واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


موت سے کسی کو فرار نہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-05-09, 03:52 PM   #1
Senior Member
 
رانا امر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
کمائي: 18,387
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,417 بارشکریہ ادا کیا گیا
رانا امر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں رانا امر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default موت سے کسی کو فرار نہیں

موت سے کسی کو فرار نہیں


جب زندگی کی ڈورکٹ جاتی ہے،سانس رک جاتی ہے اور مرنے والا بےحس وحرکت اپنےپیاروں سےبےخبرچارپائی پر پڑا ہوتا ہے،اس کفیت کو موت کہاجاتاہے۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں کہ تم جہاں کہیں بھی ہوگے،موت تمہں آلے گی،اگرچہ تم لوہے کے مضبوط قلعوں میں چھپ جاؤ،،جبکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کاارشاد گرامی ہے کہ،لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو،،(سنن ترمذی)

لیکن افسوس ! آج ہم اسی چیز کو سب سے زیادہ بھولے ہوئے ہیں،کوئی حکومت کے چکروں میں پڑ کر موت کو بھول گیا تو کوئی اس فانی دُنیا کی رگینیوں میں کھو گیا اور کسی نے پرفریب دنیا کی جاہ وحشمت کو اپنا مقصد بنایااور موت سے غافل ہوگیا۔کوئی اس دھوکے بازدنیا کے تخت وتاج سے اپنا دل بہلانے لگا اور موت کی حقیقت کو بھول بیٹھا۔کوئی اس فانی دنیا کے حسین نظاروں اور دل ربا جلوں میں مست ہوکر مرنے کا خیا ل اپنے دل سے نکال بیٹھا، حالانکہ یہ حکومت عارضی ہے،یہ دنیافنا ہونے والی ہے اس کی رنگینیاں چند دنوں کی ہیں۔اس کی جاہ وحشمت فنا کے گھاٹ اتر نے والی اور اس کے حسین نظارے اور خوشنما جلوے مٹنے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں۔(کُلُّ مَن عَلَیھَا فَانٍ وَّیَبقٰی وَجہہُ رَبِکَ ذُوالجَلاَلِ وَالاِکرَام)۔(ترجمہ)زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہوجانے والا ہے۔باقی رہنیےوالا توتیرا رب ہے جو ہیبت وبزرگی والا ہے۔یہ سب کچھ جاننے کے باوجودبھی ہم غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک شاعر اپنے عربی زبان میں کہے شعر میں موت کی حقیقت کچھ یوں بیان کرتا ہے۔
(ترجمہ):اے میرے مخاطب!فارغ وقت کو غنیمت جان کر کچھ سجدے کرلے ،قریب ہے کہ اچانک تیری موت واقع ہو جائے،تم کتنے ہی صحت مند لوگوں کو دیکھتے ہوکہ ان کی تندرست جانیں اچانک فوت ہوجاتی ہیں۔
حالانکہ ہماری ہر سانس موت کی طرف ایک قدم ہے،یہ گزرتے لیل ونہار ہماری زندگی کی ڈور کو مسلسل کاٹرہے ہیں۔اور ہمیں اس تنگ وتاریک غار کے قریب کر رہے ہیں جس میں نی باپ کا پیار ہوگا نہ ماں کی رس گھولتی شیریں آوازہوگی اور
نہ ہی سنگی ساتھی ہوگے۔اس تاریک کوٹھڑی میں کوئی بھی پرسان حال نہیں ہوگا۔میرے بھائیو!چاہے کوئی زندگی کی کتنی ہی بہاریں لوٹ‌لے مگر اسے موت کی خزان سے ضرور دوچار ہونا پڑے گا،کوئی کتنی ہی عیش وعشرت کی زندگی گزار لے مگر موت تمام تر لذتوں کو ختم کر کے رہے گی، چاہے کوئی کتنا ہی دوست واحباب کی رونقوں اور اہل و عیال کی محبتوں سے دل شاد ہولے موت اسے جدائی کا غم دے کر رہے گی۔
اے غافل انسان!کیا تو سمجھتا ہے کہ تو ہمیشہ یہاں رہے گا،،،،،،،نہیں ہرگز نہیں،
یہ بات یاد رکھ کہ یہ دنیا جلد ہی تیرا نام زندوں کی فہرست سے نکال کر مردوں کی فہرست میں داخل کردےگی۔تیرےوالدین تجھ پربہت روئیں گے لیکن بالآخر چند ماہ بعد صبر کر کے بیٹھ جائیں گے۔تیرے عزیزواقارب اور دوست واحباب تجھے چند دن یاد کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھول جائیں گے ۔تیری بیوبی بچے بھی تھے یا کر کے بہت روئیں گے، بلکہ موت کےبعد جب تو چار پائی پر لیٹا ہو گا ،کوئی تیرا نام لے کر یہ نہیں کہے گا کہ اس کو غسل دو بلکہ سب یہ ہی کہے گے کہ میت کو غسل دو میت کو کفن دو میت کو اٹھاؤں اور جنازہ گاہ کی طرف لے جاؤ میت کو دفنادو ،اب تجھے قبر میں لٹایا جائے گا اور پھرتجھ پر مٹی ڈالی جائے گی کچھ ہی دیر میں تو منوں مٹی تلے چلے جائے گا ،ادھر منکر نکیر رین کے سوالوں جواب کا سلسلہ شروع ہوجائے گا،ذرا سوچ تو وہاں کیا جواب دے گا ،؟۔۔۔ادھر آہستہ آہستہ سب کے زہن سے تیرا نقشہ محور ہوجائے گا۔طوفان بادوباراں تیری قبر کی بلندی کو ہموار کر کےتیرانام ونشان تک مٹادیں گے۔قلیل عرصہ گزرنے کے بعد تو ایسا بے نام و نشان ہوجائے گا کہ گویا تواس دنیا میں کبھی آیا ہی نہیں۔

بے وفا دنیا پر مت اعتبار کر۔تو اچانک ہوگا موت کا شکار
موت آئی پہلوان بھی چل دیئے،خوبصورت نوجوان بھی چل دیا
چل دیئے دنیا سے سب شاہ وگدا۔کوئی بھی اس دنیامیں کب باقی رہا
تو خوشی کے پھول لے گا کب تلک؟تو یہاں زندہ رہے گا کب تلک؟

اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں،
یہ دنیا کی زندگی تو ایک کیل تماشہ ہے۔درحقیقت آخرت کامقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔(سورہ الا انعام)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )کا ارشاد گرامی ہے کہ پانچ چیزوں کو پا نچ چیزوں
سے غنیمت جانو۔ان پانچ چیزوں میں سے ایک زندگی بھی ہے ۔
اے انسان !تیری زندگی بڑی تیزی سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔کوئی پتہ نہیں کب تیرانام زندوں کی فہرست سے نکال کرمردوں کی فہرست میں لکھ دیاجائے،اسی لئے اس دنیا کی فکر چھوڑاور آخرت کی تیاری کرلے جہاں ابدی زندگی تیراانتظار کر رہی ہے،،،،،،،،،،

اللہ سمھنے اور عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے،آمین
رانا امر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (24-05-09), wajee (25-05-09), ایس اے نقوی (25-05-09), عبداللہ حیدر (24-05-09)
جواب

Tags
color, پھول, قدم, موت, ماں, آج, انسان, انعام, جواب, جلد, دوست, دل, زندگی, شعر, غم, غار, صبر, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کسی اپنے کی موت کا اثر دل پر محمدعدنان شعبہ طب 2 04-09-11 03:23 AM
یہاں کبھی کسی کو موت نہیں آتی زارا اردو ادب سے اقتباسات 0 11-02-11 12:21 PM
اسی کو موت کہتے ہیں تو یارب بار بار آئے عبداللہ آدم عمومی بحث 32 25-01-11 01:06 PM
ہم کسی کی موت نہیں چاہتے کنعان خبریں 1 22-01-11 02:04 PM
آئی سی سی کیخلاف کھلاڑی بغاوت کرسکتے ہیں، انٹرنیشنل پلیئرز ایسویسی ایشین میاں شاہد خبریں 0 18-04-08 04:51 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:14 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger