| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہر ایک نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے (قرآن پاک)
دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو کہ گویا تم مسافر ہو(حدیث) اپنے نفس کو اہل قبور میں شمار کرو ایک فاقہ کش مزدور جھونپڑی کی بھی صبح،دوپہر شام ہوتی ہے اور ایک ائیر کنڈیشنڈ مکان والے کی بھی صبح ،دوپہر شام ہوتی ہے یہ دن اور رات سب کے کٹ جاتے ہیں البتہ فرق ضرور ہے کہ کسی کے یہ اوقات اپنےکالق و مالک کی فرمانبرداری میں گذرتے ہیں اور کسی کے اپنے مالک و خالق کی نافرمانی میں گزرتے ہپیں ایک اورحدیث پاک میں سرکار کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،موت کو اکثر یاد کرو جو تمہارے دنیوی عیش و آرام اور لذت کو ختم کر دیتا ہےاللہ تبارک تعالی نے بنی نوع انسان کو اپنی عبادات کےلئے پیدا کیا ہے اور بنی نوع برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدس کو بطور نمونہ مبعوث فرمایا ہے لیکن مقصد رب العلمین اور نمونہ رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آج کل ہم مسلمانوں کا کیا حال ہے ہمیں اس پر غور کرنا چاہیئے آج کل ہماری یہ حالت ہے کہ گویا ہم صرف دنیاوی زندگی اور یہاں عیش و آرام کےلئے پیدا کئے گئے ہیں اب ہمیں مرنا ہی نہین ہے قبر کی زندگی،میدان حشر کی زندگی اور جنت کی زندگی کو فرام،وش کر ڈالا ہے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کےکاص کمرے کے سامنے یہ اشعار لکھے ہوئے تھے رہ کے دنیا میں بشر کو نہیں زیبا غفلت موت کا دھیان بھی لازم ہے کہ ہر آن رہے جو بشر آتا ہے دنیا میں کہتی ہے قضا میں بھی پیچھے چلی آتی ہوں زرا دھیان رہے بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اسکے دائیں کان مین ازان پرھی جاتی ہے اور بائیں کان میں تکبیر گویا اسی وقت اسکو یہ پیگان دیا جاتا ہے کہ اذان ہوئی تکبیر ہوئی اب نماز جنازہ کےلئے تیار رہو کسی نے کیا خوب کہا ہے یہی ہے فصل مرنے اور جینے کا میرے یارو ازان اس دم ہوئی نماز اس دم پڑھاتے ہیں ُِ دنیا کمانے سے منع کای گیا عزت کے ساتھ حلال طریقوں سے دنیا کمانا اور آرام کے ساتھ اپنے اہل و عیال کی زندگی گزارنا مغضوب نہیں بلکہ مطلوب ہے اور اسکےلئے سعی وتلاش واجب ہے ہمارے ملک میں بے نمازی،بےھیائی اور بے پردگی کا کیا حال ہے؟ ہم نے اپنے پیارے حبیب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسو حسنہ ،اسلامی معاشرت ،اسلامی آداب کو چھوڑ دیا ہے اور دشمنان اسلام اور مغربی تہزیب و تمدن کے ذہنی غلام بنے ہوئے ہیں ہمیں اپنے پیارے مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکیدا ارشاد فرامایا ہے حدیث شریف کا ترجمہ ہے” تب تک تم صیح اور پکے مسلمان نہیں بن سکتے جب تک کہ تمہاری ہر ہر خواہش اسکی تابع نہ ہوگی جو کچھ میں لایا ہوں“ یعنی قرآن پاک اور سنت رسول(ص) لیکن ہم آج کل کہاں بھٹک رہے ہیں ان کے احکامات کو چھوڑ کر کن دشمنان اسلام کیکواہشات پر عمل کرتے ہیں ہم نے اخلاقی زوال کیی خطرناک رفتار پکڑی ہے ہم سوئے ہوئے ہیں اسلامی اعزاز ہم سے چھینا جا رہا ہے اور ہم خاموشی سے اس کو قبول کئے جا رہے ہیں گھر میں مقیم بزرگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو حسب ارشاد رب ذوالجلال اور حسب فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجودہ مغربی تہزیب و تمدن کے تاریک اور قبیح مستقبل سے آگاہ کر کے اسلامی تہزیب اور طور طریقوں کو رائج کرائیں اور گھروں میں اسلامی کتب اور رسالے پڑھنے پڑھانے شروع کریں اساتذہ کرام سے بھی انتہائی ّاجزی کے ساتھ عرض ہے کہ وہ کالجوں اور سکولوں میں موجودہ بے راہ روہ،بے حیائی اور بے پردگی کے مضمرات کو طالب علموں کو سمجھائیں اور دینی و دنیوی نقصانات سے آگاہ کریں اور اس طوفان بدتمیزی کو روکنے کی کوشش کریں اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین دوستوں مذکورہ تحریر میری لکھی ہوئی نہیں ہے کسی محترم نے بذریعہ داک ارسال کی تھی اور اپنا نام و مقام نہیں لکھا تھا صرف اتنا لکھا تھا کہ یہ تحریر روزنامہ خبریں میں شائع ہو چکی ہے میں سید انجم شاہ یہ نہین جانتا کہ مذکورہ بالا تحریر روزنامہ خبریں میں کب شائع ہوئی اور کن صاحب نے لکھی ہوئی ہے تاہم بشکریہ روزنامہخبریں کرتا ہوں Last edited by ایس اے نقوی; 26-05-09 at 11:41 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
دوستوں مذکورہ تحریر پر آپ کے خیالاے کا منتظر رہوں گا علاوہ ازیں مذکورہ بالا تحریر میری لکھی ہوئی نہ ہے
شکریہ Last edited by ایس اے نقوی; 26-05-09 at 11:48 AM. |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی تھوڑی دیر بعد آتا ہو ابھی ذرا ایک کام سے جا رہا ہوں۔
|
|
|
|
| رضی کا شکریہ ادا کیا گیا | ایس اے نقوی (26-05-09) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جسے آپ بے راہ روی سمجھتے ہیں لوگوں کی نظر میں میں سٹائل آف لائف ہے "اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین"
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (26-05-09), ام غزل (26-05-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,378
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انجم بھائی بہت ہی صاف اور واضح طور پر اس موضوع میں کہا گیا ہے کہ ہم دنیا کی روشنیوں اور آسائشوںمیں اتنا کھو چکے ہیں کہ ہمیں اس دائمی زندگی میں ہی اپنی آخرت یاد نہیں رہی ، ہم یکسر نظر انداز کرچکے ہیں کہ !
’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے ‘‘ یہاں جو بوئے گا آخرت میں وہی کاٹے گا ، آج انسان دنیا کی عیش و عشرت اور مال و دولت میں اتنا گم ہوچکا ہے کہ موت کی حقیقت اور آخرت کے دن کی سچائی پر شائد ہی اس کو کبھی ایک جُھر جھری بھی آئی ہو ،ہم سب جانتے ہیں کہ موت برحق ہے اور جس دن موت آئے گی اور ہم مرجائیں گے ، یہ مال و دولت یہ عیش و عشرت ، سب یہیںدنیا میں رہ جائیںگے ، کچھ اگر ہمارے ساتھ جائے گا تو وہ ہیں ہمارے اعمال ، پھر بھی ہم مال ودو لت کو اکٹھا کرنے میں ابدی زندگی کو کیوں برباد کرتے ہیں ، یعنی ہم جانتے بوجھتے اپنی حقیقت سے نظریں چُراتے ہیں کیوں ؟؟؟؟؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ غزل اور رازی آپ کا اور ان احباب کو جنہوں نے صرف پڑھا ہے کچھ کہا نہیں یا ہو سکتا ہے کہ لکھتے وقت میں بات سمجھا نہیں پایا ان صاحبان کو
تاہم تمام ممبران کا شکریہ مزید دوستوں کا منتظر ہوں |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی بہت اچھی تحریر شئر کرنے پر شکریہ
ام غزل کی بات بالکل ٹھیک ہے "دنیا آخرت کی کھیتی ہے " ہمیں اس دنیا میں ایک بات ہر وقت ذہن میں رکھنا ضروری ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور شاہ جی حضرت فرماتے ہیں تم میں سے کون جانتا ہے موت کب آئے گی ؟؟ جواب ظاہر ہے ایک پل کا پتہ نہیں ہے تو بھائی اس سفر کی ہمہ وقت تیاری رکھو
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, پیارے, پاک, قرآن, نماز, نظر, موت, موجودہ, آج, اللہ, انسان, اشعار, بھائی, تحریر, جواب, حال, حدیث, رفتار, رات, زندگی, سفر, شام, عزت, غزل, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|