واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


خبطِ عظمت کا جنون !!,,,,آخر کیوں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-05-09, 11:10 AM   #1
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,147
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default خبطِ عظمت کا جنون !!,,,,آخر کیوں؟

خبطِ عظمت کا جنون !!,,,,آخر کیوں؟

پیارے قارئین آج کے سنڈے میں شائع ہونی والی رؤف کلاسرا کی یہ تحریر آپ کی نذر کرنے کی جسارت کررہا ہوں‌۔
جناب رؤف کلاسرا صاحب سے پیشگی معذرت!

جب سے سوات میں صوفی محمد کے بارہ بیٹوں میں سے ایک بیٹے 40 سالہ کفایت اللہ کے وہاں جاری آپریشن میں مارے جانے کی خبر آئی ہے، میں بیٹھا یہ سوچ رہا ہوں کہ بعض دفعہ خبطِ عظمت کے جنون کا شکار لوگ کیسے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ اپنے جیسے دیگر بیگناہ اور معصوم لوگوں کیلئے تباہی اور بربادی لیکر آتے ہیں۔ اپنے اردگرد پھیلی معصوم لاشوں کے درمیان کھڑے ہوکر بڑے فخر سے یہ کردار اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ خدا نے انہیں کسی بہت بڑے مقصد کیلئے پیدا کیا تھا اور اس کیلئے اگر انہیں اپنے بیٹے کی قربانی دینی بھی پڑ جائے تو بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ ان سے کوئی نہیں پوچھتا جو کسی خبطِ عظمت کا شکار انسان کی ذہنی عیاشی کا شکار ہو کر بے موت مارے گئے کہ کیا وہ اس لیے پیدا ہوئے تھے کہ وہ کسی ایک شخص کی اپنی تخلیق کردہ دنیا کو پہلے قائم کرنے اور پھر اس کو بچانے کیلئے کسی طرف سے آنے والی ایک اندھی گولی کا نشانہ بن جائیں۔ بہت کم لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ صوفی محمد نے دو شادیاں کی تھیں اور ان سے اس کے بارہ بچے پیدا ہوئے۔ جب صوفی محمد نے 1990 کی دہائی میں مالا کنڈ میں شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگایا تھا تو ان کا ایک بیٹا ایسا تھا جو ان تمام سرگرمیوں سے ہمیشہ دور رہا۔ وہ کبھی بھی اپنے باپ کی اس جدوجہد میں شریک نہیں ہوا۔ وہ ایک نارمل انسان تھا اور عام انداز میں بغیر گن اٹھائے اپنی زندگی گزارنا اور دوسروں کو زندہ رہنے کے حق پر یقین رکھتا تھا۔ وہ زندگی میں پہلی اور آخری دفعہ اپنے باپ کے اس جلسے میں شریک ہوا جو اس نے مینگورہ کے گراؤنڈ میں کیا تھا جس میں صوفی صاحب نے آئین پاکستان اور اس کے جمہوری اداروں کو غیر شرعی قرار دیکر اس کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جب آپریشن شروع ہوا تو ایک گولہ کفایت اللہ کے گھر پر بھی گرا اور وہ اپنے گھر کے ملبے میں دب کر ہلاک ہو گیا۔ کفایت جو گورنمنٹ مڈل اسکول، گمباتی میں عربی کا ٹیچر تھا، آخر اسے اپنے باپ کے خبطِ عظمت کے جنون کی خاطر اپنی جان دینی پڑی۔

کسی انسان کے جنوں کا شکار ہونے کی یہ داستاں کوئی نئی نہیں ہے۔ تاریخ میں ایسے لوگ کبھی مذہب تو کبھی زباں، علاقہ، رنگت، روایات، احساس برتری اور نیشنلزم کے نام پر اپنے جیسے انسانوں کو قتل کرتے اور کراتے، انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرتے رہے ہیں۔ انسانی لہو ہمیشہ سے کسی ایک ایسے شخص کی خواہشات کی وجہ سے بہتا رہا ہے جو اپنے جیسے حکمرانوں پر اپنی مرضی کا نظام ٹھونسنے کے قائل رہے ہیں۔ جدید تاریخ میں ہٹلر سے لے کر صدام حسین اور طالبان تک ایسے لوگ یقینا موجود رہے ہیں جو اپنے نظریے کے نام پر اپنے لوگوں کیلئے تباہی لیکر آئے۔ ہٹلر بھی ایک مرحلے پر اسی جنونیت کا شکار ہوا اور اس نے پورے یورپ کو جنگ عظیم دوم کی تباہیوں کا تحفہ دیا۔ صدام حسین بھی اسی خبطِ عظمت کا اسیر ہوا اور اپنے ہی ملک کے پندرہ لاکھ بیگناہ عراقیوں کی موت کا سبب بنا۔

افغانستان میں طالبان بھی اسی انسانی کمزوری کا شکار ہوئے اور پوری دنیا سے الگ تھلگ اپنی ایک ایسی دنیا بنانے کی کوشش کی جس میں ان کے علاوہ کسی اور کو ایک نارمل زندگی گزارنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ میرے جیسے لوگوں نے بڑی واہ واہ کی کہ طالبان نے امریکہ کے آگے جھکنے سے انکار کیا اور اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے نہیں کیا۔ طالبان کے اس خبطِ عظمت کی قیمت ان دس لاکھ معصوم افغانیوں نے ادا کی جو ایک دفعہ پھر بربریت کا مظاہرہ کرنے والے امریکیوں کے ہاتھوں بے موت مارے گئے۔ یوں ایک اسامہ بن لادن کو بچانے کے نام پر لاکھوں افغانی تاریک راہوں میں مارے گئے ۔
تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ کسی ریاست نے ایک شخص کو بچانے کیلئے نہ صرف اپنے آپ کو پورا تباہ کرایا بلکہ اپنے لاکھوں شہریوں کو بھی تباہی اور بربادی کا شکار کر کے لوگوں سے داد وصول کی ۔ اسی طرح جب لال مسجد میں آپریشن کیا جا رہا تھا تو بھی وہاں پر مقیم دو بھائی اسی طرح کی عظمت کے احساس سے لبریز بغیر یہ سوچے سمجھے کہ اس سے کتنی بیگناہ جانیں جا سکتی ہیں، لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔ جہاں جنرل مشرف کی حکومت نے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا ۔ جب ان دو بھائیوں کی ماں اپنے بیٹوں کے اس احساس عظمت کی قیمت آپریشن کے دوران ایک لگنے والی گولی سے مرتے ہوئے ادا کر رہی تھی تو بھی یہ بھائی اپنے آپ کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ اپنے خاندان کے لوگوں کو مروائے بغیر وہ عظیم مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے جس کیلئے وہ سب کچھ داؤ پر لگا چکے تھے۔ اس آپریشن میں مولانا عبدالعزیز کا ایک جواں سالہ بیٹا بھی مارا گیا جو اپنے والد اور چچا کے خوابوں کی تکمیل میں اتنا آگے جا چکا تھا کہ اسے کبھی اس بات کے سوچنے اور سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ اسے کس قسم کا مستقبل اور زندگی چاہیے تھی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجھے نہیں پتہ ان معصوم بچوں کو کبھی ہمارے جیسے والدین نے ایک ایسا انسان بنانے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ خود بھی زندہ رہیں اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے کا حق دیں۔

مجھے علم نہیں ہے کہ جب یہ خبر صوفی محمد تک پہنچی ہوگی تو ان کا چالیس سالہ بیٹا جو کبھی بھی اس کی جدوجہد میں شامل نہیں ہوا وہ مارا گیا تھا تو ان پر کیا بیتی ہوگی۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس خبر کو اللہ کی رضا قرار دیدیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قدرت صوفی محمد کو یہ یاد دلانا چاہتی ہو کہ ان والدین پر کیا گزری ہوگی جن کے دس ہزار بچوں کو وہ 9/11 کے بعد افغانستان میں امریکی بمبار طیاروں سے لڑنے کیلئے لے گیا تھا جن میں سے ایک بھی زندہ واپس نہیں آیا۔ شاید قدرت انہیں افغانستان سے اس لیے زندہ واپس لے آئی تھی کہ ایک دن وہ اپنے اس بیٹے کی موت کی خبر سنے جو ان کے خیالات اور تحریک کا کبھی حامی نہیں رہا تھا۔ تاہم مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ایسے شخص کیلئے جس نے دوسروں کے دس ہزار بچے امریکی طیاروں کی بمباری کے سامنے ایک لمحے میں مروا دیئے ہوں اس کیلئے اس طرح کی خبر شاید ایک معمولی سی بات ہو کیونکہ ایک باپ کیلئے تو اپنے اور کسی دوسرے کے بچے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
خبطِ عظمت کے جنون کے شکار انسان اپنے جھوٹے یا سچے عقائد اور خیالات کیلئے اگر خود مارے جائیں تو شاید کسی کو کوئی گلہ یا شکایت نہ ہو لیکن اگر ان کے اس جنون کی قیمت ان کے اپنے اور دوسروں کے بیگناہ بچے ادا کرتے ہوئے مارے جائیں تو پھر یقینا تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بچے بھی جانتے بوجھتے اپنے والدین کے خبطِ عظمت کے جنوں کی قیمت اپنا لہو بہا کر شاید اس لیے بھی ادا کر جاتے ہیں کہ ہر بچے کا پہلا ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے اور کوئی بھی ہیرو کو ناکام ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس ہیرو کے نزدیک اس کے اپنے یا دوسروں کے بچے محض اس کے خوابوں کی تکمیل کو پورا کرنے کیلئے مارے جانے کیلئے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے جنونی کرداروں کے نزدیک اپنے اور دوسروں کے بچوں کی ذاتی خواہشات اور ایک اچھی زندگی گزارنے کے خواب ان کے اپنے جنون کے سامنے کوئی قیمت نہیں رکھتے!!

Last edited by shafresha; 10-05-09 at 11:12 AM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-11-09), شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 10-05-09, 03:53 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (30-11-09)
پرانا 13-05-09, 03:11 AM   #3
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,705
شکریہ: 8,791
2,969 مراسلہ میں 10,824 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادرم رؤف کلاسرا کا کالم ناشتے کی میز پر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ چاچا کمال اسے ضرور پاک نیٹ پر لگائیں گے لیکن شاہد بھائی آپ سبقت لے گئے۔
طالبان یا امریکہ، اصلی اور نقلی طالبان، فوجی آپریشن درست یا غلط ان تمام باتوں‌ پر حسب معمول کسی انجام تک نہ پہنچنے والی گفتگو شروع کی جا سکتی ہے لیکن میں کالم نگار کے خیالات پر حیران ہوں۔ ان کے استدلال کے زور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خبط عظمت کے شکارمحمد علی جناح نے پاکستان کی قیمت چودہ لاکھ انسانی جانوں کی شکل میں ادا کی، خبط عظمت کی شکار بے نظیر کو اپنے بچوں کا خیال ہوتا تو گولی کا نشانہ نہ بنتی، عبدالقدیر خان کے سر میں عظمت کا بھوت نہ سمایا ہوتا تو وہ ایٹم بم بنا کر اپنے گلے میں مصیبت نہ ڈالتا۔ اس سوچ کی زد براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر پڑتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے اکلوتے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ جہاد پر بھیجا حتی کہ غزوہ موتہ میں ان کی شہادت ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی جعفر طیار رضی اللہ عنہ اسی معرکے میں‌شہید ہوئے۔ جنگ بدر اور احد میں‌ کئی صحابہ نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ضرورت سے زیادہ "سیانے" لوگوں نے اس وقت بھی اسی قسم کی باتیں کی تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا حصہ بنا دیا کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ اس قسم کے فلسفے قیامت تک پیش کیے جاتے رہیں گے تو فرمایا:
إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـؤُلاَءِ دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فَإِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ الانفال 49
" جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں‌روگ لگا ہوا ہے کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقینا اللہ بڑا زبردست اور حکیم ہے"
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-05-09), ابرارحسین (01-07-09), حیدر (30-11-09), سحر (30-11-09), شاہ جی 90 (30-11-09), طاھر (30-11-09), عامرشہزاد (30-11-09), عبداللہ خراسانی (01-07-09)
کمائي نے عبداللہ حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
30-11-09 شاہ جی 90 حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقینا اللہ بڑا زبردست اور حکیم ہے" 150
پرانا 13-05-09, 10:26 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,147
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
برادرم رؤف کلاسرا کا کالم ناشتے کی میز پر پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ چاچا کمال اسے ضرور پاک نیٹ پر لگائیں گے لیکن شاہد بھائی آپ سبقت لے گئے۔
طالبان یا امریکہ، اصلی اور نقلی طالبان، فوجی آپریشن درست یا غلط ان تمام باتوں‌ پر حسب معمول کسی انجام تک نہ پہنچنے والی گفتگو شروع کی جا سکتی ہے لیکن میں کالم نگار کے خیالات پر حیران ہوں۔ ان کے استدلال کے زور پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ خبط عظمت کے شکارمحمد علی جناح نے پاکستان کی قیمت چودہ لاکھ انسانی جانوں کی شکل میں ادا کی، خبط عظمت کی شکار بے نظیر کو اپنے بچوں کا خیال ہوتا تو گولی کا نشانہ نہ بنتی، عبدالقدیر خان کے سر میں عظمت کا بھوت نہ سمایا ہوتا تو وہ ایٹم بم بنا کر اپنے گلے میں مصیبت نہ ڈالتا۔ اس سوچ کی زد براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر پڑتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے اکلوتے منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ جہاد پر بھیجا حتی کہ غزوہ موتہ میں ان کی شہادت ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی جعفر طیار رضی اللہ عنہ اسی معرکے میں‌شہید ہوئے۔ جنگ بدر اور احد میں‌ کئی صحابہ نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ضرورت سے زیادہ "سیانے" لوگوں نے اس وقت بھی اسی قسم کی باتیں کی تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کا حصہ بنا دیا کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ اس قسم کے فلسفے قیامت تک پیش کیے جاتے رہیں گے تو فرمایا:
إِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَـؤُلاَءِ دِينُهُمْ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ فَإِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ الانفال 49
" جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں‌روگ لگا ہوا ہے کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقینا اللہ بڑا زبردست اور حکیم ہے"

اس کام کو اس کی اشاعت کے فورا بعد ہی پاک نیٹ‌پر لگاتے وقت مجھےاس بات کا پورا یقین تھا کے مندرجہ بالا خیالات پر مبنی جواب آپ کی یا عادل سہیل بھائی کی جانب سے ضرور آئے گا، مگر مجھے کہنے دیجیئے "دیر کی مہربان آتے آتے"۔

نا ہی آپ اپنے ممدوح ملا عمراور صوفی محمد یا دیگر سے ملے ہیں‌اور نہ ہی مجھے یہ شرف حاصل ہوسکا ہے۔ اُن کی مخالفت اور حمایت میں‌آپ کی اور ہمارے جانب سے کی جانے والی ساری کوششیں دراصل میڈیا یا ذاتی زرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کے آپ اور آپ کے ہم خیال افراد کے خیال میں‌ مُلا عمر، صوفی محمد، جیسے دیگر خود ساختہ امیر المومنین، اور مجتہدین کی مخالفت کرنے والے اگر کافر نہیں‌بھی ہیں تو کم از کم "گمراہ" اور "ناعاقبت اندیش" تو ضرور ہیں۔
جبکےمیری دانست میں‌ ان جیسے لوگوں‌کے ہر قول اور فعل کی عوام کے نزدیک قابل قبول وضاحت پر مامور آپ اور دیگر افراد سادہ لوحی کا شکار ہیں، اور بہرحال مسلمان ہیں۔

اللہ عزوجل ہماری نیتوں سے واقف ہے۔ تاریخ ہی اس کا فیصلہ کرے گی کےان "لارنس آف پاکستان" کو درپردہ کس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کے ان بچاروں کو خود بھی پتہ نہ ہو۔

کچھ اندازہ اس کالم سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔
اسلام کو قابلٍ نفرت بنانے کی ایک سازش

جواب کا منتظر!
شاہد علی صدیقی

Last edited by shafresha; 13-05-09 at 10:37 AM. وجہ: چند اعراب کی تصیح
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-11-09), منتظمین (13-05-09), حیدر (30-11-09), شاہ جی 90 (30-11-09)
کمائي نے shafresha کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-12-09 شاہ جی 90 سچ لکھنے پر ''"لارنس آف پاکستان" کو درپردہ کس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ 150
پرانا 30-11-09, 11:31 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,784
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کا جمہوری نظام کافرانہ ہے۔ پھر یہی لوگ اجتہاد ، مجلس شوری، اور باہمی مشورہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں نہ صرف تضاد رکھتی ہیں بلکہ ان لوگوں‌کی بدنیتی کی غماز بھی ہیں۔

اگر ان کو اتنا زیادہ دکھ ہے پاکساتن میں جمہوریت پر تو اس سے بڑی جمہوریت تو ہندوستان میں قائم ہے ۔ ہندوستان ہے بھی پاکستان کے خلاف۔

ان لوگوں کو چاہئیے کہ یا تو روس کا رخ کریں یا پھر ہندوستان کا۔ کہ کچھ فائیدہ اور کچھ ثواب دونوں ہوں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (01-12-09)
پرانا 30-11-09, 10:38 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک مرتبہ ہم دوست گاڑی میں ہائی وے پر سفر کر رہے تھے کہ ساتھ کی گاڑی کے اندر نظر پڑی۔ اس کا ڈرائیور اور فرنٹ سیٹ پسنجر سیٹ بیلٹ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میرا دوست قہقہ لگا کر ہنسا اور ان کا گویا مذاق اڑاتے ہوئے بولا ان بیوقوفوں کو دیکھو ادھر بھی سیٹ بیلٹ لگا کر بیٹھے ہیں ۔ میں نے دوست سے کہا میرے بھائی عجیب بات ہے جو درست کر رہے ہیں انکو آپ غلط کہہ رہے ہو۔وہ قانون پر عمل کر رہے ہیں۔
اسی طرح اسی دوست کے ساتھ ایک مرتبہ لاہور جانے کا موقع ملا۔ صبح صبح کا وقت تھا۔ میں باوجود خآلی روڈز کے ہونے کے سگنلز پر رُکا۔ اس پر مجھے اپنے دوست سے مذاق کا نشانہ بننا پڑ گیا۔ ایک سگنل پر رکا ۔تو مجھ سے پیچھے والی گاڑی نے ہارن بجا بجا کر سر میں درد ڈال دیا۔ اور پھر انتہائی خطرناک ٹرن لے کر مجھے برا بھلا کہتے نکل گئے۔
ایک لیکچرر تھے ہمارے ،سادہ طبعیت کے، کلاس میں محنت کرنے والے، ٹیوشن پر یقین نہ رکھنے والے اور کلاس کے بعد بھی طلبہ کی مدد کرنے والے۔ نتیجہ سفید پوشی کی زندگی۔ ایک مرتبہ دوستوں کی محفل جمی۔ تو استادوں کا تذکرہ آ گیا۔ ایک دوست انکے حالات زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا مضحکہ اڑایا کہ وہ ہیں ہی ناکام بندے۔ انکو کچھ کرنا ہی نہیں آتا۔ مجھے حیرانگی ہوئی اور دوست سے استفسار کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جو استاد کلاس میں توجہ نہیں دیتے اور ٹیشن پڑھاتے ہیں پھر وہ اچھے ہیں؟ خفیف ہو کر کہنے لگا کہ یاد زمانے کا دستور یہی ہے۔ کمانے کے لیے کچھ تو کرنا پڑتا ہے۔
اسی فورم پر میں ٹاپکس کے نام اور پوسٹس بتا سکتا ہوں کہ جب دنیاوی خداؤں کے اندھے مقلد اپنے خداؤں کی واضح حماقتوں، غلطیوں ، گناہوں کی تاویل و تائید کرتے پائے جاتے ہیں۔ اس معاشرے کو ایسے لوگ تو قبول ہیں مگر درست حق کام کرنے والے قطعا قبول نہیں۔
یہ ہمارے معاشرے کی عجب دو رنگی ہے۔ ہم درست کام کرنے والے کو غلط اور غلط کام کو درست سمجھتے ہیں۔
معذرت کے ساتھ ۔ مجھے نہ صوفی محمد سے ہمدردی ہے نہ عبدالرشید غازی سے نہ طالبان سے۔مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اس معاشرے کے افراد کی اکثریت ذہنی مریض ہے۔ان کو جتنا سمجھا لو انکی سوئی وہیں پر اتکی رہتی ہے۔کچھ ذہنی مریض اگر طالبان کا روپ اختیار کر لیتے ہیں تو کچھ ذہنی مریض جدید سیاسی پارٹیاں چلاتے ہیں۔ کچھ ذہنی مریض انٹرنیٹ کی دنیا میں پناہ لیتے ہیں تو کچھ کی تشفی محض دوسروں کو نیچا دکھانے میں ہوتی ہے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-12-09), منتظمین (30-11-09), سحر (30-11-09), طاھر (30-11-09), عامرشہزاد (30-11-09)
کمائي نے حیدر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-12-09 شاہ جی 90 کچھ ذہنی مریض اگر طالبان کا روپ اختیار کر لیتے ہیں تو کچھ ذہنی مریض جدید سیاسی پارٹیاں چلاتے ہیں۔ کچھ ذہنی مریض انٹرنیٹ کی دنیا میں پناہ لیتے 150
پرانا 30-11-09, 11:25 PM   #7
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اج تو اپ نے وسعت اللہ کے پائے کا موضوع لکھ دیا ہے۔ سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (30-11-09), شاہ جی 90 (01-12-09), عامرشہزاد (30-11-09)
پرانا 30-11-09, 11:26 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,194
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,062 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیکن اس کا کوئی اچھا سا عنوان تجویز کرنا نہ بھولیں گا۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
حیدر (30-11-09), شاہ جی 90 (01-12-09), عامرشہزاد (30-11-09)
پرانا 30-11-09, 11:42 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,553
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے ہی کہہ رہے ہیں؟
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (01-12-09), عامرشہزاد (30-11-09)
پرانا 01-12-09, 12:29 AM   #10
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,906
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بات تو یہ ہے کہ خبط عظمت جسے نفسیاتی زبان میں پیرا نوئے بھی کہتے ہیں اس میں اور ایک مقصد کی خاطر اپنے بھائیوں کی بھلائی اور بہتری کے لیئے اور خالص اللہ کی راہ میں جہاد کی نظر سے جان لٹا دینے میں بہت فرق ہے ۔ ہمیں گہری نظر سے صرف یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کسی کے کسی عمل سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے ، اگر تو اس کے اس عمل سے اس کے مسلمان بھائیوں کو اور اللہ کے دین کو فائدہ ہو رہا ہے تو پھر تو اس کے کسی بھی اقدام کو ہم مبنی بر حق کہ سکتے ہیں اور ہمیں اس کی غیر مشروط حمایت بھی کرنا چاہئیے ، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر کیئے گئے قتال اور جہاد کا فائدہ براہ راست دشمنان اسلام اٹھا رہے ہیں تو اس صورت میں تو دو ہی باتیں ممکن ہیں ۔
1۔ یہ کہ مسلمانوں کا وہ گروہ اتنا ناسمجھ اور بے وقوف تھا جو دشمن کے ہاتھوں میں کھیل گیا ۔
2۔ یہ کہ وہ مسلمان نہیں منافقین تھے اور دشمنان اسلام کے ہاتھوں میں بکے ہوے تھے ۔
مجھے بہت زیادہ افسوس ان پاکستانی بھائیوں پر ہوتا ہے جو کہ دین کی محبت میں دین کے دشمنوں کی حمایت پر اتر آتے ہیں ۔
میں آج ایک بات دعوے سے کہتا ہوں ۔ کسی بھی ملک میں اگر وہاں کے وہاں کے مقامی افراد، دہشت گردوں کی مدد نہ کریں تو دہشت گردی ہو ہی نہیں سکتی ، پاکستان میں پہلے بھی دہشت گردی کی کاروائیاں ہوتی تھیں لیکن سالوں میں ایک آدھ بار ، کیوں کہ انڈیا کو پاکستان میں اپنے بندے پلانٹ کرنے پڑتے تھے ، اب تو ان کو یہ آسانی ہے کہ انہیں بنیادی Recruitment یہیں سے مل جاتی ہے،
اب پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے یہاں ہر شہر اور گائوں میں کچھ نہ کچھ لوگ چاہے وہ بہت کم تعداد میں ہوں ایسے موجود ہیں جو کہ عام شہری کی حیثیت سے کبھی شک کی زد میں نہیں آ سکتے ،جو کہ عام لوگوں میں گھل مل کر رہتے ہیں اور کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مجرمانہ سرگرمی میں استعمال ہو سکتے ہیں لیکن اپنی اندھی عقیدت کی بنا پر دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوے دہشت گردوں کو پناہ بھی دیتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں ، میں نہیں جانتا کہ ایسا کرتے ہوے ان کے جذبات کیا ہوں گے لیکن شاید کیا یقیناً ان میں ایسے بہت سے ہوں گے جو کہ مذہبی جوش و جذبے سے یہ کام کرتے ہیں ۔ ان کی بند آنکھیں وہ خون کی ہولی دیکھ ہی نہیں سکتیں جو دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان ہمارے اپنے بھائیوں کے خون سے کھیل رہے ہیں ۔ ہماری سب سے بڑی ضرورت تو اپنے ان بھائیوں کو احساس دلانا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے دین کے دشمن کی مدد کر کے کوئی جنت نہیں کما رہے ۔
پچھلے دنوں میڈیا پر ایک خبر آئی تھی کہ RAW طالبان کی مدد کر رہی ہے ۔ موساد اور راما افغانستان سے امداد فراہم کر رہی ہیں ۔ اسرائیل اور ہندوستان مسلمانوں اور پاکستان کے کس قدر دوست ہیں یہ سمجھانے کے لیئے کسی بڑے لیکچر کی ضرورت نہیں ۔ پھر بھی ہمارے کچھ دوست ہر وقت خم ٹھونک کر اس دہشت گردی کی حمایت پر قمر بستہ نظر آتے ہیں ۔
اگر ہم اللہ کے دین کے ساتھ ، اپنے آپ کے ساتھ مخلص ہیں تو ہمیں سمجھنا ہو گا کہ دشمن ہمارے خلاف کون سی چالیں کس کس میدان میں چل رہا ہے ۔ وقت اور حالات مجھے اس سے زیادہ وضاحت کی اجازت نہیں دیتے ۔
ویسے بھی کہتے ہیں کہ عقل مند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے ۔ اور نادانوں کو بھی اتنی تفصیل سے سمجھ تو آجانا چائیے
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (01-12-09), منتظمین (01-12-09)
جواب

Tags
9/11, arabic, color, کمال, پیارے, پاک, پاکستان, قرآن, چاچا, موت, منافقین, ماں, مسجد, آپریشن, ایٹم بم, اللہ, امریکہ, بھائی, بے نظیر, بچوں, خان, خدا, طالبان, علی, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسنت منانے پر اصرار کیوں؟ ALI-OAD سیاست 4 23-02-10 07:35 AM
آخر کیوں؟ shafresha عمومی بحث 22 10-12-09 11:38 PM
شادی دیر سے کیوں؟ بھائی عمومی بحث 15 07-01-09 10:36 AM
امت مسلمہ مدد الہیٰ سے محروم کیوں؟ چیتا چالباز اسلامی عقیدہ 7 18-12-08 09:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger