بلیک واٹر کا سفید جھوٹ !
بلیک واٹر کا سفید جھوٹ !
پاکستان میں بلیک منی ہو سکتی ہے۔۔۔ بلیک شیپ ہو سکتی ہیں۔۔۔ بلیک مارکیٹ ہو سکتی ہے۔۔۔ بلیک قانون ہو سکتا ہے ۔۔ بلیک آ¶ٹ ہو سکتا ہے ۔۔ بلیک میل ہو سکتا ۔۔ بلیک واٹر کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔؟ قمر زمان کائرہ بلیک واٹر کی موجودگی کا اعتراف کر رہے ہیں جبکہ حکمران بالخصوص رحمان ملک مسلسل انکار کر رہے ہیں بلیک واٹر کی موجودگی کو چھپا رہے ہیں سفید جھوٹ بول رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس دورہ پاکستان کے دوران واضح الفاظ میں پاکستان میں بلیک واٹر کی تصدیق کر چکے ہیں جبکہ پنٹاگان نے رابرٹ گیٹس کے بیان کی تردید کر دی ہے۔ امریکہ اور پاکستان دونوں منافقت سے کام لے رہے ہیں مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ بُش نے عراق میں کیمیائی ہتھیاروں اور افغانستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا سفید جھوٹ بولا‘ پنٹاگان پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا سچ کیونکر بولے گا۔؟ امریکہ پاکستان میںاسامہ بن لادن اور ملا عمر کی موجودگی کا بھی جھوٹ بول رہا ہے۔ پاکستان اور امریکہ ملی بھگت سے تصدیق اور تردید کا ڈرامہ کر رہے ہیں جبکہ امریکی اور برطانوی میڈیا پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کے شواہد پیش کر رہا ہے خود بلیک واٹر کا سربراہ ایرک پرنس ترید و تصدیق کے تذبذب کا شکار ہے۔ ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے سابق بلیک واٹر سکیورٹی فرم کو پاکستان میں ڈرون حملوں کےلئے میزائل تنصیب کا ٹھیکہ دیا تھا۔ ٹھیکے سے متعلق ایک شخص نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ٹھیکہ امریکی حکومت کے اہلکاروں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ معاہدہ رواں سال کے اوائل میں ہی منسوخ کر دیا گیا تھا جبکہ انکشاف گذشتہ دنوں ہوا۔ سب سے پہلے سی آئی اے اور بلیک واٹر کے درمیان معاہدے کی موجودگی کا انکشاف اگست میں نیویارک ٹائمز میں کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرونز حملے سی آئی اے کرتی رہی ہے جبکہ سی آئی اے نے ان حملوں کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستان اور امریکی حکام گو کہ پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا انکار کرتے ہیں مگر برطانوی اور امریکی اخبارات نے پاکستان میں بلیک واٹر کی سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے۔ ایک امریکی جریدے میں بلیک واٹر کے سربراہ کے اعترافات کے انکشافات پر مبنی ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ بلیک واٹر کو امریکی سی آئی اے کی طرف سے ڈاکٹر اے کیو خان کے قتل کا ٹارگٹ بھی دیا گیا تھا لیکن بعد میں امریکی حکومت نے اس کام کی اجازت نہیں دی۔ امریکی اخبارات میں بلیک واٹر کے سربراہ ایرک پرنس کی تردید اور تصدیق کی ملی جلی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں اس خبر کا بھی ذکر ہے کہ جس کے مطابق سی آئی اے نے بلیک واٹر کو القاعدہ اور طالبان کے رہنماﺅں کو قتل کرنے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ امریکہ میں بلیک واٹر کی تربیت گاہ شمالی کیرولینا جبکہ اس کا ہیڈ کوارٹر ریاست ورجینیا میں ہے۔ بلیک واٹر کے سربراہ ایرک پرنس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل میں جس شام خودکش حملہ ہوا اسی شام ہوٹل میں انہیں چیک اِن ہونا تھا لیکن انہوں نے نجی وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کا سفر ملتوی کر دیا۔ ایرک پرنس کا میریٹ ہوٹل میں دھماکے سے پہلے دورہ اسلام آباد ملتوی ہونا بھی شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ ڈرونز حملے پاکستان کی اجازت سے ہو رہے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان ڈرونز حملوں کو مفید قرار دے رہا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان کو امداد اس کی اپیل پر دی جاتی ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان وار آن ٹیرر کو اپنی جنگ تسلیم کرتا ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ پاکستان اپنے ملک میں دہشت گردوں کی موجودگی کا اعتراف کرتا ہے۔ امریکہ کہتا ہے وہ پاکستان کی رہنمائی میں حملے کر رہا ہے۔ پاکستان کی مرضی سے اس کی فوج کی خدمات لے رہا ہے اور امریکہ یہ بھی کہتا ہے وہ پاکستان میں امریکی فوج کی مدد کا ارادہ بھی رکھتا ہے لہٰذا پاکستان کی ایک آواز پر ہم حاضر ہو جائیں گے ”تم نے پکارا اور ہم چلے آئے“ ۔۔ رابرٹ گیٹس‘ ایرک پرنس اور امریکی میڈیا پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن پاکستان سفید جھوٹ بول رہا ہے۔۔؟ بلیک واٹر کی موجودگی کا اعتراف شرمناک ہے ۔۔۔ خوفناک ۔۔۔ عبرتناک ہے ۔۔۔ لہٰذا عوام سے پوشیدہ رکھنا بہتر ہے۔ پاکستان میں امریکہ موجود ہے ۔۔۔ بھارت موجود ہے ۔۔۔ اسرائیل موجود ہے ۔۔۔ البتہ پاکستان اس جگہ پر موجود نہیں ہے جس مقام پر اسے قائد اعظم ؒ چھوڑ گئے تھے۔ سوداگر اس کی قیمت لگا چکے ۔۔ ہم مایوسی کی باتیں نہیں کرتے بلکہ عوام نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو جھنڈے اٹھائے ”گو امریکہ گو“ کا شور مچانے لگتے ہیں۔ آصف زرداری کی حکومت کو عوام نے منتخب کیا ہے اور اب کہتے ہیں کہ محترمہ شہید کے صدمے اور ہمدردی میں ووٹ دئیے تھے۔۔؟ ووٹ دیتے وقت یہ تک نہ سوچا کہ محترمہ تو اب رہی نہیں ان کی ہمدردی کے ووٹ ان کے شوہر کو جائیں گے جبکہ ان کا شوہر عوام میں کبھی مقبول نہیں رہا۔ محترمہ زندہ ہوتیں اور ان کی حکومت آتی تو حالات اس قدر گھمبیر نہ ہوتے۔ وہ ایک جمہوری پارٹی کی لیڈر تھیں جبکہ زرداری صاحب ان کے شوہر اور پارٹی کے رہنما ہیں۔ رہنمائی حکمرانی میں تبدیل ہوتے ہی جھوٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میثاقِ بھوربن کاجھوٹ ۔۔۔ بحالی عدلیہ کا جھوٹ ۔۔۔ میثاقِ جمہوریت کا جھوٹ ۔۔۔ صدر نہ بننے کا جھوٹ ۔۔۔ امین فہیم کے ساتھ جھوٹ ۔۔۔ ان کی پارٹی کے سینئر رہنما تو یہ تک کہتے ہیں کہ محترمہ کی وصیت اور ان کی شہادت کے پس پردہ حقائق کے بارے میں بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔۔۔ جس حکومت کی ابتدا ہی جھوٹ کی بنیاد پر ہو اس کی انتہا سچائی پر کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔؟ سب سفید جھوٹ ہے ۔۔۔ عوام کے ساتھ مذاق ہے ۔۔۔ ووٹوںکی توہین ہے۔! نوائے وقت
بلیک واٹر کا سفید جھوٹ !
طیبہ ضیاء ـ 2 دن 2 گھنٹے پہلے شائع کی گئی
|