واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


شکست کس کا مقدر ہے؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-02-10, 10:42 AM   #1
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default شکست کس کا مقدر ہے؟

شکست کس کا مقدر ہے؟

شکست کس کا مقدر ہے؟
وہ جو کائنات کی آفرنیش سے لے کر آج تک طاقت کو اپنا خدا، ٹیکنالوجی کو اپنا دیوتا اور وسائل کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے آئے ہیں۔ جو ہر اس طاقت کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں جسے طاقتور، دولت مند اور صاحبِ اقتدار سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کی دنیا ہی الگ ہوتی ہے۔ ان کے خواب ہمیشہ کسی ایوان کی چوکھٹ، کسی عالمی طاقت کے محل یا کسی صاحبِ ثروت کی ڈیوڑھی کے سامنے کشکول سے شروع ہوتے ہیں۔ اس کی تعریف میں رطب اللسان قصیدوں کے بول ان کی زبانوں پر جاری ہوتے ہیں۔ بھیک کے چند سکوں کی جھنکار کشکول میں گرتے ہی انہیں یوں لگتا ہے جیسے ان کی زندگیوں میں آسائش اور خوشحالی نے دستک دے دی۔ بس پھر خواب اگر سچ نکل آئے تو خود کو کمزور، ناکارہ، نامراد، بے کس اور بے یارومددگار کہنا ان کا معمول بن جاتا ہے۔ جو طاقت انہیں بھیک دے، ان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے یا ان کی ضروریات کے لیے سامان فراہم کرے یہ اس کی عظمت، ہیبت، صلاحیت اور تباہ کردینے والی خوفناک صلاحیتوں کے گن گاتے نہیں تھکتے۔
ایسے افراد صرف آج کے سائنسی ترقی یافتہ دور میں نہیں بلکہ ازل سے موجود رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کے قریب یا دور بسنے والی باجگززار ریاستوں کے حاکم، جو اپنے عوام پر ظلم اس لیے روا رکھتے رہے کہ انہیں کسی بڑی طاقت کی پشت پناہی حاصل تھی۔ کسی حکمران، بادشاہ، ڈکٹیٹر یا مطلق العنان جمہوری سربراہ کے کاسہ لیس امرا، وزرا، نواب، جاگیردار، لکھاری اور اعلیٰ عہدیدار، ان سب کو بھی حکمران کی طاقت، اس کی ہیبت اور موت تک اس کرسی سے منسلک ہونے کا یقین سا ہوتا ہے۔ اس لیے نہ ان کے ذہن اس کائنات میں کسی اور طاقت کا تصور کرتے ہیں اور نہ ان کی آنکھیں وہ منظر دیکھنا گوارا کرتی ہیں جب ان کا ممدوح اور ان داتا اقتدار کی راہداریوں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا ذلت کی گہرائیوں میں جاگرے گا۔
ان طاقت کے پجاریوں اور اسبابِ دنیا پر مکمل بھروسہ اور ایمان رکھنے والوں کا کھیل بھی نرالا ہوتا ہے۔ بس ذرا کسی کا اقتدار ڈولنے لگا، کسی طاقت میں کمی آئی، کسی کو شکست کی ذلت کا سامنا ہوا، اُن کے قصیدوں کا رُخ اچانک دوسری جانب بدل جاتا ہے۔ ایک سورج کے غروب ہوتے ہی یہ دوسرے سورج کے طلوع کے آثار دیکھتے ہی سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔ کشکول صاف کرکے ازسرنو اپنی ضرورتوں اور پریشانیوں کی داستان بیان ہونے لگتی ہے۔ وفاداریوں کا یقین دلایا جاتا ہے۔ نئی طاقت کے افسانوی کردار کو یوں پیش کیا جاتا ہے کہ اردگرد بسنے والے خوفزدہ ہوجائیں۔ ان طاقت کے پجاریوں میں ایک چیز ہمیشہ مستقل رہی ہے۔ وہ ایک معاملے میں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں۔ چوکھٹ ، دروازہ یا دلان کسی بھی طاقت کا ہو ان کا رونا ہمیشہ مستقل ہوتا ہے۔
ہم کمزور ہیں، لاچار ہیں، پسماندہ ہیں، دربدر ہیں، بھوک اور افلاس نے ہمارے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، آپ کی نظر کرم نہ ہو تو ہم مرجائیں گے، ہمیں لوگ کچا کھا جائیں گے۔ ہم تو آپ کے غیظ و غضب سے خود بھی ڈرتے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کو بھی ڈراتے ہیں۔ آپ کا غصہ اور غضب الامان۔ آپ تو بستیاں اجاڑدیں، آپ ہمارا ناطقہ بند کردیں تو ہمیں کوئی پانی بھی نہ دے۔ ہم قحط اور فاقوں سے مارے جائیں۔ آپ ہم سے نظریں پھیرلیں تو ہمارے بیرونی دُشمن تو دور کی بات ہے ہمارے عوام ہی ہمیں کچا کھاجائیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے لوگ، ایسے رہنما اور ایسی قومیں ہمیشہ موجود رہی ہیں جن کے اندر کا خوف اور احساسِ کمتری، مانگے کی آسائش اور کسی کی عطا کی گئی طاقت انہیں کبھی بھی سر اُٹھانے کا موقع ہی نہیں دیتی بلکہ وہ زمین پر چیونٹیوں کی طرح دبے دبے سہمی سہمی زندگی گزارتے رہےں۔
طاقت کی پوجا میں منہمک ان لوگوں کی آنکھیں تاریخ کے کسی دور میں بھی نہیں کھلتیں۔ ہاں! اس وقت ان کی آنکھیںحیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں جب کوئی ناقابلِ یقین حد تک کمزور طاقت ان کا گلہ آن دبوچتی ہے اور انہیں اپنا قبلہ بدلنے کی فرصت تک نہیں ملتی۔ ایک عالمی طاقت ایران کے دربار میں جب پھٹے ہوئے کپڑوں اور زنگ آلود تلواروں کے ساتھ عرب کے بادیہ نشین پہنچے تو یہ طاقت کے پجاریوں کے لیے بڑی حیرت کا لمحہ تھا۔ تمسخر کا وقت۔ فردوسی نے ایران کے بادشاہ کو وہ مکالمہ اپنے شاہنامہ میں یوں لکھا ہے


شیر شتر خوردن سو سمار
عرب را بجائے رسید است و کار
کہ تخت کہیاں را کند آرزو
تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو


(اونٹنیوں کا دودھ پینے والو اور گوہ کا گوشت کھانے والے عربو! تمہیں یہ کیا مذاق سوجھا ہے کہ کہیان کے تخت کی آرزو کرنے لگے ہو۔ اے قدیم آسمان! تم پر تف ہے کہ یہ دن دکھا رہا ہے۔) تاریخ کا مکالمہ تو اس سے بھی دلچسپ ہے۔ وہی منظر نامہ ہے جو آج امریکا اور اس کے کاسہ لیسوں کا ہے۔ یزدگرد نے کہا: ''اے گنوار، جاہل اور اُجڈ عرب کے لوگو! تمہیں خبر ہے کہ جب تم ہماری سرحد کے قریب ذرا سا بھی سر اُٹھانے کی کوشش کرتے تھے تو ہم اپنے سرحدی حاکم کو کہتے تھے اور وہ صرف ایک دن میں تمہارا دماغ سیدھا کردیتا تھا، لیکن وہ جو اس کائنات کا اصل مالک اور اصل طاقتور ہے وہ کوئی اور فیصلہ تحریر کرچکا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی سے لیس لشکر کی معمولی ہتھیاروں سے مسلح افراد سے شکست کی تحریر۔ یہ تحریر صرف ایک بار نہیں کئی بار لکھی گئی۔ جب بھوکے رہنے والے اور پیاس کے عالم میں گھوڑوں کا خون نکال کر پینے والے منگول چنگیزخان کی قیادت میں نکلے تو ساری مہذب اور ترقی یافتہ دنیا میں خاک اُڑاتے گئے۔
روم جسے اپنی سپاہ پر ناز تھا، افریقہ کے بربروں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوگیا۔ بغداد کی تہذیب جسے اپنے علم اور سائنسی کمالات پر فخر تھا، ہلاکو کے ہاتھوں یوں تباہ ہوئی کہ دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہوگیا۔ یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔
یہ ابھی کل کی بات ہے دنیا کی ایک عظیم طاقت ایک ایسے ملک ویتنام میں گئی جہاں ایک بندوق کی گولی تو کیا اسپرو کی گولی تک نہیں بنتی تھی اور وہاں سے ذلت و رسوائی اور ایک لاکھ لاشیں اُٹھاکر واپس ہوئی۔ یہ منظر تو میرے ملک کے ہر چھوٹے برے کو یاد ہے جب یہاں کے کمیونسٹ انقلابی افغانستان کے روس میں آنے پر روز اپنی مغربی سرحد سے سرخ پھریرے کے خواب دیکھتے تھے۔ لیکن جیسے ہی یہ سرخ پھریرا لپیٹا گیا، مجسمے گرائے گئے تو سب کے سب انسانی حقوق کے نام پر دوسری عالمی طاقت کی گود میں جابیٹھے۔ کسی نے این جی او بنائی اور کوئی سیاسی طور پر ان کا حلیف ہوگیا، لیکن تاریخ طاقتور کے انجام اور ذلت انگیز انجام سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن طاقت کو ذلیل و رسوا کرنے کا تمغہ ان قوموں کے سر پر سجتا ہے جو غیرت اور حمیت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہیں۔ کسی پریسلر یا کیری لوگر کے کشکول میں بھیک کا انتظار نہیں کرتیں۔ ایسی قومیں آج بھی دنیا میں زندہ اور سرفراز ہیں۔ ان پر کوئی ڈرون سے حملہ بھی نہیں کرتا اور انہیں بھیک دینے سے پہلے یہ بھی نہیں کہتا کہ خبردار! اپنا رویہ ٹھیک کرو، اپنی بدمعاشیاں بند کرو، ہمارے خلاف بولنے والی زبانیں اور اُٹھنے والے ہاتھ کاٹ دو۔
اب شاید وہ دن قریب ہیں۔ اس معرکہئ حق و باطل کے دن جس کا انتظار نظر مدتوں سے کررہے تھے۔ ایسا میدانِ جنگ میں جس میں حق و باطل آمنے سامنے ہو تو معیار صرف غیرت، حمیت، عزت اور قومی افتخار کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہتا۔ نہ ٹیکنالوجی پر بھروسہ اور نہ طاقتور کا خوف، وہاں معیار صرف یہی ہوتا ہے جو میرے اللہ نے متعین کردیا اور جسے اقبال نے یوں نظم کردیا

اللہ کو پامردیئ مؤمن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا


پامردیئ مؤمن کی فتح اور مشینوں کی شکست کا موسم دستک دینے کو ہے۔
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
sahj کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-02-10, 10:43 AM   #2
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,688
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

(((((بشکریہ ضربِ مومن)))))))))))))))
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, قدم, مکمل, موقع, موت, مؤمن, آج, ایمان, ایران, اللہ, اعلیٰ, تحریر, جاہل, خون, خلاف, خبر, عزت, غروب, غضب, غصہ, صلاحیت, صلاحیتوں, صاف, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تیرے مست مست دو نین محمدعدنان گانے 7 04-09-11 02:37 AM
ہائیکورٹ کا شریف خاندان کی درخواست پر نیب سے ضبط شدہ جائیداد کا ریکارڈ طلب جاویداسد خبریں 1 28-08-10 09:35 PM
فیصلہ درست ہو گیا ... قبلہ درست جاویداسد خبریں 0 17-08-10 11:57 PM
ایٹمی اسلحے خانے کی براہ راست رسائی ،امریکی درخواست آج مسترد کردیجائیگی عبدالقدوس خبریں 3 16-04-08 06:23 PM
پاک فوج اقتدار اور بنیاد پرست اسلامی ریاست کے خواہاں ہیں، امریکی جریدہ عبدالقدوس خبریں 0 28-10-07 09:25 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger