| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کسی کے نظریات ، کسی کی بات، سوچ ، انداز ، بیان، یا پھر کسی کے لباس ، کسی کے رہنے کے انداز سے ہر کوئی اختلاف کر سکتا ہے ۔ کیونکہ یہ سب انسان کی پسند یا نا پسند کی بات ہے۔ اگر مجھے لباس میں قمیص شلوار پسند ہے اور میں سب کو قمیص شلوار پہننے پر پابند کرتا ہوں ۔ تو مجھے اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہے کہ جو اس کو پسند نہیں کرتے یا زیادہ پسند نہیں کرتے وہ مجھ سے اختلاف بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ یوں ہے۔ کہ مجھے پتہ ہے اگر میں نے سب کو قمیض شلوار کا پابند کیا تو کوئی نا کوئی اس سے اختلاف ضرور کرے گا ۔ لیکن میں پھر بھی پابند کرتا ہوں۔ اس سے نیتجہ یہ نکلتا ہے جو شخض آپ کی بات سے اختلاف کرتا ہے۔ اور آپ اس اس کو کہتے ہیں اس میں کون سا اختلاف ہے یہ تو پاکستان کا قومی لباس ہے ۔ اور بے شمار مثالیں پیش کر دی جاتی ہیں ۔لیکن پھر بھی ہو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا ۔ کیونکہ اس کے نظریات میں یہ بات غلط ہے کہ ہم کسی کو پابند نہیں کرسکتے ۔ اس کی مرضی ہے وہ پہنے یا نا پہنے۔ لیکن اس کے برعکس اگر آپ اپنا کوئی ادارہ بناتے ہیں۔ اس میں لوگوں کو ملازمت پر رکھتے ہیں اور ان کو پابند کرتے ہیں کہ وہ قمیض شلوار پہنے گے ۔ تو وہاں آپ ان کو پابند کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سب آپ کے ملازم ہونگے۔ یا پھر وہ آپ کے ادارے کے لیے کام کریں گے اس لیے ان کو پابند ہونا پڑتا ہے۔ لیکن جب کسی بھی پپلیک ۔ فورم ، یا ادارے، یا کسی بھی ملک پر، جس کو جموری کہا گیا ہو ۔ جس میں سب کی رائے کا اخترام کیا گیا ہو ۔ جہاں سب کی سنی جاتی ہو وہاں ہم ایسی پابندی نہیں لگا سکتے ہیں۔
میرے نذدیک اختلاف کو ختم کرنے کے لیے ۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس میں اختلاف کیا ہے۔ اپنے نظریات ، اپنے انداز اور اپنی سوچ میں کسی کو کوئی خرابی نظر نہیں آتی ۔ لیکن دوسرے کی خامی بہت جلد نظر آ جاتی ہے۔اس لیے اختلاف کو ختم کرنے کے لیے دوسروں کے نظریات کو غور سے پڑھنا پڑے گا سمجھنا پڑے گا اور پھر اس طرح اختلاف ختم کیا جا سکتا ہے۔ اپنے دلائل ، اور اپنے نظریات کو حرفِ آخر کہہ دینا صرف اور صرف اپنی ذات یا پھر اپنے قائم کے گے ادارے تک ہی محدود رکھا جا سکتا ہے پپلک فورم پر نہیں
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| 14 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), samina khalil (20-11-09), shafresha (04-08-09), فیصل ناصر (06-08-09), کنعان (23-09-09), منتظمین (04-08-09), محمدعدنان (06-08-09), مسافر (06-08-09), wajee (04-08-09), ایس اے نقوی (04-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (04-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09), عبداللہ آدم (20-02-10) |
| کمائي نے خرم شہزاد خرم کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-08-09 | رضی | اپنے انداز اور اپنی سوچ میں کسی کو کوئی خرابی نظر نہیں آتی ۔ لیکن دوسرے کی خامی بہت جلد نظر آ جاتی ہے۔اس لیے اختلاف کو ختم کرنے کے لیے دوسروں ک | 100 |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 35
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,386
شکریہ: 8,154
3,795 مراسلہ میں 11,122 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سب سے پہلی بات جو اہم ہے وہ ہے انسانیت کی قدر۔ جب ہم انسان کی قدر بلا تفریق مسلک و نسل کریں گے تو ہم کسی پر اپنی رائے نہیں تھوپیں گے۔لیکن اگر یہی عینک لگاکر دیکھیں گے تو سب کا سب کچھ غلط نظر آئے گا۔ یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا کہا ہے، نا کہ یہ کہ کس نے کہا ہے۔
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), samina khalil (20-11-09), Zullu230 (14-08-09), ایس اے نقوی (04-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (04-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم!
خرم بھائی میرے بھرپور تبصرہ کا انتظار کرنا کیونکہ ابھی کشمکش میں ہوں کہ جواب کےلئے الفاظ کہاں سے شروع کروں |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), shafresha (04-08-09), Zullu230 (14-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,235
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے اپلائی کریں ۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | ایس اے نقوی (04-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,624
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واہ خرم بھائی زبردست عمدہ تحریر
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), خرم شہزاد خرم (04-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (08-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم!
خرم بھائی بہت اچھی تحریر پیش کی ہے آپ نے اور جہاں تک بات اختلافات کی ہے تو یہ ہمارے اپنے نظریات ہوتے ہیں ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم جو چاہتے ہیں وہ ہی دوسرے کریں اور جب ہم کسی اور کی منشاء کے خلاف کام کریں گے تو ہمارے اس سے متعلق نظریات بدل جائیں گے اور جہاں تک آپ نے لکھا کہ ادارہ ہو تو وہاں آپ پابند کر سکتے ہیں مگر خرم بھائی وہ بھی جز وقتی طور پر اور کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی نوکری کے بعد بھی اپنے مالک کے احکامات کی تکمیل کریں نہیں اگر کریں گے تو ہمارے اس سے نظریات بدل جائیں گے اور یوں اختلاف کا ایک اور راستہ کھل جائے گا خرم بھائی ہم وہ لوگ ہیں جو (معذرت کے ساتھ) جو چاہتے ہیں کہ سب ہماری سوچ کے مطابق اپنا رہن سہن رکھیں نہ رکھیں گے تو وہ غلط ہیں ہم لوگوں میں شعور کی کمی ہے ہم لوگ پڑھے لکھے بے وقوف ہیں کبھی ہم لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ ہم کو جو بات سمجھائی جا رہی ہے کیوں نہ ہم اس کا بغور معائنہ کریں اور پھر فیصلہ کریں مگر کیوں ؟ کیوں کریں اس لئے کہ اسکی سوچ میں اور ہماری سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہے خرم بھائی جب تک ہم اپنی سوچوں کو نہیں بدلیں گے ہم لوگ ناکام ہی رہیں گے اور شرپسند عناصر اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں خرم بھائی یہاں میں مسلک کی بات کرنا نہیں چاہتا تھا مگر کر رہا ہوں کہ میں اگر اپنے فقہ کی کوئی بات کروں گا جو دوسرا فقہ تسلیم نہیں کرتا تو میرے نزدیک میرا فقہ درست کہہ رہا ہے اور وہ رکن جو ماننے سے انکاری ہے میرا اس سے اختلاف ہو گیا جو وہ مجھے سمجھانا چاہے گا میں نہیں مانوں گا مجھے وہ ہر حال میں غلط ہی نظر آئے گا اور میں اسے یہ ہمارا آپسی اختلاف ہے جس سے دوسرے فائدہ اٹھائیں گے جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے مسلک کو یا تو مکمل سٹڈی کریں یا پھر ایسے موضوع پر گفتگو نہ کریں جس سے اختلاف کی پوزیشن ہو مگر چونکہ ہم زیادہ پڑھ لکھ چکے ہیں ہم نے اپنی بات کو منوانا ہے اور اسکےلئے ہم لوگ ہر حد سے گزر جاتے ہیں ہم وہ لوگ ہیں جو پیار سے کوئی نہ مانے تو زور زبردستی سے منواتے ہیں اور یہاں ہی ہمارے اختلافات شروع ہو جاتے ہیں کاش ہم لوگ اپنی اپنی عقل سے کام لیں اور اپنے اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنا چھوڑ دیں اللہ ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین الہی آمین اگر کسی کو کوئی بات ناگوار گزری ہو تو معذرت چاہتا ہوں اللہ نگہبان |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), samina khalil (20-11-09), Zullu230 (14-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
| کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 05-08-09 | خرم شہزاد خرم | خرم بھائی ہم وہ لوگ ہیں جو (معذرت کے ساتھ) جو چاہتے ہیں کہ سب ہماری سوچ کے مطابق اپنا رہن سہن رکھیں نہ رکھیں گے تو وہ غلط ہیں | 150 |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
اچھی کوشش ہے خرم ![]() اقتباس:
اختلاف کو ختم کرنے کے لیئے سب سے ضروری ہے کہ آپ اختلاف ختم کرنا چاہ رہے ہوں نا کہ اختلاف کو مزید بڑھانا۔اگر آپ کی سوچ کسی اختلاف کو ختم کرنے کی ہے اور آپ اس سوچ کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ دوسرے کی بات بھی تحمل سے سنیںگے، اس کے دلائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے اورخواہ مخواہ بال کی کھال نکالنے کی کوشش نہیں کریںگے، نتیجتاً اگراختلاف قائم بھی رہا تو دو افراد کے درمیان تعلقات اچھے رہیں گے۔ فورم ہو یا ادارہ - اختلافات کا تعلق پبلک یعنی عوام سے ہی ہوتا ہے۔ جہاں تک فورم پر اختلاف کی بات ہے تو یہ ایک بہت اچھی اور مثبت چیز کے طور کام کرسکتی ہے اگر اختلاف دو سمجھدار لوگوںکے بیچ ہو۔ لوگوں کو اس سے سیکھنے کا، دوسرے کے نظریات، احساسات اور خصائل جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ناسمجھ لوگوں کے درمیان اختلاف ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے، خود ان کے لیئے بھی اور دوسروں کے لیئے بھی۔اپنے نظریات پر قائم رہنا، بھلے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، انسان کو ہٹ دھرم ثابت کرتی ہے اور اس سے اس کی عزت میں کمی ہی واقع ہوتی ہے، ہم جبکہ اسکا الٹ سمجھتے ہیں۔ ویسے کچھ اختلافات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ختم نہیں ہو سکتے جیسا کہ آپ نے شلوارقمیض کی مثال دی ہے، چاہے اسے پاکستان کا قومی لباس کہیں یا کچھ اور جس کو یہ پسند نہیں ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عام طور پر ایسے اختلافات صرف شخصیت تک ہی محدود ہوتے ہیں اور معاشرے کا ان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), samina khalil (20-11-09), Zullu230 (14-08-09), ایس اے نقوی (05-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اختلاف اگر مثبت ہو تو ترقی کی نئی راہیں کھولتا ہے اور اگر اختلاف برائے اختلاف ہو تو معاشرے میں انتشار پھیلانے کا باعث بنتا ہے ۔ اختلاف ہوتا کیوں ہے میرے خیال میں تو نظریات اور خیالات کی باری کہیں بہت بعد میں آتی ہے ، ہمیں پہلی نظر میں ہی کوئی بہت اچھا لگ جاتا ہے اور کوئی بہت برا چاہے اس کی وجہ اس کا لباس ، اس کی زبان ، یا اس کی کوئی باڈی لینگویج ہی کیوں نہ ہو ، اور میرے خیال میں انسانی فطرت ہے کہ ایک انسان جب ہمیں برا لگتا ہے تو اس کی ہر ہر بات ہمیں بری لگتی ہے ، میرے بہت سے دوست مختف فرقوں سے ہیں اور بہت سے مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھہ ہیں ، اکثر ہم میں موضوع گفتگو مذہب ہوتا ہے یا سیاست لیکن ہم میں آزادی رائے اور دوسروں کی عزت کے اصول پکے ہیں ، انتہائی شدید چوٹوں پر بھی سب کو محسوس ہوتا ہے کہ بات نفرت سے نہیں کی جا رہی بلکہ ایک دلیل کے جواب میں دلیل کے ساتھہ کی جا رہی ہے ، اس لئیے ہم میں کبھی لڑائی یا ناراضگی کی نوبت نہیں آئی، اصل میں ہمارے درمیان اختلاف اور ان کے نتیجے میں کشیدگی ہوتی ہی اس لئیے ہے کہ ہم ہر وقت کسی نا کسی فرقے ، سیاسی جماعت ، لسانی جماعت ، یا برادری وغیرہ کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں، اور اس چکر میں اپنا آپ بھول چکے ہوتے ہیں ، دیکھیں بھائی ، ہمارے علاقے میں بہت سے ایسے خاندان ہیں جہاں ایک بھائی ایک فرقے سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا بھائی دوسرے سے لیکن انہیں کبھی مسلک پر لڑتے نہیں دیکھا گیا ، کیوں ، وجہ صاف ظاہر ہے ، ان میں بھائی کا رشتہ پکا ہے اور اس رشتے کے حوالے سے ان میں محبت بھی گہری ہے ، ہمارا پلیٹ فارم کوئی اور تھا اور ہم کھڑے کہیںاور جا کر ہو گئے ہیں ، یہ وطن ہمارے بزرگوں نے اس لئیے بنایا تھا کہ یہاں چاروں صوبوں کے سبھی سیاسی پارٹیوں کے اور سبھی مسالک کے لوگ محبت سے مل جل کر رہیں گے ، ان عظیم لوگوں نے تو اقلیتوں کو بھی اپنے جسم کا حصہ قرار دیا اور اسلام کے نمائندہ سبز رنگ کے ساتھہ ان کی نمائندگی کا سفید رنگ بھی پرچم میں رکھہ دیا ، ہمارے مولوی بے شک ہمیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں، ہمارے سیاستدان بے شک جزباتی تقریریں کر کر کے ہمیں ایک دوسرے کے خلاف ابھارتے رہیں ، ہمارے دل میں اگر ایک بات بیٹھہ جائے کہ ہمارے مقابل ہمارا اپنا پاکستانی بھائی ہے تو اختلاف چاہے جتنا بھی شدید کیوںنہ ہو مثبت ہی ہو گا ، منفی رخ پر کبھی نہیں جائے گا ۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنی پاکستانیت بھلا چکے ہیں
آرمی ، نیوی ، ائیر فورس یا پولیس کے کسی بھی فرد سے پوچھیں کہ سکواڈیا یا بیج میٹ کیا اہمیت رکھتا ہے تو وہ کہیں گے کہ یہ رشتہ بھائیوںوالا رشتہ ہوتا ہے ، وجہ کیا ہے ، جب وہ ایک ساتھہ رگڑا کھاتے ہیں ، سزا ایک ساتھہ لیتے ہیں اور ریلیکس بھی ایک ساتھہ کرتے ہیں تو ایک انوکھا محبت اور پیار کا رشتہ ان میں پروان چڑھتا چلا جاتا ہے ، جو تمام عمر انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتا ہے ، اگر کسی کے ساتھہ چند ماہ کا ساتھہ ایسا مکمل اور نہ ٹوٹنے والا تعلق بنا دیتا ہے تو ہم تو ایک قوم ہونے کی حیثیت سے چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھرے ہوے ہیں ، ہمیں ہر جانب سے وار سہنے پڑتے ہیں جو ہم سب مشترکہ طور پر برداشت کرتے ہیں ہمیں اگر کوئی خوشی ملتی ہے تو ہم سب اکٹھے خوش ہوتے ہیں ، لیکن حیرت ہے کہ ہم پھر بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے ، یہ ہمارے دشمنوں کی ایک اور چال ہے ، اس نے ہمیں پنجابی سندھی بلوچی اور پٹھان میں بانٹ دیا ، اس نےہمیں بریلوی ، دیوبندی ، شیعہ اور اہل حدیث میں بانٹ دیا ، اس نے ہمیں سید ، ملک ، خان ، اعوان ، موچی ، لوہار ، کمہار میں بانٹ دیا ، اور پم ان ٹکڑوں میں بٹتے چلے گئے ، اور بھول گئے کہ بریلوی دیوبندی یا شیعہ ہونا ہمارے عقائد کو ظاہر کرتا ہے تو سید یا ملک ہونا صرف ہمارے خاندان کو ، اسی طرح ہمارا صوبہ بے شک ہمیں ایک الگ پہچان دیتا ہے لیکن ہماری سب سے بڑی پہچان کیا ہے ، ہمارا پاکستانی ہونا ، جو ہم بھول چکے ہیں ، ہم سب سے پہلے شیعہ سنی یا وہابی ہیں ، پھر ہم سید خان یا ملک ہیں ، اس کے بعد ہم سندھی بلوچی یا پنجابی ہیں ، پاکستانی ہونا تو ہمارے نصیب میں شاید اب نہیں کیوں کہ ہم اپنا اتنا بڑا اعزاز خود فراموش کر چکے ہیں ، ہم اپنی اتنی عظیم پہچان خود کھونے کے درپے ہیں ، کبھی صرف پاکستانی بن کر سوچیں تو ہمیں اپنی سابقہ سوچوں کی جہالت پر ہنسی آئے ، کاش کہ ہم اپنی زندگی میں وہ دن دیکھہ سکیں کہ پورے پاکستان کی عوام صرف اور صرف پاکستانی بن کر سوچ رہی ہو، یقین مانیں یہ اتنا بڑا رشتہ ہے کہ اس کے سامنے سارے اختلافات ہیچ ہیں ، ہمیں اس کے لئیے خود کو بدلنا ہو گا ، صرف پاکستانی کی حیثیت سے اپنا آپ منوانا ہو گا ،پھر کسی ہندو بنئیے کو جرات نہ ہو گی کہ دھڑلے سے را کے رچائے ایک بھونڈے ڈرامے کی بنیاد پر ہم سے ہمارے بھائیوں کی حوالگی کا مطالبہ کر سکے ، مجھے کبھی کبھی اپنا یہ دشمن بھی اچھا لگتا ہے ، یہ ہمیں جگا رہا ہے ، ہمیں ایک چابک پڑتا ہے اور ہم چونک جاتے ہیں لیکن پھر وہی فرقہ پرستی ، برادری ازم اور صوبائیت کی میٹھی نیند ہمیں اپنے حصار میں لے لیتی ہے ، لیکن کب تک ایک دن وہ ایسا چابک ماریں گے کہ یہ سویا ہوا شیر بیدار ضرور ہو گا ، انشااللہ وہ دن دور نہیں جب یہاں سب پاکستانی ہوںگے اور پاکستان کے غلیظ دشمنوں کو روئے زمین پر پناہ نہیں ملے گی ، انشااللہ میرا دل تو اس تال پر دھڑکتا ہے ، آپ کا دل کیا کہتا ہے یہ جواب 14 اگست کے حوالے سے پیش کیا گیا |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), samina khalil (20-11-09), منتظمین (05-08-09), Zullu230 (14-08-09), ایس اے نقوی (05-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09), طاھر (05-08-09) |
| کمائي نے شاہ جی 90 کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 05-08-09 | ایس اے نقوی | پاک نیٹ کیطرف سے پوائینٹس(سلام پاکستان) | 150 |
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,590
کمائي: 157,739
شکریہ: 8,078
5,024 مراسلہ میں 19,307 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خرم بھائی
یہاں میں آپ سے چند باتوں میں اختلاف کروں گی ۔ اگر ہم بحثیت قوم ہر شخص کو اپنی مرضی کرنے کی اجازت دیں دیں تو قوم کبھی متحد نہیں ہوسکتی ۔ ہر انسان کی رائے کی اہمیت ضرور ہوتی ہے لیکن اجتماعی طور پر ہر ایک کی رائے پر عمل نہیں ہوسکتا ۔ اور اگر قوم کو متحد رکھنا ہے تو ہر ایک کو اپنی مرضی کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی ہے آپ نے شلوار قمیض کی مثال دی ۔ ، ٹھیک ہے کہ ہم پابند نہیں کرسکتے سب کو شلوار قمیض پہننے کو لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ شلوار قمیض پاکستان کا قومی لباس ہی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مجھے یہ نہیں پسند تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔ |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | sahj (07-08-09), ام طلحہ (05-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,504
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ منافقت کیا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں فرمایا” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاﺅ تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والوں میں سے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ فسادی ہیں مگر شعور نہیں رکھتے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ پر ایمان لاﺅ جیسے دوسرے لوگ لائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے مگر یہ لوگ ایماندار نہیں ہے لیکن اس کا علم نہیں رکھتے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاﺅ تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے لیکن جب اپنے ساتھی شیاطین کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں ان لوگوں( ایمان والوں) کے ساتھ تو ہم ٹھٹھہ کر رہے ہیں لیکن دراصل اللہ ان کا استہزاءکر رہا ہے“ نفق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے دو منہ والا، ایک جانور ہے جسے گو کہا جاتا ہے وہ زمین میں جو بل بناتا ہے اس کے دو منہ ہوتے ہیں۔ ایک طرف سے وہ بل میںداخل ہو کر دوسری طرف سے نکلتا ہے۔ عربی میں گو اور اس کے بل دونوں کو نفق کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ نکلا ہے نفاق یعنی پھوٹ تقسیم اور اسی سے منافق مشتق ہے جس کا مطلب ہے ایسا شخص جس کے قول و فعل میں تضاد ہویا جس کے دل میں کچھ اور اس کی زبان پر کچھ اور ہو۔ ایسا شخص منافق کہلاتا ہے یعنی دو منہ والا، یعنی سامنے کچھ اور پیچھے کچھ، اسلام سمیت ہر دین اور معاشرے میں منافقت کو انتہائی بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے اسلامی معاشرہ اس سماجی برائی سے زیادہ متاثر ہے۔ منافقت کی ایک وجہ تو کمزوری اور ضعف ہے کوئی شخص خود میں اتنی ہمت نہیں پاتا کہ کسی زبردست اور زور آور کے سامنے کلمہ حق بلند کر سکے، اس شخص کے پاس منافقت کا اخلاقی جواز موجود ہے اگرچہ ناپسندیدہ فعل ہے ۔مگر ہمارے ہاں منافقت کی اصل وجہ ذاتی مفادات ہیں کوئی شخص ایک سے مفاد حاصل کرنے کیلئے دوسرے سے اور کوئی دوسرے سے مفاد حاصل کرنے کیلئے پہلے سے منافقت کر رہا ہے اور کوئی دونوں کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کر رہا ہے۔ اقتدار کیلئے دیرینہ دشمنوں میں دوستی اور پرانے دوستوں میں دشمنی بھی دراصل منافقت ہی کی ایک شکل ہے اس لئے کہ نظریاتی اختلاف اور سیاسی دشمنی اگر واقعی نظریاتی اور سیاسی ہے تومحض وقتی فائدے کیلئے اسے ختم کرنا ممکن نہیں ہے اگر دوستی کی بنیاد اخلاص پر ہے تو اسے دشمنی میں تبدیل کرنا نا ممکن ہے۔ پس دوستی اور دشمنی کی اصل بنیاد اقتدار اختیار اور مفاد ہے جہاں مفادات یکساں ہوئے دوستی ہو گئی اور جہاں مفادات الگ ہوئے دشمنی شروع۔ اس سے بڑی منافقت کی کوئی شکل شائد روئے زمین پر موجود نہیں ہے۔ اسی منافقت کا شاخسانہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی تحمل، برداشت، درگزر اور رواداری کے جوہر سے بتدریج عاری ہوتے جا رہے ہیں یہ سلسلہ اقتدار کے اعلیٰ ایوان سے تھڑوں تک جاری ہے اس عدم برداشت کی وجہ سے دلوں میں نفرت کا جھاڑ جھنکا رپنپ رہا ہے۔ آنکھیں شعلے اگل رہی ہیں زبان سے انگارے برس رہے ہیں مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے لیکن دل میں کڑواہٹ ہے اور یہ خواہش کہ اچھا موقع ملنے دو تمہاری ساری اکڑفوں نکال دوں گا۔ اور واقعی جس کسی کو موقع ملتا ہے وہ انتقامی کارروائی سے خود کو باز نہیں رکھ سکتا۔ مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے اپنی مسدس میں قبل ازاسلام مشرکین مکہ کے حوالے سے جو نقشہ کھینچا تھا وہ ڈیڑھ ہزار سال قبل کا قصہ نہیں بلکہ آج کی بات لگتی ہے لیکن عرب قبائل بہادر لوگ تھے وہ اگر چہ معمولی معمولی باتوں پر قتل و غارت کا بازار گرم کر دیتے تھے۔ مگر چھپ کروار نہیں کرتے تھے للکار کر حملہ کرتے تھے آج ہم بھی معمولی سی بات کو وجہ عناد بنا لیتے ہیں اور پھر موقع کی تاک میں بیٹھ رہتے ہیں مناسب وقت کا انتظار کرتے ہےں اور موقع ملتے ہی مخالف کا گھر اور خاندان اجاڑنے میں رتی بھرتا مل سے کام نہیں لیتے۔ معمولی سے اختلاف پر سیاسی وفاداری تبدیل کر کے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے تانے بانے بننے لگتے ہیں معمولی تلخ کلامی پر گاﺅں کے گاﺅں اجاڑ دئیے جاتے ہیں حالانکہ ذرا سے تحمل برداشت، درگزر اور رواداری سے کام لیا جائے تو نفرت کے ببول، نوکیلے زہریلے کانٹوں کی فصل کا پیدائش سے پہلے ہی خاتمہ کیا جا سکتا ہے ورنہ آہستہ آہستہ معاشرہ جنگل بن جائیگا اور عدم برداشت کی ہر روایت سے معاشرے کے رنگ، خوشبو اور پھول صحرا کی گرم ہوا میں جھلس کر تپتی ریت میں بکھر کر رہ جائیں گے۔ آج اگر ہم اپنا جائزہ لےں تو صرف عدم برداشت کی وجہ سے ہم بہت سی پریشانیوں میں مبتلا ہیں اگر تھوڑی سی برداشت سے کام لیں تو ہم معاشرے کو جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔اسلام نے ہمیں بھائی چارے کا حکم دیا ہے اللہ رب العزت کا فرمان ہے ” تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں“۔لیکن ہم دعویٰ مسلمانی کے با وجود اخلاق او ر برداشت سے عاری ہیں ۔
تحریر : عبدالقدوس منہاس
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا | sahj (07-08-09), منتظمین (05-08-09), ایس اے نقوی (05-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), شاہ جی 90 (05-08-09), طاھر (06-08-09) |
| کمائي نے رضی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 05-08-09 | ایس اے نقوی | پاک نیٹ کیطرف سے پوائینٹس | 100 |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,907
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,791 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | muhammad asif virani (05-08-09), sahj (07-08-09), ایس اے نقوی (05-08-09), خرم شہزاد خرم (05-08-09), راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09), سحر (06-08-09) |
|
|
#12 | |||
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
چلیں یہاں ناچاہتے ہوئے بھی مسلک کی مثال دیتا ہوں جب مسلکی بنیاد پر اختلافی موضوع پر بات ہوتی ہے۔ تو دونوں طرف سے قرآن و حدیث سے ثابت کیا جاتا ہے ۔ پھر بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا کیا وجہ ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں جب کوئی تسلیم ہی نہیں کرتا تو پھر اس بحث کا فائدہ اس لیے بس یہ سمجھیں کہ یہ اختلافی ہے اور اس پر بحث کرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔ |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میرے خیال میںاختلاف اور تنقید میں فرق ہے۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,504
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈاکیا یا ڈاکو
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | راجہ اکرام (16-08-09), رضی (05-08-09) |
![]() |
| Tags |
| color, فورم, فن, فری, پاکستان, پسند, قرآن, نظر, موقع, معلوم, آج, انسان, بھائی, تحریر, جلد, حدیث, خرم, سال, سائنس, شہزاد, شخص, عقل, عزت, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا یہ انسان ہیں؟ | علی عمران | گپ شپ | 12 | 08-09-11 09:18 PM |
| الزام کسے دیں؟ | طاھر | دلچسپ اور عجیب | 13 | 07-08-10 12:32 AM |
| عافیہ صدیقی کو رونے والے کہاں ہیں؟ | منتظمین | میرا پاکستان | 32 | 23-07-10 08:14 PM |
| سب سے لمبے بال کس کے ہیں؟ | nsa47 | دلچسپ اور عجیب | 25 | 25-06-10 07:50 PM |
| ہم کس گروہ سے ہیں؟ | sahj | عمومی بحث | 4 | 01-02-10 02:38 PM |