| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,292
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بشکریہ بی بی سی
غزہ کے علاقے میں اسرائیل کی فوجی کارروائی دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اب علاقے میں اسرائیل کی بری فوج کی کارروائی بھی زوروشور سے جاری ہے۔ غزہ کی سرحد کے ساتھ ساتھ اسرائیلی علاقہ جو چند روز قبل تک اسرائیلی فوجیوں اور ٹینکوں سے پُر تھا اب تقریباً خالی ہو چکا ہے۔یہ فوجی اور ٹینک اب غزہ میں داخل ہو چکے ہیں اور دن بھر ان کی کارروائیوں کی گونج اسرائیل میں سنائی دیتی رہتی ہے۔ زمینی آپریشن کے پہلے چوبیس گھنٹوں کے خاتمے پر تازہ دم اسرائیلی کمک غزہ بھیجی جا رہی ہے اور شور مچاتے ہیلی کاپٹر بھی سرحد پار آ جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے سرحدی شہر سدروت میں گزشتہ چند دن کے مقابلے میں اب زیادہ لوگ سڑکوں پر دکھائی دینے لگے ہیں کیونکہ اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد ان کے تناؤ میں کمی آئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ میں اس تازہ ’مہم جوئی‘ کے پیچھے اسرائیل کے کیا مقاصد ہیں۔ اسرائیل کے مطابق غزہ میں اس کی کارروائی کا مقصد سدروت اور اس جیسے دیگر سرحدی شہروں کے باسیوں کو غزہ سے کیے جانے والے راکٹ حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مشرقِ وسطٰی کے لیے بی بی سی کے مدیر جیریمی بوئن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج چاہتی ہے کہ اس کی پیشانی سے سنہ 2006 میں لبنان جنگ میں ناکامی کا داغ دھل جائے۔ سنہ 2006 میں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس کی کارروائی کا مقصد شمالی اسرائیل پر ہونے والے میزائل حملے روکنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لبنان جنگ کے آخری دن بھی حزب اللہ کے راکٹ اسرائیلی سرزمین کو نشانہ بناتے رہے جیسا کہ ہوا بھی، تو حزب اللہ یہ دعوی کر سکتی تھی کہ وہ یہ جنگ جیت گئے اور انہوں نے یہ اعلان کیا بھی۔ جس دن لبنان میں جنگ بندی کا اعلان ہوا اس دن حزب اللہ نے اسرائیلی علاقے پر سب سے زیادہ راکٹ پھینکے۔حماس بھی یہی چاہتی ہے کہ وہ سنہ 2006 میں حزب اللہ کی جانب سے کی جانے والی کارروائی دہرائے۔ اس لیے اس مرتبہ زمینی حملے کے آغاز سے ہی اسرائیل نے محتاط رویہ اپنایا ہے اور یہ نہیں کہا کہ اس کے فوجی راکٹ حملے روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں بلکہ اسرائیلی افسران نے صحافیوں کو بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد راکٹ حملوں کی شدت کم کرنا ہے۔اسرائیلی فوجی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب ان کے فوجی بہتر تربیت یافتہ ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ جب جنگ بندی کا وقت آئے تو یہ جنگ بندی اس کی اپنی شرائط پر ہو۔ اسرائیل یہ بھی سمجھتا ہے کہ حماس کے خلاف کارروائی مشرقِ وسطٰی میں موجود اس کے دشمنوں خصوصاً حزب اللہ کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ سنہ 1967 میں مصر، اردن اور شام کو چھ دن میں شکست دینے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو ناقابلِ شکست سمجھا جانے لگا تھا لیکن سنہ 2006 کے بعد جب وہ اپنی سرزمین پر ہونے والی’گوریلا فائرنگ‘ روکنے میں ناکام رہی تو اس کے ناقابلِ شکست ہونے کا رتبہ اس سے چِھن گیا اور اب اسرائیلی فوج یہ بھی چاہتی ہے کہ غزہ میں اس تازہ مہم جوئی سے اس کی فوج کی اپنے ممکنہ دشمنوں کو ڈرانے دھمکانے کی صلاحیت بحال ہو جائے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے پیچھے محض ایک ریاستی پالیسی نہیں بلکہ اسرائیلی سیاستدانوں کی ایک مثلث کھڑی ہے جو ان حملوں سے اپنی اپنی سیاست تراش رہی ہے۔اس مثلث کے ہر کونے پر ایک انتہائی اہم اسرائیلی سیاستدان کھڑا نظر آتا ہے۔ ان میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک، اسرائیل کی وزیر خارجہ زیپی لیونی اور وزیراعظم ایہود اولمرٹ شامل ہیں۔ اسرائیل کی اس فوجی کارروائی کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا یہ موقف بھی ہے کہ ان حملوں کا اصل محرک اسرائیل پر حماس کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ حملے نہیں بلکہ اسرائیل کی اندرونی سیاست ہے۔ امریکی اور برطانوی اخباروں میں چھپے تجزیوں اور تبصروں میں ہر کسی نے مختلف طریقے سے یہی کہنے کی کوشش کی ہے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے پیچھے محض ایک ریاستی پالیسی نہیں بلکہ اسرائیلی سیاستدانوں کی ایک مثلث کھڑی ہے جو ان حملوں سے اپنی اپنی سیاست تراش رہی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں چھپے ایک تجزیے کے مطابق اس مثلث کے ہر کونے پر ایک انتہائی اہم اسرائیلی سیاستدان کھڑا نظر آتا ہے۔ ان میں اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک، اسرائیل کی وزیر خارجہ زیپی لیونی اور وزیر اعظم ایہود اولمرٹ شامل ہیں۔ یہ تینوں سیاستدان آئندہ ماہ اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں ملک کی وزارت اعظمٰی کے خواہشمند ہیں۔ اور ان تینوں کی حالیہ سیاست کے بارے میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ایہود باراک اور زیپی لیونی ایک عرصے سے علاقے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے لیکن ان کو مختلف وجوہات کی بنا ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یقیناً ان کا خیال تھا کہ اگر ان کی کوششوں کے نتیجے میں کوئی امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ ان کے لیے آنے والے انتخابات میں کامیابی کی ضمانت ہو سکتا ہے۔ لیکن قیام امن کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب حماس پر بھرپور حملے ہی شاید ان کی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سنبھالا دے سکیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان دونوں کے برعکس وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو گو انتخابات میں کامیابی کی کوئی امید نہیں لیکن وہ غزہ پر چڑھائی کر کے اپنی پارٹی پر سن دو ہزار چھ میں لگے بٹے کو دھونا چاہتے ہیں جب کم از کم دنیا کی نظر میں اسرائیل لبنان پر حملہ آور ہونے کے بعد حزب اللہ کے ہاتھوں بری طرح سے پٹا تھا۔ سنہ 1967 میں مصر، اردن اور شام کو چھ دن میں شکست دینے کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو ناقابلِ شکست سمجھا جانے لگا تھا لیکن سنہ 2006 کے بعد جب وہ اپنی سرزمین پر ہونے والی’گوریلا فائرنگ‘ روکنے میں ناکام رہی تو اس کے ناقابلِ شکست ہونے کا رتبہ اس سے چِھن گیا اور اب اسرائیلی فوج یہ بھی چاہتی ہے کہ غزہ میں اس تازہ مہم جوئی سے اس کی فوج کی اپنے ممکنہ دشمنوں کو ڈرانے دھمکانے کی صلاحیت بحال ہو جائے جب یہی سوال بی بی سی، نیو یارک ٹائمز اور مختلف امریکی ریڈیو سٹیشنز کے اشتراک سے تیار کردہ ریڈیو پروگرام ’ٹیک اوے‘ میں نیویارک ٹائمز کے یروشلم بیورو چیف ایتھن بروسنن اور بی بی سی کے بیروت میں تعینات نمائندے جم میور کے سامنے رکھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ کارروائی کا یہ کیڑا ایک عرصے سے اسرائیل کے دماغ میں پل رہا تھا لیکن کس غرض سے، یہ کہنا مشکل ہے۔ تاہم اسرائیل میں ایک مضبوط رائے یہ ہے کہ گو سن دو ہزار چھ میں وہ حزب اللہ کا مکمل خاتمہ تو نہ کر سکا اور اس نے فوجی اعتبار سے بہت نقصان بھی اٹھایا لیکن تب سے لیکر اب تک کے لگ بھگ تیس ماہ کے عرصے میں حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر کوئی بڑا حملہ نہیں کیا گیا۔ اور اب شاید اس حملے سے بھی اسرائیل یہی چاہتا ہے کہ چاہے وہ حماس کا خاتمہ کر سکے یا نہ، کم از کم اس کی اسرائیل پر راکٹ حملے کرنے کی صلاحیت ضرور ختم کر دے۔ دوسری جانب حماس کے بارے میں’ٹیک اوے‘ کے اس تجزیے کے مطابق یہ کہا گیا کہ شاید حماس کے کرتا دھرتا یہ چاہتے تھے کہ اسرائیل ان پر حملہ آور ہو تاکہ وہ اسے ایک زمینی جنگ میں گھسیٹ سکیں۔ یہ بات حماس بھی اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اس میں فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں ہے لیکن اگر وہ اسرائیل کو زمینی جنگ میں گھسیٹ لے تو اسے عسکری اور سیاسی طور پر کافی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے ایک حالیہ اداریے میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ ماضی کی طرح اس دفعہ بھی بین الاقوامی برادری سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ اس لڑائی کو رکوا سکے گی لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اس لڑائی کی مخالفت اسرائیل کے اندر سے شروع ہو۔ |
|
|
|
| ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | ام طلحہ (06-01-09) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 226
کمائي: 3,743
شکریہ: 616
120 مراسلہ میں 184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جس وقت اسرائیل کا اپنا نقصان ہونا شروع ہوا سب کفار جنگ رکوانے کیلیئے
میدان میں کود پڑیں گے اور جن شیطانوں نے جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کیا تھا اپنے پالتووں پر دباؤ ڈال کر جنگ رکوائیں گےاور پالتو لیڈر جودنیا کی اکثریتی قوم ہو کر بھی دفاع کیلیئے صرف مذمت کا ہتھیار تیار کیا ہے جو موقع بے موقع چھوڑتے رہتے ہیں شاید ریسٹ روم جانے کی ضرورت پر بھی ایک آدھ بار مذمت کرنا حق سمجھتے ہوں اپنے آقا کے کہنے پر ایسا بیان دیں گے جیسے اسرائیل کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں گے اور اقوام کفار جو (یو این او )نہیں (یو ان ایم ) ہے یعنی یونائیٹڈ نان مسلم ہے جس کا حکم منہ سے خارج ہونے سے پہلے ہی صرف مسلمان ملکوں میں لاگو ہو جاتا ہے اس کی فوجیں غزہ میں کنٹرول سنبھال لیں گی جیسا کہ 2006 میں لبنان میں ہوا تھا اور فلسطین کا حل اس وقت تک مشکل ہے جب تک کوئی ایوبی جیسا مرد ِ مجاھد پہلے عرب ممالک کے لیڈروں کی ٹھیک سے پٹائی نہیں کرتا پھر اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ نہیں بجاتا (آپ کا کیا خیال ہے ) |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
عربوں کی تو بات ہی نا کرو میں نے تو یہاں تک سُنا ہے کہ ہر گھر میں ایک ایک یہودن موجود ہے جو اسرائیل کے خلاف بولنے ہی نہیں دیتی
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,292
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نہیں خیر اس میں حقیقت نہیں ہے ،جیسے آپ تلملا رہے ہیں ویسے ہی وہ بھی تلملا رہے ہیں لیکن آپ بھی کچھ نہیں کر سکتے اور وہ بھی ، جو کر سکتے ہے وہ پٹھو ہیں ۔آپ کی آواز تو بند نہیںہے لیکن ان کی تو آواز پر بھی پابندی ہے
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,292
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,292
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سید راشد حسین
الخبر : سعودی عرب بشکریہ: بی بی سی اسے کیا کہا جائے کہ جب بھی عرب حکمرانوں کو کسی امتحان کا سامنا ہوتا ہے یا تو ان کے اعصاب جواب دینے لگتے ہیں یا پھر ان پر ایران کا بھوت سوار ہو جاتا ہے ۔اب جب غزہ کے باسی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں توصورتحال کچھ بہت زیادہ مختلف نہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب حکمرانوں کی پراسرار خاموشی خطہ میں چہ میگوئیوں کا سبب بن رہی ہے۔عرب حکمرانوں پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب نواز عرب حکمرانوں کے سامنے خطے میں ایران کا ہوُا اسرائیل سے بڑا مسئلہ ہے۔ جب 2006 میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑی تو ابتدا میں عرب حکومتوں نے ساری ذمہ داری حزب اللہ پر ڈال دی۔ یہ الگ بات ہے کہ عوامی ردعمل نے انہیں بعد ازاں اپنا رویہ تبدیل کرنے پر بڑی حد تک مجبور کردیا۔ اس سے قبل جب 2003 میں جب امریکہ اور برطانیہ نے صدام کی فوجوں پر چڑھائی کی تو بھی عرب حکمرانوں کا رویہ کچھ مختلف نہ تھا۔ عراق پر حملے کو بہت سے عرب لیڈروں کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ اور اب ایسے وقت جب اسرائیل حماس کی تھوڑی بہت طاقت کو بھی کچلنے پر مصر نظر آتا ہے عرب حکمران کو اسرائیل کے ہدف میں ہی اپنی عافیت نظر آتی ہے۔ اسرائیل کا ہوُا عرب حکمرانوں کی نظر میں حماس ایران کے زیر اثر ہے اور اگر حماس اپنے پیر جمانے میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ایران کے اثرات میں اضافہ ہوگا۔ مبصرین کے مطابق عرب حکمرانوں کی نظر میں حماس ایران کے زیر اثر ہے اور اگر حماس اپنے پیر جمانے میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ ایران کے اثرات میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ کہا یہ جارہا ہے کہ عرب حکمران’حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی ھر حال میں پسپائی چاہتے ہیں اور اس کےلیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار بھی ہے۔‘ عرب حکمرانوں کی خاموشی کے اثرات عرب اور اسلامی تنظیموں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب اسرائیل کے حملے شروع ہوئے اور بعض عرب لیڈروں نے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی مانگ کی تو یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔ بعض لیڈروں کا موقف تھا کے جب تک خود فلسطینی اپنے اندر اتحاد پیدا نہیں کرتے اسوقت تک سربراہی اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔ چنانچہ عرب لیگ اب ایک خاموش تماشائی نظر آتی ہے۔ اور دوسری طرف مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کا حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ اس ہفتہ کے اوائل جب تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا تو وہاں بھی بات مذمتی قرارداد سے آگے نہ بڑھ سکی اور اسے بھی متوازن اور تمام شرکاء کےلیے قابل قبول بنانے کےلیے اس بات کو ضروری سمجھا گیا کہ اس سے یہ بات واضح ہو جائےکہ جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری سے حماس بالکل مبرا نظر نہ آئے۔ایران کی پیش کردہ سربراہی اجلاس کی تجویز سرد خانے میں رکھ دی گئی ہے کیونکہ شرکاءاس پر متفق نظر نہیں آتے۔ مصر کے کردار پر تواب کھلے عام بات ہو رہی ہے۔ یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ مصر کس کے ساتھ ہے’اسرائیل و امریکہ کے ساتھ یا فلسطینیوں کے ساتھ؟ ادھر بعض حلقے حزب اللہ پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر رہے ہیں۔ حزب اللہ کیوں دوسرا فرنٹ نہیں کھول رہی ہے۔ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ بعض مبصرین یہ ضرور کہتے ہیں کہ اسوقت حزب اللہ زبانی جمع خرچ کے علاوہ بہت کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسوقت وہ لبنان کو جنگ میں دھکیلنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ عرب عوام کی کیفیت قطعی مختلف ہے۔عوام میں غصہ ہے، غیض و غضب ہے۔ عرب دنیا میں ہر جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب جہاں مظاہروں کی قطعی اجازت نہیں وہاں سے بھی مظاہروں کی خبر آئی ہے اگرچہ حکومت نے اس کی بعد ازاں تردید بھی کی مساجد میں دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔’غزہ کے زخمیوں کےلیے ہسپتالوں میں خون کے عطیے جمع ہو رہے ہیں۔ جگہ جگہ دفتروں میں سکولوں میں بازاروں میں جامعات میں لوگ رضاکارانہ بنیاد پر عطیات جمع کر رہے ہیں اور لوگ دل کھول کر عطیے دے رہے ہیں۔ عربوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں اور وہ حکومت کی مجبوریاں سمجھنے سے قطعی طور پر قاصر۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز عوامی جذبات کی ترجمانی کرتے ھوئے صفحہ اؤل پر دل دھلادینے والی تصویریں چھاپ رہے ہیں۔ دس دن گزر جانے کے باوجود اب بھی یہ صفحہ اول کی سب سے بڑی خبر ہے۔ اور تمامتر کوششوں کے باوجود عرب عوام حماس اور حزب اللہ کو اپنا دشمن اور اسرائیل و امریکہ کو اس جنگ میں اپنا حلیف ماننے کو تیار نہیں۔ عوامی نظروں میں حماس عربوں کی جنگ لڑ رہی ہےاور وہ اس کی حمایت سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ حزب اللہ کی 2006 میں جنگ کو وہ عربوں کی فتح کہنے پر مصر ہیں۔ ایران عوام کا نہیں خواص کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ حکمرانوں اور رعایا کے درمیان ایک وسیع خلیج نظر آتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ خلیج بڑھ رہی ہے کم ہوتی نظر نہیں آتی۔ |
|
|
|
| ابرارحسین کا شکریہ ادا کیا گیا | عبدالقدوس (09-01-09) |
![]() |
| Tags |
| پوسٹ, وزیر, وزیراعظم, لوگ, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, آپریشن, اللہ, امریکہ, جیت, جواب, حماس, حزب اللہ, خلاف, دھمکانے, شہر, شام, عبدالقدوس, عسکری, غزہ, صلاحیت, صاف, صحافیوں |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| خودمختاری، نہیں آزادی، کشمیریوں نے بھارتی پیش کش ٹھکرا دی | جاویداسد | خبریں | 1 | 14-08-10 11:41 PM |
| سودا تو اس زمین میں غزل در غزل لکھ | رضی | میر تقی میر | 1 | 08-09-09 08:06 PM |
| کراچی، ہنگامہ آرائی، 4 ہلاک، 77 زخمی، آٹھ گاڑیاں نذر آتش | ابن جلال | خبریں | 4 | 30-11-08 11:45 PM |
| غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری جاری، سینئرفلسطینی رہنما شہید،5زخمی | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 16-04-08 08:19 AM |
| ورسٹائل فنکارہ بننا مشکل سہی، ہدف حاصل کرکے رہوں گی، ماہا | عبدالقدوس | فن و فنکار | 0 | 22-10-07 06:33 PM |