واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


مومن مردوں کی ذمہ داری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-02-10, 01:48 AM   #1
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default مومن مردوں کی ذمہ داری

مومن مردوں کی ذمہ داری

اسلام ایک فلاحی مملکت کا تصور دیتا ہے ۔جہاں ہر شخص ، مرد عورت اور بچوں کی معاش کی ذمہ داری ریاست کی ہو ۔ گھر ، تعلیم ، صحت ریاست مہیا کرے ۔ اس فلاحی مملکت کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں رکھی گئی ۔جہاں بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کا وظیفہ مقرر ہوجاتا تھا ۔ اگر معاش کی ذمہ داری ریاست کی ہے تو پھر مردوں کی ذمہ داری کیا ہے ۔قرون اولیٰ میں مرد یا تو علم کے حصول کے لیے سفر کیا کرتے تھے یا جہاد فی سبیل اللہ پر جایا کرتے تھے ۔ ان کو اپنے گھر والوں کی فکر نہیں ہوتی تھی جہاد پر جانے ولوں کے گھر والوں کی ذمہ داری تمام مسلمانوں اور ریاست کی ہوتی تھی ۔ آج اگر مسلمان مردوں کے جہاد فی سبیل اللہ میں کوئی رکاوٹ ہے تو وہ ہے فکر معاش ۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری نا کرے اور ملک کی فوج اسلام کا دفاع نا کرے تو مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ پر جانا فرض ہوجاتا ہے۔ ہم کو اپنے معاشرے کے مردوں کو معاش کی فکر سے آذاد کرنا ہوگا تاکہ وہ میدان جنگ میں جاکر اسلام اور مسلمانوں کی بقا کے لیے جہاد کرسکیں ۔
اس مقصد کے حصول کے لیے دو کام کیے جاسکتے ہیں ۔ تین جماعتیں بنائی جاسکتیں ۔ ایک تبلیغ دین کا کام کریں ۔ دوسرا جہاد پر جائیں اور تیسری جماعت حلال روزی کی فکر کرے اور ان گھروں کی کفالت کرے جن کے مرد جہاد پر گئے ہوں ۔دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ خواتین معاش کی ذمہ داری لے کر اپنے گھر کے مردوں کو فکر معاش سے آذاد کردیں تاکہ وہ جہاد پر جاسکیں ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), shafresha (12-02-10), فیصل ناصر (12-02-10), پاکستانی لڑکی (14-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), ھارون اعظم (12-02-10), ڈاکٹرنور (12-02-10), محمدخلیل (12-02-10), راجہ اکرام (12-02-10), رضی (12-02-10), عارف اقبال (12-02-10), غلام مجتبی جان (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 08:50 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اسلام ایک فلاحی مملکت کا تصور دیتا ہے ۔جہاں ہر شخص ، مرد عورت اور بچوں کی معاش کی ذمہ داری ریاست کی ہو ۔ گھر ، تعلیم ، صحت ریاست مہیا کرے ۔ اس فلاحی مملکت کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں رکھی گئی۔جہاں بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کا وظیفہ مقرر ہوجاتا تھا۔
اختلاف معاف!
ایسا ہی کچھ سوشلزم میں‌کہا گیا ہے مگر افسوس اس پر پوری طرح‌عمل نہیں کیا گیا۔
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 12-02-10, 10:49 AM   #3
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہن سحر آپ نے جو کچھ لکھا ہے
یقینا بہت اچھی سوچ کے ساتھ لکھا ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو جن جما عتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ پہلے ہی سے موجود ہیں
ایک جماعت جہاد کیلئے مختص ہے یعنی فوج
ایک جماعت تبلیغ کا کا م کررہی ہے
اور باقی فکر معاش میں سرگرداں ہیں ۔۔۔
تاہم جو جو ذمہ داریاں ہر جماعت کی ہیں ممکن ہے وہ اس پر پوری طرح عمل پیر ا نہ ہوں۔۔
اسلام نے تو کفا لت کیلئے بہت اعلی نظام وضع کر کے دیے ہیں
مثلا زکوات کا نظام ۔۔۔
اصل مسئلہ ان نظاموں کے درست نفاذ کا ہے۔۔
جہاں عورتوں کے کام کرنے کا تعلق ہے۔۔ تو وہ تو کر رہی ہیں۔۔
اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔۔

بہرحال ایک اچھی تحریر پر مبارک باد۔۔
__________________
آنسو اور مسکرا ہٹ دو انمول خزانے ہیں-پہلے خزانے کواپنے تک محدود رکھواور دوسرے کولوگوں پر نچھاور کردو(حضرت علی)
Visit My Blog
http://www.homeopathypakistan.blogspot.com

Last edited by سحر; 12-02-10 at 11:11 AM.
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), shafresha (12-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), عارف اقبال (12-02-10), غلام مجتبی جان (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 10:54 AM   #4
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
اختلاف معاف!
ایسا ہی کچھ سوشلزم میں‌کہا گیا ہے مگر افسوس اس پر پوری طرح‌عمل نہیں کیا گیا۔
شاہ فریشہ بھائی
سوشلزم اور اسلام کے نظام میں بہت فرق ہے ۔
سوشلزم ، سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں دوسرا extrem تھا جبھی کامیاب نا ہوا۔
اسلامی نظام نے ایک بیلنس فراہم کیا ہے ۔
اسلام میں قدرتی وسائل ، زمین غلا ، جنگلات ، آگ ، پانی ۔معدنی ذخائر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے جس سے ریاست کماتی ہے اور ان قدرتی وسائل کو کسی صورت میں پرائویٹائز نہیں کیا جاسکتا ہے اور عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
اور انسانوں کی بنائی ہوئی چیزیں ۔جیسے گھر ، گاڑی ، فیکٹریز جن میں یہ غلا پروسس ہوتا ہے ، وغیرہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے ۔ اور جو جتنی محنت کرتا ہے اس کو اس کا صلہ ملتا ہے ۔ مطلب کوئی بھی اپنی محنت سے دوسرے سے ذیادہ کما سکتا ہے ۔ امیر اور غریب کا کونسپٹ اسلام میں ہے لیکن غریب کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔
لیکن سوشلزم میں قدرتی اور انسانی ہاتھوں سے بنائی ہوئی تمام چیزیں ۔زمینیں ، جنگلات ، فیکٹریز سے لیے گر گھر وغیرہ بھی ریاست کی ملکیت ہوتا ہے ۔
اور عوام کو ہر چیز ریاست مہیا کرتی ہے ۔ کھانے پینے سے لیے کر رہائش وغیرہ
عوام میں سب کا اسٹیٹس برابر ہوتا ہے ۔ یہاں محنت کا صلہ نہیں ملتا ہے ۔ ذیادہ محنت کرنے والا اور کم محنت کرنے والا دونوں برابر ہوتے ہیں ۔
ایسے سسٹم میں لوگ محنت سے جی چراتے ہیں ۔کسی چیز کو own نہیں کرتے ہیں ۔
اور ملک کا سسٹم عوام کی محنت کے بل پر ہی چلتا ہے ۔ اس وجہ سے یہ سسٹم زوال پذیر ہوا ۔
شکریہ

Last edited by سحر; 12-02-10 at 11:02 AM.
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), shafresha (12-02-10), فیصل ناصر (13-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), راجہ اکرام (12-02-10), غلام مجتبی جان (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 11:12 AM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
بہن سحر آپ نے جو کچھ لکھا ہے
یقینا بہت اچھی سوچ کے ساتھ لکھا ہے۔۔

اگر دیکھا جائے تو جن جما عتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ پہلے ہی سے موجود ہیں
ایک جماعت جہاد کیلئے مختص ہے یعنی فوج
ایک جماعت تبلیغ کا کا م کررہی ہے
اور باقی فکر معاش میں سرگرداں ہیں ۔۔۔
تاہم جو جو ذمہ داریاں ہر جماعت کی ہیں ممکن ہے وہ اس پر پوری طرح عمل پیر ا نہ ہوں۔۔
اسلام نے تو کفا لت کیلئے بہت اعلی نظام وضع کر کے دیے ہیں
مثلا زکوات کا نظام ۔۔۔
اصل مسئلہ ان نظاموں کے درست نفاذ کا ہے۔۔
جہاں عورتوں کے کام کرنے کا تعلق ہے۔۔ تو وہ تو کر رہی ہیں۔۔
اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔۔

بہرحال ایک اچھی تحریر پر مبارک باد۔۔

نور بھائی
مسئلہ اصل یہی ہے کہ حکومت اور فوج اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہی ہے ۔
فوج کے لیے بھی ایسا طریقہ ہونا چاہیے ۔ کہ چند لوگوں کو فوج میں بھرتی کرکے ان کو زندگی بھر مراعات دینے کے بجائے ۔ فوج کے نظام کو بھی تبدیل کیا جائے۔
فوج کی تربیت اصل میں شروع کے دوسال ہوتے ہیں ۔
کمیشن آفیسر بن کر تو وہ بس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا طریقہ کچھ یوں ہوناچاہیے کہ قوم کے تمام نوجوانوں کو انٹر کے بعد دو سال کی فوجی ٹریننگ لینا لازمی ہو ۔ قوم کا ہر نوجوان قوم کا سپاہی ہو ۔
اس ٹرینگ کے بعد بےشک وہ اپنی معاش کی ذمہ داری نبھائے یا پھر دین کی تبلیغ کرے ۔
لیکن وقت پڑنے پر یا جب جہاد فرض عین ہو تو پوری قوم جہاد کرنے کو تیار ہو ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), راجہ اکرام (12-02-10), غلام مجتبی جان (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 11:19 AM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,213
شکریہ: 51,152
7,458 مراسلہ میں 21,728 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
شاہ فریشہ بھائی
سوشلزم اور اسلام کے نظام میں بہت فرق ہے ۔
سوشلزم ، سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت میں دوسرا extrem تھا جبھی کامیاب نا ہوا۔
اسلامی نظام نے ایک بیلنس فراہم کیا ہے ۔
اسلام میں قدرتی وسائل ، زمین غلا ، جنگلات ، آگ ، پانی ۔معدنی ذخائر ریاست کی ملکیت ہوتی ہے جس سے ریاست کماتی ہے اور ان قدرتی وسائل کو کسی صورت میں پرائویٹائز نہیں کیا جاسکتا ہے اور عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔
اور انسانوں کی بنائی ہوئی چیزیں ۔جیسے گھر ، گاڑی ، فیکٹریز جن میں یہ غلا پروسس ہوتا ہے ، وغیرہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے ۔ اور جو جتنی محنت کرتا ہے اس کو اس کا صلہ ملتا ہے ۔ مطلب کوئی بھی اپنی محنت سے دوسرے سے ذیادہ کما سکتا ہے ۔ امیر اور غریب کا کونسپٹ اسلام میں ہے لیکن غریب کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔
لیکن سوشلزم میں قدرتی اور انسانی ہاتھوں سے بنائی ہوئی تمام چیزیں ۔زمینیں ، جنگلات ، فیکٹریز سے لیے گر گھر وغیرہ بھی ریاست کی ملکیت ہوتا ہے ۔
اور عوام کو ہر چیز ریاست مہیا کرتی ہے ۔ کھانے پینے سے لیے کر رہائش وغیرہ
عوام میں سب کا اسٹیٹس برابر ہوتا ہے ۔ یہاں محنت کا صلہ نہیں ملتا ہے ۔ ذیادہ محنت کرنے والا اور کم محنت کرنے والا دونوں برابر ہوتے ہیں ۔
ایسے سسٹم میں لوگ محنت سے جی چراتے ہیں ۔کسی چیز کو own نہیں کرتے ہیں ۔
اور ملک کا سسٹم عوام کی محنت کے بل پر ہی چلتا ہے ۔ اس وجہ سے یہ سسٹم زوال پذیر ہوا ۔
شکریہ
اس کے جواب میں‌ایک مفصل تھریڈ لکھا جاسکتا ہے لیکن مختصراً یہ عرض‌کردوں‌کہ اسلامی نظام احکام خداوندی اور سُنت بنوی کی پیروی کرتے ہوئے تخلیق پاتا ہے لیکن مارکس کاتخیلی نظام ایک انسانی زہن کی پیداوار ہے اور اُسے کم از کم اس بات کا کریڈٹ تو جاتا ہے (ویسے بھی سوشلزم یا مارکسزم کو اُس کی پوری روح کے ساتھ نافذ ہی کہاں‌کیا گیا؟)۔

ویسے آپ کی بات بھی تقریباً درست ہے۔
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), سحر (12-02-10)
پرانا 12-02-10, 11:35 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
اس کے جواب میں‌ایک مفصل تھریڈ لکھا جاسکتا ہے
شاہ فریشہ بھائی اس موضوع پر لکھیں ۔ انتطار رہے گا
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
sahj (12-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10)
پرانا 12-02-10, 10:10 PM   #8
Senior Member
 
غلام مجتبی جان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: Islamabad
مراسلات: 329
کمائي: 5,476
شکریہ: 602
258 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
غلام مجتبی جان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شاہ فریشہ سحر باجی دونوں کی آرا کافی وزن رکھتی ہیں۔ اللہ مزید استقامت عطا فرمائے۔
غلام مجتبی جان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), راجہ اکرام (12-02-10), سحر (13-02-10)
پرانا 12-02-10, 11:59 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اسلام ایک فلاحی مملکت کا تصور دیتا ہے ۔جہاں ہر شخص ، مرد عورت اور بچوں کی معاش کی ذمہ داری ریاست کی ہو ۔
میرے خیال سے اسلامی فلاحی مملک میں ہر فرد کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ہو گی بلکہ صرف ان افراد کی ہو گی جن کی کفالت کا انتظام نہ ہو یا جن کا کوئی ولی نہ ہو۔
بیت المال اس طرح کے کاموں میں صرف کیا جاتا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پرانا 13-02-10, 07:36 AM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
میرے خیال سے اسلامی فلاحی مملک میں ہر فرد کی ذمہ داری ریاست کی نہیں ہو گی بلکہ صرف ان افراد کی ہو گی جن کی کفالت کا انتظام نہ ہو یا جن کا کوئی ولی نہ ہو۔
بیت المال اس طرح کے کاموں میں صرف کیا جاتا ہے۔
راجہ بھائی
فلاحی مملکت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات ریاست کے ذمہ ہوں ۔ بنیادی ضروریات میں کھانا پینا ، صحت اور تعلیم ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہر بچہ کی پیدائش کے بعد ہی وظیفہ مقرر ہوجاتا تھا ۔
اس دور میں پوری مملکت سے غلہ پہلے حکومت کے پاس جمع ہوتا ، پھر تمام لوگوں میں تقسیم ہوتا تھا ۔
تقسیم ہونے اور بکنے میں فرق ہے ۔
اسی لیے ایک بار قحط پڑنے پر جب ایک شخص نے روٹی چوری کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معاف کردیا کیونکہ روٹی مہیا کرنا ریاست کا کام ہے ۔
فلاحی مملکت میں لوگ اگر کماتے ہیں تو وہ دو وقت کی روٹی کے لیے نہیں کماتے بلکہ وہ بنیادی ضروریات سے آگے کے لیے کماتے ہیں ۔
بیت المال غریبوں کی مزید ضروریات بھی پوری کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ جس میں کپڑے وغیرہ ہے ۔

آجکل مسلم دنیا میں کوئی بھی ملک فلاحی نہیں ۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اگر مسلمانوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوگئی تو وہ جہاد کا سوچیں گے ۔

فلاحی مملکت بنانا اتنا مشکل بھی نہیں ۔
ہم یورپ کے جس ملک میں رہتے ہیں وہ ایک فلاحی ملک ہے ۔ اور ویسے یہ یورپ کے غریب ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔
یہاں سب کو تنخواہ کے علاوہ مفت کوپنز ملتے ہیں ۔ جن سے صرف کھانے پینے کی اشیاء ہی ملتی ہیں ۔
ان کوپنز سے مہینے بھر کا سودا آجاتا ہے ۔
اور تنخواہ کھانے پینے پر خرچ نہیں ہوتی ہے ۔
پاکستان میں لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے کماتے ہیں جو خود ایک ٹینشن ہے کہ اگر آج کمائی نا ہوئی تو بھوکا سونا پڑے گا ۔
اسی وجہ سے مسلمان آج غلام ہیں ۔ اور جہاد کرنا تو دور کی بات ، اس کی سوچ بھی مسلمانوں کو نہیں آتی
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے
جو جہاد کیے بغیر اس دنیا سے گیا اور نا اس کے دل میں جہاد کرنے کی خواہش تھی تو وہ منا فقت کی حالت میں اس دنیا سے گیا ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (13-02-10), فیصل ناصر (13-02-10), پاکستانی لڑکا (13-02-10), ھارون اعظم (13-02-10), راجہ اکرام (13-02-10), غلام مجتبی جان (13-02-10)
پرانا 13-02-10, 01:24 PM   #11
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہمارے ہاں تو عموماً یہی بولا جاتا ہے، نوکری دینا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ یہ کام حکومت کا نہیں ہے۔ وہ کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہے۔ حکومت کا کام تو صرف ووٹ لینا ہے۔ باقی خود بھگتیں آپ لوگ۔
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 13-02-10, 07:32 PM   #12
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 41
کمائي: 514
شکریہ: 167
18 مراسلہ میں 37 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مومن مردوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں
میرے خیال میں تو مومن مرد کی ذیل ذمہ داریاں ہیں
1۔ اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ کے لیئے حلال روزی کا حصول
2۔ حقوق العباد کی ادائگی
3۔ حقوق اللہ کی ادائگی
جہاد۔
سب سے بڑا جہاد اپنے ھفس کے ساتھ جہاد ہے
اس کے بعد جہاد بالسیف کا نمبر آتا ہے
جہاد کے بارے میں ایک اور بات بھی آپ کو یہاں بتانا پسند کروں گا
جہاد امیر المومنین کے حکم کے بغیر ممکن نہیں
اور امیر المومنین وہ ہو گا جس کو مسلم امہ کی ایک غالب اکثریت امیر تسلیم کرتی ہو
میرے خیال میں تو سحر بہن نے خاکسار تحریک کے بنیادی فلسفہ کو بیان کیا ہے
اسی تحریک کے کارکن کسی بھی ایسے مومن کے گھر پر جو کہ کسی وجہ سے گھر سے دور ہو ڈیوٹی دیا کرتے تھے ۔ اس گھر کی حفاظت بھی ہوتی تھی اور خاتون خانہ کو کسی ضرورت کے لیئے باہر نکلنا بھی نہیں پڑتا تھا ۔
یہ موضوع تفصیل طلب ہے اور وقت انتہائی کم
اور مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ کوئی بھائی یا بہن ہم سے ناراض نہ ہو جائے
پاکستانی لڑکا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پاکستانی لڑکا کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (13-02-10)
پرانا 13-02-10, 08:20 PM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,727
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی لڑکا مراسلہ دیکھیں
مومن مردوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں
میرے خیال میں تو مومن مرد کی ذیل ذمہ داریاں ہیں
1۔ اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ کے لیئے حلال روزی کا حصول
2۔ حقوق العباد کی ادائگی
3۔ حقوق اللہ کی ادائگی
جہاد۔
سب سے بڑا جہاد اپنے ھفس کے ساتھ جہاد ہے
اس کے بعد جہاد بالسیف کا نمبر آتا ہے
جہاد کے بارے میں ایک اور بات بھی آپ کو یہاں بتانا پسند کروں گا
جہاد امیر المومنین کے حکم کے بغیر ممکن نہیں
اور امیر المومنین وہ ہو گا جس کو مسلم امہ کی ایک غالب اکثریت امیر تسلیم کرتی ہو
میرے خیال میں تو سحر بہن نے خاکسار تحریک کے بنیادی فلسفہ کو بیان کیا ہے
اسی تحریک کے کارکن کسی بھی ایسے مومن کے گھر پر جو کہ کسی وجہ سے گھر سے دور ہو ڈیوٹی دیا کرتے تھے ۔ اس گھر کی حفاظت بھی ہوتی تھی اور خاتون خانہ کو کسی ضرورت کے لیئے باہر نکلنا بھی نہیں پڑتا تھا ۔
یہ موضوع تفصیل طلب ہے اور وقت انتہائی کم
اور مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ کوئی بھائی یا بہن ہم سے ناراض نہ ہو جائے
پاکستانی بھائی
آپ نے جو مردوں کے فرائض کو کیٹگرائز کیا ہے وہ ایسی حالت کے لیے ہے کہ جب اسلام غالب ہو ۔
کہیں مسلمانوں پر ظلم نا ہورہا ہو ۔ اور کافر مسلمانوں کے ذیر نگیں ہوں ۔
اور معاشرے میں امن قائم ہو ۔
ایسی صورت میں مرد سب سے پہلے اپنے بیوی بچوں کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے گھر پر رہیں اور حلال روزی کمائیں ۔
لیکن آجکل کی حالت میں جب پوری دنیا میں اسلام مغلوب ہو ۔ مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہوں ۔
اس وقت یہ کہنا کہ ابھی جہاد مسلمانوں پر فرض نہیں ہوا ۔ منافقت کے سوا کچھ نہیں ۔
اگر امیرالمومنین کی بات کرتے ہیں تو آج کل کے سیاستدانوں اور حکمرانوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ جہاد کا اعلان کریں گے حماقت کے سوا کچھ نا ہوگا ۔
افغانستان میں امیر کے ماتحت ہی جہاد ہورہا ہے ۔ اور مسلمانوں کی مدد کرنا جن پر کافروں نے بے جا حملہ کیا ہو تمام دنیا کے مسلمانوں پر فرض ہے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-02-10), پاکستانی لڑکا (17-02-10), راجہ اکرام (13-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
پرانا 13-02-10, 09:22 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,252
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,165 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

باقی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن اسلامی فلاحی ریاست کی مذکورہ بالا تعریف سے مجھے کلی اتفاق نہیں ہے۔
کھانا، صحت اور تعلیم کی مکمل ذمہ داری حکومت پر ہونا میری ناقص معلومات میں تو درست نہیں، کیوں کہ نہ تو اس طرح کی تعلیمات ہیں اور نہ ہی یہ بات قرین قیاس لگتی ہے اور نہ اس کا عملی ثبوت پوری اسلامی تاریخ میں کہیں ملتا ہے۔
اگر کوئی صاحب علم اس بات کو ذرا تفصیل سے سمجھا دے تو میرے لئے مفید ہوگا۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی لڑکا (17-02-10), ھارون اعظم (13-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10), عبداللہ حیدر (13-02-10)
پرانا 13-02-10, 10:38 PM   #15
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,078
کمائي: 117,429
شکریہ: 14,670
4,078 مراسلہ میں 12,438 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : پاکستانی لڑکا مراسلہ دیکھیں
مومن مردوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں
میرے خیال میں تو مومن مرد کی ذیل ذمہ داریاں ہیں
1۔ اپنے بیوی بچوں اور ماں باپ کے لیئے حلال روزی کا حصول
2۔ حقوق العباد کی ادائگی
3۔ حقوق اللہ کی ادائگی
جہاد۔
سب سے بڑا جہاد اپنے ھفس کے ساتھ جہاد ہے
اس کے بعد جہاد بالسیف کا نمبر آتا ہے
جہاد کے بارے میں ایک اور بات بھی آپ کو یہاں بتانا پسند کروں گا
جہاد امیر المومنین کے حکم کے بغیر ممکن نہیں
اور امیر المومنین وہ ہو گا جس کو مسلم امہ کی ایک غالب اکثریت امیر تسلیم کرتی ہو
میرے خیال میں تو سحر بہن نے خاکسار تحریک کے بنیادی فلسفہ کو بیان کیا ہے
اسی تحریک کے کارکن کسی بھی ایسے مومن کے گھر پر جو کہ کسی وجہ سے گھر سے دور ہو ڈیوٹی دیا کرتے تھے ۔ اس گھر کی حفاظت بھی ہوتی تھی اور خاتون خانہ کو کسی ضرورت کے لیئے باہر نکلنا بھی نہیں پڑتا تھا ۔
یہ موضوع تفصیل طلب ہے اور وقت انتہائی کم
اور مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ کوئی بھائی یا بہن ہم سے ناراض نہ ہو جائے
جناب اگر امیر المومنین کا موجودہ حالات میں انتظار کریں تو ہر جماعت کا سربراہ امیربننا پسند کرے گا۔ دوسری بات یہ کہ اگر امیر المومنین کی اجازت کی شرط لگا دی جائے تو افغان جہاد اور کشمیر میں آزادی کی تحریک کو آپ کس کھاتے میں ڈالیں گے؟
ھارون اعظم آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی لڑکا (17-02-10), شاہ جی 90 (15-02-10)
جواب

Tags
ہوتے, ہوسکتا, ہے۔, فرض, کوئی, کرے, کرتے, گھر, گئی, لے, مقصد, مسلمانوں, آج, اللہ, اسلام, بچوں, تعلیم, جانے, جائیں, خواتین, سفر, شخص, عورت, علم, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 12:05 PM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 07:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 24-12-07 12:01 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 12:50 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 10:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger