| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,035
کمائي: 21,477
شکریہ: 3,240
791 مراسلہ میں 2,315 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نکاح کے بعد بیوی کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری خاوند پر عائد ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: خوشحال کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق اخراجات پورے کرے اور تنگدست اللہ کی دی ہوئی حیثیت کے مطابق خرچہ دے (الطلاق : 7)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بات کی تلقین فرمائی ہے حدیث میں ہے: ”بیوی کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے اخراجات کو پورا کرے اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پورے ادا نہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدن سے انہیں پورا کرسکتی ہے جیسا کہ حضرت ھند بنت عتبہ رضی اللہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند کے متعلق شکایت کی کہ میرا خاوندابو سفیان رضی اللہ عنہ گھریلو اخراجات پورے طور پر ادا نہیں کرتا تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اس کی آمدن سے اتنی رقم اس کی اجازت کے بغیر لے لوں جس سے گھر کا نظام چل سکے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ہاں ! اس کے مال سے اس کی اجازت ے بغیر اتنا لے سکتی ہو جس سے معروف طریقہ کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کی گزر اوقات ہو سکے یعنی گھر کا نظام چل سکے (صحیح بخاری التفات:5364) امام بخاری نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے : اگر خاوند اخراجات پورے نہ کرے تو بیوی کیلئے جائز ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے اس قدر لے لے جس سے معروف طریقہ کے مطابق اہل خانہ کا گزرا ہو سکے“ مندرجہ بالا احادیث کے پیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنی رقم لے سکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کیلئے ہے فضولیات کے نہیں نیز اگر ایسا کرنے سے بیوی خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کے کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ بیوی خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے ،اس بات کا فیصلہ بیوی خود کر سکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے ، بہرحال ایسے حالات میں ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بیوی کو اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے جس سے معروف طریقہ کے مطابق گزر اوقات ہو سکے۔ (واللہ اعلم)
__________________
صراط الھدیٰ فورم
www.siratulhuda.com اردو یونیکوڈ تحریر میں بنیادی دینی ، اخلاقی و اصلاحی تعلیمات اور سائینس و انفارمیشن ٹکنالوجی کی نفع مند معلومات کی ترسیل کا مرکز Last edited by ابن آدم; 25-05-09 at 01:07 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ایک سنجیدہ موضوع کے آخیر میں:
باجیاں موجیں کریں لکھ کر آپ نے سارا مزا خراب کردیا۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 1,035
کمائي: 21,477
شکریہ: 3,240
791 مراسلہ میں 2,315 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائی نشاندہی کا شکریہ دیکھیں مذکورہ الفاظ حذف کردئیے ہیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابن آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,588
کمائي: 157,695
شکریہ: 8,069
5,022 مراسلہ میں 19,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس معاملے میں ایک بات پوچھنی تھی ۔
کہ اگر شوہر خرچے کے لیے پیسے بیوی کو دیتا ے ۔ تو تمام خرچے کا حساب شوہر کو دینے کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ یا اس خرچے کے پیسوں میں سے کچھ پیسے بیوی جوڑ لے مشکل وقت کے لیے یا صدقہ کرے تو شوہر کو بتا نا ضروری ہے یا نہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بیوی اپنے مرد کے مال میں سے بغیر اجازت کچھ صدقہ خیرات کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بیوی اپنے مرد کے مال میں سے بغیر اجازت کچھ صدقہ خیرات کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرے پاس سند تو نہیں ہے نہ ہی حدیث کیونکہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے۔ لیکن جتنا کچھ پڑھا اس کے مطابق بیوی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنے شوہر/باپ/بھائی کی کمائی میں سے کچھ بغیر اجازت دے۔ باقی ماں اپنی اولاد کی کمائی میں سے شائد کچھ دے سکتی ہے کیونکہ ایک واقع میں حضور
نے (مفہوم کچھ اس طرح سے ہے) فیصلہ دیتے ہوئے اولاد کی کمائی کو باپ کا حق کہا تھا۔ علماء ان دونوں معاملات پر مزید روشنی ڈال سکتے ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر جی اچھا سوال اٹھایا آپ نے جس بھائی کو معلوم ہو بتا دیں مستند جواب کت منتظر رہیں گے۔
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بھائیو بہنو ، ماشاء اللہ بڑٰ ی اچھی اچھی باتیں سمجھی جا رہی ہیں ، یہ ایسے معاملات ہیں جو ہماری معاشرتی زندگی میں انتہائی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور دیگر کئی معاملات کی طرح ہم ان کے بارے میں کچھ ٹھیک معلومات نہیں رکھتے ، آپ صاحبان دو معاملات پر گفتگو کر رہے ہیں ::: (۱) کیا بیوی خاوند کی طرف سے دیے گئے خرچے کے پیسوں کا حساب خاوند کو دینے کی پابند ہے ؟ (۲) کیا بیوی خاوند کی طرف سے دیے گئے خرچے میں سے کچھ صدقہ خیرات کر سکتی ہے ؟ (۳) کیا بیوی خاوند کے مال میں سے کچھ صدقہ خیرات کر سکتی ہے ؟ پہلے دو سوالات کا معاملات کا جواب یہ ہے کہ ::: اگر خاوند نے بیوی کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ خرچ کا حساب دے گی تو بیوی کو یہ حساب دینا ہو گا ، اور اگر خاوند نے خرچے کے لیے دیے جانے والے مال کے بارے کسی خاص مد میں خرچ کرنے کی پابند ی لگائی ہو ، یعنی ، کچھ ایسا کہا ہو کہ یہ مال صرف گھر کے خرچے کے لیے ہے ، یا فُلاں فُلاں کام کے لیے ہے تو بیوی اس مال کو اسی مد میں خرچ کرنے کی پابند ہو گی ، کیونکہ یہ مال اصلا تو خاوند کا ہے اور وہ عورت کو کسی یا کچھ کاموں میں استعمال کے لیے امانت کے طور پر دے رہا ہے ، پس عورت پر اس امانت کی ادائیگی فرض ہے ، ::::: دلیل ::::: ((((( إِنَّ ٱللَّهَ يَأمُرُكُم أَن تُؤدُّوا ٱلأَمَانَاتِ إِلَىۤ أَهلِهَا وَإِذَا حَكَمتُم بَينَ ٱلنَّاسِ أَن تَحكُمُوا بِٱلعَدلِ إِنَّ ٱللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُم بِهِ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ سَمِيعاً بَصِيراً ::::: بے شک اللہ تم لوگوں کو حُکم دیتا ہے کہ جس کی امانت ہو وہ اس کو ادا کرو اور جب تُم لوگ کسی معاملے میں لوگوں کے درمیان کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرواللہ جس کے ذریعے تم لوگوں کو نصیحت کرتا ہےیقیناً وہ سب سے بہترین ہے بے شک اللہ( سب سے زیادہ اور سب ہی کچھ )سنتا اور دیکھتا ہے ))))) سورت النساء / آیت ۵۸ ، اور اللہ تعالیٰ نے امانت ادا کرنا ایمان والوں کی صفات میں قرار دیا ، یعنی جو امانت ادا نہیں کرتا وہ اللہ کے ہاں ایمان والوں میں شمار نہیں ہوگا ::: ((((( قَد أَفلَحَ المُؤمِنُونَ ::: یقیناً ایمان والے کامیابی پائیں گے(1) الَّذِینَ ہُم فِی صَلَاتِہِم خَاشِعُونَ ::: وہ جو اُن کی نماز میں(اللہ) سے ڈرتے ہیں (2) وَالَّذِینَ ہُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِضُونَ ::: وہ جو بےکار (باتوں اور کاموں) سے (جن کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا اُن سے) مُنہ پھیرے رہتے ہیں (3) وَالَّذِینَ ہُم لِلزَّکَاۃِ فَاعِلُونَ ::: وہ جو اپنی زکوۃ کی ادائیگی کرتے ہیں (4) وَالَّذِینَ ہُم لِفُرُوجِہِم حَافِظُونَ ::: وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں (5) إِلَّا عَلَی أَزوَاجِہِم أو مَا مَلَکَت أَیمَانُہُم فَإِنَّہُم غَیرُ مَلُومِینَ ::: سوائے اپنی بیویوں کے یا (اُن عورتوں کے )جو ان کے سیدہے ہاتھ کی ملکیت ہوں تو یقیناً یہ لوگ کسی ملامت کے حق دار نہیں (6) فَمَنِ ابتَغَی وَرَاء ذَلِکَ فَأُولَئِکَ ہُمُ العَادُونَ ::: پس جس نے ان کے علاوہ کسی اور طور پر (جنسی تعلق قائم ) کیا تو وہ ہی لوگ (اللہ کی مقرر کردہ) حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں (7) وَالَّذِینَ ہُم لِأَمَانَاتِہِم وَعَہدِہِم رَاعُونَ ::: وہ جو اپنی امانتوں کی دیکھ بھال کرنے والے ہیں (یعنی امانتیں ادا کرتے ہیں ) ( 8 ) وَالَّذِینَ ہُم عَلَی صَلَوَاتِہِم یُحَافِظُونَ ::: وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں(9) أُولَئِکَ ہُمُ الوَارِثُونَ ::: یہ ہی ہیں وارث (10) الَّذِینَ یَرِثُونَ الفِردَوسَ ہُم فِیہَا خَالِدُونَ ::: وہ (وارث) جو (جنت) فردوس کے وارث ہوں گے (اور) ہمیشہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے (11) ))))) سورت المؤمنون ، امانت کی ادائیگی کے معاملے میں صاحب امانت کاحق بہت عظیم ہے ،حتی کہ اگر کوئی امانت والا خود اپنی جگہ لوگوں کی امانت اداد کرنے والا نہ ہو ، یا عین اُس شخص کی امانت میں ہی خیانت کرتا ہو یا کر چکا ہو، پھر بھی جس کے پاس اس (خیانت کرنے والے )کی امانت ہے اُس پر فرض ہے کہ وہ صاحب امانت کی امانت مکمل طور پر ادا کرے ، ::::: دلیل ::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا حُکم مبارک ((((( أَدِّ الْأَمَانَةَ إلى مَن ائْتَمَنَكَ ولا تَخُن مَن خَانَكَ ::: جوتُمہیں (اپنا) مانت دار بنائے اس کی امانت ادا کرو اور جو تُم سے خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرو ))))) سُنن ابو داؤد /کتاب الاجارۃ / باب ۴۵ ، درجہء حدیث حسن صحیح ، السلسلہ الاحادیث الصحیحہ / حدیث ۴۲۳ ، اور اگر خاوند نے جو مال بیوی کو دیا ہے اس میں کسی قسم کی کوئی پابندی یا شرط نہیں ، یا بیوی کو اس کے ذاتی جیب خرچ کے طور پر دیا ہے تو وہ مال بیوی کا ہو گیا ، جس طرح چاہے اس کو استعمال کرے ، اپنے اس استعمال کے بارے میں وہ اللہ کو جواب دہ ہو گی ، پس یہ خیال رکھے کہ وہ اپنا مال کہاں خرچ کر رہی ہے ، اس کے بعد تیسرے معاملے کا حُکم سمجھتے ہیں ، کہ ، کیا بیوی خاوند کے مال میں سے کچھ صدقہ خیرات کر سکتی ہے ؟ تو اس کا جواب ہے """ جی ہاں بالکل کر سکتی ہے """ وہ مال جو خاوند کا ہے ، خالصتاً خاوند کا ، یعنی ایسا مال جو خاوند نے کسی بھی طور اور کسی بھی مد میں بیوی کو نہ دیا ہو ، اس مال میں سے بھی بیوی صدقہ و خیرات میں خرچ کر سکتی ہے ، اس مسئلہ کے حُکم کی دلیل میں نے """ حقوق الزوجین """ کے سلسلے میں """ خاوند کے حقوق """ میں بیان کی تھی ، گو کہ وہاں اس دلیل سے کچھ اور مسائل اخذ کیے گئے تھے ، لیکن ہمارےیہاں زیر مطالعہ و زیرتفہیم مسئلہ کا جواب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ان فرامین مبارکہ میں موجود ہے ::: ((((( لَا یَحِلُّ لِلمَرأَۃِ أَن تَصُومَ وَزَوجُہَا شَاہِدٌ إلا بِإِذنِہِ ولا تَأْذَنَ فی بَیتِہِ إلا بِإِذنِہِ وما أَنفَقَت من نَفَقَۃٍ عَن غَیرِ أَمرِہِ فإنہ یؤدی إلِیہ شَطرُہُ ::: کِسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں ، اُس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے ، اور نہ ہی کِسی کوخاوند کی اجازت کے بغیرخاوند کے گھر میں داخل کرے ، اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر کچھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتی ہے تو اُس خرچ کے ثواب میں سے خاوند کو بھی حصہ ملے گا ))))) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ُ کی روایت ہے ، صحیح البخاری/حدیث 5195/کتاب النکاح / باب 86، (۲) ((((( لا تَصُم المَرأۃُ و بَعلُھا شاھدٌ إِلَّا بِإِذنِہِ ، ولا تأذن فی بَیتِہِ و ھُوَ شاھدٌ إِلَّا بِإِذنِہِ ، و مَا أنفَقَت مِن کَسبِہِ مِن غَیرِ أمرِہِ فَإِنَّ نَصف َ أجرِہِ لَہ ُ ::: کوئی عورت اپنے خاوند کی موجودگی میں ، اُس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھے ، اور نہ ہی کِسی کوخاوند کی موجودگی میں خاوندکی اجازت کے بغیرخاوند کے گھر میں داخل کرے ، اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی کمائی میں سے خاوند کی اجازت کے بغیر کچھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتی ہے تو اُسکے ثواب میں آدھا حصہ خاوند کوملے گا ( اور آدھا بیوی کو))))) حدیث کا پہلا حصہ ، صحیح البخاری /حدیث5192 /کتاب النکاح /باب84 ، اور مکمل حدیث، صحیح مسلم / حدیث 1026 / کتاب الزکاۃ /باب 26 ، ان شاء اللہ ، یہ معلومات آپ صاحبان کے سوالات کے جواب کے طور پر کفایت کریں گی ، اگر مزید کوئی اشکال ہو تو ان شاء اللہ مزید حصول علم کی کوشش کریں گے ، آپ سب کی دُعاؤں کا طلبگار ، آپ کا والسلام علیکم۔ |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| color, فرض, نماز, نظر, مکمل, ماں, مسائل, معلوم, ایمان, اللہ, بہترین, بھائی, جواب, حدیث, حدیث نبوی, حسن, خواتین, روزہ, زندگی, شخص, عورت, صفات, صحیح, صدقہ, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک | جاویداسد | خبریں | 0 | 15-12-10 07:41 PM |
| سٹار پلس کیبل پر بند ہونے سے خواتین کا دماغی توازن درست ہونا شروع ہوگیا | جاویداسد | خبریں | 14 | 19-09-10 05:51 PM |
| خواتین متوجہ ہوں ۔۔ | جیو | گپ شپ | 20 | 17-04-09 02:00 AM |
| قیدی خواتین اور بچّوں پر خصوصی توجہ دی جائے، توقیر فاطمہ بھٹو | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 02-07-08 01:43 PM |