| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
السلام علیکم دوستوں،
آج مورخہ 19 فروری کو روزنامہ جنگ میںجناب ہارون رشید صاحب کا یہ کالم پڑھا، اس کے بعضمندرجات سے کچھ لوگ اختلاف کرسکتے ہیں مگر مجموعی طور پر یہ ایک اچھا کالم ہے۔ میں اسے آپ لوگوں سے شئیر کرنے کی جسارت کررہا ہوں، (جنگ سے پیشگی معذرت) ================================================== ======================= ہر شام ، تقریباً ہر شام میں اس ندّی کے پانیوں کو نظر سے چومتا ہوا گزرتا ہوں، ایک شب جس کے کنارے پر محمد اعظم نے سرکارﷺ کو پورے قد سے فروزاں پایا تھا۔ اللہ اللہ خطاکاروں کی بستی کے یہ نصیب۔ ایک اصول کتاب میں لکھا ہوتا ہے اور ایک وہ ،میدانِ جنگ میں بصیرت جسے تراشتی ہے۔ گیلانی چیف جسٹس ملاقات پر جن کو اعتراض ہے، وہ کتابی اصول پر کھڑے ہیں ۔ چیف جسٹس اگر انا کے اسیر ہوتے تو ڈٹے رہتے لیکن وہ اوپر اٹھے اور پاکستانی عوام کے لیے ایک عظیم فتح حاصل کی، تاریخ میں جس کا تذکرہ انشا ء اللہ مارچ 2007ء کے ساتھ ہو گا۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے اور اس کے لشکروں کو کوئی نہیں جانتا۔جس مقدّس کتاب میں کوئی شک نہیں، وہ یہ کہتی ہے: آدمی کو اللہ نے اس کے ماتھے سے تھام رکھا ہے، Fore brain۔ اس کرّہ خاک پہ، جہاں لگ بھگ بیس ہزار برس پہلے سیدنا آدم علیہ السّلام نے قدم رکھا تھا، وہ قادر مطلق اور حیّ قیوم خیال کے ذریعے حکومت کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے : کتنے زمانے گزرے کہ انسان کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔شاید کروڑوں برس۔ کب وہ مسجودِ ملائک ہوا؟ جب 1300سی سی کی بجائے اسے 3500سی سی کا دماغ عطا ہوا۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ کاسہء سر میں دماغ پھیلنے لگا۔۔۔خودبخود، مگر قرآن کریم مطلع کرتا ہے کہ بہشتِ بریں میں یہ آدم کے ظہور کا لمحہ تھا۔ ابلیس آدمی کو جانتا تھا اور لاکھوں برس سے جانتا تھا، فرشتے بھی جانتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ خوں ریزی اور فساد کا مرتکب ہوگا۔ اس کی 22بنیادی جبلتوں کے تعامل (Interaction of instincts)کا فطری تقاضا یہی تھا۔ اسی لیے ابلیس نے برتری کا دعویٰ کیا اور جتلایا کہ وہ اسے گمراہ کرنے پہ قادر ہے۔ شیطان نے کہا کہ وہ آدم زاد کو اس کی خواہشات کے جنگل میں للچا اور بھٹکا کر مارڈالے گا۔ کہکشائیں اور آلوچے کے شگوفے کھلانے والے رب نے تردیدنہ کی اور یہ ارشاد کیا :مگر میرے مخلص بندے گمراہ نہ ہوں گے۔ ابدلآباد تک کے لیے اس دن یہ قرار پا گیا کہ اپنی کرتوں اور کارناموں کے طفیل ہر شخص برباد ہو سکتا ہے مگر صاحب اخلاص نہیں۔ شجاعت اور ذہانت، علم اور ریاضت، حکمت اور قوّت، اللہ کی بارگاہ میں سارے سکّے جھوٹے ہیں۔۔۔ اخلاص کے بغیر۔ آسمانوں او رزمینوں،دلوں اور دماغوں ، ستاروں اور کوہساروں پر جس کی حکومت ہے وہ بے نیاز ہے مگر ان سے نہیں جو اپنی خامیوں اور خطاؤں پر غور کرتے ہیں۔وہ ان سے بے نیاز نہیں، ادنیٰ ذاتی کامیابیوں کی بجائے، جو خدا اور اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں۔ایثار ان کی نشانی ہوتی ہے ۔ جبلّی تقاضوں کو شکست دے کر ظفر مندی کا علم لہرا دینے والی سخاوت۔ مخلص آدمی کی حکمت، محض حکمت نہیں بلکہ علم سے جلا پا کر فراست ہو جاتی ہے۔ فرمایا: مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔۔۔ وہ جو اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں، ان میں سے بعض کے قدموں میں بیٹھنے کا شرف اس خطاکار کو حاصل ہوا۔ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آتا، جب یقین مجروح ہو کہ 27رمضان المبارک کو تخلیق پانے والے پاکستان کا مستقبل محفوظ ہی نہیں بلکہ منور ہے ۔ ایک بش نے امریکہ کو برباد کیا اور ایک گورباچوف نے سویت یونین کو توڑ ڈالا۔ پاکستان نے کتنے بش اور گوربا چوف پالے اور اب بھی پال رہا ہے۔ محض حکمران نہیں، پورا حکمران طبقہ۔ ہر سال 3700 ارب روپے ٹیکس ہضم کرجانے والے زردار، ٹھگوں سے تین تین کروڑ روپے فیس وصول کرنے والے وکیل ۔ کاسہ لیس، جن میں سے بعض دانشور کہلاتے ہیں۔ جاگیردار جو جیتے جاگتے لہو پر جیتے ہیں ۔ انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے جج جو کلرکوں سے کم تر تھے۔ نجات کے علم لہراتے رہنما، دراصل راہزن ۔ اپنی شمشیروں کی چمک سے میدانوں کو بھر دینے والے کتنے سپاہی شمشیر فروش تھے۔ پاکستان زخمی ہے مگر ان کے باوجود زندہ ہے۔ اس لیے کہ وہ رحمٰن کی تخلیق ہے ۔۔۔ ایک شیطان کی تخلیق بھی ہے،اسرائیل ! کیا بھارت، اسرائیل اور امریکہ پاکستان کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟ تیرہ برس ہوتے ہیں،کسی نے میرا دروازہ کھٹکٹایا۔ ایک دن، دوسرے دن اور تیسرے دن۔ خواب میں اس نے سرکارﷺ کو دیکھا تھا ۔ یہاں اس ندی کے کنارے ، جس کے ایک سرے پر کہوٹہ لیبارٹریز ہے اور دوسرے پر یہ چھوٹی سی بستی، جہاں وہ میرا پڑوسی تھا، جہاں پاکستانی سائنس دانوں کی سب سے بڑی تعداد رہائش پذیر ہے ۔محمد اعظم نے بتایا "کہوٹہ سے یورینیم چرا کر بھاگتے گوروں کے تعاقب میں، جب میں ندی کے بل پر پہنچا تو یہاں سرکارﷺ کھڑے تھے، دائیں بائیں عمر ابن خطاب اور علی ابن ابی طالب ۔ فرمایا: غزوہ ہند کی نگرانی ہم خود کریں گے اور خالد بن ولیدسالار ہوں گے۔ ہموار، سادہ اور سچّی آواز والے محمد اعظم نے کہا: میں نے جسارت کی: یا رسول اللہﷺعمر ابن خطاب کیوں نہیں؟ فرمایا: وہ میرے مشیر ہوں گے۔ عرض کیا: سرکار ﷺعلی ابن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ کیوں نہیں۔ ارشاد ہوا۔ وہ خالد بن ولید کے رہبر ہوں گے۔ فتنوں کا زمانہ شروع ہو چکا۔کتاب میں لکھا ہے کہ ایک تہائی دجّال سے جا ملیں گے۔ ایک تہائی (فاسق مگر بظاہر مومن) لڑیں گے اور برباد ہوں گے، پھر ایک تہائی اٹھیں گے اور غالب آئیں گے۔ ملحدوں، مسخروں اور مولویوں سے خدا امّت محفوظ رکھے۔ میرے پاس کچھ مستند معلومات ہیں لیکن ابھی اظہار کا وقت نہیں آیا۔ اس خدا کی قسم ، جس کے قبضہء قدرت میں انسانوں کی جان اور آبرو ہے، بھارت پاکستان کو شکست دینے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ کون زرداری، کون نواز شریف، کون الطاف حسین، کون اسفند یار اور کون فضل الرحمٰن؟ ۔۔۔بساط تو کسی اور کے لیے بچھ رہی ہے ۔ ان کے لیے جو اپنے آپ سے اوپر اٹھیں گے۔ بڑے میاں کے ٹرنک میں غزوہ ہند پر لکھے 8000صفحات تھے اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں مرتب کروں لیکن وہ پھر چلے گئے۔ یہ 2جولائی 1999ء کی صبح تھی۔ رسان سے انہوں نے کہا: کوئی دن میں مارشل لاء لگے گا۔ عمران خان میرے ساتھ کی کرسی پر بیٹھے تھے جب بچوں کے سے بھولپن سے بابا جی نے افغان سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری فوزی کو بتایا: طالبان نہ رہیں گے، حضرت عمر نے کل شب جھنڈا کسی اور کو تھما دیا ۔ اس نے گھبرا کر کہا:ہارون صاحب ، کیا میں کشمیر چلا جاؤں؟ بندوں کے اپنے منصوبے ہیں اور خدا کے اپنے ، الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ کل شب پیپلز پارٹی کا لیڈر چلّایا ۔" خلقِ خدا کا فیصلہ خدا کا فیصلہ ہے"عرض کیا :خلقت کہاں، اب تو صرف خد اہے۔ مقدرات غالب آچکے۔ طنابیں ٹوٹ گئیں اور تاریخی قوتیں بے لگام ہوچکیں۔ ہر روز میں اس ندی کو نظروں سے چومتا ہوا گزرتا ہوں، ایک شب جس کے پانیوں پر محمد اعظم نے سرکارﷺ کو پورے قد سے فروزاں پایا تھا۔ محمدا عظم تم کہاں ہو؟ آؤ مجھے بتاؤ کہ سرکار ﷺ کہاں کھڑے تھے کہ خاک پہ اپنا سر رکھ دوں ۔۔۔ اسے چوم لوں اور کہوٹہ سے بہہ کر آنے والی ندّی کے پانیوں سے پوچھوں: کیا 27رمضان المبارک کے دن پیدا ہونے والا پاکستان اتنا بے وقعت ہے کہ ایک نوسرباز اسے لے اڑے؟ Last edited by shafresha; 19-02-10 at 11:58 AM. وجہ: چند الفاظ کی تصیح |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
کنفیوز سی تحریر لگی ہے مجھے۔اپنے اور سرکار کے غیبی قصوں اور پہیلیوں کی بجائے کھل کر بات کرتے تو شاید بیتر ہوتا
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستانی, قدم, لوگ, نظر, محبت, آدمی, اللہ, المبارک, انسان, انشا, امریکہ, بچوں, خان, خدا, رمضان, زمانہ, سال, شام, شخص, طالبان, عمران, عمران خان, صفحات, صبح, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ | Nasiwise | عمومی سائنس | 111 | 06-10-11 04:36 PM |
| اگر آپ اپنا نام رکھتے تو کوں سا رکھتے | پیاسا | گپ شپ | 46 | 28-05-11 10:58 PM |
| فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں | میاں شاہد | احمد فراز | 8 | 07-02-09 04:21 AM |
| سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں | میاں شاہد | احمد فراز | 3 | 07-04-08 06:12 AM |