| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
عافیہ ہم سے خفا ہے ! !تحریر: زبیر منصوریAIMS Institute نہ جانے کیوں لگتا ہے عافیہ ہم سے بہت خفا ہے۔۔ اس کی یہ اذیت ناک ، تصویر اکثر میرے سامنے آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ تو میرادماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دل دکھ سے بھر جاتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں جنہیں میں نظر بچا کے صاف کرتا ہوں ۔ وہ ہم سے ناراض ہے۔ اس کے چہرے پر موجود اذیت کے آثار دیکھ کر مجھے لگتا ہے، گویا ابھی ابھی اس نے ایک دکھ بھری نظر اٹھا کر ہماری جانب دیکھا ہے۔ اورپھر مایوس ہو کر آنکھیں موند لی ہیں۔ وہ ہماری بہن ! ہم سے روٹھی ہوئی ہے۔ اس کا روٹھنا دیکھ کر کبھی مجھے اپنی ننھی بہن کا روٹھنا یاد آجاتا ہے۔ کہ جب کبھی ایسا ہو تو میں اور میرا پورا گھر اسے منانے میں لگ جاتے ہیں۔۔ بلکہ میں ہی کیوں ہم سب ہی اپنی ننھی بہنوں سے پیار کرتے ہیں۔۔ اور ان کا یوں جھوٹ موٹ کا روٹھنا بھی ہمیں بے قرار کر دیتا ہے اور پھر ہم انہیں فوراً منا کر ہی مطمئن ہوتے ہیں۔ ۔مجھے لگتا ہے ہماری عافیہ ہم سب سے روٹھی ہوئی ہے اور ہم میں سے کوئی بھی اسے منانے کو تیار نہیں۔۔عجب منظر ہے ناں ؟ وہ دیکھیں! عافیہ کے چہرے پر تکلیف بھی صاف نظر آرہی ہے اگر وہ صرف روٹھی ہوتی اور ہم بے نیازی برتتے تو بھی بات شاید کچھ قابل برداشت ہوتی مگر لگتا ہے۔ وہ تکلیف میں ہے کہیں درد محسوس کر رہی ہے۔ جو اسے بے آرام کیے ہوئے ہے مجھے پھر اپنی سگی بہن یاد آرہی ہے۔ جب ایک دن اس کے دانت میں تکلیف تھی تو میں ہی نہیں سارا گھر اس کے درد کو اپنے وجود میں سرایت کرتا ہوا محسوس کر رہا تھا ہم سب بے آرام تھے پریشان تھے تب تک جب تک کہ اس کا درد ٹھیک نہیں ہوا ! مگر بہن عافیہ پر جو زخم افغانستان کے کسی اذیت ناک عقوبت خانے میں یا امریکا کی جیل میں لگائے گئے ہیں ، وہ ان زخموں سے درد اور اذیت میں ہے اور اس کی میرے سامنے موجود تصویر میں درد کی شدت سے بند آنکھیں بتا رہی ہے کہ ابھی ابھی اس نے نظر اٹھا کر ہم سب کی طرف دیکھا ہے۔ اس نے ایک آخری امید کے ساتھ دورو نزدیک نظریں دوڑائیں ہیں ایک طرف اپنے قلم کار بھائیوں کو دوسری طرف حکمرانوں کو تیسری طرف اپنے عرب بھائیوں کو چوتھی سمت میں اپنی قوم کے نوجوانوں کو مگر لگتا ہے۔ اس نے محسوس کر لیا ہے کہ یہ جس لمحے اس کے زخموں سے ٹیسیںاٹھ رہی ہیں ۔ اس کے قلم کار بھائی صدر زرداری ی کی مدح یا مذمت میں مصروف ہیں ، ابھی جب اسے بازو مروڑ کر کوٹھری میں دھکیلا گیا تو اسی لمحے دبئی میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت کا افتتاح ہو رہا تھا، اس کے عزیز بھائی جنون گروپ کے ساتھ تھرک کر خوشی سے سرشار تھے ، اس نے کراہتے ہوئے آواز دی ، اس کی آواز میں لرزش تھی ، کمزوری اور دکھ تھا مگر کوئی اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوا اور پھر اس نے مایوسی سے آنکھیں بند کر لیں وہ خفا ہوگئی ہم سب سے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بیٹی عافیہ ، زرداری کی بہن عافیہ ، گیلانی اور جاوید چوہدری کی معصوم عافیہ اس ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی باجی عافیہ ! مجھے لگتا ہے وہ عافیہ ہم سب سے خفا ہے۔ اس نے اپنے پیارے بیٹے محمد کو برسوں پہلے اس وقت دیکھا تھا جب وہ تتلا کر اسے ” مما ، مما“ کہتا اس کی ٹانگوںسے لپٹ جاتا تھا اور آج وہ جوان ہو گیا ہے ۔ وہ سوچتی ہوگی ، نجانے اب وہ کیسا ہوگا ؟ اس نے کس اسکول میں داخلہ لیا ہے۔۔ ؟ وہ بڑا ہوکر کیا بنے گا؟ عافیہ ہم سے ناراض ہے کہ محمد کے ماموو¶ں کو اپنے بھانجے کی فکر ہی نہیں ہے۔۔؟ بھلا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے۔؟ وہ سوچتی ہے کہ جس بچے کا نہ باپ اس کے سر پر ہے ۔ نہ ماں کو اس کی تربیت کا موقعہ دیا جا رہا ہو ۔ اس بچے کی کون فکر کرتا ہوگا ؟ عافیہ نے ابھی ابھی سر اٹھا کر دیکھا ہے۔ اس نے کہیں کوئی ایک اتالیق تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی ایسا جو اس کے محمد کے ساتھ کھیل سکے ، اس کو فزکس پڑھا دے اس کی تعلیم میں رہ جانے والی کمی کوپورا کرنے میں مدد کرسکے ، کوئی جو زندہ سلامت ماں کی موجودگی میں اس ”بن ماں“ کے بچے کو تنہائی اداسی، بے چینی اور بے قراری کے لمحوں میں نرمی او رمحبت کاایک جملہ بول کر ،پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر، اس کی ماں کی طرف سے اس کا ماتھا چوم کر اسے حوصلہ دے سکے۔؟ عافیہ کی یہ تصویر دیکھ کر مجھے یہ لگتا ہے۔ کہ ابھی ابھی اس نے امید بھری نظروں سے ارد گرد کسی کو تلاش کیا ہے اور پھر مایوس ہو کر اپنی کالی چادر کا پلو سر پر درست کرتے ہوئے آنکھیں موند لی ہیں۔ وہ ہم سے خفا ہے۔۔ عافیہ ہم سے خفا ہے۔ وہ سوچتی ہے میرے ملک کے لوگ کیسے سنگدل ہیں انہیں میری وہ اذیت کیوں محسوس نہیں ہوتی جو میں نے پچھلے برسوں میں اپنی روح پر سہی ہے ؟ اپنے ہی ” بھائیوں “کے ہاتھوں ، اپنے ہی شہر سے ، اپنے لوگوں کے درمیاں دن دہاڑے میرا اغوا ءپھر میری گمشدگی کے بعد کے وہ برس ! قیامت کے وہ سال! جن میں کوئی میرے بارے میں کچھ خبر نہ رکھتا تھا۔؟ یہ کیسے لوگ ہیں ؟ یہ تو اپنی بہنوں اور بیٹوں کو اپنی غیرت کہتے ہیں ناں۔؟ میں تو برسوں غائب رہی کبھی انہوں نے سوچا کہ میں نے شب و روزکن درندوں کے درمیاں گزارے ؟ میری روح گھائل ہے میراوجود چھلنی ہے اور یہ سب لوگ ، یہ میرے اپنے ، یہ وہ اپنے ، جن کے میں وجود کا حصہ ہوں انہیں میرا کچھ حساس ہی نہیں۔۔؟ یہ اچھے ہیں۔ یاحجاج بن یوسف کہ جس کی غیرت تاریخ کاحصہ بن چکی ہے۔ کاش میں اس بے حمیت عہد کے بجائے حجاج کے دور میں ایک لونڈی اور باندی پیدا ہوئی ہوتی کاش ! عافیہ کی تصویر دیکھ کر مجھے لگا کہ ابھی یہ سب سوچ کر اس نے دل چیر دینے والے دکھ کے ساتھ آنکھیں بند کر لی ہیں۔ ہماری بہن عافیہ ہم سے خفا ہے مگر کیوں ؟ یہ محض ان سب باتوں کے لیے جو اوپر لکھی گئی ہیں۔۔؟ ہاں! مگر نہیں شاید اصل میں تو وہ کسی اور بات پر ہم سب سے ناراض ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اس لیے ہم سے روٹھی ہوئی ہے کہ ہم سب نے مزاحمت کا راستہ ترک کر دیا ہے۔ عافیہ کاراستہ ! عافیہ اس عظیم روایت کا چراغ ہے جس میں انسانوں کو اپنی ذات ، اپنی زندگی ، اپنا جسم ، اپنی عزت ، اپنا سب کچھ اپنے مقصد کے مقابلے میں چھوٹا لگتا ہے۔ وہ اس قافلے کی ہمراہی ہے جس کے سالار خود نبی مہربان ﷺ ہیں وہ قافلہ جس کا نعرہ ہے کہ ” بندے خدا کے ، زمین خدا کی، نظام خدا کا کیوں نہیں۔؟ “ یہ قافلہ جس کے سالار کو بھیجا ہی اس لیے تھا کہ اللہ کے بندوں کو اس کے بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دے دیں ۔ عافیہ جانتی ہے کہ اس مشن میں آج سب سے بڑی رکاوٹ امریکا اور اس کے اتحادی ہیں۔ اس لیے ان خدا کے باغیوں کے عزائم کی مزاحمت ہی اس عہد میں ایمان کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ عافیہ خود مزاحمت کاروں کی صفوں میں موجود ہے اور وہ جانتی ہے کہ اس کو مزاحمت کی قیمت چکانی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ جو بھی ” دجال “ کا انکار کرےگا۔۔ وہ اسے اپنے ” جہنم “ میں ڈال دے گا اور یہی ایمان کا پیمانہ ہے کہ کون کون ہیں جو دجال کے جہنم میں ہیں ؟ کون ہیں جو عزم اور حوصلے سے اس سمت گامزن ہیں اور وہ کون ہیں جنہوں نے دجال سے فکری اور عملی مفاہمت کا راستہ اختیار کر لیا ہے ۔ عافیہ ہم سے خفا ہے۔ اس لیے کہ وہ ہمارے وقت ، ہماری توانائیوں ، ہماری صلاحیت اور ہمارے وسائل کا بہتر اور بیشتر حصہ طاغوت کے انکار اور اللہ پر ایمان کی راہ میں دیکھنا چاہتی ہے مگر ہمیں وہاں نہیں پاتی اسے درد اپنے زخموں کا نہیں کہ یہ تو اس کے تمغے ہیں اس کے لیے شرف اور عزت کی علامتیں ہیں اورا ن کاتو پیغام یہی ہے کہ باریابی جو تمہاری ہو حضور مالک کہنا ساتھی میرے کچھ سوختہ جان اور بھی ہیں۔۔ اپنے رستے ہوئے زخموں کو دکھا کر کہنا ایسے تمغوں کے طلبگار وہاں اور بھی ہیں عافیہ ہم سے خفا ہے۔ کوئی اپنی ننھی عافیہ کو منانے والا اپنی باجی ، بہن ، بیٹی عافیہ کو اپنے نعروں سے نہیں اپنے مسلسل عمل سے یہ پیغام دینے والا کہ بہنا ! نحن الذین بایعو محمداً علی الجہاد ما بقینا ابداً ہم ہیں وہ جنہوں نے محمد کے ہاتھ پر آخری سانس تک جدو جہد ِعہد کر رکھا ہے۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا | Adeeba (13-02-10), فیصل ناصر (12-02-10), ھارون اعظم (12-02-10), راجہ اکرام (13-02-10), سحر (12-02-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,969
کمائي: 276,801
شکریہ: 33,206
12,658 مراسلہ میں 37,006 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کومے کی حد تک سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگانے کے لئے زوردار تھپڑ کی ضرورت ہے
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| مسلمانوں, تھپڑ, جگانے, حد, زوردار, سوئے, ضرورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|