہ بن لادن زندہ بھی ہے یا حدسودوزیاں سے آگے نکل گیا ہے۔ طاقت اپنا نظام فکر و شعور رکھتی ہے۔ کبھی امریکیوں کو فرصت ملے تو انہیں غور کرنا چاہئے کہ ساری دنیا پر دھونس جمائے اور نگری نگری اپنی رعونت کا پرچم لہرانے سے انہیں کیا ملا ہے؟ اربوں کھربوں ڈالر وہ ایک ایسی کھیتی میں بو رہا ہے جہاں سے اس کیلئے نفرتوں کی فصل اگ رہی ہے۔ اس کی اپنی معیشت کھوکھلی ہوتی جارہی ہے اور اپنے عوام کو صحت و تعلیم جیسی سہولتیں فراہم کرنا مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن گھر پھونک تماشا دیکھ کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تیس ہزار نئے فوجیوں کیلئے اس نے تیس ارب ڈالر کا مزید بجٹ مانگا ہے۔ گویا ہر نئے فوجی کیلئے ایک ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ دوسری طرف پاکستان کیلئے اس کے پاس تھپکیوں اور دھمکیوں کے سوا کچھ نہیں جو آٹھ برس سے امریکی کروسیڈ کی بھٹی میں گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہا ہے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے مکروہ شرائط میں لپٹی ڈیڑھ ارب ڈالر (جو ڈیڑھ امریکی فوجیوں کا ایک سال کا خرچہ ہے) کی امداد ابھی تک کسی تجوری میں بند پڑی ہے ہوس اقتدار میں بدمست ایک ڈکٹیٹر کو بلیک میل کرتے ہوئے پاکستان کو اس افغانستان سے لڑا دیا گیا جس نے اس کا کبھی کچھ نہ بگاڑا تھا۔ جارج ڈبلیو بش نے پہلے اسامہ بن لادن کو نائن الیون کا ذمہ دار قرار دیا پھر ملا محمد عمر کو اس کا میزبان قرار دے کر فرد جرم عائد کی پھر اس نے پورے افغانستان کو اپنا ہدف قرار دیا پھر مشرف سے کہا کہ اسامہ، ملاعمر، افغانستان سے اس کی کوئی دشمنی ہے یا نہیں، وہ امریکہ کا ساتھ دے۔ اپنے ہوائی اڈے، اپنی بندرگاہیں اپنی انٹیلی جنس اور اپنی راہداریاں امریکی لشکروں کیلئے کھول دے۔ مشرف اپنے اقتدار کیلئے کوئی بھی قیمت دینے کو تیار تھا۔ سو وہ سب سے پہلے پاکستان کا جاپ کرتااور پاکستان کی بیٹیوں ، بیٹوں ، آزادی و خود مختاری اور عزت و آبرو کو امریکیوں کے ہاتھ بیچتا رہا۔ جب کبھی اس ملت فروش کمانڈو کے اصل کارنامے پوری تفصیل کے ساتھ سامنے آئے دنیا میر جعفر اور میر صادق کی کہانیاں بھول جائے گی۔ کوئی سویلین اس کا پاسنگ بھی کرتا تو اس کی بوٹیاں نوچ کر چیل کووں کے آگے ڈال دی جاتیں مشرف فوج کے سربراہ تھا اور پاکستان کی اسی قابل فخر قوت کو اس نے پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ذرا غور کیجئے اگر نائن الیون کے دنوں میں آصف زرداری صدر ہوتے اور وہ یہی کچھ کرنا چاہتے جو مشرف نے کیا تو فوج کے سربراہ اور کور کمانڈروں کا رد عمل کیا ہوتا؟ آج وہی فوج مشرف کے بوئے ہوئے کانٹے پلکوں سے چن رہی ہے۔ جنرل کیانی کی پیشہ ورانہ قیادت میں اس جنگ کو اپنے لہو سے سینچ رہی ہے جو مشرف مسلط کر گیا اور جو پھیلتی ہی چلی جارہی ہے۔ اوباما کی تقریر نے پاکستان کیلئے فکر مندی کے کتنے باب کھول دیئے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے اہلکاروں نے رنگا رنگ الزامات کا کورس شروع کردیا ہے۔ چند چیزیں طے کرلی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ اسامہ اور القاعدہ کی ساری قیادت پاکستان میں پناہ گزین ہے۔ دوسری یہ کہ پاکستانی فوج بالخصوص انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو القاعدہ اور طالبان قیادت سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تیسری بات یہ عین الیقین کی حدوں کو چھو رہی ہے کہ انتہا پسندوں کا کوئی طائفہ اٹھے گا اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ کرلے گا۔ پھر کوئی طالب ایک ایف 16 میں بم لوڈ کرے گا اور امریکہ یا یورپ کی کسی بستی پہ جاگرائے گا۔ ان تین مفروضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی پشت پر پیہم تازیانے برسائے جارہے ہیں۔ امریکہ کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی پوری ذمہ داری پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت پر ڈال دی گئی ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں امریکہ کے 850 فوجی افغانستان میں ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان میں مسلح افواج کے شہدا کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور ڈرون حملوں کا لقمہ ہونے والوں کا تو شمار ہی نہیں کیا گیا۔ ہزاروں افراد دہشت گردی کی وارداتوں کا لقمہ ہو چکے ہیں۔ مشرف تو گیا لیکن جمہوری حکومت بھی قومی مفادات کی نگہانی کیلئے کوئی توانا پالیسی نہیں بنا سکی۔ مارچ 2008ء میں نئی حکومت وجود میں آتے ہی جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ایک سے زیادہ بریفنگ دیں لیکن سیاستدان کوئی رہنمائی فراہم نہ کرسکے۔ آج بھی سات سمندر پار سے اٹھنے والے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں وزیراعظم صاحب کی حق گوئی و بے باکی، بے معنی ہے جب تک پاکستان کو درپیش چلینجوں کا ادراک نہیں کیا جاتا اور جب تک اس بے ثمر جنگ کے بارے میں ایک واضح قومی پالیسی تشکیل نہیں دی جاتی کیا ہمارے حکمران اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عرفان صدیقی
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,184
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عرفان صدیقی اس طرح کے کالم لکھنے میں ماہر ہے۔ اس شخص کو مسجدوں میں درندوں کی ہونے والی کاروائیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ کل ہی ان درندوں نے 17 معصوم بچوں کا خون پیا ہے۔ لیکن آفرین ہے اس شخص پر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کاش کہ کچھ "شہادتیں" اس کے اپنے حصے میںبھی آئیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (05-12-09) |
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,587
کمائي: 157,689
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,303 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس تحریر میں مجھے کہیں بھی طالبان کی حمایت اور خودکش حملوں کو جائز قرار دینے کی بات نظر نہیں آرہی ۔
منتظمین بھائی حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کریں خالی خولی ایک دوسرے کو برا کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ امریکہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بہانے داخل ہوکر ہم کو یا آپ کو پھولوں کے ہار نہیں پہنائے گا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی کسی دن امیریکہ کو بچاتے بچاتے اسی کے ڈرون حملوں کی نظر ہوجائیں ۔ شکریہ
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (05-12-09) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
2012 پاکستان سے ہی شروع ہو گا جو فلم بنی ہے پاکستان سے ہی ابتداء ہو گی اس کی
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,616
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
double post
ّ______ Last edited by wajee; 05-12-09 at 11:46 AM. |
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آمین |
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (05-12-09) |
![]() |
| Tags |
| کارنامے, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, نیند, نظر, مقابلہ, منصوبہ, آپریشن, آج, آصف زرداری, امریکہ, اعلیٰ, تعلیم, حل, خلاف, درخواست, زرداری, سال, طالبان, عزت, عسکری, صادق, صحت, صدیقی |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اکتالیس فیصد پاکستانیوں کی ویزہ درخواستیں مسترد | کنعان | دیس ہوئے پردیس | 4 | 13-12-09 12:55 AM |
| جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو | ابن جلال | خبریں | 0 | 12-10-08 12:03 AM |
| بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا | شیخ ہمدان | سیاست | 1 | 19-01-08 09:45 PM |
| ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: | پاکستانی | خبریں | 0 | 19-08-07 02:17 PM |
| السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے | Zullu230 | تعارف | 9 | 21-07-07 10:59 PM |