واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


دو قومی نظریہ کیا ھوا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-09, 11:32 AM   #1
Junior Member
اجنبی
 
KKTT9MM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مراسلات: 29
کمائي: 1,096
شکریہ: 107
18 مراسلہ میں 43 بارشکریہ ادا کیا گیا
KKTT9MM کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default دو قومی نظریہ کیا ھوا؟

دو قومی نظریہ کیا ھوا؟

کسی بھی قوم کا مضبوط ترین دفاعی حصار اس کے نظریات ہوتے ہیں۔ نظریات کا حصار اگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اس کی دیواروں کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی رہے تو قومیں اپنے دفاع کو موثر اور پائدار بنا سکتی ہیں۔ مگر نظریات کے معیار کو قائم اور مضبوط رکھنے کیلئے خود اس حصار کی دیکھ بھال کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھارت سے علیحدہ مملکت دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا، کیونکہ مسلمانوں کا طرز زندگی ہندوؤں کے طرز زندگی سے قطعی طور پر مختلف ہے اور جمہوری نظام کے تحت ان دونوں قوموں کا اکھٹے رہنا کسی طور پر ممکن نہ تھا چنانچہ بانیان پاکستان نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا، اور اس کے حصول کیلئے دن رات ایک کر‌دیا۔

پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ممکن ہوا جس میں یہ بات واضح تھی کہ مسلمانوں کا رہن سہن ہندوؤں سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں قومیں پر امن طور پر اکھٹے نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ پاکستان کے نام پر علیحدہ مملکت اس لئے بنائی گئی کہ یہاں كر اسلامی اصول لاگو ہونگے، اسلامی طرز زندگی اپنایا جائے گا اور اسلامی ثقافت کو فروغ دیا جائے گا۔ مگر پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی یورپی ممالک کی ثقافت نے دھیرے دھیرے اس آزاد ملک میں اپنا اثر بڑھانا شروع کر‌دیا اور اسلامی نظریے کے حصار کو کمزور کرنا شروع کیا۔ مگر چونکہ ہندوؤں کے ساتھ اکھٹا رہنے کی تلخ یادیں مسلمانان پاکستان کے ذہنوں میں تازہ تھیں چنانچہ بھارت اور ہندوؤں کی مسلم دشمنی کو پاکستان میں ہمیشہ گہرائی سے دیکھا جاتا رہا۔ مگر حالیہ چند برسوں میں بالخصوص ستمبر ٢٠٠١‌ء کے بعد سے بین الاقوامی منظرنامے پر ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان پر دباؤ بڑھ جانے کے بعد سے ہماری حکومت نے اچانک بھارت کے ساتھ بھی دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کر‌دیں۔

امن قائم رکھنا اور جنگ کی از خود خواہش نہ کرنا تو ہمارے دین کا حصہ ہے مگر دین اور دنیا دونوں لحاظ سے امن قائم ہونے کیلئے اپنے نظریات کا سودا کر‌دینا کسی بھی صورت قابل تحسین نہیں۔ کسی مغربی مفکر کا قول ہے کہ «جنگ اور دشمنی کو ختم کر‌دینے کا تیز‌ترین اور یقینی راستہ شکست اپنا لینے کا ہے»۔ تو کیا ہماری موجودہ قیادت بھی بھارت سے ہر قیمت پر دشمنی ختم کر‌دینا چاہتی ہے، خواہ اس کیلئے شکست کی ذلت اٹھانا پڑے؟ اگر ایسا ہے تو بھی ہماری حکومت اور بھارت دونوں ہی کو مان لینا چاہئے کے بعض اوقات حکومتوں اور قوموں کے طرز فکر میں بہت تضاد پایا جاتا ہے اور پاکستان کی بھارت سے ہر قیمت پر دوستی کی حکومتی فکر پاکستانی قوم کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ہے۔ بھارت اپنی چالیں بڑے شاطرانہ انداز میں چل رہا ہے مگر پاکستانی قوم کو اس کی عیاریوں سے اس قدر خطرات لاحق نہیں ہیں جتنا کہ خود اس کے اپنے حکمرانوں کی سادہ لوحی اس کیلئے خطرناک ہے۔

اسلام کے سنہرے اصولوں کو لاگو کرنے کیلئے حاصل کئے جانے والے ملک میں ہر طرح کی غیر مسلم تہذیب و‌ثقافت کو مکمل تحفظ اور سرپرستی فراہم کی جا‌رہی ہے، جبکہ اسلامی ثقافت بالخصوص جذبۂ جہاد کی بیخ کنی کیلئے دن رات حکومتی فکر و‌عمل بھی جاری ہے۔ ایک تازہ خبر کے مطابق لاہور میں مغلیہ شہنشاہ شاہجہاں کی نشانی شاہی حمام میں «شاہجہان ریسٹورنٹ» قائم کر‌دیا گیا ہے۔ جہاں پر کنیزیں کھانا پیش کریں گی۔ بھوک سے پریشان لوگوں کے ملک میں شاہجہان ریسٹورنٹ میں


«کانٹینینٹل» کھانے «مغلیہ سٹائل» میں پیش کئے جائیں گے۔
تخت طاؤس پر رائل باربی کیو ہو گا۔
ہر شام «شام غرل» ہوگی۔
ہفتے میں ایک دفعہ سرمئی شام منعقد ہوا کرے گی جبکہ مہینے میں ایک بار «گرینڈ میوزکل شو» کا اہتمام ہوا کرے گا۔

اس خبر کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ «ریسٹورینٹ میں کنیزیں مغلیہ لباس زیب تن کریں گی اور مغلیہ دور کی یادیں تازہ کر‌دی جائیں گی»۔ مذکورہ خبر میں مغلیہ دور کی یادیں تازہ کرنے کی بات بھی کی گئی ہے جس سے ہمارے ذہنوں میں ١٨٥٧‌ء میں مغلیہ لباس زیب تن کئے ہوئے ریشمی کپڑوں سے ڈھکے تھال اٹھانے والی کنیزوں کی یاد بھی تازہ ہو‌جاتی ہے جو اس وقت کے شہنشاہ کے بیٹوں کے سر انگریز سرکار کے حکم پر شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو پیش کر‌رہی تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے زوال میں دیگر کمزوریوں کے ساتھ طاؤس و‌رباب کا بھی بہت بڑا کردار تھا اور اب ہماری حکومت بھی مغرب اور بھارت کے زیر اثر طاؤس و‌رباب کی اس قدر سرپرستی کر‌رہی ہے کہ قوم کے گرد قائم نظریانی حصار کو بالکل معدوم کیا جا‌رہا ہے۔ اس قسم کی حکومتی سرپرستیوں کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ قوم کو بھارتی ثقافت سے بچانے کیلئے اپنی ثقافت کو بہت «خوشنما» بنا دیا جائے۔ مگر کیا اپنے کلچر کو اس قدر بدل ڈالنا اور دشمن ہی کے طرز پر چل نکلنا از خود اعتراف شکست نہیں ہوگا؟

محمد حسین چودھری
KKTT9MM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے KKTT9MM کا شکریہ ادا کیا
پرانا 26-08-09, 02:52 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (26-08-09)
جواب

Tags
color, کلچر, پاکستان, پاکستانی, مکمل, موجودہ, ممکن, اسلامی, خبر, رات, راستہ, زندگی, سودا, شام


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پوائینٹ ہی پوائینٹس حاصل کریں ایس اے نقوی خاص آفرز اور اعلانات 227 29-05-11 11:43 PM
یہ نگاہ شرم جھکی جھکی، یہ جبینِ ناز دھواں دھواں عبدالقدوس اقبال عظیم 16 11-12-10 08:00 AM
بھوشن کمار اپادھے ، پولیس کمشنر شعلہ پور، اسلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ فاروق سرورخان اسلام اور عصر حاضر 6 22-10-10 11:11 PM
عدم کارکردگی پر پورٹ آف سنگاپورکو گودارپورٹ سے نکال سکتے ہیں بابر غوری جاویداسد خبریں 5 05-10-10 06:07 AM
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو The Great شعر و شاعری 4 15-09-09 10:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger