| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لال مسجد، اسلام آباد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی نے آٹھ روزہ محاصرے کے دوران خود کُش حملوں اور بغدادی ردعمل کی جو دھمکیاں دی تھیں فوجی کارروائی کے 72 گھنٹے بعد اُن کی تعبیر صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں دھماکوں اور دوسری کارروائیوں کی صورت میں یوں نظر آئی کہ 24 گھنٹوں میں مرنے والوں کی تعداد 70 سے تجاوز کرگئی۔
اس خون ریزی کے ساتھ ہی گزشتہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں علاقے کی تاریخ اور روایت کے بلند بانگ دعوؤں میں طے پانے والا امن معاہدہ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ شمالی وزیرستان، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مرنے والوں کی بڑی تعداد فوج کے جونئیر اہل کاروں اور اُن جوانوں پر مشتمِل ہے جو پولیس میں نوکری کی آس لیے قطار میں کھڑے تھے۔ شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا۔ سوات میں کانجو ٹاؤن اور دوسرے علاقوں کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ نفاذِ شریعت والے صوفی محمد کے داماد اور وادی میں ’غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے جہادی اشتعال پھیلانے والے‘ مولوی فضل اللہ یہ اعلان کرکے مفرور ہیں کہ فوج اُن کی آڑ میں معصوم شہریوں کو قتل کرنا چاہتی ہے۔ اکرم درانی صاحب کہتے ہیں کہ اُن کی اجازت کے بغیر فوج صوبہ سرحد کے کسی حصے میں نقل و حرکت نہیں کر سکتی۔ اُن کی یہ بات اس حد تک درست ہے کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر چھاؤنیوں سے باہر شہری علاقوں میں فوج نہیں بُلائی جا سکتی لیکن اگر وزیر اعلٰی سرحد کا یہ بیان واقعی سنجیدہ ہے تو بڑی تعداد میں فوجی ہلاکتوں سے صوبائی حکومت بھی جانبر ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ اِس کا ایک اشارہ جمعیت العلمائے اسلام کے ایک رُکنِ قومی اسمبلی کی اندیشۂ نقص امن کے تحت گرفتاری ہے۔کرک سے تعلق رکھنے والے شاہ عبدالعزیز افغانستان میں طالبان کے ساتھ سرگرم رہے ہیں اور لال مسجد بحران میں بھی پیش پیش تھے۔ سنجیدہ مبصرین نے لال مسجد محاصرے کے دوران ہی نشان دہی کردی تھی کہ اصل لڑائی لال مسجد میں چند درجن مسلح افراد اور فوجی دستوں کے درمیان نہیں تھی۔ لڑائی کی حقیقی صف بندی کہیں اور ہو رہی تھی۔ صحافی ارشاد امین کہتے ہیں کہ گزشتہ دو روز کے واقعات غالباً اس لڑائی کا آغاز ہیں جسے روکنے کی پرویز مشرف 11 ستمبر 2001 سے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ مذہبی سیاست کے بنیادی موقف سے اختلاف رکھنے والی سیاسی قوتوں کو تو بہت پہلے ٹھکانے لگا دیا گیا تھا۔ لال مسجد بحران نے جہاں انتہا پسندوں کے سیاسی بازو ایم ایم اے کو غیر متعلق کرکے رکھ دیا وہاں حکومت میں شامل وہ عناصر بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھے ہیں جواب تک تتُوتھمبُو کرکے آگ پر مٹی ڈال دیتے تھے۔ گویا درمیانی راہ نکالنے کی مہارت رکھنے والے منظر سے ہٹ رہے ہیں اور عُقابی پرواز کے وہ خواہش مند غالب آ رہے ہیں جو لڑائی کے آخری موڑ ہر ’محفوظ راستہ’ مانگا کرتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر یا خانۂ تنہائی میں اشک بار ہونے والے وزراء کی اِنسانی المیے پر دِل گرفتگی بجا لیکن اِس رقیق القلبی میں کچھ دخل اِس احساس کو بھی ہے کہ اُن کا کھیل اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ یہ لاعلمی خاصی دلدوز ہوتی ہے کہ گرجا گھر میں بجتی ماتمی گھنٹیاں دراصل کس کے انجام کا اعلان ہیں۔ 10 جولائی سےاب تک بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔لڑائی کی صفیں بندھ گئی ہیں۔ایک طرف مذہبی انتہا پسند سمجھتے ہیں کہ لال مسجد کارروائی پر بھرپور ردِعمل دینے میں ناکام رہے تو اُن کی پسپائی سمندر میں جا کر ختم ہوگی۔دوسری طرف فوج کا خود کو پیشہ ور سپاہی سمجھنے والا دھڑا خیال کرتا ہے کہ اگر ریاستی حاکمیت اور فوجی قوت پر چاند ماری کا موزوں جواب نہ دیا گیا تو داخلی اور خارجی محاذوں پر بقا دشوار ہوجائے گی۔ مارچ 2004 سے امریکی اور نیٹو افواج پھونک پھونک کر دباؤ کم یا زیادہ کر رہی تھیں ۔اب دو تین روز کے اندر امریکی سینٹ کا مباحثہ بھی سامنے آگیا۔ امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی کا وزیرستان امن معاہدے پر وہ ردِعمل بھی ظاہر ہوگیا جسے اب تک اخبارات کی روشنائی نصیب نہیں ہوئی تھی۔بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جموں میں خطاب اور اس سے پیوستہ بیان بھی معنی خیز ہیں۔قطعیت سے کہنا مشکل ہے کہ بیرونی دباؤ پر داخلی فتیلہ آگ پکڑ رہا ہے یا داخلی دھماکوں کی تپش سے بیرونی درجہ حرارت بڑھا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان کے شمال میں تصادم کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ مچھروں کی بھنبناہٹ سے پسِ پردہ لڑائی جیتنے کی حکمت عملی صرف اُن قوتوں میں کامیاب ہوسکتی ہے جو یکساں عسکری، معاشی اور سیاسی وسائل رکھتی ہوں۔ افغانستان میں پس پردہ فریقین امریکا اور سوویت یونین میں یہ توازن موجود تھا۔یہ صورت حال جہاد پر تلے ہوئے انتہاپسندوں اور متحارب پاکستانی فوج کے درمیان نہیں پائی جاتی لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ تصادم ملکی سرحدوں کے اندر ہورہا ہے۔یہ دھواں جس شہرسے اُٹھ رہا ہے، آگ بھی اُسی شہر میں لگی ہے۔ سو انتہا پسندوں کے خلاف جو بھی کارروائی ہوگی ،اُس کے مفروضہ یا حقیقی جانی و مالی نقصان کو اگلی کارروائی کا جواز قراردیا جائے گا۔دائرے کے اِس کھیل میں عمل اور ردعمل کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اِس کا ملبہ بالآخر پاکستانی ریاست کی عمل داری پر گرے گا۔ اگر سوات اور بنوں میں بہنے والا لہو لال مسجد کا ردعمل ہے تو لال مسجد کس واقعے کا ردعمل تھی؟ اگر وزیرستان میں مورچہ بند جنگجُو افغانستان پر قبضے کا ردعمل ہیں تو ان میں اُزبک، چیچن اور عرب جنگجو کیا کر رہے ہیں؟ افغان جہاد کے ضمن میں عسکری اور مذہبی حلقوں کے ارتباط نے فوج میں دو رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ایک حلقہ فوج کو ریاست کا پیشہ ور شعبہ سمجھتا ہے جب کہ دوسرا دھڑا پیشہ وارانہ حقائق کی بجائے نظریاتی محرکات کو اہمیت دیتا ہے۔ اس گروہ کے خیال میں فوج محض ایک پیشہ ور ادارہ نہیں بلکہ اسے بازؤےِ شمشیر زن کی حیثیت سے ایمانی قوتوں کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ یہ نکتہ نگاہ دِلکش ہے مگر اس میں اڑچن یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری میں جِسے کاٹو، وہی مارنے کو دوڑتا ہے۔ بیرونی حریفوں پہ بس نہ چلے تو جوش سے بھری یہ تیغ اپنے ہی لہو میں نیام ہونے لگتی ہے۔ خفیہ اداروں کو قانون کے دائرے سے باہر قرار دینے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل (ر) اسد درانی نے فوج سے تو معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے مگر سیاست میں خفیہ اداروں کی مداخلت پر کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں فریقین ایک دو روز میں اپنی طاقت کا خاطر خواہ اظہار کر کے دوبارہ تناؤ بھری خاموشی اختیار کر لیں گے۔ لیکن یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر تصادم کی کچھ چنگاریاں پنجاب اور سندھ کے گنجان آباد شہروں تک پہنچ گئیں تو اس آگ کو سنھالنا بےحد دشوار ہو جائے گا۔ ایسا تصادم اپنی نوعیت کے اعتبار سے ملکی دستور یا بین الاقوامی قوانین کے تابع نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس میں واقعات کی نوعیت یا کیفیت کے بارے میں یقین سے پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ معروف دانشور علی افتخار جعفری کے بقول، آگہی داؤ پہ ہے۔ bbc |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() |
پچھلے کچھ عرصے میںسکیوڑٹی فورسز کو نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔میرے نزدیک اگر غازی برادران کو چھوڑ دیا جاتا تو اتنا مسلہ نہ ہوتا،
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC] |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() |
ملکی حالات بہت خطرناک ہو چکے ہیں اگر تو مشرف واقعی سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ اس پاکستان کو بچانے کے لیے کچھ کریں میں ان کی وردی کے مطلق کچھ نہیں کہوں گا کیوں کہ مجھے کسی اقدار کی بھوک نہیں ہے مجھے صرف اور صرف پاکستان کی فکر ہے.
2دن پہلے اسلام آباد میں بم دھماکہ ہوا کل کہیں اور ہوا اور آج پتا نہیں کہاں ہو
__________________
![]() http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پولیس, پاکستان, پاکستانی, واقعات, نوکری, نظر, ممکن, آج, اللہ, امریکہ, اسلام, جواب, حال, خون, خلاف, خان, دھماکہ, دستور, روزہ, سیاست, طالبان, علی, صوبہ, صوبائی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|