| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
جاپان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ جاپان اس وقت دنیا کی دوسری بڑی اکانومی ہے۔ اس کے فارن ایکس چینج ریزرو ایک ہزار 52بلین ڈالرز ہیں۔ آج دنیا جاپان کو اس کی ترقی، اس کی مہارت اورمحنت پر سیلوٹ کرتی ہے۔ اس جاپان کی ترقی کی اگرچہ کئی وجوہات ہیں تاہم اس کی ترقی کی ایک وجہ ''شنزوایبے'' جیسے فیصلے ہیں۔ شنزو ایبے جاپان کے 90ویں وزیراعظم تھے۔ یہ 26 ستمبر 2006ء سے 26 ستمبر 2007ء تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے لیکن انہوں نے 12 ستمبر 2007ء کو وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان کے وزرا پر کرپشن کے الزامات لگ گئے جس کے نتیجے میں شینزو ایبے کی کابینہ کے ایک وزیر نے استعفیٰ دے دیا اور دوسرے وزیر نے خود کشی کرلی تھی مگر اس کے باوجود شینزو ایبے کی تسلی نہیں ہوئی اور وہ بھی مستعفی ہوگئے۔ شینزو ایبے کا یہ فیصلہ جاپان کی ترقی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ آپ جاپان کی ترقی کی ایک اور مثال بھی دیکھیے۔ شینزو ایبے کے بعد ''یاسوفوکوڈا'' جاپان کے 91 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ یہ 26 ستمبر 2007ء سے 24 ستمبر 2008ء تک وزیراعظم رہے۔ انہوں نے یکم ستمبر2008ء کو اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے دور میں جاپان میں سیاسی ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا چنانچہ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ یاسو فوکوڈا اور شینزو ایبے کے یہ استعفے جاپان کی اصل طاقت، اصل ترقی اور اصل خوبی ہیں اور یہی وجہ ہے آج ایشیا سے لے کر امریکا تک اور کینیڈا سے لے کر ساؤتھ افریقہ تک جاپان ہی جاپان ہے۔
آپ دنیا کے غیر مہذب، ناجائز اور بدنام ترین ملک اسرائیل کی مثال بھی سامنے رکھیے۔ ایہود المرٹ اسرائیل کے 12ویں وزیراعظم تھے۔ اولمرٹ 14 اپریل 2006ء سے 31مارچ 2009ء تک اسرائیل کے وزیراعظم رہے۔ اولمرٹ وزیراعظم بننے سے پہلے ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وفاقی وزیر اوراس سے پہلے یروشلم کے میئر بھی رہے۔ اولمرٹ مئی 2006ء میں وزیراعظم بنے اور 2007ء اور 2008ء کے دوران ان پر کرپشن کے بڑے دلچسپ الزامات لگ گئے۔ ان پر پہلا الزام ڈبل بلنگ تھا۔ان دنوں اسرائیل کے ایک اخبار نے انکشاف کیا اولمرٹ جب میئر تھے تو یہ مختلف اداروں کی دعوت پر یورپ اور امریکا کا دورہ کرتے تھے اور اس دورے کے دوران یہ ایک ٹکٹ میئر کے اکاؤنٹ سے لیتے تھے اور تین، چار ٹکٹس ان اداروں سے لے لیتے تھے۔ ان پر دوسرا الزام یہ تھا جب وہ ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے وزیر تھے تو انہوں نے آئل کا امپورٹ ٹیرفکم کردیا تھا اور اس کا فائدہ ان کے ایک دوست کو ہوا تھا۔ اولمرٹ پر تیسرا الزام یہ لگا انہوں نے وزارت کے دوران اپنی پارٹی کے لوگوں کو سرکاری نوکریاں دی تھیں۔ ان پر چوتھا اور آخری الزام یہ تھا انہوںنے اپنی الیکشن مہم کے دوران ایک امریکی دوست سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر، ایک گھڑی، سگارز اور فائیو اسٹار ہوٹل سٹے میں لیا تھا۔ یہاں میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں اولمرٹ پر لگنے والے ان تمام الزامات کا تعلق ان کی وزارت عظمیٰ کے پیریڈ سے پہلے کے دور سے تھا لیکن جب ان پر یہ الزامات لگے تو نہ صرف اولمرٹ کے خلاف مقدمہ درج ہوا بلکہ پولیس نے پانچ بار وزیراعظم ہاؤس جاکر اپنے سیٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف تفتیش بھی کی۔ اس تفتیش کے دوران ایہود اولمرٹ ملزم پائے گئے چنانچہ انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ جب اولمرٹ نے استعفے کا اعلان کیا تو ایک ایسا شاندار بیان دیا جسے پڑھ اور سن کر ہمارے جیسے تیسرے درجے کے ممالک اور حکمرانوں کی آنکھیں اور کان کھل جانے چاہیےں۔ اولمرٹ نے کہا تھا: ''مجھے فخر ہے میں ایک ایسے ملک کا شہری ہوں جس میں ایک وزیراعظم کے خلاف بھی اسی طرح تفتیش ہوتی ہے جس طرح عام شہری سے کی جاتی ہے۔'' اور آ پ یہ بھی ذہن میں رکھیے اولمرٹ آج تک ان الزامات کی وجہ سے عدالتوں میں دھکے کھارہے ہیں۔ اسی طرح آپ اسرائیل کے صدر موشے کاٹساو کی مثال بھی لیجیے۔ موشے یکم جولائی 2000ء سے یکم جولائی 2007ء تک اسرائیل کے صدر رہے۔ موشے پر 2006ء میں بدکاری اور کرپشن کے الزامات لگے اور ان الزامات کے نتیجے میں موشے نے 29جون 2007ء کو استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح ہنگری کے وزیراعظم ''فرینک گیورسا'' نے معاشی بحران کی وجہ سے 14/ اپریل 2009ء کو استعفیٰ دے دیا۔ نیپال کے وزیراعظم ''پشپا کمل پر چندا'' 18 اگست 2008ء سے 25 مئی 2009ء تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہے۔ ان پرکرپشن کے الزامات لگے اور ان الزامات کی بنیاد پر انہوں نے 4مئی 2009ء کو مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ آئرلینڈ کے وزیراعظم بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ آئرلینڈ کے وزیراعظم برٹی ہارن نے 7مئی 2008ء کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ ڈے میر پولینس 12 جنوری 2008ء سے 30 اکتوبر 2009 ء تک کروشیا کا ڈپٹی وزیراعظم رہا لیکن اس نے بھی کرپشن کے الزامات پر استعفیٰ پیش کردیا۔ لٹویا کا وزیراعظم گاڈ منیز 20دسمبر 2007ء سے 12مارچ 2009ء تک وزیراعظم رہا۔ اس پربھی کرپشن کے الزامات لگے اور اس نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح فلسطین کے وزیراعظم سلام فیاض نے 7مارچ 2009ئ، تنزانیہ کے وزیراعظم ایڈورڈ لوواسا نے 7فروری 2008ئ، منگولیا کے وزیراعظم سین جاجن بیار نے 26 اکتوبر 2009ء اور فن لینڈ کی وزیراعظم جیسے تھین میکی نے صرف دو ماہ کی حکومت کے بعد 24جون 2003ء کو کرپشن کے الزامات پراستعفیٰ دے دیا تھا۔ آپ یہ جان کر بھی حیران ہوں گے ڈنمارک کا ٹیکس بریکسٹوفیٹ، سویڈن کا وزیر خارجہ ڈینیل کارل، سویٹزرلینڈ کی جسٹس منسٹر ایلزبتھ کوپ، آسٹریلیا کا منسٹر فار انڈسٹری گورڈن رچرڈ، کینیڈا کی امیگریشن منسٹر جوڈی سیگرو، نیوزی لینڈ کا جسٹس منسٹر فلپ فیلڈ، سنگاپور کا سینئر وزیر چنگ وان اور بھارت کا وزیر دفاع جارج فرنانڈس کرپشن کے معمولی معمولی الزامات پر نہ صرف مستعفی ہوئے بلکہ انہیں عدالتوں کا سامنا بھی کیا، انہیں سزا بھی ہوئی اور انہوں نے قانون اور آئین کی بالادستی کے آگے سر جھکادیا۔۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ ہمارے صدر آصف علی زرداری سے لے کروزیر داخلہ رحمن ملک تک اور جہانگیر بدر سے لے کر قانون و انصاف کے وزیر بابر اعوان تک 34 سیاست دانوں پر کرپشن کے الزامات ہیں لیکن یہ لوگ نہ صرف مستعفی ہورہے ہیں بلکہ یہ ملک کے بڑے بڑے عہدوں سے دھڑلے سے چمٹے ہوئے ہیں۔ آخر ہمارے وزرا، ہمارے سیاست دانوں میں کون سی ایسی خوبی ہے کہ ان پر کرپشن کے الزامات لگیں، یہ قوم کا اربوں روپے کا سرمایہ بھی کھاجائیں، ان پر کریمنل کیسز بھی ہوں لیکن یہ اس کے باوجود اپنی کرسیوں سے چمٹے رہیں۔کیوں؟ آخر کیوں؟ احتساب کا وہ نظام جو جاپان سے لے کر امریکا اور فن لینڈ سے لے کر روس اور سعودی عرب سے لے کر میکسیکو تک قائم ہے، وہ سسٹم پاکستان میں نافذ کیوں نہیں ہوسکتا؟ ہماری رولنگ ایلیٹ آئین اور قانون کی پابندی کیوں نہیں کرتی؟ کیا ہمارے سیاست دان، ہمارے حکمران، ہمارے جرنیل اور ہمارے بیوروکریٹس آب زم زم سے دھلے ہوئے ہیں کہ یہ ہر قسم کے قانون سے مکمل طور پربالاتر ہیں۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ سوال یہ بھی ہے اسرائیلی وزیراعظم منصب سنبھالنے سے پہلے کے جرائم پر عدالتوں کے دھکے کھاسکتا ہے، اس کا اپنا اٹارنی جنرل فرد جرم جاری کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن ہمارے صدر کیوں مستثنیٰ ہیں؟ ہمارے وزیر، مشیر اور بیوروکریٹ اس سے کیوں بری ہیں؟ مجھے یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کہ ہمارے آئین اور قانون میں صدر کو استثنیٰ حاصل ہے حالانکہ پاکستان کا آئین یہ بھی کہتا ہے اس ملک کا صدر صرف وہ شخص ہوگا جس کی شخصیت متنازع نہیں ہوگی۔ جس پر بدعنوانی، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے الزامات نہیں ہوں گے۔ جس پر پوری قوم کو اعتماد ہوگا اور مجھے یہ بھی عجیب لگتا ہے اگر ہمارے صدور کواپنی مدت کو طول دینا ہو۔ انہیں دس، دس سال حکومت کرنی ہو تو آئین میں ترامیم کرلی جاتی ہیں۔ آئین و قانون کا حلیہ بگاڑ دیا جاتاہے لیکن اس آئین اور اس قانون میں صدر کو عدالت طلب کرنے جیسی ترامیم نہیں کی جاسکتیں۔ یہ حقیقت ہے ہم وہ قوم ہیں جس نے دنیا کو احتساب اور انصاف کا سب سے مضبوط نظام دیا تھا لیکن افسوس آج اس قوم کے حکمران سب سے بڑے بدعنوان ثابت ہورہے ہیں۔ سارے سیاست دان انہیں تحفظ دینے کے لیے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ افسوس! احتساب اور انصاف کا درس دینے والی اس قوم اور اس ملک کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ آج اس میں کسی سیٹنگ پرائم منسٹر، سیٹنگ پریذیڈنٹ حتیٰ کہ سیٹنگ منسٹر کے خلاف مقدمہ قائم نہیں ہوسکتا۔ ان کے خلاف تفتیش نہیں ہوسکتی۔ انہیں عدالتوں میں بلایا نہیں جاسکتا۔ افسوس! ہم اخلاقیات میں یہودیوں سے بھی مار کھاگئے۔ اس سے بڑے افسوس کا مقام یہ ہے ہمارے حکمرانوں سے جب ان الزامات کا سامنا کرنے کی بات کی جاتی ہے تو یہ فوراً کہتے ہیں ہمیں عوام نے پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے چنانچہ آپ پانچ سال تک ہمیں نہیں پوچھ سکتے۔ کیا پانچ سال کا مینڈیٹ اسرائیلی قوم نے ایہود اولمرٹ کونہیںدیا تھا پھر وہ دو سال بعد کیوں مستعفی ہوگیا؟ آج جب ہمارے حکمرانوں سے استعفے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے ہم پر محض الزام ہے، ہم مجرم نہیں ہیں لہٰذا ہم استعفیٰ کیوں دیں؟ یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا جاپان کے وزیراعظم یاسو فوکوڈا پر کرپشن کا الزام ثابت ہوگیا تھا اور کیا شینزو ایبے کرپٹ ثابت ہوگیا تھا؟ نہیں! تو پھر ان دونوں نے استعفیٰ کیوں دیا؟ قارئین! اس ''کیوں'' میں جاپان کی ترقی اور ہماری پسماندگی کی تمام وجوہات چھپی ہیں کیونکہ دنیا کا ہر وہ ملک جس میں احتساب کا کڑا نظام ہے اس سے حکمران طبقے کا کوئی شخص بچ نہیں سکتا، وہ ترقی یافتہ، خوشحال، پر امن اور مضبوط ملک ہے اور ہر وہ ملک جس کے سیاست دان، بیوروکریٹس، جرنیل اور ججز کرپٹ ہیں وہ ملک کمزور، بد امنی کا شکار، غریب اور غیر ترقی یافتہ ہے۔ یہ وہ واحد وجہ ہے جس کی وجہ سے ہم آج در در بھیک بھی مانگ رہے ہیں اور پوری دنیا سے جوتے بھی کھارہے ہیں۔ ایہود المرٹ نے کہا تھا: ''مجھے فخر ہے میں ایک ایسے ملک کا شہری ہوں جس میں وزیراعظم کے خلاف بھی اسی طرح تفتیش ہوتی ہے جس طرح عام شہری سے کی جاتی ہے۔'' کاش! ہمیں بھی اس قسم کا ایک فخر مل جائے، ہم بھی ایک مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت سے یہ فخر کرسکیں۔ کاش! ہم بھی ایک ایسے اسلامی ملک کے شہری ہوں جس میں ملزم یا مجرم کوئی بھی ہو، وہ عام شہری ہو یا پھر اس کا تعلق رولنگ ایلیٹ کے ساتھ ہو، یہ سب قانون کی نظر میں برابر ہوں۔ جس میں کوئی این آر او ہو، کوئی استثنیٰ ہو اور نہ ہی کوئی زرداری، مزاری، گیلانی اور ملک ہو۔ سب پاکستانی ہوں اور سب کے لیے ایک نظام، ایک آئین، ایک قانون اور ایک اللہ اور ایک رسول ہو۔ کیا ہماری زندگیوں میں یہ خواہش پوری ہوگی؟ کیا ہمیں بھی یہ فخر مل سکے گا؟ بشکریہ جناب یاسر محمد خان
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| sahj کا شکریہ ادا کیا گیا | نیلم خان (15-01-10) |
|
|
#3 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 554,689
شکریہ: 25,087
10,146 مراسلہ میں 37,531 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خوبصورت تحریر
![]() اللہ کرے زور بیان اور بھی زیادہ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,483
کمائي: 25,620
شکریہ: 1,232
937 مراسلہ میں 2,828 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Mar 2008
عمر: 25
مراسلات: 1,247
کمائي: 81,290
شکریہ: 1,023
781 مراسلہ میں 1,922 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ساھج بھائی کیا یاسر محمد خان کی تحاریر انٹرنیٹ پر موجود ہیں ؟
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, پولیس, پاکستان, پاکستانی, ڈنمارک, وزیراعظم, نظر, مکمل, آج, اللہ, اسلامی, جرم, خلاف, خان, دوست, زرداری, سیاست, سال, شاندار, شخص, علی, غریب, صدور, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| اب کے سال کچھ ایسا کرنا | abdulrehman303 | عمومی بحث | 2 | 20-04-11 08:49 AM |
| بادل کیسا ہے ایسا ویسا ہے! | نایب ناظم | گپ شپ | 6 | 14-01-11 08:51 AM |
| اب کے برس کچھ ایسا کرنا | راجہ اکرام | شعر و شاعری | 0 | 01-01-11 10:33 PM |
| اسے اپنے جیسا بنانا۔۔ | محمدخلیل | شاعری اور مصوری | 8 | 27-03-09 02:54 PM |
| حکمراں اتحاد صدر پرویز کیساتھ فاروق لغاری جیسا سلوک کرنے کیلئے تیار | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 18-04-08 07:49 AM |