| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
اسے دیکھیے پھر کل اسی تھریڈ پر ملاقات ہو گی
جناب زرداری کی حکومت کو بھی کیسے کیسے صلاح کار‘ مشیر اور وزیر ملے ہیں کہ اس حکومت کو کسی اپوزیشن کی ضرورت ہی نہیں۔ خود زرداری صاحب کی بھی پوری کوشش ہے کہ اپنے آپ کو عوام اور ان کی خواہشات سے دور رکھا جائے۔ امریکی مظالم کے نمائندگان رچرڈ باﺅچر اور جوبائیڈن کو پاکستان کے اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازنے پر شاید ہی کسی پاکستان نے خوشنودی کا اظہار کیا ہو۔ حتیٰ کہ پیپلزپارٹی میں بھی اس کی تحسین کرنے والے کم‘ کم ہی ہیں اور جو تائید کرتے ہیں وہ بھی شرماتے ہوئے صرف پارٹی وابستگی نبھانے کے لیے ورنہ ان کے جذبات بھی عوام سے مختلف شاید نہ ہوں۔ اس حوالے سے نیا ستم وزیراعظم صاحب یوسف رضا گیلانی نے ڈھایا ہے۔ انہوں نے پیر کے دن اپنے خطاب میں بائیڈن کو دیے گئے ہلال پاکستان کی زرداری جسارت کی تائیدکرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پرویز مشرف کی وردی کسی اور نے نہیں جوبائیڈن نے اتروائی ہے۔ یعنی اس کے صلے میں انہیں ہلال پاکستان دیا گیا۔ یہ وزیراعظم پاکستان کا ایک ایسا اعتراف ہے جس پر خامہ انگشت بدنداں ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ امریکا پاکستان کے آرمی چیف کی وردی اترواسکتا ہے اور جب اترواسکتا ہے تو پہنا بھی سکتا ہے۔ تو کیا یہ اس حقیقت کا اظہار نہیں کہ اب تک پاکستان میں جتنے بھی حکمران اور فوج کے سربراہ آئے‘ سب امریکا کی مدد‘ تعاون اور اجازت سے آئے؟ پھر بات پرویز مشرف تک محدود نہیں رہتی‘ اس اعتراف کی زد میں موجودہ حکمران اور فوج کے سربراہ بھی آجائیں گے اور جناب زرداری رچرڈ باﺅچر اور جوزف بائیڈن کو اعزازات سے نواز کر بالواسطہ اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر جوبائیڈن نے بش انتظامیہ سے باہر رہ کر بھی پرویز مشرف کی وردی اتروادی تو آصف زرداری کو صدر بنوانے میں بھی ان کا کلیدی کردار ہوگا۔ یوں بھی ایک کو ہٹانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کی جگہ اپنی پسند کا تازہ دم مہرہ لایا جائے۔ جناب وزیراعظم نے جوبائیڈن کو ہلال پاکستان دینے کی وکالت کرتے ہوئے جو دلیل دی ہے وہ تو جناب زرداری اور پوری پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف جاتی ہے‘ کیا انہیں اس کا احساس تھا؟ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس کے لیے تو مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سرعام یہ اعتراف کرلیا کہ پاکستان کے اہم ترین معاملات بھی پاکستان سے باہر ہی طے ہوتے ہیں اوران میں پاکستانیوں کا کوئی عمل‘ دخل نہیں ہوتا۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پرویز مشرف کی وردی اتروانے کا کریڈٹ محترمہ بے نظیر کو دیا جارہا ہے یا وکلا سینہ پھلائے پھررہے ہیں کہ ان کی عظیم الشان ملک گیر تحریک کی وجہ سے قوم کوپرویز مشرف سے نجات ملی۔ نہیں صاحب! یہ تو صرف جوزف بائیڈن تھے یا رچرڈ باﺅچر۔ جناب یوسف رضا گیلانی نے بڑی وضاحت سے کہا ہے کہ اگر کوئی اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کی وجہ سے پرویز مشرف کی وردی اتری یا ملک میں جمہوریت آئی تو وہ یہ غلط فہمی دور کرلے۔ یہ جو لولی‘ لنگڑی جمہوریت آج نظر آرہی ہے یہ امریکیوں کا تحفہ ہے۔ شکریہ امریکا۔ لیکن یہ جو پاکستان کے اندر قتل و غارت گری نظر آرہی ہے یہ بھی تو امریکا ہی کا تحفہ ہے۔ وزیراعظم صاحب بھی جانتے ہیں کہ محمود علی درانی اور جناب حسین حقانی بھی امریکا ہی کا تحفہ ہیں۔ وزیراعظم نے جرا¿ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محمود علی درانی کو صدر مملکت سے پوچھے بغیر برطرف کردیا اور کسی امریکی نمائندے یا سفیر کی بھی پروا نہیں کی۔ لیکن موجودہ حکومتی ڈھانچے میں ایسے بہت سے درانی ہیں جو درانہ وار اپنے نظریات پاکستان کی قوم پر مسلط کررہے ہیں اور عوام کی نمائندگی کے نام پر ان سے وہ کچھ منسوب کررہے ہیں جس سے عوام مبرا ہیں۔ تازہ ترین شوشا برطانیہ میں پاکستان کے سفیر واجد شمس الحسن نے چھوڑا ہے۔ ان کی قابلیت کا معیار بھی پیپلزپارٹی سے پرانی وابستگی ہے۔ واجد شمس الحسن نے فرمایا ہے کہ ”ہمارا اسرائیل سے کوئی جھگڑا نہیں‘ پاکستان اسے تسلیم کرلے تو وہ مخالفت ترک کردے گا۔“ واجد شمس الحسن اسرائیل سے محبت کا اظہار پرویز مشرف کی طرح جیوش کانگریس کے کسی اجتماع میں نہیں بلکہ بریڈفورڈ میں پیپلزپارٹی کے ایک پروگرام سے خطاب میں کررہے تھے۔ جومحترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے حوالے سے منعقد کیا گیا۔ حیرت ہے پیپلزپارٹی کے ان شرکاءپر جو اسرائیل کی مخالفت سے بچنے کے لیے اسے تسلیم کرنے اور کسی جھگڑے کے عدم وجود کے اعلان پربھی خاموش بیٹھے واجد شمس الحسن کو وجد میں آتے اور کرنیں بکھیرتے دیکھتے رہے۔ پاکستانی ہونے کے ناتے احتجاج نہ سہی اٹھ کر چلے ہی جاتے۔ کیا سب کے سب اس سے متفق تھے کہ اسرائیل سے ہمارا‘ پاکستانیوں کا ‘ مسلمانوں کا‘ کوئی جھگڑا نہیں ہے چنانچہ اسے تسلیم کرلینا چاہیے۔ جھگڑا نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ہمارا خیر خواہ ہے۔ تو کیا یہ خیر خواہی صرف پاکستان اور اہل پاکستان کے لیے ہے اور کیا پاکستان کے مسلمان امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں؟ کیسی عجیب بات ہے کہ واجد شمس الحسن نے اسرائیل سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار ایسے موقع پر کیا ہے جب نہ صرف پورے پاکستان بلکہ امریکا‘ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں اسرائیل سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور وہ فلسطینیوں پر جو وحشیانہ مظالم ڈھارہا ہے اس پر بھرپور احتجاج ہورہا ہے۔ لیکن واجد شمس الحسن کے نزدیک اسرائیل سے دوستی منافع بخش ہے اور پاکستان کا اس سے کوئی جھگڑا نہیں وہ بھلے ہی فلسطینیوں کا قتل عام کرتا رہے‘ بچوںکو ذبح کرتا رہے‘ مساجد کو مسمار کردے اور قبلہ اول پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھے۔ بھلا پاکستان اور اہل پاکستان کا اس سے کیا واسطہ۔ اسے تو اسرائیل سے دوستی کرلینی چاہیے تاکہ وہ پاکستان کی مخالفت ترک کردے۔ لیکن جناب واجد شمس الحسن یہ تو بتادیں کہ پاکستان نے اب تک اسرائیل کے خلاف کیا کیا ہے کہ وہ پاکستان کی دشمنی میں بھارت کا ساتھ دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ حملے میں تعاون پر بھی تیار ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ذہن سازی کی مہم کوئی نئی نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کچھ لوگ اس کام میں لگے رہے۔ پاکستان کی سابق سفیر محترمہ عابدہ حسین‘ جو آج کل پیپلزپارٹی میں ہیں‘ یہی پرچار کرتی رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کے سب سے بڑے مداح تو ہمارے سابق صدر اور سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف خود تھے جنہوں نے نہ صرف جیوش کانگریس سے خطاب کرنے کا شرف حاصل ہوا بلکہ کانگریس کا صدر ان کا مہمان بھی بنا اور اسرائیلی صدر نے کہاکہ وہ رات کو سونے سے پہلے پرویز مشرف کے لیے دعا کرکے سوتا ہے۔ بعد میں شاید امریکا نے دعا کرنے سے روک دیا ہو۔ لیکن واجد شمس الحسن کی دیدہ دلیری حیرت انگیز ہے کہ وہ نہ تو فلسطینیوں کے قتل عام کو خاطر میں لائے اور نہ انہوں نے پاکستانیوں کے جذبات کو ملحوظ رکھا۔ پھر بھی وہ برطانیہ میں پاکستانیوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ واجد شمس الحسن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ”بے نظیر بھٹو واحد لیڈر تھیں جنہوں نے اعلان کیا کہ وہ قائداعظم کا پاکستان چاہتی ہیں‘ طالبان کا نہیں۔“ محترم کو شاید یہ بھی یاد ہو کہ طالبان کی پشت پناہ محترمہ بے نظیر ہی تھیں اور وہ فخر سے کہا کرتی تھیں کہ ”میں طالبان کی ماں ہوں۔“ تو کیا وہ اس وقت قائداعظم کا پاکستان بھول بیٹھی تھیں؟ ہاں! اس لیے کہ اس وقت طالبان افغانستان میں آگے بڑھ رہے تھے اور محترمہ کے دست راست جنرل نصیر اللہ بابر ہر طرح کی مدد فراہم کررہے تھے۔ واجد صاحب نے مزید فرمایا کہ قبائلی علاقوں میں میزائل حملے طالبان کی وجہ سے ہورہے ہیں‘ امریکا جانتا ہے کہ پاکستانی عوام اس کے خلاف نہیں ہیں۔ واجد شمس الحسن یہ وضاحت بھی کردیتے تو اچھا تھا کہ طالبان سے امریکا کی کیا لڑائی ہے اور وہ ایک آزاد ملک افغانستان پر کیوں قابض ہے۔ ان کے علم میں تو شاید نہیں لیکن امریکا خوب جانتا ہے کہ پاکستانی عوام اس کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں۔ پاکستانی عوام افغانیوں‘ عراقیوں اور فلسطینیوں سے جداگانہ سوچ نہیں رکھتے۔ موجودہ حکومت بھی کیسے کیسے درنایاب اپنی آستین میں رکھتی ہے اور اس پر یہ دعویٰ کہ پانچ سال پورے کرکے رہے گی۔ Last edited by عبدالقدوس; 22-01-09 at 07:25 AM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,385
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت اچھی تحریر ہے۔شکریہ
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
یہاں میں نے ایک لنک دیا تھا وہا پاکستان کا ایک تقشہ تھا نامکمل نقشہ اس کے جوا میں میں کچھ پیش کرنا چاہتا تھا لیکن اب نہیں شکریہ!
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 226
کمائي: 3,743
شکریہ: 616
120 مراسلہ میں 184 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ حالت ہے ہمارے سفیروں کی جس کی وجہ سے امریکہ اسرائیل اور ان کے
اتحادی بے گناہ مسلمانوں کو مار رہے ہیں کیونکہ انھوں نے کالی بھیڑیں خریدی ہوئی ہیں ایسے لوگوں کو مسلماں کہنا بھی ظلم ہے یہ لوگ مجسم شیطان ہیں کیونکہ مسلمانوں کا دشمن تو وہی ہے رہی بات گیلانی صاحب کی تو آپ نے سنا ہو گا کہ سچ کو جتنا دبا کر رکھو گے وہ اتنا ہی باہر آئے گا اب تو لگ بھگ سال ہو گیا ہے سچ نے باہر آکر یہ بتانا تھا کہ یہ سب ڈیلنگ تھی الیکشن وغیرہ تو ڈرامہ تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی بھی ووت ڈالنے نہ جائے تو بھی یہ 70فیصد رزلٹ نکال لیتے ہیں رہی بات ایوارڈ کی تو حق تو قرزئی اور نورالمالکی کا بنتا تھا کہ وہ بائیڈن اور باوئچر کو ایوارڈ دیتے کیونکہ ان کا کوئی چانس نہیں تھا صدر اور وزیراعظم بننے کا لیکن انھوں نے ایوارڈ دے کر ثابت کر دیا کہ یہ قرزئی اور نورالمالکی سے بھی گئے ،،،،،،،، ،،،،،، |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پاکستان, پسند, وزیر, وزیراعظم, قائداعظم, لوگ, نفرت, نظر, موجودہ, ماں, محبت, آصف زرداری, اللہ, انتظامیہ, امریکہ, احتجاج, اعلیٰ, بے نظیر, خلاف, دعا, زرداری, سال, طالبان, صدر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|