| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہماری زندگیاں ایک لامتناھی خواھشات کے تسلسل سے مزین ہیں، شاید یہ خواھشات ہی ہیں جو ہم میں جینے کا جذبہ بیدار رکھتی ہیں،اگر یہ خواھشات نہ ہوتیں تو ہم کو جینے کی تمنا بھی نہ ہوتی۔ ہم اکثر اس مشاھدے سے گزرتے ہیں کہ ہمارے دل میں کسی چیز کے حصول کی جستجو ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لئے ہر ممکنہ سعی کر گزرتے ہیں۔ لیکن اسکے حصول کےتھوڑے ہی عرصے بعد اسکی وقعت کم ہونے لگتی ہے۔ اور اس کی جگہ کوئی نئی خواھش پنپنے لگتی ہے، اور پھر اسی تسلسل سے ہماری نفسانیت خواھشات پر خواھشات کئے جاتی ہے اور ہر نئی خواھش کے لئے اک نیا جذبہ ہمارے دل میں موجزن ہوتا رہتا ہے جو اس کی تکمیل کے اسباب فراہم کرتے ہیں۔
اسلامی نکتہ نگاہ سے ذرا غور کریں تو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی خوبصورت پیرائے میں اس کو بیان کیا ہے فرمایا: اگر ابن آدم کو ایک وادی سونے کی مل جائے،وہ دوسری وادی کی تمنا کرے گا"۔ حالانکہ اگر چند کلو سونا ہو تو کیا ہی سکون کی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ اللہ ذوالجلال کے تخلیقی عجائب میں سے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل ہیں جو انسانی خواھشات کو مہمیز لگاتے ہیں: بچپن میں انسان کا عقل بھی بچہ ہوتا ہے اور اسکی خواھشات بھی بچگانہ سی ہوتی ہیں جن میں سے اکثر کو وہ پورا کرنے کا اھل نہیں ہوتا، لھذا ان کو پورا کرنا والدین کے ذمہ ٹھرتا ہے، اور وہ ان بچگانہ خواھشات کو بحسن خوبی پورا کرتے ہیں۔ لڑکپن مین ہماری خواھشات کا محور کھیل و گراونڈ تک محدود رہتا ہے اور پھر ہم اپنے پسندیدہ میدان میں اپنے آپ ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نوجوانی مین ہم آئیڈیلزم کی خواھش میں رہتے ہیں اس دور میں کھڑکیوں سے جھانکنا، کتابوں میں پھول رکھنا، اور کاپیوں کو شعروں سے سجانا اچھا لگتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جس میں انسان سوچتا ہے اگر جینا ہے تو (فلاں ) کے ساتھ، ورنہ کیا جینا۔ یہی وہ عرصہ ہوتا ہے جب دوستی اور دوستون پر فخر کیا جاتاہے۔ جوانی میں ہماری خواھشات آئیڈیلزم کے دائرے سے نکل کر ریئلزم کی طرف بڑھنے لگتے ہیں ، جنکو ہم جزو لاینفک سمجھتے تھے اس عمر میں انکا ساتھ فضول سا لگنے لگتا ہے۔ اب کئی نوجوانوں کو آئڈیل نظر آنے والے غیر مناسب لگنے لگتے ہیہں۔ ادھیر عمری میں ہم اپنی ذات سے نکل کر اولاد خاندان اور معاشرے تک پھیل جاتے ہے اس مرحلے میں اپنے اسٹیٹس اور جائیداد کی خواھشات عروج پر پہنچ جاتیں ہے، کیونکہ اسکی خواھشات کی تکمیل میں دوسرے افراد بھی ممدو معاون بن جاتے ہیں پھر انسان آہستہ آہستہ آخری مرحلے کی طرف جاتا ہے، اب انسان قوت کے بعد پھر سےکمزوری وضعف کو پلٹتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی سب خواھشیں دم توڑنے لگتی ہیں اور پھر اس اسٹیج پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے اس کی ابتداء ہوئی تھی۔ سب کچھ جاننے کے بعد پھر سے وہ کچھ نہ جاننے کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر اس کی خواھشات بچگانہ ہونے لگتی ہیں اور قدرت چاہتی ہے کہ اس کی یہ خواھشات بھی پوری ہوں لیکن اب اس کی خواھشات کو پوراکرنے والوں میں وہ جوش و جذبہ نہیں پایا جاتاجو کہ اس کی بچپن والی خواھشات کو پورا کرنے والوں میں تھا۔ گویا انسان اور خواھش کا چولی ددامن کا ساتھ ہے یہ خواھشات بھی اللہ تعالی نے خاص حکمت کے تحت انسان میں رکھ دی ہیں تانکہ انسان ان کے سہارے اپنی زندگی کو آسانی سے گزار سکے۔ لیکن حقیقی معنی میں کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی خواھشات کو اپنے تابع بناہے اس صورت میں تھوڑے سے متاع کےساتھ بھی خوش و خرم زندگی بسر کرے گا اوراگر معاملہ اس کے برعکس ہوگیا یعنی انسان اپنی خواھشات کا تابع بن گیا تو اس صورت چاہے وہ دنیا کی سب نعمتیں بھی حاصل کر لے وہ خوشی کی زندگی بسر نہیں کر پائے گا۔ اور ایسے شخص کے بارے اللہ تعالی فرماتے ہیں: أفريت من اتخذ الهه هواه" کیا آپ نے اس شخص کی نہین دیکھا جس نے اپنی خواھشات کو معبود بنالیا ہےِ۔
__________________
اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے آئیں اوروں کے لیے جینا سیکھیں Last edited by غلام مجتبی جان; 04-02-10 at 04:46 PM. |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے غلام مجتبی جان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (04-02-10), ھارون اعظم (13-02-10), نورالدین (03-04-10), راجہ اکرام (13-02-10), سحر (05-02-10) |
|
|
#2 |
|
محسن
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 35
مراسلات: 1,460
کمائي: 10,378
شکریہ: 278
472 مراسلہ میں 1,010 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے اور حقیقیت کے قریب
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت کمال جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم برادر غلام مجتبی
ایک اور بہترین تحریر شیئر کرنے پر ہدیہ تبریک و تشکر قبول کیجئے۔ بے شک خواہش اور انسان کا ناتا اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ انسان کی تخلیق۔ لیکن کامیاب وہی ہے جس نے اپنی خواہشات کو اپنے رب کی مرضی کے تابع کر دیا اور رب کی رضا پر ہر خواہش کو قربان کر دیا۔ کیوں کہ اگر انسان اپنی خواہشات پر عمل کرنے کو ترجیح دے تو پھر یہی خواہشات انسان کے لئے رب کا درجہ اختیار کر جاتی ہیں جس کا ذکر آپ نے بھی کیا قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے۔ من اتخذ الہہ ھواہ اور حدیث مبارکہ میں بھی ایسے شخص کو بیوقوف قرار دیا گیا ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کا تابع بنا دیتا ہے “والعاجز من اتبع نفسہ ھواھا وتمنی علی اﷲ ” او کما قال علیہ السلام ایک مسلمان کی کامیابی صرف اور صرف اس میں ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اس کے مطابق کر لے جو نبی آخر زماں سرو رکائنات صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے ہیں۔ لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ او کما قال علیہ ا لسلام اللہ تبارک و تعالی ہمیں اپنی خواہشات کو اس کی مرضی کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | غلام مجتبی جان (15-02-10) |
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | shafresha (14-02-10), غلام مجتبی جان (15-02-10) |
|
|
#6 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 1
کمائي: 137
شکریہ: 0
ایک مراسلہ میں 2 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خواہشوں کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں، یہ خواہشیں ہی ہمیں متحرک اور فعال رکھتی ہیں، مقصدیت عطا کرتی ہیں، every action is first born in mind as a wish and that becomes a practical reality when we make it happen by our actions.
Wishes are our inspirations that motivate us to do what we want to do. Success is not criterion for right or wrong of any wish. So, wish and make it happen That is life. امید ہے میرا انگریزی میں لکھنا ناگوار نہیں گزرے گا شکریہ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے hijazee کا شکریہ ادا کیا | منتظمین (03-04-10), غلام مجتبی جان (06-04-10) |
![]() |
| Tags |
| ہیں،, ہونے, ہوتیں, ہوتی۔, ہے۔, ہماری, کم, لگتی, لیکن, چیز, ممکنہ, اکثر, انسان, اسکی, اسکے, تمنا, تسلسل, جینے, جذبہ, جستجو, حصول, خواہشیں, دل, رکھتی, شاید |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|