واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اصلاح معاشرہ ۔۔ ہماری ذمہ داری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 4.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 12-02-10, 07:13 PM   #1
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اصلاح معاشرہ ۔۔ ہماری ذمہ داری

اصلاح معاشرہ ۔۔ ہماری ذمہ داری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم !
آج ہمارا معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہے اور نوجوان نسل خاص کر جس بے راہ روی کا شکار ہے ۔۔ اب اس میں ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا قصور ہو یا موبائل سروس کمپنیز کا۔۔
اس سے انکار بھی نہیں لیکن ہم کسی کو الزام دے کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کیونکہ شیطان بھی روز قیامت کہہ دے گا کہ

میں نے تو صرف دل میں وسوسہ ڈالا تھا ۔۔ عمل تو تمھارا اپنا تھا ۔۔

ہم میں سے اکثریت برائی کو برائی سمجھتی ہے ۔۔ لیکن خاموش تماشائی بنی رہتی ہے اس میں سے چند ہی ہیں جو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔۔
اور ان میں سے بھی چند ایسے ہیں جو اس برائی کا درد اپنے دل میں محسوس کر کے اسے معاشرے سے ختم کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں ۔۔۔ اور ایسے افراد کی تعداد اکثریت میں سے بہت کم ہی رہ جاتی ہے ۔۔۔
ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے آخری حد تک اپنی کوشش جاری رکھیں اور دل میں نرمی اور ہمدردی کے جذبات کے ساتھ اصلاح کا عمل جاری رکھیں ۔۔
اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں شعور دیا ہے تو ہم بھی اس شعور و آگہی کو ان لوگوں تک منتقل کریں جو اس سے محروم ہیں
کیونکہ اگر ہم بھی خدانخواستہ تاریکی میں بھٹک رہے ہوتے ۔۔۔ تو یہ ہماری بدقسمتی ہوتی ۔۔
اللہ کا بڑا کرم اور احسان ہے ۔۔۔
ماہ فروری آتے ہی ملک میں بسنت اور ویلنٹائن ڈے کا چرچہ ہونے لگتا ہے ۔۔ کچھ حق میں کچھ مخالف اور کچھ بے سوچے سمجھےیا شاید اسے مجبوری کا نام دے کر اس برائی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔۔
میں یہاں اس حوالے سے کچھ تجربات اور لوگوں کے خیالات آپ تک پہنچا رہی ہوں
جو ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے لوگوں خاص کر تاجر برادری کی اصلاح اور انھیں اس برائی کا حصہ بننے سے روکنے کے بعد سامنے آئے ۔۔
مارکیٹ کا رخ کیا ۔۔ ( جو آج سے پہلے کبھی ان ایام میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ) تو یہ دیکھ کر دل افسردہ ہوا کہ بازار خاص کر گفٹ شاپس پر جو گہما گمہی نظر آئی عید بقر عید کا گمان ہوتا تھا ۔۔
ایک ایک کر کے دکانوں میں ڈاخل ہونے کا فیصلہ کیا ۔۔
ایک دکان کا انتخاب کر کے اس میں داخل ہوئے تو ہر طرف لال رنگ ہی نظر آرہا تھا ۔۔ اپنی مطلوبہ چیز کی خریداری کے بعد ۔۔ جب آنے کا اصل مدعا دکاندار کے سامنے پیش کیا تو وہ کافی شرمندہ نظر آئے ۔۔ اور کہا کہ

میں فلاں مسجد میں نماز پڑھتا ہوں ۔۔۔ اور وہاں بھی امام صاحب نے بہیت اچھا بیان دیا تھا اس موضوع پے ۔۔ یہ سب غلط تو ہے لیکن ہماری بھی مجبوری ہے ۔۔۔


وہ صاحب بس تذبذب میں ہی رہے کہ یکدم سب کچھ ختم بھی نہیں کر سکتے اور اس کے حق میں بول بھی نہیں سکتے ۔۔
لیکن اچھا ہی ریسپونس دیا
دوسری دکان کا رح کیا تو ۔۔
داخلی دروازے کولال رنگ کی ربن اور دل سے اس انداز میں سجایا گیا تھا کہ گاہگ کا قدم خود بخود اس طرف اٹھ جائے ۔۔۔ اندر داخل ہوئے تو ہلکی ہلکی میوزک نے اور غضب ڈھائے ہوئے تھے ۔۔۔۔
دکان کے مالک ہماری بات سن کر بھڑک اٹھے اور کہا کہ

دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے پہلے اسے جا کر سدھاریں ۔۔

اور کوئی بات سننے پر آمادہ نظر نہیں آئے ۔۔
بہرحال تھوڑی بات چیت کے بعد کہا ۔۔کہ

ٹھیک ہے برائی تو ہے اور میں آپ کی گرزارش کو ایک بار ضرور پڑھوں گا لیکن اگر انسان خود سدھر جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔


کچھ قائل نظر آئے ۔۔
اس کے بعد ایک اور دکان کا رخ کیا تو ۔۔۔
کافی چھان پھٹک کے بعد بھی ۔۔۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں مال جو دکان کے مالک کا اس خرافات میں ملوث ہونے کا پتا دیتا ۔۔۔۔
آخر ۔۔۔۔ نام لے کر پوچھا تو کہا کہ ہماری دکان پر اس دن کے حوالے سے کوئی سامان نہیں ہوتا
جب انھیں اپنے آنے کا مقصد بتایا تو کافی خوش نظر آئے اور کہا کہ

میں نے یہ کام بس پہلے سال کیا تھا جب یہ تہوار نیا نیا ہمارے ملک میں آیا تھا ۔۔۔ اس کے بعد سے آج تک اللہ نے ہدایت دی ہے تو اپنے آپ کو بچایا ہوا ہے ۔۔

ان کے اس جذبے کی قدر کرنے کر بعد جب انھیں کہا گیا کہ آپ اپنے ساتھ اور لوگوں کو بھی شامل کریں تو بولے کہ

میں بات تو کر لوں لیکن یہ سب کہیں گے کہ ہمارے کاروبار سے جلتے ہو تو اس طرح کی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔


چند ایک باتوں کے بعد قائل نظر آئے کہ
میں کل ان شاء اللہ اپنے قریب کے دکانداروں سے اس سلسلے میں بات کروں گا ۔۔۔

آگے بڑھے ۔۔۔
تو ایک دکان اور ایسی نظر آئی جو ان خرافات سے پاک لگی ۔۔۔ لیکن پوچھنے پر پتا چلا کہ

ایک دو دن میں اس دن کی مناسبت سےسامان آجائے گا ابھی دستیاب نہیں ہے ۔۔

جب ان کے سامنے بھی اپنی بات رکھی تو وہ اس قدر شرمندہ ہوئے کہ ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکالا اور سر جھکا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔

یہاں میں نے چند رویے آپ کے سامنے رکھے ۔۔۔ مجھے جو بات شدت سے محسوس ہوئی وہ یہ کہ ۔۔۔
حالات اتنے برے بھی نہیں جو دکھائے دیتے ہیں ۔۔
ایک اچھا اور نیک انسان سب کے اندر کہیں چھپا ہوا ضرور ہے ۔۔۔۔ لیکن وقت اور حالات نے اسے سلا دیا ہے ۔۔۔۔
بس ضرورت اس کی ہے کہ اُسے ۔۔۔ کھینچ کر باہر لایا جائے ۔۔ اور اس کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنے لے لیے کمر بستہ ہونا پڑے گا ۔۔۔
ایک اور چیز جس نے دیکھ کر مجھے سوچنے پر مجبور کیا وہ یہ ۔۔
کہ بازار کی صورتحال دیکھ کر جو پہلا تاثر مجھ پر پڑا جس کا افسوس ہوا ۔۔۔
آخر اللہ بھی اس ساری دنیا کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔ کہیں چھوٹے کہیں بڑے گناہ ، سب پر اس کی نگاہ ہے ۔۔۔ تو ہماری کیا حیثیت اللہ کے سامنے ہوگی؟
یہ سارا قصہ آپ کے سامنے رکھنے کا مقصد یہ نہیں کہ ۔۔۔۔۔ آپ سے کسی داد و تحسین کی توقع ہے ۔۔
بلکہ اس لیے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
دیئے سے دیا جلتا ہے اور ایک دوسرے سے تحریک ملتی ہے ۔۔۔۔ یقینا کل آپ سب بھی اس مشن کی تکمیل کے لیے کہ دنیا کو برائی سے پاک کرنا ہے ۔۔۔ نکل پڑیں گے ۔۔۔
ہر کام میں حکومت کی طرف نہ دیکھیں ۔۔۔
ہر کوئی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (12-02-10), مسٹر رائٹ (12-02-10), راجہ اکرام (13-02-10), سحر (13-02-10), عبداللہ حیدر (13-02-10)
پرانا 13-02-10, 01:08 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہترین مکرمی ارحم جی
بے شک ہر انسان ذمہ دار ہے، اور جب تک ہم میں سے ہر ایک کمر بستہ نہیں ہوتا تبدیلی کا عمل حقیقی معنوں میں شروع نہیں ہو سکتا۔
اللہ آپ کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آپ کی صلاحیتوں، وقت اور عمر میں برکت عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
ARHAM (13-02-10)
پرانا 13-02-10, 01:09 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,247
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لئے تجویز کرنے کی تجویز ہے۔۔ شکریہ
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (13-02-10), ھارون اعظم (13-02-10)
پرانا 14-02-10, 12:40 AM   #4
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 817
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ترمذی میں الفاظ ہیں!۔
تو پھر خوشخبری ہو اُن غرباء (اجنبیوں) کو کے میرے بعد میرے چھوڑے ہوئے راستے میں لوگوں کے ہاتھوں جو فساد در آیا ہوگا یہ اُس کو درست کریں گے۔۔۔

جس دور سے اس وقت اُمت محمدیہ گزر رہی ہے واقعی یہ فتنوں کا دور ہے شاید ہی کوئی دوست میری بات سے اختلاف رکھتا ہو۔۔ لیکن ہم میں کچھ ایسے بھی دوست موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی اس بگاڑ کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش تو دور کی بات نظر عنایت کی بھی کوشش کی ہو کیوں؟۔۔۔ ایسے لوگ جو معاشرے میں گمراہی یا بگاڑ کا سبب ہیں اگر اُن سے پوچھا جائے تو اس کی ذمہ دار وہ دوسروں کو ہی ٹھہراتے ہیں جس کی وجہ خود ان کی نااہلی اور کم علمی ہے دراصل ان فتنوں کی اصل وجہ حق سے دور ہونا ہے مگر یہ حقیقت ہے کے حق سے دور ہونے میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوتے ہیں بالکل اسی طرح فساد کا شکار ہونے میں سب لوگ یکساں نہیں ہوتے کیونکہ ایسے لوگ زیادہ نہیں جو فساد کو جانتے بوجھتے ہوئے اور قصدا وعمدا قبول کرچکے ہوں۔۔۔ زیادہ تر لوگ اپنی غفلت کے سبب محض شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں حق سے دور اور فساد کے بالکل قریب لاکر کھڑا کردیتا ہے مگر الحمداللہ اچھی بات یہ ہے کے اس طرح کے لوگ بھی معاشرے میں زیادہ نہیں۔۔۔ کیونکہ کسی معاملے میں شہبات اور غلط فہمیاں رکھنا بھی اس معاملے کو جاننے کی ایک خاص سطح ہے۔ شبہات اور غلط فہمیاں رکھنے کے لئے بھی دراصل اس معاملے پر کچھ نہ کچھ سوچ بچار کا ہونا ضروری ہے اس کے ازالے کے لئے یعنی حق، باطل، اچھائی، برائی، یا نیکی اور بدی کے فرق کی معاشرے سے دور ہونے کی وجہ خود ہماری غلط فہمی کارفرما ہے جو ان عوامل کے درمیان تمیز کی خالص توجہ سے محروم ہے۔۔۔

اس جیسے عوامل کے ماحول میں لوگ زیادہ تر تاثرات اور رجحانات کا شکار ہوتے ہیں نہ کے شبہات او غلط فہمیوں کا۔۔۔ معاشرے میں کچھ اصطلاحات اور تعبیرات اور ریت اور روایت کا چلن ہو جانا جو اس بات کے لئے کافی ہوتا ہے کے وہ چاہے حق ہو، نیکی ہو یا پھر اچھائی لوگوں کی عقل اور فہم کے بیچ دیوار کھڑی کردیتا ہے یعنی جب حق کو دیوار کی دوسری اوٹ میں رکھ دیا جائے تا تو عام آدمی ان کے بابت محض اندازے اور تاثرات قائم کرے گا کیونکہ معاملات کے سلجھاو کو ایک عام آدمی اپنی عقل اور اپنے فہم سے حل کرنے کی کوشش کر بیٹھتا ہے۔۔۔ جو ایک شدید بحران کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔۔۔

اگر ہم اس سارے بحران کو دو لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تو ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی الفاظ نہ ہونگے جو کے حدیث کے الفاظ ہیں یعنی اسلام کی غربت یا اسلام کی اجنبیت۔۔۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کے آج مسلمانوں کا ایک جم غفیر موجود ہے یہاں تک کے ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے جو ذاتی معنوں میں بڑی حد تک درست عقیدہ پر ہے مگر اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجنبی ہے اور تنہا ہے؟؟؟۔۔۔

حق اپنی اس حقیقت کے اعتبار سے جو ((بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھوز الحق)) کی صورت پیش کرتا ہے وہ یہ کے حق اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجنبی اور توجہ سے محروم ہے یہ بات معروف ہے کے اسلام کو اطراف عالم میں فتح دلانا بے انتہا قابل تحسین جذبہ ہوگا مگر معاشروں میں اسلام کی اس اجنبیت کو کم کرنا اور حق کی تنہائی کا یہ دور مختصر کرنا آج کا سب سے بڑا چیلنج بلکہ میں کہوں کے فریضہ ہے کیونکہ اسلام کی اجنبیت نام کے اعتبار نہیں بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ہے۔۔۔ یہ ہی دراصل وہ وجہ ہے جو آج دین اسلام رسم ورواج والا دین بنتا جارہا ہے جو شریعت کے تقاضوں کے منافی اور طریقیت کے اُصولوں پر ایک نئی راہ تلاش کر کے اس ڈگر پر چل پڑا ہے جس ماسوائے فتنے، فساد اور بگاڑ کے کوئی تیسری چیز ہمیں دکھائی نہیں دے پارہی۔۔۔۔

اللہ رب العزت سے دُعا ہے وہ ہمیں سچا اور پکا مسلمان بنائے۔۔۔
حرب بن شداد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-02-10, 12:42 AM   #5
Member
اجنبی
 
حرب بن شداد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 36
کمائي: 817
شکریہ: 1
24 مراسلہ میں 75 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ترمذی میں الفاظ ہیں!۔
تو پھر خوشخبری ہو اُن غرباء (اجنبیوں) کو کے میرے بعد میرے چھوڑے ہوئے راستے میں لوگوں کے ہاتھوں جو فساد در آیا ہوگا یہ اُس کو درست کریں گے۔۔۔

جس دور سے اس وقت اُمت محمدیہ گزر رہی ہے واقعی یہ فتنوں کا دور ہے شاید ہی کوئی دوست میری بات سے اختلاف رکھتا ہو۔۔ لیکن ہم میں کچھ ایسے بھی دوست موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی اس بگاڑ کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش تو دور کی بات نظر عنایت کی بھی کوشش کی ہو کیوں؟۔۔۔ ایسے لوگ جو معاشرے میں گمراہی یا بگاڑ کا سبب ہیں اگر اُن سے پوچھا جائے تو اس کی ذمہ دار وہ دوسروں کو ہی ٹھہراتے ہیں جس کی وجہ خود ان کی نااہلی اور کم علمی ہے دراصل ان فتنوں کی اصل وجہ حق سے دور ہونا ہے مگر یہ حقیقت ہے کے حق سے دور ہونے میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوتے ہیں بالکل اسی طرح فساد کا شکار ہونے میں سب لوگ یکساں نہیں ہوتے کیونکہ ایسے لوگ زیادہ نہیں جو فساد کو جانتے بوجھتے ہوئے اور قصدا وعمدا قبول کرچکے ہوں۔۔۔ زیادہ تر لوگ اپنی غفلت کے سبب محض شبہات اور غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں جو انہیں حق سے دور اور فساد کے بالکل قریب لاکر کھڑا کردیتا ہے مگر الحمداللہ اچھی بات یہ ہے کے اس طرح کے لوگ بھی معاشرے میں زیادہ نہیں۔۔۔ کیونکہ کسی معاملے میں شہبات اور غلط فہمیاں رکھنا بھی اس معاملے کو جاننے کی ایک خاص سطح ہے۔ شبہات اور غلط فہمیاں رکھنے کے لئے بھی دراصل اس معاملے پر کچھ نہ کچھ سوچ بچار کا ہونا ضروری ہے اس کے ازالے کے لئے یعنی حق، باطل، اچھائی، برائی، یا نیکی اور بدی کے فرق کی معاشرے سے دور ہونے کی وجہ خود ہماری غلط فہمی کارفرما ہے جو ان عوامل کے درمیان تمیز کی خالص توجہ سے محروم ہے۔۔۔

اس جیسے عوامل کے ماحول میں لوگ زیادہ تر تاثرات اور رجحانات کا شکار ہوتے ہیں نہ کے شبہات او غلط فہمیوں کا۔۔۔ معاشرے میں کچھ اصطلاحات اور تعبیرات اور ریت اور روایت کا چلن ہو جانا جو اس بات کے لئے کافی ہوتا ہے کے وہ چاہے حق ہو، نیکی ہو یا پھر اچھائی لوگوں کی عقل اور فہم کے بیچ دیوار کھڑی کردیتا ہے یعنی جب حق کو دیوار کی دوسری اوٹ میں رکھ دیا جائے تا تو عام آدمی ان کے بابت محض اندازے اور تاثرات قائم کرے گا کیونکہ معاملات کے سلجھاو کو ایک عام آدمی اپنی عقل اور اپنے فہم سے حل کرنے کی کوشش کر بیٹھتا ہے۔۔۔ جو ایک شدید بحران کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔۔۔

اگر ہم اس سارے بحران کو دو لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تو ہمارے پاس اس سے بہتر کوئی الفاظ نہ ہونگے جو کے حدیث کے الفاظ ہیں یعنی اسلام کی غربت یا اسلام کی اجنبیت۔۔۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کے آج مسلمانوں کا ایک جم غفیر موجود ہے یہاں تک کے ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے جو ذاتی معنوں میں بڑی حد تک درست عقیدہ پر ہے مگر اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجنبی ہے اور تنہا ہے؟؟؟۔۔۔

حق اپنی اس حقیقت کے اعتبار سے جو ((بل نقذف بالحق علی الباطل فیدمغہ فاذا ھوز الحق)) کی صورت پیش کرتا ہے وہ یہ کے حق اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجنبی اور توجہ سے محروم ہے یہ بات معروف ہے کے اسلام کو اطراف عالم میں فتح دلانا بے انتہا قابل تحسین جذبہ ہوگا مگر معاشروں میں اسلام کی اس اجنبیت کو کم کرنا اور حق کی تنہائی کا یہ دور مختصر کرنا آج کا سب سے بڑا چیلنج بلکہ میں کہوں کے فریضہ ہے کیونکہ اسلام کی اجنبیت نام کے اعتبار نہیں بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ہے۔۔۔ یہ ہی دراصل وہ وجہ ہے جو آج دین اسلام رسم ورواج والا دین بنتا جارہا ہے جو شریعت کے تقاضوں کے منافی اور طریقیت کے اُصولوں پر ایک نئی راہ تلاش کر کے اس ڈگر پر چل پڑا ہے جس ماسوائے فتنے، فساد اور بگاڑ کے کوئی تیسری چیز ہمیں دکھائی نہیں دے پارہی۔۔۔۔

اللہ رب العزت سے دُعا ہے وہ ہمیں سچا اور پکا مسلمان بنائے۔۔۔
حرب بن شداد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, کمر, گمان, پاک, قدم, قصہ, نماز, نظر, موبائل, منتقل, مسجد, معاشرہ, اللہ, الزام, انسان, جلتا, خوش, خلاف, دل, سال, عید, غضب, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger