توہین آمیز رپورٹ,,,,
توہین آمیز رپورٹ,,,,
توہین آمیز رپورٹ,,,,
فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حال ہی میں تقریباً سوا سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں تعصب اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔یہ پاکستان میں ہی رہنے والے اُن لوگوں اور اُن نام نہاد این جی اوز کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے جو پاکستان میں رہنے کے باوجود بھارت سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کے لئے قربانی دینے والے لاکھوں شہیدوں کے خون کو یکسر نظر انداز کرکے بھارتی تہواروں پر بھارتیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر بندر کی طرح ناچتے ہیں ۔ اِس رپورٹ کا لُبّ لباب یہ ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے،
(یہ ہے انجام پاکستان کو بیچنے کا ) بھارت میں دہشت گردی کی جتنی بھی کارروائیاں ہوئیں اُن کا ذمہ دار پاکستان ہے، پاکستان بھر میں دہشت گردی کی تربیت دینے والے کیمپ بکھرے پڑے ہیں ، پاک فوج دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے ، رپورٹ میں یہ اشارہ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہر دوسرا پاکستانی دہشت گرد ہے اور پاکستان کی وجہ سے صرف "مہان بھارت"ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے اور پاکستان کے ساتھ ازلی دشمنی کی منہ بولتی تصویر اِس رپورٹ کے ذریعے بھارتی حکومت کو یہ قیمتی مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ بزورِ بازو یعنی لشکرکشی کے ذریعے پاکستان کو روکے ، پاکستان کے زرعی شعبے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے پانی کا ہتھیار استعمال کرے، پاکستان سے درآمدات بند کردے (البتہ برآمدات کا تذکرہ نہیں کیونکہ اس میں بھارت کوبھاری فائدہ ہورہا ہے) اور دونوں ممالک کے مابین سفر پر پابندیاں عائد کرے۔ اس کے علاوہ بھی رپورٹ میں پاکستان کے خلاف بہت سی خرافات لکھی گئی ہیں جن کا یہاں ذکر کرنا ممکن نہیں ہے۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یہ رپورٹ حقائق کو نظر انداز کرکے اور اپنے گریباں میں جھانکے بغیر صرف پاکستان سے ازلی دشمنی کے جذبے میں ڈوب کر پیش کی ہے اور بھارتی حکومت کو "قیمتی مشورے" دینے والے بنیوں کو شاید اِس بات کا قطعاً اندازہ نہیں ہے کہ اگر بھارتی حکومت بھی بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِن تجاویز پر عملدرآمد کردے تو اِس سے جنوبی ایشیاء میں کیا تباہی و بربادی رونما ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ فیڈریشن آف انڈین چیمبرز نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف لشکر کشی کرے مگر کیا اُسے معلوم نہیں کہ پاکستان بھی ایٹمی قوت کا حامل اور پاکستانی عوام غیور قوم ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے سوا کسی کی بالادستی قبول نہیں کرتے ۔اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرے گا تو کیا پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کر تماشا دیکھتا رہے گا ؟بھارت میں ہونے والی تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے سے قبل فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اپنے "مہان بھارت" کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لے لیتی تو شاید اُسے حقائق کا اندازہ ہوجاتااور وہ پاکستان پر الزام تراشی سے گریز کرتی۔ بھارتی حکومتوں کے رویّے کی وجہ سے بھارت میں اِس وقت علیحدگی کی بلاشبہ درجنوں تحریکیں چل رہی ہیں ، بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کو بُری طرح پامال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ شدید نالاں ہیں، بھارت میں رہنے والے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کا کیا کہناہندوؤں کی ہی نچلی ذات شودروں سے غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے ، بھارت میں مرد تو ایک طرف عورتوں کو بھی سرِعام پیٹ پیٹ کر قتل کردینے کی انٹرنیٹ پر موجود وڈیوز بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال چیخ چیخ کر بیاں کررہی ہیں، گجرات میں بھارت کے شہری مسلمانوں کو زندہ جلادینے کی ہولناک داستانیں ابھی زیادہ پرانی نہیں، گولڈن ٹمپل پر بھارت کی فوج کشی اور ہزاروں سکھوں کا قتل ابھی بھی سکھوں کے سینوں میں پھانس بن کر چبھ رہا ہے، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کررہی ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سے کارنامے بھارت کے چہرے کا داغ بنے ہوئے ہیں۔ بھارت کی جانب سے ان تمام غیرانسانی مظالم کو نظرانداز کرکے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے یہ کس طرح فرض کرلیا کہ بھارت میں ہونے والی "دہشت گردی" ان غیرانسانی مظالم کا ردّعمل نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار پاکستان ہے؟ پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے اور سنگین الزامات عائد کرنے سے پہلے فیڈریشن آف انڈین چیمبر ز آف کامرس کو تھوڑی سی تحقیق یہ بھی کرلینی چاہئے تھی کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ مل کر پاکستان بالخصوص بلوچستان اور وزیرستان میں کیا کررہی ہیں، پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اور پکڑے جانے والے دہشت گردوں کی زبانوں پر بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کا نام کیوں آرہا ہے اور بلوچستان سمیت ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والی دہشت گردی میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھارتی ساختہ کیوں ہے ؟پاک فوج پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا اوچھا الزام عائد کرتے ہوئے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس کو یہ کیوں نظر نہیں آیا کہ پاک فوج نے مالاکنڈ ڈویژن، سوات اور وزیرستان سے چند ماہ میں دہشت گردوں کا صفایا کرکے وہ کام کیا ہے جو امریکہ اور اُس کے اتحادی افغانستان میں کئی برسوں میں بھی نہیں کرپائے۔ میں پاکستانی قوم کی جانب سے فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوخلوصِ نیت سے یہ مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی توانائیاں پاکستان پر بے سروپا الزامات عائد کرنے اور بھارتی حکومت کو اُلٹے مشورے دیکر جنوبی ایشیاء کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر صرف نہ کرے بلکہ اور کچھ نہیں تو کم از کم بھارت کے اُن بیس کروڑ سے زائد افراد کے لئے کچھ کرے جو چھت نہ ہونے کی وجہ سے فٹ پاتھوں پر سوتے اور روٹی نہ ہونے کی وجہ سے بھوکے رہتے ہیں۔ پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات صرف اور صرف آسمان پر تھوکنے کی مانند ہیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔پاکستان پر اِس قدر بے ہودہ اور سنگین الزامات پر پاکستانی حکومت کو قطعاً خاموش نہیں رہنا چاہئے وگرنہ فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ اور بھی بھارتی ادارے یا لوگ میدانِ عمل میں کود کر اپنے تئیں بھارت کی خدمت کرنے کی کوشش کریں گے۔پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر فوری نظرِ ثانی کرنی ہوگی کیونکہ میرے خیال میں اِس سے پاکستان کو تو کوئی فائدہ ہو نہیں رہا البتہ بھارتی تاجروں کی تجوریاں بھرتی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت جب بھی بات کرتا ہے پاکستان سے درآمدات بند کرنے کی بات کرتا ہے پاکستان کو برآمدات بند کرنے کا تذکرہ کبھی بھی نہیں کرتا ۔گزشتہ سال ممبئی میں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد بھارت نے پاکستان سے مذاکرات سمیت سب کچھ معطل کردیا لیکن پاکستان کو برآمدات بند نہیں کیں کیونکہ اِس میں بھارت کا فائدہ ہی فائدہ تھا اور ہماری معصوم حکومت نے بھی اِس بارے میں سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ اگر بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے اور سازشوں سے باز نہیں آتا تو پھر پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ بھارت سے تجارت بند کردے تاکہ اُسے بھی آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو۔ ہم جو بھارت سے اربوں ڈالر کی درآمدات کرتے ہیں وہ چین سمیت دنیا بھر میں کہیں سے بھی کی جاسکتی ہیں لہٰذا بھارت سے درآمدات کرنا ہماری مجبوری ہرگز نہیں۔ مزید برآں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنی حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طو پر استعمال کرکے اِس کی زراعت کو تباہ کردے۔پاکستانی حکومت کو اِس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ بھارت نے پاکستان کے خلاف پہلے ہی آبی جنگ شروع کررکھی ہے ۔ پانی کے معاملے پر ہماری حکومت کو ہرگز کوئی لچک نہیں دکھانی چاہئے کیونکہ ایک تو سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پاکستان کے حصّے میں آنے والے دریاؤں کا پانی نہیں روک سکتا اور دوسری طرف یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ بھارت پر یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ اگر اُس نے پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی تو اِس سے جنوبی ایشیاء میں کوئی ہولناک سانحہ بھی جنم لے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں بڑے آبی ذخائر بناکر پاکستانی قوم کا مستقبل محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی اوران تمام مقاصد کے لئے اقدامات ابھی نہیں تو کبھی نہیں کی بنیاد پر اٹھانا ہوں گے۔
ظفر اقبال چوہدری…صدر لاہور چیمبر آف کامرس
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|