| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
سلام
رات میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا شہاب نامہ- کچھ پڑھتے ہوئے اچانک میرے دل میں خیال آیا کو وہ کون سا انسان تھا جس نے پہلے خدا کا انکار کیا تھا اور پھر برائی نے جنم لیا۔ بہت دیر تک سوچتا رہا پھر تو میرا دماغ ہی پھٹنے لگا تو پھر سوچا کہ کل جائے کر فورم پر سوال کرونگا کہ شاید کسی کو پتا ہو۔ کیا کسی کو پتا ہے؟؟؟
__________________
جب تک میری انفریکشن ختم نہیں ہوگی میں فورم میں نہیں آونگا۔ |
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-07-08) |
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ھممم انسانوں میں۔۔۔۔۔۔ خدا کے انکار سے کیا مراد ہے آپ کی ؟ وجود سے انکار یا کہ حکم سے انکار؟
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
| عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-07-08) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
ایک ہی بات ہے بھائی
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-07-08) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک بات نہیں ہے دو باتیں ہے اللہ کے وجود سے انکار اور حکم سے انکار میں
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب سے پہلے خدا کے حکم سے انکار قابیل نے کیا تھا
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-07-08) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آدم و حوا علیھماالسلام کو زمین پر بستے ایک عرصہ ہو چکا تھا۔ ان کی اولادیں اب بڑی ہو چکی تھیں۔ قابیل اور ہابیل ان کے بیٹوں ہی میں سے تھے اور آدم ان کے باپ ہی نہیں بلکہ پیغمبر بھی تھے اور انھوں نے اچھی طرح انھیں سمجھایا تھا کہ انسان کو اللہ تعالی نے اس دنیا میں آزمایش اور امتحان کے طور پر بھیجا ہے۔ اسے عمل اور ارادے کی آزادی بخشی ہے۔ اب انسان نے اپنے عمل اور ارادے سے یا تو اس آزمایش میں کامیاب ہونا ہے یا ناکام۔۔۔۔
یہ تعلیم آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اچھی طرح دے دی تھی اور انھیں انسان کے سب سے بڑے اور عیار دشمن، شیطان سے بھی خبردار کر دیا تھا اور اس کی وجہ بھی انھیں بتا دی تھی کہ شیطان آدم اور اس کی اولاد سے حسد کرتا ہے۔ وہ خود تو اللہ کی حکم عدولی کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہو ہی چکا ہے۔ اب اس کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی ساری اولاد کو اللہ کی بغاوت پر آمادہ کرے اور سب کو جہنم میں پہنچا کر اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرے۔ ٭٭٭ قابیل کو یہ سب کچھ معلوم تھا لیکن وہ سوچتا تھا کہ بھلا آج کے واقعہ میں شیطان کا کیا کام؟ آج تو جو کچھ ہوا ہے سراسر اس سے زیادتی ہوئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا بھائی ہی تو ہے! دراصل ہوا یہ کہ دونوں بھائیوں کو قربانی دینے کا حکم ملا۔ اس دور میں قربانی عبادت کا ایک اہم رکن تھا اور قربانی دینے کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا کہ قربانی کے لیے پیش کی جانے والی شے کو ایک چبوترے پر رکھ دیا جاتا، اگر اللہ تعالی کو یہ قربانی قبول ہوتی تو ایک آگ آتی اور قربانی کی شے کو جلا ڈالتی اور اگر اللہ تعالی کو یہ قربانی قبول نہ ہوتی تو وہ آگ نہ آتی۔ اب بھی یہی ہوا تھا۔ یوں ہابیل کی قربانی قبول ہوئی تھی اور قابیل کی نامنظور۔۔۔۔اور قابیل کو اس کا سخت رنج تھا مگر اس میں قصور اس کا اپنا تھا۔۔۔۔ ہابیل اس کا ذرہ بھر بھی ذمہ دار نہ تھا۔ ہوا یوں کہ جب دونوں بھائیوں کو قربانی کا حکم ہوا تو ہابیل نے اپنے ریوڑ کا سب سے اچھا مینڈھا منتخب کیا اور اسے اللہ کی راہ میں پیش کر دیا۔۔۔۔ قربانی کرتے وقت اس کی نیت یہی تھی کہ اے میرے پروردگار! میری یہ قربانی اس بات کا اظہار ہے کہ میرا جینا، میرا مرنا صرف اور صرف تیرے لیے ہے۔ بھلا اس قدر خلوص او ر سچے دل سے پیش کی جانے والی قربانی اللہ تعالی کیسے قبول نہ کرتا! دوسری طرف قابیل نے قربانی پیش ہی بدنیتی سے کی تھی۔ قابیل ایک کسان تھا۔۔۔۔ا س نے اپنی کھیتی سے گلا سڑا غلہ لیا اور یہ سوچتے ہوئے چبوترے پر ڈھیر کر دیا کہ اسے کون سا بھلا کسی نے کھانا ہے۔۔۔۔ آگ ہی نے تو جلانا ہے پھر اچھا غلہ ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ اب بھلا اس نیت سے پیش کی گئی قربانی کیسے قبول ہوتی۔۔۔۔؟ مگر قابیل عجیب شخص تھا۔ اپنی غلطی کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ہابیل سے حسد نے اس کی سوچنے کی صلاحیت کو بالکل ہی ختم کر دیا تھا۔ تبھی تو اس نے یہ خطرناک ارادہ کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو ہی ہلاک کر ڈالے گا۔ پھر قابیل، ہابیل کے پاس پہنچا اور غصے سے بولا: "میں اپنی یہ ذلت برداشت نہیں کر سکتا کہ تمھاری قربانی قبول ہو اور میری غیرمقبول۔۔۔۔ میں تمھیں اس کا مزہ ضرور چکھاؤں گا۔۔۔۔ تمھیں قتل کر ڈالوں گا۔" ہابیل نے بھائی کی یہ بات سن کر اپنے غصے پر مکمل قابو پایا اور اسے سمجھاتے ہوئے کہا: "دیکھو بھائی! قربانی کے قبول یا نہ قبول ہونے کا تعلق تو سراسر انسان کی نیت پر ہے، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ پرہیزگاروں ہی سے قربانی قبول کرتا ہے۔۔۔۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم خود غور کرو کہ تم سے کہاں بھول ہوئی ہے، کوتاہی ہوئی ہے۔" ہابیل کی اس نصیحت نے قابیل کے غصے کو اور بڑھا دیا۔۔۔۔ وہ اور بد تمیزی سے ہابیل کو برا بھلا کہنے لگا۔ دراصل اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ قابیل کو اس قدر تنگ کرے کہ وہ لڑائی جھگڑا پر اتر آئے اور پھر موقع پا کر اس کا کام تمام کر دے لیکن ہابیل بہت ہی عقل مند اور نیک انسان تھا۔ اس نے صبر اور حکمت کا دامن تھامے رکھا اور قابیل کی ساری بدتمیزی کے باوجود کوئی تکرار نہ کی بلکہ بڑے اخلاق سے اسے کہا: "میرے بھائی! اگر تم مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا تہیہ کیے بیٹھے ہو تو اس جاہلانہ کام میں، میں تو شریک نہیں ہوں گا، تم اگر اپنے پروردگار کو بھول چکے ہو تو کیا ہوا؟ میں تو بھولا نہیں، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ نے دنگا فساد کرنے والوں اور اپنی حکم عدولی کرنے والوں کو جہنم میں پھینکنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔" قابیل پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ قتل کی نیت سے ہابیل کی طرف بڑھا۔ اس موقع پر بھی ہابیل نے ہاتھ نہ اٹھایا۔ اس کا خیال یہ تھا کہ ہو سکتا ہے میرے ہاتھ نہ اٹھانے ہی پر قابیل کو کچھ شرم آجائے مگر قابیل نے اسے ہابیل کی بزدلی سمجھا اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے جھگڑے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر ہابیل نے کہا کہ جب دو شخص لڑتے ہیں تو دونوں کو گناہ ہوتا ہے اور اس موقع پر اگر ایک شخص اپنا ہاتھ روک لے تو اس سے برا ئی ختم ہو جاتی ہے اور اگر ختم نہ ہو اور دوسرا پھر بھی پہلے کو مارنے پر تل جائے تو پھر اسے دوہرا گناہ ہوتا ہے، اس آخری نصیحت کا بھی قابیل پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے ہابیل پر ایسا کاری وار کیا کہ اس بے قصور کو قتل کر ڈالا۔ یہ اس زمین پر آدم علیہ السلام کی اولاد میں پہلا قتل تھا۔ زمین پہلی دفعہ کسی معصوم کے ناحق خون سے تر ہو گئی! قتل کرنے سے پہلے قابیل غصے سے پاگل ہو چکا تھا اور اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا مگر جب اس نے مردہ بھائی کی لاش کو دیکھا، اس معصوم اور خیر خواہ بھائی کے خون کو دیکھا جس نے اس کے اکسانے پر بھی ہاتھ نہیں اٹھایا تھا تو غصے کا بھوت اترنے لگا۔ غصے کے بجائے اب اس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب وہ اپنے بھائی کی لاش کا کیا کرے۔۔۔۔ اسے کیسے ٹھکانے لگائے؟ معلوم نہیں اس کیفیت میں وہ کتنی دیر رہا۔ اسی دوران اس کی نظر ایک کوے پر پڑی۔ جو ایک مردہ کوے کو زمین میں دفن کر نے کے لیے ایک عجیب حرکت کر رہا تھا۔ وہ اپنی چونچ سے زمین کو کرید رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل اپنی عقل پر ماتم کرنے لگا اور بولا: "مجھ پر افسوس! میری عقل اتنی ماری گئی کہ اس کوے جتنا بھی نہ سوچ سکا۔ اس نے جانور ہو کر مجھے سکھلایا کہ بھائی کی لاش کو کیسے دفن کروں اور میں انسان ہو کر بھی یہ بات نہ جان سکا۔" قابیل اب پچھتانے لگا مگر اس کے پچھتانے کا اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس سے ایک جرم ہو چکا تھا اور جرم بھی ایسا کہ جس کی سزا بہت ہی بڑی ہے۔ اور قابیل کو تو دنیا کے تمام قاتلوں کی سزا کے برابر سزا ملے گی۔۔۔۔ وہ اس لیے کہ اللہ کے رسولۖ نے فرمایا کہ دنیا میں جب بھی کوئی بے گناہ قتل ہوتا ہے، وہ قابیل ہی کے شروع کیے ہوئے کام کو آگے بڑھاتا ہے۔ گویا قابیل نے انسان کو قتل کی راہ سجھائی۔۔۔۔ اس نے قتل جیسے برے جرم کا بیج بویا۔ دراصل قتل تو چند بڑے جرائم میں سے ایک جرم ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ کسی ایک شخص کو بلاوجہ قتل کرنے والے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص کو، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، صرف اس صورت میں ہی قتل کر سکتا ہے جب وہ اپنی جان بچاتے ہوئے حملہ آور کو مجبوراً مار ڈالے یا جہاد کے دوران کوئی دشمن اس کے سامنے آجائے یا مسلمانوں کی حکومت نے عدالتی حکم کو نافذ کرنے کے لیے کسی کو جلاد مقرر کیا ہو۔ اس کے سوا کسی کی جان لینا بلاوجہ قتل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی دنیا میں کسی کو ناحق قتل کرکے سزا سے بچ جائے لیکن اللہ کی عدالت سے ایسا شخص کبھی نہیں بچ سکے گا کیونکہ اللہ نیتوں سے بھی واقف ہے اور اس کی گرفت سے کوئی باہر نہیں ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دنیا کے تمام بے گناہوں کے خون کا گناہ قابیل کی گردن پر بھی ہوگا۔" آخرت میں تو قابیل کو سزا ملے گی ہی، کیا دنیا میں بھی اسے کوئی سزا ملی؟ اس سوال کا جواب ملنا مشکل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قابیل، ہابیل کو دفنانے کے بعد کہیں دور بھاگ گیا۔ اس کے اندر شیطان مردود نے بغاوت کا جذبہ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ اسے توبہ کی توفیق نصیب نہ ہوئی۔۔۔۔ البتہ اپنی اس حرکت پر اسے سزا کا خوف ضرور تھا۔۔۔۔ اوراسی لیے وہ انسانوں کی اس پہلی بستی سے بھاگ گیا۔ دراصل قابیل کو بھی اچھی طرح اس کا احساس تھا کہ اس سے بہت بڑا جرم سرزد ہو گیا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ دوسروں کے سامنے ہابیل کو قتل کی دھمکیاں دے چکا ہے۔ اس لیے اس جرم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے ذہن میں توبہ کا خیال آتا ہو لیکن وہ یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہو کہ جرم اتنا بڑا ہے کہ اللہ معاف نہیں کرے گا اور یہی انسان کی غلطی ہے، وہ اللہ کی عظمت کو اپنے جرم سے چھوٹا سمجھنے لگتا ہے اور اسی جرم کی سزا کے طور پر اللہ کی رحمت سے مایوس کر دیا جاتا ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | پیاسا (29-07-08) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
السلم و علیکم
خرم بھائی سے معذرت کے ساتھ: سب سے پہلے اللہ کے حکم کا انکار ابلیس نے کیا تھا جب اللہ پاک نے حکم دیا تھا کہ جب آدم (علیہ السلام ) کے جم میں روح پھونکی جائے تو سب سجدہ کریں، چناچہ تمام فرشتوں نے ایسا ہی کیا مگر ابلیس نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں تو آگ سے بنا ہوں اور یہ (حضرت آدم علیہ السلام) مٹی سے تو میں اس سے بہتر ہوں تو بھلا میں اپنے سے کمتر کو کیوں سجدہ کروں؟ والسلام
__________________
![]() |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کچھ ایسے لکھا ہے کچھ پڑھتے ہوئے اچانک میرے دل میں خیال آیا کو وہ کون سا انسان تھا جس نے پہلے خدا کا انکار کیا تھا اور پھر برائی نے جنم لیا۔ انھوں نے انسان کی بات کی ہے اور میرے خیال میں ابلیس انسان نہیں جن تھا |
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | میاں شاہد (29-07-08) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
بہت بہت شکریہ بات میری سمجھ میں آگئی ہے۔ لیکن یہ سمجھ نہیں آئی کہ قربانی کا حکم کیونکر ہوا؟؟؟
|
|
|
|
| محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (29-07-08) |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہابیل کی جس لڑکی سے شادی ہونی تھی وہ لڑکی قابیل کو پسند آ گی ۔ اس پر قابیل کہا میں اس لڑکی سے شادی کرؤں گا جو ہابیل کے لیے ہے تو اس وقت حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے دونوں بیٹوں کو قربانی کا کہا تو اس وقت ہابیل کی قربانی قبول ہو گی یہی وجہ تھی محتصر بیان کرنے پر معافی چاہتا ہوں کیونکہ میں گھر جانے والا ہو اللہ حافظ
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | میاں شاہد (29-07-08) |
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاگل, قرآن, نظر, مکمل, موقع, منصوبہ, مجید, معلوم, آج, اللہ, انسان, امتحان, بھائی, تعلیم, جواب, جرم, حکم, خون, خدا, دیکھو, دل, شخص, عقل, عبادت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جو بھی تھا کیا تھوڑا تھا ؟ | طاھر | دیس ہوئے پردیس | 22 | 26-08-10 03:03 AM |
| ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا | محمدعمر | شعر و شاعری | 2 | 14-11-09 10:35 AM |
| ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا | The Great | شعر و شاعری | 0 | 27-08-09 12:25 PM |
| وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا | Ashfaq Ahmed | شعر و شاعری | 0 | 22-09-07 07:21 PM |