| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم:تبصرہ پرانا ضرور ہے لیکن عبداللہ حیدر بھائی کے تھریڈ حیران ہوں۔۔۔۔۔۔)پڑھ کے سوچا کہ شیر کر دیتا ہوں ((جس میں وحدت ادیان کا پرچار ہی نہیں عملی مظاہرہ جات بھی فرمائے گئے ہیں))
دین کے فرائض سے زیادہ نوافل اور مستحبات پر زور دینے والے اور انہی پر اپنی دعوت اور منہج کی عمارت کھڑی کرنے والے نیک طبقے بھی ویسے اپنے یہاں ہیں اور ضرور ان کے منہج پر بھی کچھ بات ہوسکتی ہے، مگر یہاں کچھ ایسے ’خالص دیندار حلقے‘ بھی ہیں جن کے دعوت و منہج کی بنیاد نہ تو فرائض و واجبات ہیں اور نہ مستحبات، بلکہ’ محدثات ِ امور‘ ہیں اور’ بدعات‘.. اور وہ بھی اپنی قبیح ترین اشکال میں۔ بدعات کو ہی دین بنا ڈالنے سے اور انہی کی ترویج و اشاعت کرنے سے دین کا جو مسخ ہوا ہے اور دینداری کی جو درگت بنی ہے وہ تو ایک بے حد بڑا لمحہء فکریہ ہے؟!! ویسے تو خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانا بھی بدعت ہو گا، کیونکہ خود خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے اپنی زندگی میں یہ کام نہیں کیا اور نہ آپ کے ان اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جوکہ آپ کے مرتبہ و مقام اور آپ کے حقوق سے سب سے بڑھ کر واقف تھے کبھی یہ ’میلاد‘ منایا، پھر بھی ایک طبقہ ہمارے یہاں ایسا رہا کہ عقیدت سے بے قابو ہو کر یہ ریت چلا ہی بیٹھا اور کئی صدیوں سے اس بدعت کو اب ایک ’روایت‘ کے طور پر لے کر چل رہا ہے۔ مگر لگتا ہے دور حاضر میں گلوبلائزیشن کے گوناگوں تقاضے اِس کو وہیں پر رک جانے نہیں دیں گے۔ لہٰذا کچھ تعجب نہ ہونا چاہیے اگر اِن میں سے کچھ طبقے ’آگے‘ کا سفر بھی اب شروع کر لیں! یوں سمجھئے ایک عقیدت ہے کہ بس امڈی جا رہی ہے اور ’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘! چنانچہ محبت کے ان جذبات کی تسکین جب ’میلاد‘ منانے سے نہ ہوئی (کہ ’سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لئے‘) تو اس کے لئے ’کرسمس‘ کی تقریب میں شرکت بھی لازم قرار پائی! شاید ’لا نفرّق بین احد من رسلہ‘ کی یہ بھی ایک تفسیر ہو!! ’میلاد‘ سے ’کرسمس‘ تک کا یہ سفر کچھ اتنا مختصر لگا کہ دیکھنے والے محسوس کئے بغیر نہ رہیں کہ (معاذ اللہ) ’مسجد‘ اور ’چرچ‘ میں فاصلہ اتنا نہیں تھا جتنا کہ یونہی ’سمجھ لیا گیا‘ تھا! انبیاءسے اظہارِ محبت ہے، آخر کیا کہہ سکتے ہیں! انبیاء سے محبت کا یہ طریقہ ’نادر‘ضرور ہے اور بے شک یہ پچھلے چودہ سو سال سے یہاں کسی کو نہیں سوجھا تا آنکہ گلوبلائزیشن کے یہ نقارے ہی نہیں پیٹے جانے لگے، حالانکہ عیسائی تو چودہ سو سال سے ہی اپنی یہ کرسمس مناتے آئے ہیں مگر اِس کے ’کیک‘ میں دلچسپی یہاں کبھی نہیں لی گئی۔ لیکن ’محبت‘ کی بابت کیا کہا جاسکتا ہے، جب بھی جوش مار دے! اس عمل کی دلیل چونکہ ’محبت‘ ہے لہٰذا کوئی اس پر قدغن لگانا چاہتا ہے تو اپنے ایمان کی خیر پہلے ضرور منائے۔ ’صدیوں کے اس فاصلہ کو سمیٹنے والی جو شخصیت اپنے یہاں پیدا ہوئی وہ ’شوخ الاسلام‘ ہے۔ آئیے ذرا اِن کے اپنے ہی مصادر سے ملاحظہ فرمائیں: منہاج القرآن کے اردو پریس ریلیز سے چند اقتباسات - ”تحریک منہاج القرآن اور مسلم کرسچئین ڈائیلاگ فورم کے زیراہتمام ہیپی کرسمسکی تقریب 18 دسمبر 2008 کو منعقد ہوئی۔ امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسربرائن ڈی ہنٹ تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ - تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ہونے والی تقریب صبح گیارہ بجے شروع ہوئی۔ پروگرام کا آغاز قرآن پاک اور بائیبل مقدس کی تلاوت سے ہوا۔ کالج آف شریعہ منہاج یونیورسٹی کے شہزاد برادران نے نعت مبارکہ پڑھی۔ مسیحی بینڈ نے کرسمس کے گیت سنائے۔ پروگرام میں کرسمس کیک کاٹا گیا، امن کی شمعیں روشن کی گئیں اور مسلم مسیحی رہنماؤں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر مرقس فدا نے قائدین کو امن ایوارڈ سے نوازا۔ - برائن ڈی ہنٹ نے ہیپی کرسمس تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منہاج القران اور ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مذاہب کو ملانے کیلئے پل کا کام کررہے ہیں اور بین المذاہب رواداری امن اور سلامتی کیلئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں صاحبزادہ حسین محی الدین القادری کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں، ہمیں کھلے دل سے ایک دوسرے کو جاننا ہوگا اور خدا کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ جس کی بنیاد محبت اور امن پر قائم ہے۔ دنیا کو امن دینا ایک مشکل چیلنج سہی مگر ہمیں اس کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی اور یسوع مسیح، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے مذاہب کے بانیان کے پیغام محبت کو عام کرنا ہوگا۔ - تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلی ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کرسمس کا تہوار علامتی طور پر نہیں بلکہ دل سے مناتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ یسوع مسیح اللہ کے پیغمبر تھے۔ ان کی نبوت پر ایمان نہ لائیں تو ہم مسلمان ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب نفرت تشدد اور دہشت گردی پر اپنی بنیادیں استوار نہیں کرتا اسلام امن کا دین ہے اور پیغبر اسلام نے انسانیت کو محبت، سلامتی، بھائی چارے اور رواداری کا درس دیا ہے اور یہ قدریں سب مذاہب میں مشترک ہیں۔ پاکستانی قوم امن سے محبت کرنے والی قوم ہے۔ اسلام اور پاکستان کا دہشت گردی اور دہشت گردوں سے کوئی واسطہ نہیں ہم ممبئی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، یہ جنوبی ایشیا اور دنیا کا امن تباہ کرنے کی سازش ہے آج کا یہ اجتماع اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے ہندو، مسیحی، سکھ اور مسلم پاکستان کی سلامتی کیلئے متحد ہیں“۔ گزشتہ سال (طاہر القادری صاحب) ایک ایسی ہی تقریب میں بنفسِ نفیس شریک ہوئے تھے۔ جس میں کلیسا کے خدام (DEACONS)اور پادری صاحبان کے ساتھ کرسمس کا کیک کاٹ کر اور موم بتیاں جلا کر (موم بتی جلانا محض ایک رسم نہیں بلکہ عیسائیوں کے نزدیک ’ایمان کی روشنی ‘ کی علامت ہے جس کا خصوصی اظہار ’بپتسمہ‘ کے موقع پر کیا جاتا ہے) ’ثوابِ دارین‘ حاصل کرنے اور ’ایمان تازہ‘ کرنے کی سعادت انہیں نصیب ہوئی۔ درج ذیل لنک پر تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ http://minhaj.org/org/index.php?cont...=Lahore&id=607 (سہ ماہی ایقاظ،شمارہ جنوری تا مارچ 2009) Last edited by عبداللہ آدم; 09-03-10 at 04:51 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,970
کمائي: 276,803
شکریہ: 33,219
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
"مجدد اسلام " طاہر القادری سے کچھ بعید نہیں
ہوسکتا ہے وہ کرسمس کو بھی اسلام کی عیدوں میں شامل کرلیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| city, php, فورم, کالج, پاک, پاکستانی, نفرت, موقع, موم, محبت, آج, ایمان, اردو, بھائی, تصاویر, خدا, خصوصی, زندگی, سفر, سال, شہزاد, عشق, صاحبزادہ, صبح, صدیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|