| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
کمائي: 6,951
شکریہ: 401
228 مراسلہ میں 534 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھارت اور چین کے بیچ حالات بدلنا شروع ہو گئے ہیں، خاص طور پر پاکستانی آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی کے دورے کے بعد سے چین کی طرف سے بھارت پر کافی ساری کرم نوازیا ں جاری ہیں۔
ہندوستان نے چین کے ایک نیم سرکاری تجزیہ کار کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں انڈیا کو کئی ٹکڑوں میں توڑنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ مضمون نیم سرکاری ادارے انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ویـب سائٹ پر اپریل میں شائع ہوا لیکن ہندوستان میں اس کے بارے میں تفصیلات گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آئیں جب چینی امور کے ایک ہندوستانی ماہر نے اس مضمون کا ترجمہ پیش کیا۔ ہندوستان میں شائع ہونے والے ترجمے کے مطابق اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے حالات اس وقت بہت موزوں ہے۔ اس کے لیے چین کو پاکستان نیپال اور بھوٹان کی مدد لینی چاہیئے۔ مضمون میں کہا گیا ہے ’ چین کو آسام میں آزادی حاصل کرنے کے لیے شدت پسند تنظیم الفا اور تمل و ناگا گروپوں کی قوم پرستی کی تحریک کی حمایت کرنی چاہیئے۔ بنگلہ دیش کی مدد کی جائے تاکہ وہ مغربی بنگال کے ساتھ ایک یو نائٹیڈ بنگالی قومیت پر مبنی علحیدہ مملکت قائم کر سکے اور اس طرح چین جنوبی تبت کی نوئے ہزار مربع کلو میٹر زمین ہندستان سے واپس لے سکے جس پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے ۔‘ مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک ملک کے طور پر کبھی بھی وجود میں نہیں رہا ہے ۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مضمون ایک تچزیہ کار کی انفرادی رائے ہے اور یہ چین کے اس سرکاری موقف سے مطابقت نہیں رکھتی جس کا اظہار چینی اہلکار مختلف مواقع پر ہند چین تعلقات پر کرتے رہے ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چینی حکام نے کہا ہے کہ ہند چین تعقات کے ضمن میں چین پر امن بقائے باہم کے پانچ بنیادی اصولوں پر عمل کرتا ہے ۔ ان میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ علاقائی سالمیت اور حاکمیت کا احترام کیا جائے۔‘ وزارت خارجہ کے اس بیان میں ہندوستان اور چین کے سرحدی تنازعوں کا بھی ذکر ہے اور کہا گیا ہے دونوں ملکوں کے درمیان کئی سظح پر بات چیت جاری ہے اور حالیہ برسوں میں مذاکرات کے عمل میں تیزی آئی ہے ۔’ دونوں ممالک ایک دوسرے کے حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے سرحدی تنازعات سمیت سبھی معاملات پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘ دلجسپ پہلو یہ ہے کہ ہندوستان کو ’بیسیوں ٹکڑوں‘ میں توڑنے کے مضمون پر صفائی چین کے بجائے ہندوستان کی طرف سے آئی ہے۔ چینی حکام نے ابھی تک اس مضمون پر کو ئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ یہ مضمون ایک ایسے وقت روشنی میں آیا ہے جب ہندوستان میں بنگلہ دیش اور برما سے لے کر سری لنکا تک چین کے تیزی سے بڑھتے ہو ئے اثر پر ہندوستان میں شدید تشویش پائی جا تی ہے۔ گزشتہ دنوں بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ نے خطے کی سلامتی کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ’چین کا اثر نہ صرف تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ ہندوستان فی الوقت فوجی اعتبار سے اس کا سامنا کرنےکا اہل نہیں ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چین اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے معاملے میں اپنا رویہ سخت کرتا جائےگا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات پر کئی دور کے مذاکرات ہو چکے ہیں اور ہر بار ہندوستان کی طرف سے یہی کہا جاتا رہا ہے کہ بات چیت ’پرخلوص ماحول‘ میں ہو ئی اور کافی تعمیری رہی لیکن حقیقت میں کتنی پیش رفت ہو ئی ہے یہ پتہ لگانا مشکل ہے ۔ پچھلے چند برسوں میں چین کے رویے میں واضح طور پرسختی آئی ہے۔ ایک مرحلے پر واجپئی کے دور حکومت میں ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ تبت کے معاملے پر چین کے موقف سے قریب آنے کے بدلے چین نے بھی سکم اور اروناچل پردیش کے متنازعہ علاقوں پر ہندوستان کے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے ۔ لیکن گزشتہ برسوں میں چین کے موقف میں سختی آئی ہے اور ہندوستان کے ان علاقوں پر جن پر اس کا دعویٰ رہا ہے ، انہیں کبھی چین کے نقشے میں دکھا کر تو کبھی کسی مضمون کے ذریعے اپنی پرانی پوزیشن پر زور دیتا رہا ہے ۔ ہندوستان میں چین کے بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے اثر پر گہری تشویش ہے۔ چینی امور کے ماہر تجزیہ کار ہندوستان کے دفاعی پالیسی سازوں پراپنی توجہ پاکستان کے بجائے چین پر مرکوز کرنے پر زور دیےرہے ہیں۔ انڈین ڈیفینس ریویو جریدے کے مدیراور تجزیہ کار بھرت ورما نے حکومت کو ’چین کےعزائم کے بارے میں خبر دار کیا ہے ۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اقتصادی کساد بازاری سے چین کی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور ملک کے کئی حصوں میں زبردست بے چینی ہے ۔’اندرونی بے چینی دبانے اور ایشیا میں اپنی برتری مسلط کرنے کے لیے چین کو ایک فوجی فتح کی ضرورت ہے اور ہندستان اس کے نشانے پر ہے۔‘ ہندوستان میں سرکاری سطح پر چین سےبہتر تعلقات اور ’پرامن مذاکرات کی دہائی دی جاتی رہی ہے لیکن اس سطح کے نیچے چین کے بارے میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے اور ملک کے پالیسی ساز اب اپنی توجہ واضح طور پرچین کی طرف مرکوز کر رہے ہیں جن مین طویل مدتی فوجی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ ازبی بی سی سلنڈر ایک اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کے لداخ خطے کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چینی فوجیوں نے بھارتی حدود میں داخل ہو کر ایک شاہراہ کی تعمیر کے کام کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ لداخ کی خودمختار پہاڑی کونسل کے سربراہ چیرینگ دورجے نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ حکومت ہند آگاہ کیے جانے کے باوجود چینی افواج کی ان کارروائیوں کا نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ مسٹر دورجے کا کہنا ہے کہ ’حکومت ہند کے ایک تعمیراتی منصوبے کے تحت ہم لہہ کے دم چوک علاقہ میں آٹھ کلومیٹر شاہراہ تعمیر کر رہے ہیں۔ چار کلومیٹر فاصلے پر کام مکمل ہوگیا تھا کہ پچھلے ماہ اچانک چینی فوج بھارتی حدود میں گھُس آئی اور ہمارے لوگوں کو دھمکی دی کہ کام فوراً بند نہیں کیا گیا تو خطرناک نتائج نکلیں گے‘۔ لداخ کونسل کے سربراہ کے مطابق اس ’دھمکی‘ کے بارے میں ضلع کمشنر کو ایک خط لکھا گیا جس کے بعد ضلع کمشنر نے اس مقام کا دورہ کیا۔ سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لہہ کے ضلع کمشنر نے صوبے کے محکمہ داخلہ کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں چینی فوج کی مداخلت کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مسٹر دورجے کہتے ہیں کہ ’یہاں موجود ہماری افواج تو کچھ نہیں کرتیں۔ چینی فوج زمین کھارہی ہے اور یہ لوگ تماشا دیکھ رہے ہیں‘۔ سرد موسم اور دشوار گزار میدانی علاقوں کی وجہ سے لداخ کو دنیا کو ’سرد ریگستان‘ کہتے ہیں۔ اسی خطے کی سرحدیں طے کرنے کے معاملے پر ہندوستان اور چین کے درمیان اُنیس سو باسٹھ میں جنگ ہوئی تھی جس میں بھارتی افواج کو ہار کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نئی دلّی کے انسٹیٹیوٹ آف ڈیفینس سٹڈیز انیڈ اینالِسیس کے ساتھ وابستہ چینی امور کے ماہر پروفیسر پی ستوبدان نے بتایا کہ بار بار بھارتی حدود میں چینی مداخلت کا مقصد بھارتی افواج کو جنگ کے لیے اُکسانا ہے۔ تاہم پروفیسر ستوبدان کہتے ہیں کہ موجودہ مداخلت متنازعہ خطے میں نہیں ہوئی ہے۔ ’یہ سڑک دم چوک کے جنوب میں بن رہی ہے، جو بین الاقوامی سرحد ہے۔ لائن آف ایکچول کنٹرول تو دم چوک کے شمال میں پنگ گونگ جھیل کے قریب ہے۔ یہ ایک سرکاری معاملہ ہے، لیکن پھر بھی نئی دلّی کی خاموشی اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے دفاعی امور کے بارے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں چین نے کشمیریوں کو پاسپورٹ کی بجائے علیٰحدہ کاغذ پر ویزا دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس پر بھارت کے سفارتی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ چینی دفتر خارجہ نے کئی مرتبہ کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کی بات بھی کی ہے جس کا یہاں کے علیٰحدگی پسند گروپوں نے خیر مقدم کیا ہے۔ از: بی بی سی سلنڈر وقت اشاعت: منگل, 1 دسمبر, 2009, 11:39 GMT 16:39 PST ایک اور چین کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں حال میں ہندوستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ ہندوستان کی فوج نے اپنے خطے میں چینی ہیلی کاپٹروں کی پرواز کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے اس معاملے کو چینی فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی فلیگ میٹنگ میں اٹھایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق چین کی طرف سے صرف اگست کے مہینے میں حقیقی کنٹرول لائن کی کم از کم چھبیس بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں بھی چینی گشتی فوج کی ٹکڑیاں متعدد بار ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئیں اور ہندوستانی فوجیوں کے کیروسن پٹرول اور دیگر ساز وسامان اٹھا لے گئیں ۔ گزشتہ ہفتے شمال مشرقی ریاست سکم سے ہند۔چین سرحد پر چینی فوجیوں کی طوف سے گولہ باری کی اطلاعات آئی تھیں۔ یہ گولہ باری دو روز تک جاری رہی۔ از:بی بی سی سلنڈر اس کے علاوہ بھی چین کی طرف سے کافی کرم نوازیا ں انڈیا پر جاری ہیں جن میں چین سے آنے والے دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیرکا کام بھی شروع ہے کیا کوئی نیا محاذ کھلنے جا رہا ہے؟؟ |
|
|
|
| Student کا شکریہ ادا کیا گیا | سحر (02-12-09) |
![]() |
| Tags |
| china, color, india, کوشش, کلومیٹر, کنٹرول, پاکستانی, پسند, چین, مکمل, موجودہ, معلوم, آزادی, انتظامیہ, حل, خلاف, خبر, سری لنکا, علاقہ, علاقے, علحیدہ, صورتحال, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| نماز میں خشوع و خضوع | صبارخ | نماز | 1 | 01-10-10 06:18 PM |
| Z سے شروع ہونے والی ایجادات / دریافت | ابو عمار | گپ شپ | 2 | 26-05-08 05:52 AM |
| W سے شروع ہونے والی ایجادات / دریافت | ابو عمار | گپ شپ | 3 | 26-05-08 05:52 AM |
| X سے شروع ہونے والی ایجادات / دریافت | ابو عمار | گپ شپ | 1 | 23-05-08 12:11 AM |