واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-09, 09:04 PM   #1
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

کل صبح دفتر جانے کے لئے اٹھا تو طبیعت بوجھل سی محسوس ہوئی۔ لیکن جانا بھی ضروری تھا ۔ تیاری کی اور خراماں خراماں بس سٹاپ کی جانب چل پڑا۔ پیر ودھائی سے فیصل مسجد جانے والی کوسٹر میری اکلوتی سواری ہے ۔ جو فیض آباد، زیروپوائنٹ، آبپارہ ، سپر مارکیٹ سے ہوتی ہوئی جناح سپر آتی ہے۔ کیوں کہ وہاں سے کوئی اور سروس جناح سپر نہیں آتی۔ اس کوسٹر کی حالت کیا ہوتی ہے ، سفر کیسا گزرتا ہے ، کتنا ٹائم گزارنا پڑتا ہے اور بس سے اترنے کے بعد کیا حالت ہوتی ہے ؟ یہ ایک دردناک کہانی ہے اس لئے اسے رہنے دیتے ہیں۔

آبپارہ پہنچ کر اکثر اسٹاپ لمبا ہو جاتا ہے ۔کیوں کہ یہاں آ کر گاڑی انتظار کرتی ہے۔ اور اپنے پیچھے آنے والی بس کا دیدار کئے بغیر سٹاپ چھوڑنا محبت کے اصولوں کے منافی سمجھتی ہے۔ آج بھی حسب معمول بس آکر رکی ، میں دائیں جانب کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ باہر کا موسم سرد ہونے کے باوجود سہانا تھا۔ میں نے باہر دیکھا تو ایک بورڈ لگا نظر آیا۔ جس پر”لیڈیز انڈسٹریل ہوم“ یا اس کے ہم معنی الفاظ درج تھے۔متوسط اور غریب طبقے کی اکا دکا خواتین اس طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔ اتنے میں ایک نئے ماڈل کی کار آ کر اس بورڈ سے کچھ فاصلے پررکی ۔ ایک برقعہ پوش خاتون گود میں بچہ لئے اتریں۔ اور روڈ کے دائیں طرف عمارت کی جانب چل پڑیں۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ ، اتنی اچھی کار متوسط یا غریب خاندان تو کسی صورت بھی نہیں رکھ سکتا۔

حیرت فطری تھی۔ میں نے ادھر ادھر کا جائزہ لینا شروع کر دیا کہ شاید اس انڈسٹریل ہوم کے علاوہ بھی ایسا ادارہ ہو جہاں خوشحال خاندان کی خواتین بھی کام کرنے آتیں ہوں۔ اتنے میں میری نظر ایک اور بورڈ پر پڑی جو سائز میں پہلے والے بورڈ سے نسبتا چھوٹا تھا۔ جس پر Day Care Center کے الفاظ درج تھے۔ فورا میرے ذہن میں خیال آیا کہ ضرور یہ خاتون اپنے اس بچے کو اس سینٹر میں چھوڑنے آئی ہوں گی۔ تھوڑی دیر بعد خاتون کی خالی ہاتھ واپسی نے میرے خیال کی تصدیق کر دی۔

اندرونی کیفیت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر ایک خوشحال خاندان تھا۔ اللہ کی عطا کردہ اتنی نعمتوں کے باوجود انہوں نے اپنے پھول سے بچے کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔

حالانکہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ اور جس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہو وہ دیوار کیا سیدھی ہو گی۔ اور جدید تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بچے کی سوچ اور خیالات ابتدائی عمر سے ہی پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے لئے بہترین ماحول ، اپنائیت اور بھرپور خیال ضروری ہوتا ہے۔ جو ایک بچے کو اس کی ماں کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔

ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ خوشحال گھرانوں میں پلنے والے بچے اس دولت سے محروم ہیں جو غریب خاندان کے بچوں کو میسر ہے ۔ اگرچہ اچھا بستر، خوبصورت گھر، اچھی گاڑی کی سواری اور خدمت گزار انہیں میسر نہیں لیکن کم از کم اپنی ماں کا فطری پیار تو وافر مقدار میں ملتا ہے ۔

انہی خیالوں میں گم تھا کہ منزل آگئی۔ بس سے اترا اور آفس کی جانب چل پڑا۔ آفس پہنچ کر القمر آن لائن کی سائٹ کھولی تو ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ کیوں کہ وہ اسی سے متعلق تھی جس پر میں سارے راستے سوچتا آیا تھا۔

ایک تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں بڑھتے ہوئے جرائم میں نوجوانوں کی شمولیت کے پیش نظر اس کی وجوہات جاننے کے لئے ایک تحقیق کی گئی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جرائم میں ملوث بیشتر افراد بچپن میں ماں کے دودھ اور توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
ماں کا دودھ اور توجہ نہ ملنے سے نہ صرف بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی تعمیر بھی متاثر ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فطری عمل ہے کہ جب بچپن سے ہی ایک بچہ پیار ، محبت، ایثار اور قربانی کے مظاہر سے محروم رہے گا تو وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کی سوچ کو صحیح سمت نہ مل سکے گی ۔ نتیجتا وہ جرائم پیشہ افراد کے لئے بہترین مددگار ثابت ہو گا۔

آج وطن عزیز جن مسائل، مشکلات، اور بحرانوں کا شکار ہے وہ اس چیز کا بالکل متحمل نہیں ہو سکتا کہ اس میں مزید ایسے نوجوان پروان چڑھیں۔ لہذا حکومت اور اہل اختیار کو اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے موثر حکمت عملی وضع کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملازمت پیشہ خواتین کو اتنی سہولیات دی جائیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی فطرت کے اصولوں کے مطابق کر سکیں۔

ورنہ ہمارا حال بھی یورپ سے مختلف نہ ہو گا۔ انہوں نے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد افرادی قوت کی قلت کے باعث خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پر ابھارا اور مساوات کے پردے میں انہیں چار دیواری سے باہر لے آئے۔ مادی ترقی کا ہدف تو انہوں نے حاصل کر لیا لیکن خاندان کا ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس کا انہیں بہت دیر بعد احساس ہوا۔ اور اب اس ادارے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن کافی دیر ہو چکی ہے۔لہذا ہمیں مادی ترقی کے عوض میں اخلاقی اور ذہنی پس مانندگی کو کبھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔

یہ تو خوشحال گھرانوں کا حال تھا۔ اب ذرا ایک نظر ان ماﺅں پر بھی ڈال لیجئے جو اتنے پیار اور محبت سے اپنے بچوں کو پالتی ہیں، خود بھوکا رہ کر ، بھیک مانگ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ہیں۔ اب وہ بھی حالات سے تنگ آکر اپنے جگر گوشوں کو سر عام نیلام کرنے پر مجبور ہیں۔ اور اس میں قصور ان کی مامتا کا نہیں بلکہ ان اصحاب اخیتار کا ہے جنہوں نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں۔ اور حالات کا جبر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا حل اگر نہ تلاش کیا گیا تو نتائج پہلے والی صورت سے بھی زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ وہ ماں جس کی ممتا کا یہ حال ہو کہ ۔۔۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے

اگر اپنے بے لوث پیار کے باوجود اپنے جگر گوشے کو نیلام کرنے پر اتر آئے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آئیے مل کر ان مسائل کا پائیدار حل تلاش کریں کہ کوئی ماں اپنے جگر گوشے کو بیچنے پر مجبور نہ ہو۔ کوئی باپ اپنے خاندان کو آگ لگا کر خود کشی نہ کرے ۔ تاکہ پر امن فلاحی معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

(یہ تحریر کافی عرصہ پہلے لکھی تھی تب شاید پاک نیٹ سے اتنی شناسائی نہیں تھی، نیٹ پر کئی جگہ دستیاب ہے۔ سوچا یہاں بھی شیئر کر دوں“)
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), منتظمین (05-09-09), محمدعدنان (05-09-09), ایس اے نقوی (04-09-09), حیدر (04-09-09), حسنین ایوب (04-09-09), سحر (04-09-09), عبداللہ حیدر (04-09-09)
پرانا 04-09-09, 09:31 PM   #2
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,060
کمائي: 18,839
شکریہ: 1,697
621 مراسلہ میں 1,243 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہےماں

بہت خوب
حسنین ایوب آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), ایس اے نقوی (04-09-09), راجہ اکرام (04-09-09)
پرانا 04-09-09, 09:34 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,593
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,625 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک اچھی تحریر پر مبارک بھی اور 500 پوائینٹ قبول فرمائیں اور مبارک ہو آپکو
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), راجہ اکرام (04-09-09)
پرانا 05-09-09, 12:31 AM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے دو تھپڑ لگا کر میری ماں سو گئی بدر
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں

قصے کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ماں اپنے بیٹے کو "میرا لال" کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ ماں مجھے بھی "لال" کہہ کر بلایا کرو۔اماں نے جوتیوں سے اتنی پٹائی کی کہ میں "لالو لال" ہو گیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ قصے کہانیوں کی مائیں بھی بس قصہ کہانی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری ماں نے ماشااللہ سے اپنی دہشت خوب قائم رکھی اور اسی مقصد کے لیے جوان ہونے تک اپنے تمام بچوں کو گوڈے تھلے دبا کر خوب چمڑیسا کرتی تھیں۔ اسی لیے آج بھی ہمارے بھائی 50 سال کے ہو جانے کے باوجود اماں کی آواز سن کر لرز جاتے ہیں۔
ایک مرتبہ ہمارے معصوم دل میں خواہش جاگی کہ چلو نہر پر نہا کر آتے ہیں۔ چلے گئے۔ واپسی پر ہمارے محلے دار نے معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا کہ محتاط رہنا۔ ہمارا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ہم کو حوصلہ تھا کہ نہیں آج ظلم کی روایت نہیں دوہرانے دیں گے۔ آگ تاریخ کو بدل دیں گے۔ میں بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا پتا نہیں بھائی میرا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ اماں شاید کمرے میں تھیں اور کمرے کے دروازے پر ان کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے گھبرا کر بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور کہا کہ میرے تو پیٹ میں درد ہے میں تو باتھ روم جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باہر سے نہ جانے کیوں کافی دیر تک جھاڑو دینے کی آواز آتی رہی۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ یہ اماں کو اس وقت کیوں جھاڑو دینا یاد آ گیا۔ خیر یہی کوئی 1 گھنٹے بعد میں باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا اماں باہر ہی دالان میں بیٹھی ہیں اور جھاڑو ساتھ ہی رکھا ہے۔ انہوں نے جابرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھا کہ شاید کہیں گی کہ جھاڑو سائیڈ پر رکھ آؤں ۔خراماں خراماں ۔ ۔ ۔ اماں کے پاس پہنچا تو یکایک مجھ پر جھاڑو برس پڑے ۔ کتنی دیر جھاڑو سے میری صفائی کی گئی مجھے یاد نہیں ۔ تاہم سارا وقت مجھے یہی خیال آتا رہا کہ اتنی صفائی اماں دالان کی کر لیتیں تو کم از کم گھر تو صاف ستھرا ہوتا۔ مگر نہیں اماں کو تو ہماری صفائی کی پڑی تھی۔ حالانکہ ہم تو نہر سے پاک صاف ہو کر آ رہے تھے اور اگر مزید پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی بھی تو باتھ روم کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر اماں کو کون سمجھائے۔وہ ایسا کام خود کرنے کی قائل تھیں۔
خیر اپنی اچھی طرح صفائی کروا کر میں اپنے بگ برادر کے پاس چھت پر چلا گیا اور ہم دونوں اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر پلان بنایا کہ اس ظلم کی حد ہو گئی۔ اب ہمکو شادی کر لینی چاہیے۔ بھایئ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور سنا ہے اب وہ اپنی بیگم سے ااسی طرح مستفید ہوتا ہے یعنی اسکی زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا کہ میئں اس ؂سے انسپائر ہو کر حالات کے خلاف بغاوت کر دیتا۔ میں نے یہی سوچ کر حالات سے سمجھوتا کر لیا کہ چلو "نئی" سے "نت نئی" قسم کی مار کھانے سے بہتر ہے "آزمائے ہوئے کو ہی آزمایا جائے"
جوانی میں شوق جاگا کسی لڑکی سے دوستی کی جائے۔ اس دور میں انٹر نیٹ اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ خیر سے ہم بھی اس بحر ظلمات میں کود پڑے اور گوہر مقصود کی تلاش شروع کر دی۔ کافی تلاش بسیار اور لڑکی نما لڑکوں سے گپ شپ کرنے کے اور اس سے قبل کے ہم کو یقین ہو جاتا کہ انٹرنیٹ پر لڑکی نما مخلوق نہیں پائی جاتئ ۔ ۔ ۔کہ اچانک ہم کو ہماری منزل مقصود مل گئی اور ماشا اللہ سے ایک لڑکی سے چیٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر پھولے نہ سمائے۔ گپ شپ چلتی رہی ۔ کچھھ دن بعد اس نے مری ماں کے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ تو ہمارے منھ سے سچ نکل گیا کہ میری ماں تو ہٹلر ہے ۔ اب بھی جھاڑو سے پیٹتی ہے۔ وہ دن اور آج کا دن اس لڑکی کا آئی ڈی آن نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیوں
ہماری اماں اس قدر جابر خاتون ہیں کہ میرے دوستوں کا کہنا ہے وہ اس قدر اپنی ماؤں سے نہیں ڈرتے جس قدر میری ماں سے ڈرتے ہیں۔ اب تو انہوں نے اسی خوف میں میرے گھر کی گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی ہے۔باہر کھڑے ہو کر فون کر دیتے ہیں کہ باہر آؤ۔ ایک مرتبہ ایک دوست کا سامنا ہو گیا اماں سے تو اس کی باقاعدہ گھگھی بندھ گئی۔ پتا نیہیں اماں اتنی جابر کیوں ہیں۔ آج بھی افطاری میں پکوڑئے گن کر دیتی ہیں ۔حد ہو گئی بھی اب ایویں ای لالچ میں موقع دیکھ کر بچوں کے پکوڑؤں پر ہاتھھ صاف کرنا پڑتا ہے۔ اس بے ایمانی کی زمہ دار اماں ہیں میں صاف بتائے دیتا ہوں۔
ایک مرتبہ ہمارا جھگڑا گلی کے ایک بد معاش سے ہو گیا۔ ہم تو اماں کے جبر تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ سوچا جانے دو پتا نہیں کیوں منمنا رہا ہے۔کچھھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اسکا مقصد کیا ہے۔ اماں کو دوسرے دن پتا چلا تو اس کے گھر جا کر دھمکی لگا آئی کہ کسی خیال میں نہ رہنا میرے ایک بیٹے کو مارؤ گے تو کیا ہوا میرے پاس اور بھی ہیں۔ تمہارا تو اکیلا ہے۔ اس دن کے بعد اس بدمعاش کی شکل نہیں دکھائی دی۔ پتا نہیں مزید بیٹے تلاش کر رہا ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ اماں محض ظلم و جبر کا ہئ شاہکار ہے اماں ہم سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اس کا کئی مرتبہ عملی مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے اماں نے مجھے اپنی گود میں سلایا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے میرے سر میں تیل ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے مجھے میری غلطی پر مجھے کچھھ نہیں کہا تھا۔پتا نہیں کیوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میرے سارے دشمنوں کی مری طرح کی ماں دے تاکہ انکو بھی لگ پتا جائے۔
میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی

Last edited by حیدر; 05-09-09 at 01:10 AM. وجہ: Proof
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), منتظمین (05-09-09), ایس اے نقوی (05-09-09), حسنین ایوب (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
05-09-09 ایس اے نقوی زبردست بدر بھائی چھا گئے او تسی 150
پرانا 05-09-09, 12:40 AM   #5
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,975
کمائي: 276,905
شکریہ: 33,226
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس اچھا پیار کا انداز میں نے نہیں دیکھا
لوٹ لیا بدر بھائی
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (05-09-09), حیدر (05-09-09), حسنین ایوب (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 06:38 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ جی اور بدر بھائی الگ الگ اپنے مراسلات کو سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (05-09-09), حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 10:20 AM   #7
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,739
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
مجھے دو تھپڑ لگا کر میری ماں سو گئی بدر
اک بار میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے ماں

قصے کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ ماں اپنے بیٹے کو "میرا لال" کہہ کر بلاتی تھی۔ میں نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ ماں مجھے بھی "لال" کہہ کر بلایا کرو۔اماں نے جوتیوں سے اتنی پٹائی کی کہ میں "لالو لال" ہو گیا۔ تب سمجھ میں آیا کہ قصے کہانیوں کی مائیں بھی بس قصہ کہانی ہوا کرتی ہیں۔ ہماری ماں نے ماشااللہ سے اپنی دہشت خوب قائم رکھی اور اسی مقصد کے لیے جوان ہونے تک اپنے تمام بچوں کو گوڈے تھلے دبا کر خوب چمڑیسا کرتی تھیں۔ اسی لیے آج بھی ہمارے بھائی 50 سال کے ہو جانے کے باوجود اماں کی آواز سن کر لرز جاتے ہیں۔
ایک مرتبہ ہمارے معصوم دل میں خواہش جاگی کہ چلو نہر پر نہا کر آتے ہیں۔ چلے گئے۔ واپسی پر ہمارے محلے دار نے معنی خیز نگاہوں سے اشارہ کیا کہ محتاط رہنا۔ ہمارا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ہم کو حوصلہ تھا کہ نہیں آج ظلم کی روایت نہیں دوہرانے دیں گے۔ آگ تاریخ کو بدل دیں گے۔ میں بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ۔ ۔ ۔ یا پتا نہیں بھائی میرا ہاتھ پکڑے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔ اماں شاید کمرے میں تھیں اور کمرے کے دروازے پر ان کی جھلک دکھائی دی۔ میں نے گھبرا کر بھائی سے ہاتھ چھڑوایا اور کہا کہ میرے تو پیٹ میں درد ہے میں تو باتھ روم جا رہا ہوں۔یہ کہہ کر باتھ روم میں چلا گیا۔ باہر سے نہ جانے کیوں کافی دیر تک جھاڑو دینے کی آواز آتی رہی۔ میں حیران ہو کر سوچتا رہا کہ یہ اماں کو اس وقت کیوں جھاڑو دینا یاد آ گیا۔ خیر یہی کوئی 1 گھنٹے بعد میں باتھ روم سے باہر نکلا تو دیکھا اماں باہر ہی دالان میں بیٹھی ہیں اور جھاڑو ساتھ ہی رکھا ہے۔ انہوں نے جابرانہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔ میں سمجھا کہ شاید کہیں گی کہ جھاڑو سائیڈ پر رکھ آؤں ۔خراماں خراماں ۔ ۔ ۔ اماں کے پاس پہنچا تو یکایک مجھ پر جھاڑو برس پڑے ۔ کتنی دیر جھاڑو سے میری صفائی کی گئی مجھے یاد نہیں ۔ تاہم سارا وقت مجھے یہی خیال آتا رہا کہ اتنی صفائی اماں دالان کی کر لیتیں تو کم از کم گھر تو صاف ستھرا ہوتا۔ مگر نہیں اماں کو تو ہماری صفائی کی پڑی تھی۔ حالانکہ ہم تو نہر سے پاک صاف ہو کر آ رہے تھے اور اگر مزید پاک صاف ہونے کی ضرورت تھی بھی تو باتھ روم کس مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔ مگر اماں کو کون سمجھائے۔وہ ایسا کام خود کرنے کی قائل تھیں۔
خیر اپنی اچھی طرح صفائی کروا کر میں اپنے بگ برادر کے پاس چھت پر چلا گیا اور ہم دونوں اپنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر پلان بنایا کہ اس ظلم کی حد ہو گئی۔ اب ہمکو شادی کر لینی چاہیے۔ بھایئ تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور سنا ہے اب وہ اپنی بیگم سے ااسی طرح مستفید ہوتا ہے یعنی اسکی زندگی میں تو کوئی بدلاؤ نہیں آیا کہ میئں اس ؂سے انسپائر ہو کر حالات کے خلاف بغاوت کر دیتا۔ میں نے یہی سوچ کر حالات سے سمجھوتا کر لیا کہ چلو "نئی" سے "نت نئی" قسم کی مار کھانے سے بہتر ہے "آزمائے ہوئے کو ہی آزمایا جائے"
جوانی میں شوق جاگا کسی لڑکی سے دوستی کی جائے۔ اس دور میں انٹر نیٹ اس مقصد کے لیے سب سے بڑا ہتھیار تھا۔ خیر سے ہم بھی اس بحر ظلمات میں کود پڑے اور گوہر مقصود کی تلاش شروع کر دی۔ کافی تلاش بسیار اور لڑکی نما لڑکوں سے گپ شپ کرنے کے اور اس سے قبل کے ہم کو یقین ہو جاتا کہ انٹرنیٹ پر لڑکی نما مخلوق نہیں پائی جاتئ ۔ ۔ ۔کہ اچانک ہم کو ہماری منزل مقصود مل گئی اور ماشا اللہ سے ایک لڑکی سے چیٹنگ شروع ہو گئی۔ ہم اپنی اس خوش قسمتی پر پھولے نہ سمائے۔ گپ شپ چلتی رہی ۔ کچھھ دن بعد اس نے مری ماں کے بارے میں پوچھا ۔ ۔ ۔ تو ہمارے منھ سے سچ نکل گیا کہ میری ماں تو ہٹلر ہے ۔ اب بھی جھاڑو سے پیٹتی ہے۔ وہ دن اور آج کا دن اس لڑکی کا آئی ڈی آن نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیوں
ہماری اماں اس قدر جابر خاتون ہیں کہ میرے دوستوں کا کہنا ہے وہ اس قدر اپنی ماؤں سے نہیں ڈرتے جس قدر میری ماں سے ڈرتے ہیں۔ اب تو انہوں نے اسی خوف میں میرے گھر کی گھنٹی بجانا ہی چھوڑ دی ہے۔باہر کھڑے ہو کر فون کر دیتے ہیں کہ باہر آؤ۔ ایک مرتبہ ایک دوست کا سامنا ہو گیا اماں سے تو اس کی باقاعدہ گھگھی بندھ گئی۔ پتا نیہیں اماں اتنی جابر کیوں ہیں۔ آج بھی افطاری میں پکوڑئے گن کر دیتی ہیں ۔حد ہو گئی بھی اب ایویں ای لالچ میں موقع دیکھ کر بچوں کے پکوڑؤں پر ہاتھھ صاف کرنا پڑتا ہے۔ اس بے ایمانی کی زمہ دار اماں ہیں میں صاف بتائے دیتا ہوں۔
ایک مرتبہ ہمارا جھگڑا گلی کے ایک بد معاش سے ہو گیا۔ ہم تو اماں کے جبر تلے اس قدر دبے ہوئے تھے کہ سوچا جانے دو پتا نہیں کیوں منمنا رہا ہے۔کچھھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اسکا مقصد کیا ہے۔ اماں کو دوسرے دن پتا چلا تو اس کے گھر جا کر دھمکی لگا آئی کہ کسی خیال میں نہ رہنا میرے ایک بیٹے کو مارؤ گے تو کیا ہوا میرے پاس اور بھی ہیں۔ تمہارا تو اکیلا ہے۔ اس دن کے بعد اس بدمعاش کی شکل نہیں دکھائی دی۔ پتا نہیں مزید بیٹے تلاش کر رہا ہوگا۔
ایسا نہیں ہے کہ اماں محض ظلم و جبر کا ہئ شاہکار ہے اماں ہم سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اس کا کئی مرتبہ عملی مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے اماں نے مجھے اپنی گود میں سلایا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے میرے سر میں تیل ڈالا تھا۔ اسی طرح ایک دفعہ کا ذکر ہے انہوں نے مجھے میری غلطی پر مجھے کچھھ نہیں کہا تھا۔پتا نہیں کیوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ میرے سارے دشمنوں کی مری طرح کی ماں دے تاکہ انکو بھی لگ پتا جائے۔
میری امی
سب سے اچھی
سب سے پیاری
میری امی
بدر بھائی
آپ کی تحریر پر تو الگ دھاگہ ہونا چاہیے اور اس موضوع پر بھی گفتگو ہونی چاہیے ۔ ہمارے معاشرے میں ہٹلر مائیں بھی پائیں جاتیں ہیں ۔ اور بہت سے گھروں میں بچوں پر ماں کا رعب باپ سے
ذیادہ ہوتا ہے ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-09-09, 10:28 AM   #8
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,739
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یچوں کی چھوٹی عمر میں ان کو اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہیے
لیکن یہاں میرے ذہن میں ایک سوال آیا ہے جو میں پوچھنا چاہوں گی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ماں نے رضاعت کی عمر میں یعنی دوسال کی عمر سے پہلے حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا تھا ۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی نشونما حضرت بی بی حلیمہ کے پاس ہوئی حالانکہ ان کی والدہ حیات تھیں ۔
۔ اس بارے میں اہل علم کیا کہتے ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 11:33 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
راجہ بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یچوں کی چھوٹی عمر میں ان کو اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہیے
لیکن یہاں میرے ذہن میں ایک سوال آیا ہے جو میں پوچھنا چاہوں گی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ماں نے رضاعت کی عمر میں یعنی دوسال کی عمر سے پہلے حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا تھا ۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی نشونما حضرت بی بی حلیمہ کے پاس ہوئی حالانکہ ان کی والدہ حیات تھیں ۔
۔ اس بارے میں اہل علم کیا کہتے ہیں ۔
شکریہ

اس بارے میں تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔ یہ تو اک نئی جہت کی طرف اشارہ ہے۔ سوچنا پڑے گا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-09-09, 11:35 AM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,626
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
راجہ جی اور بدر بھائی الگ الگ اپنے مراسلات کو سرورق کے لیے پیش کریں۔
اسکو پھر میں علحدہ ٹاپک بنا کر پیش کرتا ہوں ۔ورنہ ایک پوسٹ کا لنک کس طرح پیش کرتے ہیں ۔ میری سمجھ سے باہر ہے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 11:40 AM   #11
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,739
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی
مراسلے کا لنک دینے کے لیے مرسلہ نمبر کو کلک کریں ۔ پہر لنک دیں دیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-09-09), حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 12:07 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
راجہ بھائی
آپ کی بات ٹھیک ہے کہ یچوں کی چھوٹی عمر میں ان کو اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہیے
لیکن یہاں میرے ذہن میں ایک سوال آیا ہے جو میں پوچھنا چاہوں گی
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ماں نے رضاعت کی عمر میں یعنی دوسال کی عمر سے پہلے حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیا تھا ۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی نشونما حضرت بی بی حلیمہ کے پاس ہوئی حالانکہ ان کی والدہ حیات تھیں ۔
۔ اس بارے میں اہل علم کیا کہتے ہیں ۔
شکریہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
بہنا آپ کی بات واقعی وزنی ہے، اس زمانے میں تو اکثر رواج تھا کہ بچے کو رضاعت کے وقت میں گاؤں میں بھیج دیا جاتا تھا۔اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھیجا گیا تھا۔

بدر بھائی کی بات ٹھیک ہے کہ اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔
چلیں اب سوچتے ہیں، اس کی حکمتیں کیا ہیں۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 05-09-09, 01:16 PM   #13
Senior Member
 
ڈاکٹرنور's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جو کچھ میر ے علم میں ہے۔۔
عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ بچوں کو کچھ عرصہ کیلئے مخصوص قبیلے کی دایوں کے زیر پرورش رکھتےتھے۔۔
اس کے پیچھے نمایاں وجوہا ت ۔ عربی۔زباندانی، فصاحت و بلاغت اور بہتریں صحت مند ماحول، بکری اور اونٹنی کا خالص دودھ وغیر ہ شاملتھے۔
کچھ قبیلے اپنی زبان کی فصاحت و بلا غت کیلئے مشہور تھے۔۔اور متمول خاندان ایسے قبیلے میں اپنے بچے کی پرورش
قابل فخر سمجھتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تا ہم ڈے کیرسنٹر اور ان قبا ئل کی تربیت میں بہت نمایاں فرق ہے۔۔
مجھے حیرت۔۔ ہے۔
سحر بہن۔۔۔ نے ان دو میں کیا مماثلت دیکھی ہے۔۔۔ اور یہ نکتہ اٹھا یا ہے۔۔
ڈاکٹرنور آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 02:18 PM   #14
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,739
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ڈاکٹرنور مراسلہ دیکھیں
جو کچھ میر ے علم میں ہے۔۔
عربوں میں یہ رواج تھا کہ وہ بچوں کو کچھ عرصہ کیلئے مخصوص قبیلے کی دایوں کے زیر پرورش رکھتےتھے۔۔
اس کے پیچھے نمایاں وجوہا ت ۔ عربی۔زباندانی، فصاحت و بلاغت اور بہتریں صحت مند ماحول، بکری اور اونٹنی کا خالص دودھ وغیر ہ شاملتھے۔
کچھ قبیلے اپنی زبان کی فصاحت و بلا غت کیلئے مشہور تھے۔۔اور متمول خاندان ایسے قبیلے میں اپنے بچے کی پرورش
قابل فخر سمجھتے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تا ہم ڈے کیرسنٹر اور ان قبا ئل کی تربیت میں بہت نمایاں فرق ہے۔۔
مجھے حیرت۔۔ ہے۔
سحر بہن۔۔۔ نے ان دو میں کیا مماثلت دیکھی ہے۔۔۔ اور یہ نکتہ اٹھا یا ہے۔۔
میں ڈے کئیر اور عرب قبائل کی تربیت کا موازنہ نہیں کررہی ہوں ۔
ان دونوں میں مماثلت ماں سے دوری ہے ۔
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (05-09-09), حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 02:54 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے ذہن میں اس حوالے سے کچھ باتیں ہیں،لیکن دلائل کے اعتبار سے ان میں وزن نہیں اس لئے ذکرکرنا مفید نہ ہوگا۔

اہل علم حضرات سے گزارش ہے کہ ہماری سحر بہنا کی طرف سے اٹھائے گئے سوال پر اظہار خیال کریں۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (05-09-09)
جواب

Tags
پھول, پاک, قدم, نظر, مکمل, ماں, محبت, مسائل،, مسجد, آج, اللہ, بہترین, بچپن, بچوں, تلاش, تحریر, حل, خواتین, خبر, خدا, خصوصی, سفر, عزیز, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 25 03-02-12 09:14 PM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 02:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 09:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:44 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger