واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


فاروق سرور خان کی خدمت میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-09, 11:34 AM   #1
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فاروق سرور خان کی خدمت میں

فاروق سرور خان کی خدمت میں

فاروق بھائی یہ مضمون زرا تعصب کی عینک اتار کے پڑھیے گا شاید آپکی کچھ تشفی ہو سکے؎

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟ الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
کچھ عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دنیا کو ا ن سے متنفر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھگنڈے اور حربے استعمال کئے جارہے ہیں ۔
چونکہ اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے علماء ،دینی مدارس اور ان میں پڑھنے والے طلباء ہیں، اس لئے اسلام او ر مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے مدارس ،طلباء اور علماء کرام پر طعن و تشنیع کے نشتر برسائے جاتے ہیں، انہیں منہ بھر کرگالیاں دی جاتی ہیں اوران کو دنیا جہاں کی تمام برائیوں اورشرارتوں کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
چنانچہ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے تو کبھی امن امان کا مخالف ،کبھی انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قرار دیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ،کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے تو کبھی شرارتی، کبھی انہیں تشدد پسند کہا جاتا ہے تو کبھی ملک اور قوم کے باغی۔غرض اس وقت طعن و تشنیع اور توہین و تضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا،مولوی،دینی مدارس اورطالبان (طلبہ )کی طرف ہے ،دوسری طرف یہ مظلوم، بھری دنیا میں بے یارو مددگاراکیلے مخالفت کی بادِ سموم کے تھپیڑے برداشت کرنے اورہرقسم کی تنقید وتنقیص سننے او ر سہنے کے لئے موجود ہیں ۔
صرف یہی نہیں!بلکہ اب تو نوبت بایں جا رسید کہ قریب قریب پوری قوم کوذہنی طور پر اس کے لئے تیار کر لیا گیا ہے کہ اگر ملکی سلامتی اور امن و امان در کا ر ہے توان” شرارتیوں“ سے جان چھڑانی ہوگی اور ان کے خلاف منظم جد جہد کرنی ہوگی ، چنانچہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھا نے کے لئے کسی مسجد ،مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک و خون میں تڑپایا جاتاہے اوراس کے بعد بیان جاری کردیاجاتاہے کہ:” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یا یہا ں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھاوغیرہ وغیرہ۔“
اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہا نی گھڑ لی جاتی ہے کہ:” یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا جوقبل از وقت پھٹ گیا“چنانچہ میاں چنوں کے ماسٹرریاض کے مکان میں بم دھماکہ کو مدرسہ میں دھماکہ قرار دینا،اس کاواضح ثبوت ہے ،جب کہ اس کے برعکس وفاق المدارس کی قیادت چلاچلاکرکہہ رہی ہے کہ یہ سب کچھ مدارس کوبدنام کرنے کی سازش ہے،چنانچہ وفاق المدارس کے اکابر کی مبنی بر حقیقت وضاحت ملاحظہ ہو:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) میاں چنوں کے جس مکان میں دھماکہ ہو ا وہ کوئی مدرسہ نہیں،بلکہ حاضر سروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا مکان تھا۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعے کا ملبہ مدارس پر ڈال کر درسگاہوں کو بدنام کیا جارہا ہے جو افسوس ناک ہے ۔میڈیا اس سازش کو ناکام بنائے ۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے علماء و مشائخ کے ایک نمائندہ وفد نے دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا حامد حسن کی سربراہی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مرکز کو اطلاع دی کہ اس واقعے کو سراسر غلط رپورٹ کیا گیا، وہا ں کوئی مدرسہ نہیں، بلکہ ایک حاضرسروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا گھر تھا، جس میں اس کی بہن محلے کے چند بچوں کو پڑھایا کرتی تھی۔ اس سے قبل اس اسکول ٹیچر کی مشکوک سرگرمیوں کی پولیس کو اطلاع دی گئی، وہ گرفتار بھی ہوا، لیکن پولیس نے پیسے لیکر چھوڑ دیا۔ وفاق المدا رس العربیہ پاکستان کے راہنما مولانا سلیم اللہ خان ، قاری محمد حنیف جالندھری ، مفتی محمد رفیع عثمانی ،ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدارس کو بد نام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی۔۱۵جولائی ۲۰۰۹ء)
اسی طرح ڈیرہ غازیخان کی ایک خالی حویلی پر راتوں رات مدرسہ کا بورڈ لگانا اور رات کی تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں اسلحہ رکھنے کے بعد اس پر” چھاپہ“ مار کراس سے اسلحہ کی برآمدگی کی خبر بھی مدارس کوبدنام کرنے اوران کے خلاف باقاعدہ سازش کے مترادف ہے، لیجیے! اس سلسلہ کی صحیح صورت حال بھی ملاحظہ فرمائیے:
”اسلام آباد(ثناء نیوز) وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جرنل اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ترجمان قاری محمد حنیف جالندہری نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کی ایک ویران حویلی سے اسلحہ برآمد کرکے اسے مدرسہ قرار دیکر جنوبی پنچاب اور مدارس کے خلاف آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،انہوں نے مدرسہ سے اسلحہ برآمدگی کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا،مدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری کی ہدایت پر گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں وفاق المدارس کے نمائندے مفتی خالد محمود کی قیادت میں مبینہ مدرسہ کا دورہ کیاگیا، جہاں سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وفد کی جانب سے وفاق المدار س العربیہ کے ذمہ داران کو بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق جس مقام سے اسلحہ برآمد کیا گیا، وہاں ایک ویران حویلی ہے ،باقاعدہ کوئی مدرسہ نہیں، نہ وہاں کوئی طلباء زیر تعلیم ہیں، بلکہ ایک ویران جگہ ہے“ (روزنامہ جنگ کراچی،۱۳ جولائی ۲۰۰۹ء) ایسے حالات میں جبکہ ہر طرف ان بے یارومددگارمظلوموں اورمسکینوں کے خلاف چڑھائی اور حملہ کابگل بجایاجارہا ہے، کچھ حقیقت بین ایسے بھی ہیں جو حقائق سے پردہ اُٹھانے سے نہیں ہچکچاتے،چنانچہ ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے ملا، مولوی اور طالبان نہیں کہلا سکتا ، اس کی شہادت قابل قبول ہونی چاہیے۔
لیجئے! روزنامہ امت کے کالم نگار ریٹائرڈ لفٹنٹ کر نل جناب عادل اختر کی چشم کشااور حقائق آشنا تحریر پڑھیے اور فیصلہ فرمائیے کہ”مجر م کون،ملا یا مسٹر“۔” ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی“کے مصداق اس پر ہم کسی قسم کا کوئی اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے،چنانچہ موصوف تحریر فرماتے ہیں:
”۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کی صبح ناشاد تھی ۔ مقام ڈھاکہ کا میدان جنگ ۔ ناظر یہ راقم کمترین۔( اس وقت ایک لفٹین) آسمان سے آگ برس رہی تھی… اور زمین سے خون کے چشمے ابل رہے تھے کہ اچانک بڑی کمانڈ پوسٹ سے ایک حیران کن آرڈر آیا ” ہندوستانی جہازوں پر فائرنگ نہ کی جائے“ اس کے بعد کنفیوز کردینے والے احکامات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ دوپہر تک ساری رجمنٹ کو ایک مرکزی مقام پر جمع ہو نے کا آرڈر آگیا ، کسی کو کچھ معلوم نہ تھا ،کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ہونے والا ہے،ہرطرف ایک کنفیوژن کا عالم تھا۔ جلد ہی صبح ناشاد، شام غم میں بدل گئی۔
اس واقعے کو چالیس برس ہو نے کو آئے ،گو حکمرانوں کا سرپُر غرور خاک میں مل گیا ، پر ر عونت وہی باقی ہے اور عوام میں بھی کنفیوژن کا وہی عالم ہے،صوبے،صوبوں سے دست و گریباں ہیں ،طبقے ،طبقوں سے نالاں ہیں، ہر طبقہ پاکستان کی بربادی کا ذمہ دار دوسرے طبقے کو ٹھہرارہا ہے۔(کم ظرفوں میں ایسا ہی ہو تا ہے ) ملک میں پانی ہے نہ پیٹرول ،البتہ گرانی اور سرگردانی ہیں کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے،سیاستدان ؟ فوجی حکمران؟ یا بیورو کریٹ؟ یا اجتماعی شعور و بصیرت کی کمی؟۔
اس افراتفری اور شور قیامت میں ایک طبقہ ملک کی ناکامی کی ذمہ داری ملاوٴں پر ڈال رہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ایک دن بھی ملاوٴں کی حکومت نہیں رہی ۔دس گیارہ برس ایک نیم ملا فوجی ڈکٹیٹر ضرور ملک پر قابض رہا ، اس ڈکٹیٹر کے آنے یا جانے میں ملاوٴں کا کوئی دخل نہیں تھا، اس لئے اسے ملاوٴں کی حکومت نہیں کہا جاسکتا ،اس کے علاوہ پاپائیت کی مانند ، اسلام میں ملائیت نام کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ نہ کبھی سارے ملا، مولوی، کسی مسئلے پر متفق ہوئے ہیں۔ فکری مسائل پر ہر طبقے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ عین فطری بات ہے۔
برصغیر کے ملاوٴں پر ایک سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، آج ان ملاوٴں کا دفاع غداری کے زمرے میں آسکتا ہے، اور ہاتھوں کے علاوہ سر بھی قلم ہو سکتا ہے، بہرحال اس وقت کے ملاوٴں کا موٴقف اصولی تھا، وہ کہتے تھی: آپ تو کشور حسین میں بیٹھ کر عیش کریں گے، جو کروڑوں مظلوم و مردود مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے ،ان کا ولی وارث کون ہو گا؟ وہ تاقیامت بے بسی کی دلدل میں اترتے چلے جائیں گے۔ ان کی زندگی میں کبھی صبح امید نہیں آئے گی،ان ملا وٴں کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ تحریک پاکستان میں شامل ہو جانے والے ہزاروں کھوٹے سکے ناقابل اعتبار ہیں ، ان سکوں سے خیر کی کوئی امید نہیں، یہی ہوا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد انہوں نے کھل کھیلنا شروع کردیا ، ملک میں سازشیں اور چھینا جھپٹی شروع ہو گئی، اول تو ملک میںآ ئین بننے نہیں دیا گیا اور جب آئین بن گیا تو اسے جلد ہی قتل کردیا گیا، جو لوگ حکمران بنے، وہ نہ تو اللہ کا قانون( قرآن) ماننے کے روادار تھے نہ انسان کابنایاہواقانون (آئین)ماننے کے لئے تیار تھے ، ان طالع آزماوٴں کی حماقتوں کے نتیجے میں قائد اعظم کا پاکستان دو نیم ہوگیا ، لاکھوں انسان قتل ہو ئے، کروڑوں بے گھر اور ایک لاکھ افراد دشمن کی قید میں چلے گئے ، قائد اعظم کی روح پر قیامت گزر گئی ہو گی۔کمروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنے والے دانشور اس کرب کا ،اس ذلت و اذیت کا احساس ہی نہیں کرسکتے ، جو اس آگ کے دریا سے گزرنے والوں پر بیت گئی۔
ملاوٴں پر الزام ہے کہ وہ ہمیشہ ظالم حاکم کی حمایت کرتے ہیں، عرض ہے کہ ملاوٴں نے حاکموں کی حمایت اپنی انفرادی حیثیت میں کی ہے ،بہ حیثیت جماعت یا ادارے کے ملا وٴں نے کبھی کسی حاکم کی حمایت نہیں کی، ہزاروں ملا ظالم حکمرانوں کے درباروں میں چٹان کی طرح باوقار انداز سے کھڑے رہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ،امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، مجدد الف ثانی رحمہ اللہ …مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ،حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ،حاجی امداداللہ مہاجرمکی رحمہ اللہ،شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ،اور شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ،مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، امیرشریعت مولاناسیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ․․․․․ناقل۔ کا سر ہمیشہ بلند اور سخن دلنواز رہا ۔
پاکستان میں حاکموں کی حمایت کرنے والوں میں جاگیر دار، جج، جرنیل، جرنلسٹ، اساتذہ کرام ، تاجر ، دانشور ہمیشہ پیش پیش رہے اور ظل الہٰی سے اس کا پورا پورا معاوضہ وصول کرتے رہے ،آج انصاف اور سائینٹیفک تحقیق کا تقاضا ہے کہ ملک کے پانچ دس ہزار روٴسائے اعظم کی فہرست بنائی جائے اور دیکھا جائے اس میں ملا کتنے ہیں ؟اور مسٹر کتنے ؟اگر یہ مشکل ہو تو چک شہزاد میں عطاء کئے جانے والے ۴۹۹ فارم ہاوٴسوں کے مالکان کے نام جو اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں، دیکھ لئے جائیں کہ ان میں ملا کتنے ؟اور مسٹر کتنے ہیں؟ عوام کو بتایا جائے، ملا مودودی نے کس قدرجائیداد چھوڑی اور پرویز مشرف نے کس قدر دولت بٹوری۔ (دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں دہلی کے رہنے والے تھے)…
تحقیق اور انصاف سے دلچسپی رکھنے والوں سے التماس ہے کہ وہ کچھ مشہور ملاوٴں: مثلاََ حسرت موہانی، ابو الکلام آزاد، حسین احمد مدنی ،حسین احمد قاضی،حافظ حسین احمد، احمدعلی لاہوری ،سرفراز احمد نعیمی …اگر اس کے ساتھ ساتھ مفتی کفایت اللہ،مولانامحمود حسن دیوبندی ،مولانامحمدقاسم نانوتوی،مولاناغلام غوث ہزاروی،مولانامفتی محمود،مولانامحمدعبداللہ درخواستی ،مولانامحمدبہلوی،مولاناسی د محمدانورشاہ کشمیری،مولاناخلیفہ غلام محمد دین پوری،مولاناسیدمحمدیوسف بنوری، شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ،مولاناظفر احمدعثمانی رحمہم اللہ وغیرہ کے نام بھی شامل کردیے جائیں تونامناسب نہ ہوگا․․․․ناقل ۔کی دولت و جائیداد کی تفصیلات حاصل کریں اور پرویز مشرف اور موجودہ حکومتی و سیاسی رہنماوٴں کی دولت سے موازنہ کریں، پھر انصاف سے بتائیں کہ پاکستان پر حکومت کس نے کی؟ دولت کس نے بٹوری؟۔
ملاوٴں پر ایک الزام اور بھی ہے کہ ان کا پسندیدہ نظام ملوکیت ہے اور وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔(کیا اقتدار پر قبضے کی کوششیں جنرلز نہیں کرتے؟)عرض یہ ہے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی نظام کی حمایت یا مخالفت کرسکتا ہے ، اس وقت ہندوستان اور پاکستان میں جس قدر مذہبی پارٹیاں سیاست میں حصہ لے رہی ہیں، وہ ملک کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں اور جمہوریت کی حامی ہیں(ورنہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملتی) پاکستان کی کسی مذہبی جماعت نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی ،پر امن مقاصد سے اپنے مشن اور مقصد کا حصول ہر سیاسی پارٹی کا آئینی حق ہے۔ کوئی جرم نہیں ۔ البتہ غیر ملا پارٹیوں میں نہ کبھی الیکشن ہو تے ہیں، نہ فنڈز کا حساب رکھا جاتا ہے۔ برصغیر میں باہر سے آنے والی قوموں نے اقتدار اور اختیار پر قبضہ کرکے یہاں کے رہنے والی قدیم اور پسماندہ اقوام کا استحصال کیا ،آریا ، مغل ،عرب، ترک ، ایرانی اور انگریز… آج بھی پاکستان پر ایک استحصالی طبقہ قابض ہے، ضرورت پڑنے پر یہ لوگ فوراََ چولا بدل لیتے ہیں ، ان کا کوئی دین و مذہب نہیں ، اس طبقے کے لوگ ہر نظام کے خلاف ہیں، اسلام ، کمیونزم ،سوشلزم، سیکولرازم…
کیونکہ دنیا کے تمام مذاہب اور تمام نظام ، استحصال کے خلاف ہیں، کسی بھی نظام کی کامیابی کی صورت میں استحصالی ٹولے کی لوٹ مار کا خاتمہ ہو جائے گا، اس طبقے کی ظلم وستم کی داستانیں کبھی کبھار اخباروں میں چھپ جاتی ہیں، ورنہ عام طور پر عوام کی نظروں سے چُھپی رہتی ہیں۔ ان طبقات کی داستانیں پڑھ کر حیرت ہو تی ہے کہ انسان کس قدر گرسکتا ہے؟
پاکستان میں اس طبقے کے بنائے ہوئے عالیشان محلات دیکھ لیجئے ، ہر محل ایک قلعہ ہے، باہر لوہے کا جنگلہ ،اندر جنگلی کتے غرارہے ہیں ،مسلح چوکیدار گشت کررہے ہیں، سیکورٹی کیمرے نصب ہیں ،فرار ہونے کے لئے ہیلی پیڈ ہیں اورڈوب مرنے کے لئے سو ئمنگ پول۔
اخباری قیاس آرائیوں کے مطابق اس طبقے کے پاس ناجائز ذرائع سے جمع کئے ہوئے بارہ ہزار ارب روپے موجود ہیں، اتنے روپے حکومت کے پاس بھی نہیں ہیں ،اس رقم کو بینک کی اصطلاح میں کالا دھن کہتے ہیں، بیرون ممالک ان لوگوں کے پاس ساٹھ ستر ارب ڈالرز کے اثاثے موجود ہیں، اس طبقے کی عیاشیوں کی داستانوں پر عام طورپر پردہ پڑا رہتا ہے، بیرون ممالک جا کر بہتریں مہنگے ترین ہو ٹلوں میں قیام و طعام، مہنگے ترین اسٹوروں میں شاپنگ ، جوئے خانوں، نائٹ کلب اور عیاشی کے اڈوں پر ”حاضری “کبھی کبھار تیز ہوا چلتی ہے تو کچھ دیر کے لئے پردہ ہٹ جاتا ہے اور ان کے کالے کرتوت نظر آجاتے ہیں ،جو لوگ حق اور سچ کے متلا شی ہیں وہ تحقیق کرکے دیکھ لیں،ان لوگوں میں ملا کتنے ہیں، مسٹر کتنے؟ نوٹ:اس مضمون میں علماء کرام کی جگہ ملا کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا گیاہے، کیونکہ جو حضرات اسلام کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا کرتے ہوئے مصلحتاََ علماء کرام یا اسلام کی جگہ لفظ ملا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس میں حقارت کا عنصر شامل ہو تا ہے۔
کچھ دانشور ملا کو ملعون و مطعون قرار دے کر مسرت محسوس کرتے ہیں ،ملا اپنے دفاع میں اور کیا کہہ سکتے ہیں، سوائے اس کے کہ :
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات انہیں بہت گراں گزری ہے
جب تک ملا وٴں کی جان میں جان باقی ہے، یہ تزئین درو بام کرتے رہیں گے،حق پسند قاری خود دیکھ لیں، ملا کے پاس کتنا مال ہے؟ اور غیر ملاوٴں کے پاس کس قدر؟
ملا وٴں کی سب سے اچھی خدمت یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے ملک میں میرٹ
اور انصاف کی حکومت ہو۔“(روزنامہ امت کراچی،۱۶جولائی ۲۰۰۹ء)
مکررعرض ہے کہ یہ تحریر کسی ملا،مولوی، یاکسی دینی مدرسہ کے پڑھے لکھے” تنگ نظر“ کی نہیں، بلکہ یہ ایک ریٹائرڈ فوجی کی آپ بیتی ہے جو۱۹۷۱ء کی جنگ میں خود شریک تھااوراس نے وہ سارامنظر بچشم خوددیکھا،جس کے دیکھنے اورسننے کی ہما رے” بڑے“ بھی تاب لانے سے قاصر ہیں۔
ہاں!ہاں یہ تحریرایک غیرجانبدار تجزیہ نگاری ہے ،جویقینا مسجد،مدرسہ،ملا،مولوی اور دین دار طبقہ کے مخالفین کے خلاف حجت قاطعہ ہے۔خداکرے کہ اس کے ذریعے ہمارے معصوم قارئین کے دل ودماغ میں ڈالی گئی غلط فہمیاں دورہوجائیں۔ اور وہ اس بین الاقوامی سازش کاادراک کرسکیں۔واللّٰہ یقول الحق وھو یہدی السبیل
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیرخلقہ سیدنامحمد وآلہ واصحابہ اجمعین


مولانا سعید احمد جلال پوری (ماہنامہ '''بینات'' اگست 2009ءکراچی ؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), طاھر (08-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 01:13 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کچھ آپ خود لکھئے تو ان نکات پر بات کریں ورنہ مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب کو لے آئیے تاکہ ان سے سوالات کئے جائیں ہم تو ان لوگوں کی راہوں میں آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں‌ ، لیکن اب تک صرف انتظار ہی مقدر ہے۔

آپ لکھتے ہیں:
کچھ عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دنیا کو ا ن سے متنفر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھگنڈے اور حربے استعمال کئے جارہے ہیں ۔

غلط۔ یہ حقیقت ہندوستان کی تاریخ سا واضح ہے۔ اتنا نام کمایا ہے ملاء نے کے کیا بتایا جائے۔

تعلیم کے خلاف ملاء‌کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ہندوستان پر حکومت کے باوجود وہاں ایک بھی یونیورسٹی مسلمانوں کی قائم کردہ نہیں۔ فقر اور جہالت، زور و زبردستی اور فساد فی الارض اللہ کی تعلیم دینے والے یہ لوگ، کس سوچ و فکر کے نمائندہ ہیں؟

سرسید احمد خان کا یہ احسان ہے کہ تعلیم ک ے دروازے کھولے۔ آپ اپنے اسکول کا سرٹیفکیٹ پھاڑئے پھر ملا کی حمائت شروع کیجئے کہ اسی سرسید کو کافر قرار جس انسٹی ٹیوشن نے دیا وہ ملاء‌انسٹی ٹیوشن ہی تھا۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), نورالدین (03-04-10), ایس اے نقوی (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 01:25 PM   #3
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسےاس مضمون پر ہی کچھ رائے دے دیجئے، کیا اس میں کچھ حقیقت کے قریب بھی لگا آپکو کہ نہیں ؟؟؟؟؟
آپ کی پالیسی تو"" میں نا مانوں‌"" والی لگتی ہے ؎
غلطیاں تو ہر طبقہ کرتا ہے لیکن حقائق سے پہلو تہی کوئی اچھی روش نہیں ہے ؎
میرا خیال ہے کی آپ اس طرح کے مضامین پڑھتے ہی نہیں ہیں کہ کہیں کوئی بات اثر ہی نہ کر جائے ؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (07-10-09), اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (11-10-09)
پرانا 07-10-09, 01:55 PM   #4
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default شخصیت کی بجائے تھریڈ کا موضوع ہی سر نامہ میں لکھنا چاہئے

شخصیت کی بجائے تھریڈ کا موضوع ہی سر نامہ میں لکھنا چاہئے
شخصیت کی بجائی تھریڈ میں جو بات / موضوع زیر بحث ہے اس کو موضوع بنایا جائے۔۔۔۔ جس موضوع کو آپ تنقید و تائید کا بخش رہے ہیں وہ تھریڈ کا موضوع منتخب کرنا چاہئے نہ کہ کوئی شخصیت۔ شکریہ
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), فاروق سرورخان (07-10-09), نورالدین (03-04-10), ایس اے نقوی (07-10-09), احمدنواز (07-10-09), اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09)
پرانا 07-10-09, 02:08 PM   #5
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

توجہ کا شکریہ؎

لیکن میرا مقصد کسی کی شخصیت پر بحث مقصود نہیں ، بلکہ علمی انداز میں موضوع کے حوالے سے تنقید وتحسین کے دونوں پہلووں پرمعزز ممبران کی آراء مقصود ہیں ؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (07-10-09), shafresha (07-10-09), فاروق سرورخان (07-10-09), ایس اے نقوی (07-10-09), اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09)
پرانا 07-10-09, 02:12 PM   #6
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ اس تھریڈ کا نام تجویز کر لیں اور رپورٹ کر دیں نام بدل دیا جائے گا۔ فی الحال جو سرنامہ آپ نے منتخب کیا ہے اس سے تو کچھ اور ہی واضح ہو رہا ہے۔ شکریہ
Real_Light آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے Real_Light کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), فاروق سرورخان (07-10-09), ایس اے نقوی (07-10-09), اخترحسین (12-10-09)
پرانا 07-10-09, 05:48 PM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں فاروق بھائی کی خدمت میں کچھ دنوں سے ایک بات عرض کرتا چلا آ رہا ہوں مگر بد قسمتی سے یا تو وہ مراسلے انکی نظر سے نہیں گزر رہے یا پھر وہ ان کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ میری ان سے پھر گزارش ہے کہ وہ لفظ ملا کے بجائے "علمائے سو" کا لفظ استعمال کر لیا کریں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں رہ جاتا۔ لیکن جب وہ لفظ ملا استعمال کرتے ہئں اور ساتھ میں کہتے ہیں کہ ان ملاؤؤں نے گزشتہ ساٹھ سال میں کوئی نظام پیش نہیں کیا تو ۔ ۔ ۔ ۔معاملہ کچھ مختلف ہو جاتا ہے۔ وہی معاملہ جس کی طرف احمد نواز بھائی نے اشارہ کیا۔

اب چند ایک علمائے سو کی وجہ سے پورے پاکستانی علما کے طبقے کو برا نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ گزشتہ ساٹھ سال میں محض علمائے سو ہی پیدا ہوئے ہیں اور علمائے حق تو اس ملک میں پیدا ہونا ختم ہو گئے ہیں تو پھر اس ملک کو بنجر ملک کہنا چاہیے، بانجھ ملک کہنا چاہیے۔

اگر تو فاروق بھائی منکرین حدیث کے لٹریچر سے متاثر نہیں تو پھر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انکو ذاتی طور پر ملاوؤ ں سے کوئی تلخ تجربہ ہوا ہے۔ ورنہ اختلاف کے بجائے ان کو برائی کے درجہ پر فائز کر دینا ۔ ۔ ۔ کوئی دانشمندی محسوس نہیں ہوتی۔

میں ذاتی طور پر بیشتر مدارس کے موجودہ سسٹم کو اسلامی روح کی تباہ کاری سمجھتا ہوں، ان پر کڑی تنقید بھی کرتا ہوں ۔مگر ساتھ میں ہی اس بات کو بھی تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ چند ایک کی وجہ سے تمام کو برا نہیں کہا جا سکتا۔ میں نے کراچی میں موجود مدارس کا احوال دیکھا اور پڑھا تو میں دنگ رہ گیا کہ اس قدر بہترین کام بھی ہو رہا ہے۔

اب اگر ایک کلین شیو بندا کوئی جرم کرے تو تمام کیلن شیو حضرات مجرم نہیں بنتے ۔ ۔ ۔ اگر ایک داؤد پبلک سکول میں پڑھائے جانے والے جنسی مواد کی بنا پر ہم تمام پرائیویٹ سکولوں کو بُرا نہیں کہ سکتے ۔ ۔ ۔ یا ایک برائی کی وجہ سےانکی دیگر اچھائیوں سے صرف نظر نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ اگر چند جرنیل کے جرائم کی وجہ سے تمام فوجیوں کو برا نہیں کہ سکتے ۔ ۔ ۔ اگر ایک کرپٹ زرداری کی وجہ سے پوری قوم کو کرپٹ نہیں کہہ سکتے ۔ ۔ ۔ اگر ایک سی آئی اے ایجنٹ کے وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز ہو جانے کی وجہ سے پوری قوم کو سی آئی اے کا ایجنت نہیں کہہ سکتے،اگرایوب خآن کی آمریت میں بلوچوں کے ساتھ قرآن پر وعدہ کر کے پھر مکر جانے کو پوری پاکستانی قوم کی دغا نہیں کہہ سکتے' اگر چند بلوچوں کے باغی ہو جانے کی وجہ سے پوری بلوچ قوم کو باغی نہیں کہہ سکتے ۔ ۔ ۔ ۔ تو جناب چند علمائے سو کی وجہ سے تمام علما کو برا بھی نہیں کہہ سکتے۔

اس سلسلہ میں ۔ ۔ ۔میں انکی اس وضاحت کی منطق سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ وہ تمام علما کے خلاف نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مگر دوسری طرف اس بات کو بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ ان لوگوں نے گزشتہ ساٹھ سالوں میں کوئی مثبت کام کیا ہو۔ وہ اس ٹاپک میں جا کر بھی ملاؤؤں کو تشنیع کرنے لگتے ہیں جہاں انگریزوں کے خلاف لڑنے والے ایک شخص کا احوال درج تھا۔

امید ہے کہ وہ ان گزارشات پر غور فرمائیں گے
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-10-09), فاروق سرورخان (07-10-09), نورالدین (03-04-10), ایس اے نقوی (07-10-09), اخترحسین (12-10-09), راجہ اکرام (07-10-09), شاہد جمیل حفیظ (15-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09)
پرانا 07-10-09, 08:24 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ملاء‌کی اصطلاح جن معنوں‌میں مستعمل ہے ، ایسا علماء‌کے ساتھ نہیں‌ہے۔ دونوں کو ساتھ ملانا علماء پر ظلم ہے۔
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (07-10-09)
پرانا 08-10-09, 02:56 AM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
درست کہا کہ ان پر ظلم ہے ۔ ۔ ۔ ۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ان پر کیا خؤد پر ہی ظلم عظیم ہے۔ مگر مسئلہ آپکے انداز خطابت یا تحریر کا ہے۔ جس کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور بد قسمتی سے آپکی طرف سے احتیاط نہ ہونے اور اپنے طرز پر قائم رہنے کی وجہ سے یہ غلط فہمیاں مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔ مانا کہ اس سے آپ کر چنداں فرق نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔ مگر میرے بھائی ۔ ۔ ۔ مسلمان ۔ ۔ ۔ اپنے مسلمان بھائی کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھائی آپ کی گفتگو سے غلط فہمی یا بد گمانی کا شکار ہوتا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ اس کے مطالبے پر اس بد گمانی کو دور کر دیں۔
مثال دیتا ہوں
ایک جگہ تحریک پاکستان سے متعلق میں نے دیوانہ مُلا : Mad Mullah کی پوسٹ کی۔ وہ شص نہ تو کوئی عالم دین تھا نہ کسی مدرسے کا مولوی۔ اس نے محض انگریز کے خلاف جنگ کی تھی۔ مگر آپ نے جا کر جو تبصرہ کیا ۔ ۔ ۔وہ وہاں موجود ہیں ۔ تحریک آزادی کے سلسلہ میں اس گفتگو کی گنجائش نہیں بنتی تھی

اپ اپنی اکثر پوسٹس میں یہ الفا ط کہتے پائے گئے ہیں"پاکستان کی تشکیل ملاؤں کے فساد فی الارض اللہ سے نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے جدید تعلیم یافتہ افراد شامل تھے" یعنی اکثر ہی پوسٹس میں آپ نے تحریک پاکستان میں علما کے کردار کی مذمتیہ الفاظ میں نفی کی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے جنم دن پر پاکستان کا جھنڈا دو مولاناؤں نے ہی لہرایا تھا۔

جس طرح انگریزوں کے خلاف لڑنے والے دیوانہ ملا کے ٹاپک میں آپ نے ملاؤوں پر سب و شتم کیا ، اسی طرح امریکہ کے خلاف لکھے جانے والے ٹاپک (برائی کے محور)Axis of Evil : USA,UK,ISRAEL میں بھی آپ نے ٹاپک پر بات کرنے کے بجائے ملاوؤں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کیا وجہ ہے کہ جب بھی کسی مغربی ملک پر تنقید ہوتی ہے آپ ٹاپک پر بحث کرنے کے بجائے کسی نادیدہ ملاوؤں کو گھسیٹ لاتے ہیں

کسی ٹاپک میں آپ کہتے ہیں کہ آپ داڑھی کی مخالفت نہیں کرتے اور نہ ہی ہر داڑھی والے کو ملا سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔مگر آپ نے اس فورم پر جتنی بھی ویڈیوز پیش کی ہیں ۔ ۔ ۔ وہ داڑھی والے افراد کی ہیں اور آپ نے ہمیشہ انکو ملا کہا ہے۔ جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ ملا ۔ ۔ ۔مولویوں یا علما کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آپ نے بکثرت کہا ہے کہ گزشتہ ساٹھ سالوں میں ملاوؤں نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مگر اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ اس ملک کی تباہی میں ماڈرن لوگوں کا کتنا حصہ ہے۔

آپ سے ملا لفظ کی وضاحت کرنے کو کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ آپ جواب گول کر جاتے ہیں۔

آپ کہتے ہیں کہ ملاؤوں نے ساٹھ سال میں پاکستان کو کوئی نظام نہیں دیا ،کوئی انتظامی ڈھانچہ نہیں دیا، کوئی آئین نہیں دیا وغیرہ ۔ آپ کی اس بات کی وجہ سے یہ تاثرقوی ہو جاتا ہے کہ آپ سبھی علما کو بُرا کہتے ہیں۔ یہ آپکی کم علمی کو ہی ظاہر کرتا ہے۔ سید مودودی سے لے کر مولانا تقی عثمانی تک اب تک سیکڑوں علما نے اسلامی نظام حکومت پر بیش بہا خزانہ تصنیف کیا ہے۔ مگر آپ تسلیم کرنے کو راضی نہیں ہوتے اور ایسی باتیں گول کر جاتے ہیں۔ دوم یہ کہ 1973 کے آئین کی تخلیق میں دینی جماعتوں خاص کر مولانا تقی عثمانی کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ مگر آپ علما کی اچھائیوں کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔

ایک پوسٹ میں آپ نے مختصراِِ فرمایا کہ امام اربعہ ملاوؤں کی فہرست میں شامل نہیں۔ اول تو آپ عادل بھائی کے بار بار پوچھنے کے باوجود ان کو ملا کی تعریف بیان نہیں کرتے۔ دوم آپ نے غامدی "منکر نزول عیسٰی علیہ السلام والے ٹاپک میئں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا نام غلط اور تضحیک آمیز انداز میں لیا۔

ایک پوسٹ میں آپ نے محمود غزنوی، محمد بن قاسم ، تغلق ، احمد شاہ ابدالی کو لُٹیرے اور قابض قرار دیا جبکہ انکے مخالف ہندو مہاراجوں کو معصوم اور بے ضرر قرار دیا۔ اور جب میں نے جواباِِ آپکو تاریخی حقیقت سے آگاہ کیا تو آپ کنارہ کش ہو گئے۔

آپ قرآن کی تشریح کرتے ہوئے ۔ ۔ ۔ حدیث ، طریق صحابہ، سلف صالحین ، اجماع امت وغیرہ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بلکہ ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ قرآن کے مخالف کسی حدیث کو آپ تسلیم نہیں کرتے۔ بد قسمتی سے جن احادیث کا آپکو حوالہ دیا گیا تھا وہ جن کتابوں سے لی گئیں انکی درستگی پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔کیا اس طرح آپ امام بخآری کی تضحیک کا سبب نہیں بنے؟

ہو سکتا ہے بھائی کہ آپ میری ان باتوں کو تسلیم نہ کریں۔، مگر کیا کریں کہ آپکی یہ تمام باتیں اسی فورم پر بکھری پڑی ہیں اور تب تک موجود رہیں گی جب تک آپ انکو خؤد ایڈٹ نہیں کر دیتے۔
اس لیے میری آپ سے درخؤاست ہے کہ آپ علما کے خلاف تنقید ضرور کریں یہ آپکا حق ہے۔ مگر تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اور یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں آپ اپنے مسلمان بھائی کی دل شکنی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔
والسلام
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), شاہد جمیل حفیظ (15-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (11-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 03:06 AM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,625
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,028 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

للہ ہی بہتر جانتا ہئے کہ اس کے پیچھے میری کسی قسم کی بد نیتی کام نہیں کر رہی۔ ۔ ۔ بلکہ میں برادرانہ خلوص سے چاہتا ہوں کہ فاروق بھائی اپنی اس غلطی کی اصلاح کر لیں جو ان سے بار بار ہو رہی ہے
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 07:46 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,809
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی بدر الزماں ، میں بضخوبی جانتا ہوں‌کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ اور ملاء کیا ہے۔ اس سے پیشتر کہ اس بارے میں تفصیل سے لکھوں آُ کو ایک ملاء کے بارے میں بتاتا چلتا ہوں اس کا نام تھا جنرل ضیاء الحق، نہ اس کی داڑھی تھی اور نہ وہ کسی مدرسہ کا پڑھا ہوا تھا۔ لیکن سوچ کے حساب سے پکا ملاء تھا۔ خلوص دل سے غور کیجئے کہ اس کی کیاسوچ اس ملاء انسٹی ٹیوشن کا ممبر بناتی ہے؟
فاروق سرورخان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-09), نورالدین (03-04-10), حیدر (08-10-09)
پرانا 08-10-09, 09:29 AM   #12
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی شکریہ ؎؎؎
اللہ آپکو جزا دے ؎امین
در اصل اہل دین کے خلاف پروپگنڈا ہی ایسا منظم کیا گیا ہے کہ ہمارے محترم فاروق بھائی جیسے زیرک لوگ بھی اسکی رو میں بہ گئے ہیں؎حالانکہ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ صورت حال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرتے ہوئے ملا اورمسٹر ہر دو جانب کے حقیقی مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے؎ورنہ تنقید برائے تنقید کی یہ گاڑی کہیں بھی نہیں رکے گی؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
shafresha (08-10-09), فاروق سرورخان (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), حیدر (08-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09), عبداللہ حیدر (08-10-09)
پرانا 12-10-09, 01:21 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ،
بھائی بدر الزمان ، اللہ خیر کی مزید ہمت عطاء فرمائے، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

Last edited by shafresha; 12-10-09 at 01:25 AM. وجہ: ایک حرف کی تصیح
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09)
پرانا 12-10-09, 01:25 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ملاء‌کی اصطلاح جن معنوں‌میں مستعمل ہے ، ایسا علماء‌کے ساتھ نہیں‌ہے۔ دونوں کو ساتھ ملانا علماء پر ظلم ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت اچھے فاروق بھائی ، کیا اس درست """ اردو """ کا مفہوم واضح فرمائیں گے ؟ و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09)
پرانا 12-10-09, 01:28 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,549
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ملاء‌کی اصطلاح جن معنوں‌میں مستعمل ہے ، ایسا علماء‌کے ساتھ نہیں‌ہے۔ دونوں کو ساتھ ملانا علماء پر ظلم ہے۔
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بھائی بدر الزماں ، میں بضخوبی جانتا ہوں‌کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ اور ملاء کیا ہے۔ اس سے پیشتر کہ اس بارے میں تفصیل سے لکھوں آُ کو ایک ملاء کے بارے میں بتاتا چلتا ہوں اس کا نام تھا جنرل ضیاء الحق، نہ اس کی داڑھی تھی اور نہ وہ کسی مدرسہ کا پڑھا ہوا تھا۔ لیکن سوچ کے حساب سے پکا ملاء تھا۔ خلوص دل سے غور کیجئے کہ اس کی کیاسوچ اس ملاء انسٹی ٹیوشن کا ممبر بناتی ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم فاروق بھائی ، ہمیں بھی سمجھا دیجیے کہ اس """ اصطلاح """ کا کیا مفہوم ہے ؟
اس کی تاریخ اس کے بعد جاننے کی کوشش کریں گے ، ان شا ء اللہ ،
ایسا نہ ہو کہ ہم کچھ سمجھ رہے ہوں اور آپ کچھ کہہ رہے ہوں اور بلا ضرورت ہم لوگ اپنی قوتیں صرف کرتے رہیں ،
یوں بھی مجھ جیسے غلط اردو والے کو آپ کی ایسی درست اُردو سمجھنے میں کافی مشکل پیش آتی ہے لہذا مہربانی فرما کر """ اصطلاح ""' کی شرح بھی مرحمت فرما دیجیے اور اپنے ان منقولہ بالا فرامین کی بھی کچھ وضاحت فرما دیجیے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (12-10-09), حیدر (12-10-09), عامرشہزاد (13-10-09)
جواب

Tags
فارم, پولیس, پوسٹ, پاکستان, پسند, پسندیدہ, قرآن, لیاقت علی خان, لوگ, نیوز, موجودہ, منصوبہ, مسائل, مسجد, معلوم, آپریشن, آج, اللہ, الزام, اسلام, اعلیٰ, بچوں, تعلیم, دھماکہ, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger