| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
انسانی جان و خون کا احترام:
” اس کائنات کے اول انسان آدم علیہ السلام تھے۔ وہ اللہ کے نبی بھی تھے۔ ان کے اور ان کے بعد دنیا میں جتنے بھی انبیاءآئے سبھی کے یہاں انسانی جان کے احترام کا عقیدہ و تصور موجود تھا۔ انسانوں میں سے سب سے اول قاتل آدم کے بیٹے قابیل کو اس کا شعور نہ تھا کہ قتل کے بعد بھائی کی نعش کس طرح چھپانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیج کر بھائی کی نعش کو ٹھکانے لگانے کی ترکیب بتائی تھی اس وقت بھی دوسرے بھائی ہابیل کو انسانی جان کی حفاظت و احترام کے متعلق اللہ کی ہدایت کا علم تھا۔ اسے احساس تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کسی انسان کی جان لینا اس کا نہیں رب العالمین کا حق ہے۔ اس کے حق کو اپنے ہاتھ میں لینا اللہ کے اختیارات میں مداخلت، بغاوت اور باعث گناہ و عذاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب قابیل کی نذر بارگاہ خداوندی میں مقبول نہ ہوئی اور ہابیل کی قبول ہو گئی تو اس نے بھائی کو ضد و حسد میں ہلاک کر ڈالنے کی دھمکی دی۔ اس وقت ہابیل نے جان دے دینا گوارا کر لیا لیکن بھائی کو جان سے مار ڈالنے کی جرا¿ت نہیں کی۔ قرآن میں ہے ہابیل نے بھائی کے اسے قتل کر دینے کی دھمکی پر جوابا کہا: اللہ متقیوں ہی کی نذر قبول کرتا ہے اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ( مائدہ آیت: 30 ) بنی اسرائیل انبیاءکی اولاد ہیں اللہ تعالیٰ نے ان سے کئے ہوئے میثاق کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرماتا ہے: ہم نے ان سے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو گے۔ والدین اور قرابت داروں اور یتیموں و مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرو گے۔ لوگوں کے ساتھ بھلی بات بولو گے۔ نماز قائم کرو گے زکوٰة دو گے مگر کچھ تھوڑے ہی لوگوں کے سوا تم لوگ اپنے میثاق سے پھر گئے۔ اور یاد کرو ہم نے تم سے پختہ وعدہ و عہد لیا تھا کہ تم آپس میں خون خرابہ نہ کرو گے۔ اور نہ ہی لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرو گے۔ تمہیں یہ میثاق تسلیم تھا اور تم ہی اس کے شاہد و گواہ تھے۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات انبیائی مشن کی تکمیل ہیں۔ آج نہیں، آج سے چودہ سو سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے شد و مد کے ساتھ انسانی خون کے احترام کا عقیدہ و تصور دنیا کے سامنے پیش کیا اور ہر ایک کے حقوق و فرائض اور ان کی ذمہ داریاں بتائیں۔ سارے انسانوں کو ایک مرد و عورت آدم و حوا کی اولاد قرار دیا۔ کالے گورے مشرق و مغرب، عرب و عجم کا فرق و امتیاز مٹا دیا اور سارے انسانوں کو عزت و امن کی زندگی گزارنے کی تعلیم دی۔ آپ نے نہ صرف انسانوں کے حقوق بتائے بلکہ جانور اور دوسری مخلوقات کے بھی حقوق بتائے اور ان پر عمل کرنے کی تلقین کی آپ نے جانوروں کے متعلق بتایا کہ ان کا حق ہے کہ انہیں پیٹ بھر کر کھلایا جائے۔ ان پر زیادہ سختی نہ کی جائے ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہیں بھوکا پیاسا نہ رکھا جائے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔ تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا وہ کہنے لگا اللہ کے رسول! میرا ہے۔ فرمایا کہ تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے۔ ( ابوداود 2549 ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت نے ایک بلی کو باندھ دیا۔ وہ بلی بندھے بندھے مر گئی۔ اس کے سبب وہ عورت عذاب کے مستحق گردانی گئی اور جہنم میں ڈال دی گئی۔ آپ نے فرمایا اس عورت نے دوران قید نہ اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر زندہ رہ لیتی۔ ( بخاری و مسلم ) جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور جو دین و شریعت جانوروں تک پر مہربان ہو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دین انسانوں پر کیوں نہ مہربان ہو گا اور ان کی زندگیوں کو مامون و محفوظ بنانے کی کوشش کیوں نہ کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں اپنے تاریخی خطبہ میں فرمایا: تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روندی گئی۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کر دئیے گئے۔ اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے- یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہیں ایام میں قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا- اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارا کا سارا سود ختم ہے۔ آپ نے حجة الوداع کے موقع پر یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کے خطبہ میں بھی فرمایا.... سنو! تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔ اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگار سے ملو گے اور وہ تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا لہٰذا دیکھو میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ ان کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جن میں انسان کی زندگی کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔ اور قرآن پاک میں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک انسان کو ناحق قتل کر دینا سارے انسانوں کو قتل کر دینے کے مترادف ہے اور ایک انسان کو زندہ رہنے دینا اس کی جان بچانا سارے ہی لوگوں کی جان بچانے اور زندہ رہنے دینے کے مترادف ہے۔ سورہ مائدہ میں فرمایا: من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعا ( 32 ) ” جس نے کسی انسان کو کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔ “ انسانی جان کی اتنی قیمت و اہمیت کو سورہ بقرہ کی آیات ( 178,179) بھی ظاہر کرتی ہیں جن کے آخر میں فرمایا گیا ہے ولکم فی القصاص حیوة یاولی الالباب لعلکم تتقون ” عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔ “ یہ زندگی، اس طرح ہے کہ جب انسانی جان کا احترام نہ کرنے والے قاتل کی جان اس کے قتل کے بدلے میں لے لی جاتی ہے ایک تو یہ کہ اس قاتل کے شر اور قتل کے خطرے سے دوسرے لوگ محفوظ ہو جاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس قاتل کے قتل کا منطقی اور یقینی انجام دیکھ کر دوسرے لوگ قتل کے جرم کے ارتکاب سے ہر ممکن طور پر بچتے ہیں اس طرح یہ قصاص فرد، سماج و معاشرے کے لیے زحمت کے بجائے زندگی اور رحمت بن جاتا ہے۔ حقوق انسانی کا تحفظ: حقوق انسانی کا تحفظ صرف اسلام اور اسلامی اعتقادات و تصورات کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔ کسی اور ذریعہ، کسی اور عقیدہ و قانون سے نہیں۔ اسلامی عقیدہ و تصور میں دنیا بھر کے سارے انسان ایک مرد و عورت آدم و حوا کی اولاد ہیں جیسا کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے۔ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے گروہ اور قبیلے صرف اس لیے بنا دئیے ہیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو کہ فلاں گروہ فلاں قبیلے ہیں۔ بحیثیت انسان کسی کو کسی بھی انسان پر فضیلت و برتری حاصل نہیں ہے۔ سب کے حقوق یکساں ہیں اور سب کے لیے میزان و انصاف ایک ہے۔ اگر کسی کو کسی پر عزت و عظمت، بزرگی و برتری اخلاقی طور پر حاصل ہے تو اس کی بنیاد تقویٰ اور خشیت الٰہی ہے۔ جو کوئی بھی تقویٰ اختیار کرے گا وہ اللہ اور لوگوں کی نظروں میں زیادہ عزت و توقیر کا مستحق ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی احادیث میں اسی طرح کی باتیں بتائی ہیں ایک حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو عربی پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر بجز تقویٰ کے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔ اس طرح کی باتوں کو اگر دل سے مان لیا جائے سب کو ایک آدم کی اولاد، ایک خاندان اور ایک کنبہ کے افراد تسلیم کر لیا جائے تو دنگے فساد میں بڑی حد تک کمی ہو سکتی ہے اور سماج و معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اسلام نے چھوٹے بڑے، امیر و غریب، مرد و عورت، ماں باپ، بھائی بہن، شوہر و بیوی، حاکم و رعایا وغیرہ سب کے حقوق بتا دئیے ہیں اور اخلاقی و قانونی طور پر ان کی بجا آوری پر زور دیا۔ ان حقوق کو ہمیں آج بھی ادا کرنا ہے۔ ان کی بجا آوری ہی آج دنیا میں انصاف اور امن و امان کی ضمانت ہے۔ ٹھوس بنیاد کا فقدان: اقوام متحدہ کے ” حقوق انسانی“ کی ادائیگی میں ایک بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ حقوق انسانی کا تعین اور ان کے نفاذ کے لیے اس کے پاس کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے جس کے ذریعہ حقوق انسانی کا صحیح صحیح تعین کیا جا سکے جب کہ اسلام کے پاس ان کے لیے ایمان و عقیدے کی ٹھوس بنیادیں ہیں۔ حقوق انسانی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ سارے انسانوں کو ایک خدا کی مخلوق اور ایک آدم کی اولاد سمجھا جائے۔ اور انسانوں میں رنگ و نسل، قوم و وطن اور کالے گورے کا فرق و امتیاز نہ کیا جائے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو یکساں حقوق کے تعین اور ان پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہیں اور قوموں و ملکوں میں خون و خرابہ کا باعث بنتی ہیں۔ ویٹو کی بالادستی دوسری بڑی رکاوٹ: انسانی حقوق کی ادائیگی میں دوسری بڑی رکاوٹ ویٹو پاور کا حق و اختیار ہے۔ ویٹو اقوام متحدہ کے یکساں حقوق و مساوات کے دعوے دار اور ضد ہے۔ ویٹو پاور رکھنے والی طاقتیں کسی بھی مسئلہ کو جو ان کے مفاد اور ان کی مرضی و منشا کے موافق نہ ہو۔ حل ہونے نہیں دیتیں الجھائے اور لٹکائے رہتی ہیں جنرل اسمبلی کی اکثریت اگر کوئی قرار داد پاس بھی کر دے تو یہ اپنا ویٹو استعمال کر کے اسے کالعدم اور بے وزن کر دیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدل، مساوات اور حقوق انسانی کے دعوے کے پیچھے ویٹوں کی بالادستی اور حکمرانی چھپی ہوئی ہے وہ ممالک جو اس حق سے محروم ہیں اور اقوام متحدہ سے منسلک ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں انہیں اپنے اشتراک، انسلاک والحاق کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ وہ اس صورت حال سے مطمئن اور خوش ہیں یا وہ اس کی اصلاح اور اس میں تبدیلی چاہتے ہیں اگر وہ تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں اس کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس فرق و امتیاز کو روانہ رکھنے والوں کا ساتھ نہ دیں اور اسے ختم کرائیں۔ انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار امریکہ کا عمل: امریکہ آج کی دنیا میں اپنے پروپیگنڈے کے زور پر حقوق انسانی کا سب سے بڑا علمبردار بنا ہوا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ان کا احترام نہیں کرتا وہ اپنے مقابل میں دیگر قوموں و ملکوں کے انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ انسانی حقوق کو پامال کرنے اور کمزوروں اور چھوٹے ملکوں پر ظلم و زیادتی کرنے میں سب سے آگے ہے۔ قدیم عرب میں رواج تھا اور آج بھی بہت سی جگہوں پر ایسا ہی ہے۔ طاقتور فرد، قبیلہ و ملک اپنے مقابل میں کمزور فرد، قبیلہ و ملک کو اپنے برابر حقوق نہیں دیتا۔ اگر کسی کمزور فرد، قبیلہ یا ملک نے کسی طاقتور فرد قبیلہ وملک کے کسی فرد یا کچھ افراد کو قتل کر دیا ہے تو طاقتور فرد، قبیلہ و ملک قاتل فرد یا افراد کے قتل پر ( برابری کی بنیاد پر ) اکتفا نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے مقتول کی اپنے اعتبار سے قیمت لگاتا ہے اور ایک یا گنتی کے چند افراد کے بدلے میں قاتل کے گھر، خاندان اور قوم و قبیلے کے سینکڑوں بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ جب کہ اسلام ایسے اندھے انتقام و بدلے کی بالکل اجازت نہیں دیتا۔ مقتول کے بدلے میں صرف قاتل ہی قتل کیا جائے گا قاتل کے گھر، خاندان و قبیلے کے دوسرے اور سینکڑوں افراد نہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے جو کچھ کیا۔ دنیا میں تباہیاں مچائیں، جانوں کو تلف کیا۔ کیا ان کی طرف سے انسانی حقوق کا یہی احترام ہے؟ خود ہمارے ملک برصغیر میں بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ اکثریت کا ایک طاقت ور طبقہ انسانی حقوق کا احترام اور پرواہ نہیں کرتا۔ بہانے ڈھونڈھ کر بلکہ بہانے بنا کر اقلیتوں کو ہلاک کرتا، ان کے گھروں اور ان کی دکانوں کو جلا دیتا اور ان کی معیشت کو تباہ کر دیتا ہے۔ اقلیت کے ایک فرد، یا چند افراد نے کوئی غلطی یا زیادتی کی ہو تو اسے یا انہیں پکڑ کر مقدمہ چلا کر، جرم ثابت ہونے پر اسے یا انہیں سزا دلانے کے بجائے قانون و اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے اقلیتوں پر ہلہ بول دیتا ہے۔ ان کو مارتا اور ان کی بہنوں و بیٹیوں کو بے عزت کرتا ہے۔ انسانی خون اور انسانی حقوق کا کسی کو پاس و خیال نہیں رہتا۔ طاقتور اپنی من مانی کرتا ہے اور من مانی کرنے والا آزاد پھرتا ہے۔ انسانی حقوق کا احترام صرف کمزوروں کے لیے ہے ان کی طرف سے کوئی زیادتی نہ ہونے پائے۔ اور وہ جائے تو وہ بھرپور سزا پائیں۔ (مولانا ابوالبرکات اصلاحی) |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے اخترحسین کا شکریہ ادا کیا | arshad khan (27-09-09), نورالدین (29-11-10) |
![]() |
| Tags |
| پہچان, پیاسا, پاک, قرآن, نفرت, نماز, نظر, میدان عرفات, موت, موجودہ, ممکن, ماں, معاشرہ, آج, ایمان, امیر, امریکہ, اسلام, اسلامی عقیدہ, جرم, حدیث, دیکھو, عورت, عقل, عبادت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|