| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم دوستو۔
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے اور ایمان و صحت کی بہترین حالت میں اپنے کاموں میں مصروف ہوں گے۔ مدارس عربیہ کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں، بطور خاص اسلام کی تشخص کو برقرار رکھنے اور ہمارے علمی اثاثے کو ہم تک پہنچانے میں ان کا کردار قابل ستائش ہے۔ اس سے انکار ممکن نہیں کہ خامیاں اور کوتاہیاں ہر انسان اور ہر ادارے میں ہوتی ہیں۔ لکن ان کی وجہ سے اس کے اصل کردار کو پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ مدارس کی اہمیت کئی حوالوں سے ہے ۔ لیکن ذرائع ابلاغ میں ان کی اہمیت میں روز افزوں اضافہ نو ستبمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد ہوا۔ اب مختلف جہات سے، اندرونی و بیرونی، مدارس کو دہشت گردی کی فیکٹریاں اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جا رہا ہا ہے ۔۔ لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں اس واقعے کے بعد مدارس کی اصلاحات کے لئے دنیا بھر سے کوششیں اور آوازیں شروع ہو گئیں۔ مغرب کی جانب سے اس مد میں کافی پیسہ آیا جو حکومت وقت اور غیر سرکاری اداروں کی تجوریوں اور پیٹوں کی نذر ہو گیا۔ اس سارے مرحلے میں سوائے ناکامی کے کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ اس کی بنیادی وجہ باہر سے اصلاحات تھوپنا تھا۔ حالانکہ اصل تبدیلی وہ ہے جو اندر سے آئے ،، لیکن اس سارے عرصہ میں اپنی مدد آپ کے تحت خود مدارس کی جانب سے بہت سی اصلاحات ہوئی ہیں۔ جس کی جتنی اسطاعت تھی اس نے اتنی کوشش کی ۔۔۔۔ ہم بھی مدارس کی برائیوں میں تو بہت توانائیاں صرف کرتے ہیں لیکن نک نیتی سے ان کی اصلاح کے لئے اگر تجاویز طلب کی جائیں تو ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں ۔ ان اصلاحات یا ریفارمز کا ایک پہلو تربیت اساتذہ ہے ۔ اس حوالے سے مختلف کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن کوئی منظم اور مربوط نظام تا حال موجود نہیں ہے ۔ آپ تما احباب سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں اپنی آراء دیں، جو قابل عمل بھی ہوں اور مفید تر بھی۔۔۔ کیا واقعی اساتذہ مدارس کو تربیت کی ضرورت ہے؟ کس کس میدان میں تربیت زیادہ ضروری ہے؟ کیا تربیت کا کام مدارس ہی سے متعلق افراد کریں یا دیگر ماہرین ہی یہ کام انجام دیں ؟؟ نصاب مدارس کی تدریس کی تربیت کے علاوہ اور کون سے موضوعات ایسے ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے ؟ کیا آپ کے علم میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو یہ کام کر رہا ہے ؟ اگر ہاں تو اس کے کیا نتائج ہیں ؟؟؟ ہندوستان یا بنگلہ دیش کے مدارس کے نظام کے بارے میں کسی کو کچھ معلومات ہوں تو وہ بھی شامل کرے ۔ باقی سوالات ساتھ ساتھ آتے رہیں گے نوٹ: صرف سنجیدہ اور موضوع کے مطابق مراسلات شامل کئے جائیں ۔۔ شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (31-07-10), Nasiwise (31-07-10), shafresha (31-07-10), فیصل ناصر (31-07-10), پاکستانی (31-07-10), ھارون اعظم (31-07-10), موجو (20-10-10), محمدمبشرعلی (31-07-10), مرزا عامر (04-08-10), احمد بلال (31-07-10), سحر (31-07-10), شاہ جی 90 (12-10-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عروج (15-10-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
ایک عرسے تک ان مدارس سے وابستگی کی بُنیاد پر میںیقینی طور پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کی بعض مدرسین (تمام نہیں) اخلاقی اور ذہنی کمزوریوں اور بُرائیوں کا شکار ہیں۔
غریب گھرانوں سے آنے والے یہ بچے عموما "خیرات و امداد" پر پلتے ہیں اور دوران طالب علمی جنسی جرائم کا شکار ہوجاتے ہیں، جب یہ بڑے ہوکر حفاظ، قاری و عالم کی "سند" حاصل کرتے ہیں تو (شاید لاشعوری طور پر) یہ بعد میںآنے والوں سے اپنے ماضی کا بدلہ لیتے ہیں۔ میرے خیال میںمدارس کے اتنے بڑے سسٹم کو چلانا شاید حکومت کے بس کی بات بھی نہیں، مختلف مکاتیب فکر کے علماءکے تحت چلنے والے انفرادی مدارس اگر لاکھوں کی تعداد میںنہیںتو ہزاروں کی تعداد میںہوں گے۔ اہل تشیع حضرات کے یہاں "عالم" بننے کے لیئے مختلف قسم کے مراحل سے گذرنے کے بعد ہی سند حاصل ہوتی ہے جبکے دیگر مکاتیب فکر کے یہاں یہ طریقہ بہت سہل ہے (جمشید دستی والا معاملہ ابھی تازہ ہے)۔ ہمیں اُوپر سے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے لہذا اساتذہ کی تربیت ہونی ضروری ہے اور اس کے لیئے عام "دُنیادار" حضرات کی مدد بھی لی جانی چاہیئے۔ اسرائیل میں حکومت کے تحت چلنے والے مذہبی تعلیم والے اسکولز میںپروفیسرز اور دیگر شعبوںسے وابستہ افراد مختلف ہُنر کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میںطاہر القادری صاحب نے لاہور میںایک ادارہ قائم کیا ہے جہاں بڑے انگلش اسکول کی ہی طرح بھاری فیس لی جاتی ہے اور فارغ التحصیل طلباء دینوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ Last edited by shafresha; 05-10-10 at 09:27 PM. وجہ: ایک لفظ کی تصیح! |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وعلیکم السلام !
اکرام بھائی ۔۔۔ موجودہ حالات میں جبکہ مدارس تختہ ء مشن بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ اور مدرسہ کا نام آتے ہی دہشت گردوں یا بیک ورڈ افراد کا تصور لوگوں کے ذہن میں آتا ہے ۔۔ یا صرف یہ کہ ۔۔۔ مدارس سے فارغ التحصیل افراد صرف نکاح / جنازہ یا شرعی مسائل اور اور ان کے حل کو تجویز کرنے تک محدور ہو گئے ہیں یا سمجھے جاتے ہیں ۔۔۔ جبکہ اسلای تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو نماز کی امامت کرنے والے ۔۔۔ میدان جنگ میں سپہ سالار بھی ہوا کرتے تھے ۔۔۔ حکومتی انتظامات بھی سنبھالتے تھے ۔۔۔ آج کے حالات میں بدقسمتی سے اس کا کوئی تصور نہیں ۔۔ مدارس کے نظام کو دیکھا ئے جائے تو ایک جال پھیلا ہوا ہے ملک میں ۔۔۔ جو کہ وفاق المدارس سے رجسٹر بھی ہیں لیکن طریقہ ء تدریس تمام مدرسوں کا ایک نہ ہونے کی وجہ سے ۔۔۔ ان سوالوں کا جواب بھی مختلف ہوگا ۔۔۔۔ اور کچھ ایسے بھی مدارس ہیں جن کے طریقہء تدریس سے مجھے بھی اختلاف ہے ۔۔۔۔ اس لیے ہم مجموعی طور پراس سلسلے میں رائے زنی نہیںکر سکتے ۔۔ ایک غزوہ کے بعدکفار کی طرف سے قید ہو کر آنے والے چند سپاہیوں کو آپ نے مسلمانوں کی دنیاوی تعلیم پر مامور کیا تھا ۔۔اس کی اہمیت کو محسوس کرنا چاہیئے ۔۔۔دینی علوم کی ساتھ ساتھ ۔۔۔ مدارس میں کمپیوٹر / اور سائنس بھی لازمی ہونی چاہیئے اور ان شعبہ جات میں ماہر افراد سے اس سلسلے میں معاونت و مدد لی جاسکتی ہے جس طرح مدارس کے فارغ التحصیل افراد کالج اور جامعات میں اسلامک اسٹیڈیز پڑھاتے ہیں ۔۔ تا کہ مغرب اور مستشرقین کے ابہامات / خدشات / یا سازشوں کو پر زور جواب دیا جاسکے ۔۔اور تبلیغ کے کام کو مؤثر انداز میں پھیلایا جاسکے ۔۔ ایک بڑا طبقہ مدارس سے فارغ ہونے بعد بھی اس قابل نہیں رہتا جو دور جدید کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ۔۔۔ اپنی ذمہ داری سر انجام دے سکے نتیجتا۔۔۔ معاشرے کا کار آمد فرد نہیں بن پاتا اکثر دیکھا گیا ہے ۔۔۔ صرف مدرسہ سے تعلیم پانے والوں کو ذریعہ معاش کے لیے بھی بھاگ دوڑ کرنے پڑتی ہے اور بالآخر انھیں عصری تعلیم حاصل کر کے اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے اگر انھیں مدارس میں ہی یہ تعلیم مل جائے تو اس مشکل کا حل بھی نکل آئے گا ۔۔ مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی اخلاقی تربیت کا انتظام بھی ہونا چاہیئے ۔۔۔ تا کہ با عمل مسلمان معاشرے کو مل سکیں ۔۔۔ اس کے لیے خود اساتذہ کی تربیت لازمی ہے ۔۔۔۔ تشدد کے عنصر کو ختم ہونا چاہیئے ۔۔۔ ورنہ بچہ جس حالات سے گزرے گا وہ خود بھی پیچھے آنے والوں کی اسی نہج پر تعلیم اور تربیت کرے گا ۔۔۔ تعصب کا موحول بھی ختم ہونا چاہیئے ۔۔۔ یہ سب خامیاں میں نے مدرسے کے طالبعلموں میں دیکھی ہیں ۔۔۔ جس کی بنیاد پر میں نے مندر جہ بالا باتیں تحریر کی ہیں باقی ان شاء اللہ ۔۔۔آئندہ
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (31-07-10), موجو (20-10-10), مرزا عامر (05-10-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (31-07-10), عبداللہ آدم (04-08-10) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
دونوں احباب کا شکریہ
اگر مدارس میں بہت سی خامیاں ہیں لیکن بہت سی باتوں سے مجھے اختلاف بھی ہے لیکن یہاں چونکہ ہمارا موضوع مدارس کی خامیاں یا ان کا نصاب و نظام زیر بحث نہیں۔ کیوں کہ اس بحث کے لئے ایک الگ دھاگے کی ضرورت ہے۔ موضوع یہ ہے کہ جس حال میں بھی مدرسے ہیں، اور جو بھی نظام ہے اس کے ہوتے ہوئے مدارس کے اساتذہ کی تربیت ، ٹیچر ٹریننگ کے حوالے سے کون سے پہلو اہم ہیں؟؟؟ اور کیا ایسا کوئی دارہ ہے جو یہ کام کر رہا ہے؟ طاہر القادری صاحب کا ادارہ ایک تعلیمی ادارہ ہے جسے آپ کالج اور یونیورسٹی کہہ سکتے ہیں، اس طرح کے اور بھی ادارے ملک کے طول و عرض میں قائم ہیں اور ہو رہے ہیں، لیکن ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کوئی نہیں نظر آ رہا اس حوالے سے آراء و معلومات کا انتظار ہے |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,749
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,309 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم کو اس موضوع پر یعنی اساتذہ کی تربیت پر بات کرنے سے پہلے
چند باتوں پر غور ضروری ہے کیا عام اسکولوں کے اساتذہ کے لیے کوئی ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ہے ۔ اگر ہے تو وہ کس نوعیت کا ہے اور اس میں اساتذہ کی تربیت کے کیا اصول ہیں ۔ اساتذہ کی تربیت سے پہلے اس طریقہ کار پر غور ضروری ہے جس کی بنیاد پر اساتذہ کو تربیت دی جائے مثال کے طور پر عام اسکولوں میں جیسے مونٹوسری ٹیچنگ میتڈ ہے ۔ اسی طرح ملائیشیاء میں خلیفہ میتڈ آف لرننگ ہے یہ طریقہ کار اساتذہ کے تربیت کا ہے جو اسلامی اسکولوں میں پڑھاتے ہیں ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے Last edited by سحر; 31-07-10 at 03:04 PM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سحر بہنا
آپ نے بہت اچھی بات کی پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا دیگر سکولوں کے لئے ایسا کوئی طریقہ کار ہے یا نہیں؟ یہ کہنا کہ بالکل نہیں ہے شاید مناسب نہ ہو، یقینا کچھ ہوں گے چاہئے چھوٹے پیمانے پر ہی لیکن یونیورسٹیز میں جو بی ایڈ اور ایم ایڈ کرایا جاتا ہے بنیادی طور پر وہ اسی زمرے میں آتا ہے نسبتا طویل دورانیے کا یہ تربیت اساتذ کا کورس ہے جس میں نظریہ اور عملی مشق دونوں ہوتے ہیں۔ اور مونٹیسوری کا تو آپ نے حوالہ دے ہی دیا لیکن مدارس کے حوالے سے ایسا کوئی نظام تا حال نہیں ہے اگر بنایا جائے تو اس کے لئے کیا تجاویز ہوں گی س پر آراء سامنے آئیں تو مفید ہو گا اور ملائیشیا کو جو آپ نے ذکر کیا اس کی اگر کچھ تفاصیل آ جائیں تو بہت بہتر ہوگا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم !
اکرام بھائی ۔۔ میں نے اپنا مراسلہ ادھورا چھوڑا تھا ۔۔۔ اور اس سے پہلے تھوڑا سا جائزہ پیش کیا کہ اگر تربیت کی ضروت محسوس کی بھی جارہی ہے تو کیوں ؟اور کس میدان میں ؟ اس لیے کہ جلد یا بدیر یہ باتیں بھی موضوع بحث بن سکتی ہیں ۔۔۔ آپ کے مراسلے کا جو اہم ترین نکتہ ہے وہ بیرونی امداد کی مدد سے مدارس کی حالت اور نظام کر بہتر بنانا ۔۔۔ مغرب کو کیوں درد اٹھاتا ہے مدارس کے انتظام کو ٹھیک کرنے کا ؟ اگر نائن الیون کے ذمہ دار اسامہ اور القائدہ ہیں تو ان لوگوں نے پاکستانی مدارس سے تعلیم حاصل نہیں کی جو پاکستانی مدارس کو ہدف بنالیا گیا ۔۔؟ اس کا جواب بھی واضع ہے ۔۔۔!! ==== اس پر یقینا سب کا ہی اتفاق ہوگا کہ ٹریننگ کی ضرورت بالکل ہے ۔۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ۔۔۔ مدارس میں طلبہ و طالبات کی تعلیم اور تربیت اس انداز میں کی جانی چاہیئے کہ اگر ان میں سے ہی کسی کو معلم کی ذمہ داری سونپی جائے ۔۔ تو وہ اس معیار پر پورا اتر سکے اورجو دوسرے طلبہ ہیں وہ مفید شہری بن سکیں ۔۔ ایک چین ایسی ہونے چاہیئے کہ اگر علیحدہ سے نہ بھی ایسے مراکز ہوں تو مدرسے میں ہی ایسے افراداساتذہ کی زیر نگرانی تیار ہو جائیں ۔۔ علیحدہ سے ادارہ بھی بنایا جا سکتا ہے ۔یہ تربیتی کورس کتنے سالہ ہوگا اس کا تعین ۔۔ علماء اور انتظامیہ ہی کر سکتی ہے ۔۔۔ 1۔ اساتذہ کو تربیت کی ضرورت ہے ۔ 2۔ دینی تعلیم کا بندوبست تو مدارس کر رہے ہیں ۔۔ ۔۔۔ نسلوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت بھی ہونی چاہیئے ۔۔ 3 ۔مدارس کے اساتذہ ہی یہ کام بہتر طور سے کر سکتے ہیں ۔۔۔باہر سے آیا ہوا کوئی دوسرا فرد نہیں کر سکتا ۔ 4۔اس کا جواب مراسلہ 1 میں مل جائے گا ۔ عصری تعلیم بھی ہونے چاہیئے جس کا ذکر پہلے مراسلے میں کیا ۔۔ اقتباس:
5۔ ایسا کوئی ادارہ علم میں نہیں ۔۔ طالبات کے مدارس میں کوئی باقاعدہ ٹریننگ نہیں دی جاتی ۔۔ جسے اہل سمجھا جاتا ہے منتخب کر لیا جاتا ہے اور دواسرے مدارس سے طالبات کو ٹیسٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے ۔۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا واقعی اساتذہ مدارس کو تربیت کی ضرورت ہے؟ جی بالکل اساتذہ کرام کوتربیت کی اشد ضرورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر طالبعلم استاد نہیں ہوسکتا لیکن ہر استاد طالبعلم ضرور ہوتا ہے۔ طالبعلم سے استاد تک کا سفر بغیر تربیت کے ممکن نہیں۔ کس کس میدان میں تربیت زیادہ ضروری ہے؟ مدرسہ سے متعلق ہر میدان میں، یہاںتک کہ دفتری معاملات کی بھی ہاوناو ہونی چاہئیے، اس کے علاوہ تدریسی، انتظامی تقریبا ہر متعلقہ میدان میں تربیت ضروری ہے۔ کیا تربیت کا کام مدارس ہی سے متعلق افراد کریں یا دیگر ماہرین ہی یہ کام انجام دیں ؟؟ کیونکہ معاملہ مدرسے کا ھے اس لئے ضروری یہ ہے کہ سابق استاد یہ کام کریں لیکن اگر باہر سے ماہرین آجائیں تو کچھ نا کچھ وہ بھی بتا کے ہی جائیں گے، کیا آپ کے علم میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو یہ کام کر رہا ہے ؟ اگر ہاں تو اس کے کیا نتائج ہیں ؟؟؟ جی میرے علم میںایک ادارہ ایسا ہے، جو یونیورسٹی نما مدرسہ ہے،"" میرے زہن میںکوئی بہتر لفظ نہیںآرہا اس لئے یہ لکھ دیا ہے"" راولپنڈی سے لاہور آتے ہوئے راستے میں موٹر وے پر ایک انٹر چینج ہے، جس کانام بھیرہ انٹر چینج ہے۔ اس سے کوئی چار کلومیٹر اندر ایک ادارہ بھیرہ شریف کے نام سے موجود ہے۔ جس کے بانی پیر کرم شاہ الازہری تھے، جوکہ چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں، ان کا ترجمعہ ضیاء القرآن کے نام سے موجود ہے۔ ان کےمدرسے کا طالب علم جہاں دینی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے امتحان بھی دیتا ہے یہ وہاں ضروری ہے۔ اس طرح جب وہ دینی تعلیم مکمل کرتا ہے تو وہ کم از کم گریجویٹ ضرور ہوتا ہے۔ اس مدرسے میں یہ تمام کام احسن طریقے سے ہورہے ہیں۔ الحمد اللہ
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64 ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھے محترمہ ارحم بہن
اللہ جزائے خیر دے، مزید آراء کا انتطار رہے گا |
|
|
|
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم اویسی بھائی
بہت اچھے لیکن جس ادارے کا آپ نے نام لیا وہ ایک تعلیمی ادارہ ہے، اس طرح کے اور بھی بے شمار ادارے ہیں جہاں سے فراغت کے ساتھ عصری علوم کی بھی ڈگریز طلبہ کے پاس ہوتی ہیں۔ میری مراد ایسا تربیتی ادارہ جو بعد از فراغت طلبہ کو ایسا کورس کرائے جو ان کے لئے تدریسی میدان میں معاون ثابت ہو؟ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,265
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پشاور یونیورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے تحت سمر کورس کے طور پر مدارس کے اساتذہ کے لئے ایک ٹریننگ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے
اب معلوم نہیں وہ کس نوعیت کا ہے اور کیا نصاب ہے ان کی ٹریننگ کے لئے پشاور کا کوئی ساتھی اگر معلوم کر کے شیئر کر دے تو سب کے لئے مفید ہوگا |
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,517
کمائي: 95,954
شکریہ: 8,883
3,848 مراسلہ میں 12,783 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
shafresha صاحب
آپ فرماتے ہیں۔ ایک عرسے تک ان مدارس کے وابستگی کی بُنیاد پر میںیقینی طور پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کی اکثر مدرسین (تمام نہیں) اخلاقی اور ذہنی کمزوریوں اور بُرائیوں کا شکار ہیں۔ اگر آپ اکثر کی بجائے بعض کا لفظ استعمال کر لیتے تو شاید مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔ آپ مزید فرماتے ہیں غریب گھرانوں سے آنے والے یہ بچے عموما "خیرات و امداد" پر پلتے ہیں اول تو آپ کا یہ خیال ہی غلط ہے کہ سارے صدقے خیرات زکوة پر پلتے ہیں۔۔۔۔ کیوںکہ میری معلومات کے مطابق بہت سے اہل ثروت خاندانوں نونہال بھی یہاں علم دین حاصل کرتے ہیں اور ان کے خاندان و سر پرست ان کی کفالت خود کرتے ہیں۔۔۔ اگر فرصت ملے تو مدارس میں جا کر تحقیق کر لینا۔۔۔۔ دوسری بات یہ کہ صدقات ، خیرات اور امداد پر پلنا کو معیوب بات نہیں اللہ تعالی نے اسی لئے تو صدقہ خیرات اور امداد کا اتنا حکم دیا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔۔۔ میرا خیال ہے۔۔۔ صدقہ خیرات اور امداد پر پرورش پانے والا انسان اس ہڈ حرام سے بہتر ہے جو اپنے باپ دادا کی غداری، کرپشن، لوٹ مال اقرباء پروری، رشوت اور سود کی کمائی پر خود بھی جہنم کا ایندھن بن رہا ہے تو اپنی نسلوں کو بھی بنا رہا ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں۔ ر دوران طالب علمی جنسی جرائم کا شکار ہوجاتے ہیں، جب یہ بڑے ہوک حفاظ، قاری و عالم کی "سند" حاصل کرتے ہیں تو (شاید لاشعوری طور پر) یہ بعد میںآنے والوں سے اپنے ماضی کا بدلہ لیتے ہیں۔ نہیں جناب یہاں بھی کا کا مشاہدہ یا تجربہ غلط ہے۔۔۔۔۔ میرا خیال یہ ہے کہ جس نے آپ سے زیادتی کی ہے یا بدلہ لیا ہے وہ کسی مدرسے کا نہیں تھا بلکہ اس نے ویسے ہی ڈارھی رکھی ہوئی ہو گی۔۔۔۔ باقی رہی اصلاح کی تو وہ ہر جگہ اور ہروقت اس کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس سے انکار نہیں۔۔۔۔۔۔ خرابیاں ہر طبقہ میں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ کسی بھی طبقہ کے بعض یا چند افراد کی خرابیوں کو اتنی ڈھٹائی سےاکثر نہیں کہنا چاہے۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,627
کمائي: 30,464
شکریہ: 10,464
1,168 مراسلہ میں 3,099 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کراچی میں الرشید ٹرسٹ والوں کے زیر انتظام ایک مدرسہ چلایا جا رہا ہے وہاں داخلہ بہت مشکل ملتا ہے اور اس میں انگلش ،کمپیوٹر اور آج کے جدید دور کے مسائل متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔ مثلا سٹاک ایکس چینج کے مسائل ،بینکنگ کے مسائل وغیرہ
دوسرا مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ ہے فیصل آباد میں ۔ یہ بھی کافی اپ گریڈڈ ہے۔لیکن یہ نہیں پتا کہ یہ اسلامی تعلیم کے ساتھ اور کیا سکھا رہے ہیں۔ ویسے مدرسے کے طلبا جیسے جیسے اپنی کلاسسز پڑہتے جاتے ہیں ویسے ہی انہیں یہ سہولت حاصل ہے کہ ساتھ میٹرک ،ایف اے ،بی اے کے چند مضامین کے پیپر دے کے سند حا صل کر لیں۔ باقی یہ بات باکل درست ہے کہ دنیا میں وہ موجودہ نظام تعلیم سے صرف استاد ہی بن سکتے ہیں ۔ یا کوئی کاروبار کر سکتے ہیں۔ سلیبس میں دنیا کے جدید علوم بھی ضرور شامل کرنے چاہییں۔ اس کے لئے شروع میں باہر کے عملے سے بھی مدد کی جا سکتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے جدید علوم شامل کرنے سے ان کے اسلامی کورس پہ فرق پڑے گا۔کیونکہ ان کی ٹائمنگ پہلے ہی اتنی ٹف ہوتی ہے۔چھٹی بڑی مشکل سے ملتی ہے۔ پھر کیسے دنیاوی کورس کے لیے ٹائمنگ سیٹ کریں گے؟؟ ایک مدرسے کا فارغ التحصیل طالب علم اور عربی،اسلامیا ت میں ایم فل کیے ہوئے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ مدرسے کے طالب علم کی گرائمر پہ گریپ اور عربی کا علم بہت نسبتا بہت زیادہ ہوتا ہے۔ |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |||||
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اقتباس:
آپ کی بات درست ہے، مجھے لفظ کے استعمال میںاحتیاط برتنی چاہیئے تھی۔ آپ کی ہدایت کے مطابق نامُناسب لفظ "اکثر" کو "بعض" سے تبدیل کردیا ہے۔ اقتباس:
میرا جملہ تھا "یہ بچے عموما "خیرات و امداد" پر پلتے ہیں" دیک لیجیئے لفظ "عموماً" ہی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ جملہ سب کے لیئے نہیں ہے۔ یقینا کچھ صاحب ثروت حضرات کے بچے بھی ان میںسے اکثر مدارس میںپڑھنے کے لیئے آتے ہیں۔ کاش آپ نے اُن بچوںکو دیا جانے والا "پروٹوکول" دیکھا ہوتا۔ چونکہ ان صاحب ثروت و مال بچوںکے والدین ان مدارس کے سرپرست یا بڑے "ڈونر"ہوتے ہیں اس لیئے ان بچوں کو عام بچوں میں"وی آئی پیز" کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اقتباس:
اقتباس:
اللہ عزوجل نے الحمد للہ مجھے کسی بھی قسم کے حادثے سے محفوظ رکھا! میںاپنے اُستاد قبلہ کا بھی مشکور ہوںجنہوںنے مجھے مدرسے میںرہائش اختیار کرنے یا دیر تک رُکنے سے منع کیا تھا۔ اقتباس:
یاد رہے کہ میںعلماء یا مدارس کے اساتذہ کا دل کی گہرائیوں سے ادب و احترام کرتا ہوں، لیکن حقیقت تو پھر حقیقت ہے۔ آپ کی جانب سے اشارہ دیئے جانے پر آپ کا مشکور ہوں۔۔۔۔ |
|||||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | Nasiwise (31-07-10), موجو (20-10-10), احمد بلال (31-07-10), راجہ اکرام (31-07-10), عبداللہ آدم (04-08-10), عروج (15-10-10) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,627
کمائي: 30,464
شکریہ: 10,464
1,168 مراسلہ میں 3,099 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شافریشہ بھائی کیا آپ حافظ قرآن ہیں؟؟ یا عالم کا کورس کر رکھا ہے؟؟
نوٹ: مجھے ڈر ہے اسے غیر متعلقہ کہ کے ڈیلیٹنہ کر دیا جائے۔ لیکن ایک بات ہے ایسے سوالات اس طرح کے تھریڈ میں نہیں پوچھیں گے تو کیا اس کے لئے الگ دھا گہ بنائیں؟؟ یا شافریشہ صاحب کا تعارف کا پنا ایکٹو کریں یہ سوال پوچھنے کے لئے؟؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, کوششیں, کرے, کرتے, وقت, واقعے, ممکن, مطابق, اہمیت, ایمان, انجام, انسان, اتنی, اسلام, بہترین, جانے, جائیں, خود, دنیا, شروع, طلب, علمی, عرصہ, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| روشن خیالی اورجد ید یت کی تاریخ منکرِ قرآن وحدیث غلام احمد پرویز | آبی ٹوکول | تاریخ و عبر | 67 | 30-05-11 03:13 PM |
| ایک اور تجویز اور شکایت | رضی | تجاویز اور شکایات | 9 | 04-02-10 10:54 PM |
| صدر بش کا فون،پرویز مشرف کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان | عبدالقدوس | خبریں | 1 | 02-06-08 05:44 PM |
| پرویز مشرف کی حمایت بش انتظامیہ کے غلط اندازوں کا نتیجہ ہے ،بارک اوباما | ابن جلال | خبریں | 0 | 13-04-08 06:54 PM |
| امریکی انتظامیہ صدرپرویز مشرف کی حمایت نہ کرے ،مسلم لیگ ن | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 24-02-08 01:03 PM |