واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


فاروق سرور خان کی خدمت میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-09, 11:34 AM  
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فاروق سرور خان کی خدمت میں

فاروق بھائی یہ مضمون زرا تعصب کی عینک اتار کے پڑھیے گا شاید آپکی کچھ تشفی ہو سکے؎

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟ الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
کچھ عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دنیا کو ا ن سے متنفر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھگنڈے اور حربے استعمال کئے جارہے ہیں ۔
چونکہ اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے علماء ،دینی مدارس اور ان میں پڑھنے والے طلباء ہیں، اس لئے اسلام او ر مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے مدارس ،طلباء اور علماء کرام پر طعن و تشنیع کے نشتر برسائے جاتے ہیں، انہیں منہ بھر کرگالیاں دی جاتی ہیں اوران کو دنیا جہاں کی تمام برائیوں اورشرارتوں کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
چنانچہ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے تو کبھی امن امان کا مخالف ،کبھی انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قرار دیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ،کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے تو کبھی شرارتی، کبھی انہیں تشدد پسند کہا جاتا ہے تو کبھی ملک اور قوم کے باغی۔غرض اس وقت طعن و تشنیع اور توہین و تضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا،مولوی،دینی مدارس اورطالبان (طلبہ )کی طرف ہے ،دوسری طرف یہ مظلوم، بھری دنیا میں بے یارو مددگاراکیلے مخالفت کی بادِ سموم کے تھپیڑے برداشت کرنے اورہرقسم کی تنقید وتنقیص سننے او ر سہنے کے لئے موجود ہیں ۔
صرف یہی نہیں!بلکہ اب تو نوبت بایں جا رسید کہ قریب قریب پوری قوم کوذہنی طور پر اس کے لئے تیار کر لیا گیا ہے کہ اگر ملکی سلامتی اور امن و امان در کا ر ہے توان” شرارتیوں“ سے جان چھڑانی ہوگی اور ان کے خلاف منظم جد جہد کرنی ہوگی ، چنانچہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھا نے کے لئے کسی مسجد ،مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک و خون میں تڑپایا جاتاہے اوراس کے بعد بیان جاری کردیاجاتاہے کہ:” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یا یہا ں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھاوغیرہ وغیرہ۔“
اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہا نی گھڑ لی جاتی ہے کہ:” یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا جوقبل از وقت پھٹ گیا“چنانچہ میاں چنوں کے ماسٹرریاض کے مکان میں بم دھماکہ کو مدرسہ میں دھماکہ قرار دینا،اس کاواضح ثبوت ہے ،جب کہ اس کے برعکس وفاق المدارس کی قیادت چلاچلاکرکہہ رہی ہے کہ یہ سب کچھ مدارس کوبدنام کرنے کی سازش ہے،چنانچہ وفاق المدارس کے اکابر کی مبنی بر حقیقت وضاحت ملاحظہ ہو:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) میاں چنوں کے جس مکان میں دھماکہ ہو ا وہ کوئی مدرسہ نہیں،بلکہ حاضر سروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا مکان تھا۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعے کا ملبہ مدارس پر ڈال کر درسگاہوں کو بدنام کیا جارہا ہے جو افسوس ناک ہے ۔میڈیا اس سازش کو ناکام بنائے ۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے علماء و مشائخ کے ایک نمائندہ وفد نے دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا حامد حسن کی سربراہی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مرکز کو اطلاع دی کہ اس واقعے کو سراسر غلط رپورٹ کیا گیا، وہا ں کوئی مدرسہ نہیں، بلکہ ایک حاضرسروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا گھر تھا، جس میں اس کی بہن محلے کے چند بچوں کو پڑھایا کرتی تھی۔ اس سے قبل اس اسکول ٹیچر کی مشکوک سرگرمیوں کی پولیس کو اطلاع دی گئی، وہ گرفتار بھی ہوا، لیکن پولیس نے پیسے لیکر چھوڑ دیا۔ وفاق المدا رس العربیہ پاکستان کے راہنما مولانا سلیم اللہ خان ، قاری محمد حنیف جالندھری ، مفتی محمد رفیع عثمانی ،ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدارس کو بد نام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی۔۱۵جولائی ۲۰۰۹ء)
اسی طرح ڈیرہ غازیخان کی ایک خالی حویلی پر راتوں رات مدرسہ کا بورڈ لگانا اور رات کی تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں اسلحہ رکھنے کے بعد اس پر” چھاپہ“ مار کراس سے اسلحہ کی برآمدگی کی خبر بھی مدارس کوبدنام کرنے اوران کے خلاف باقاعدہ سازش کے مترادف ہے، لیجیے! اس سلسلہ کی صحیح صورت حال بھی ملاحظہ فرمائیے:
”اسلام آباد(ثناء نیوز) وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جرنل اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ترجمان قاری محمد حنیف جالندہری نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کی ایک ویران حویلی سے اسلحہ برآمد کرکے اسے مدرسہ قرار دیکر جنوبی پنچاب اور مدارس کے خلاف آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،انہوں نے مدرسہ سے اسلحہ برآمدگی کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا،مدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری کی ہدایت پر گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں وفاق المدارس کے نمائندے مفتی خالد محمود کی قیادت میں مبینہ مدرسہ کا دورہ کیاگیا، جہاں سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وفد کی جانب سے وفاق المدار س العربیہ کے ذمہ داران کو بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق جس مقام سے اسلحہ برآمد کیا گیا، وہاں ایک ویران حویلی ہے ،باقاعدہ کوئی مدرسہ نہیں، نہ وہاں کوئی طلباء زیر تعلیم ہیں، بلکہ ایک ویران جگہ ہے“ (روزنامہ جنگ کراچی،۱۳ جولائی ۲۰۰۹ء) ایسے حالات میں جبکہ ہر طرف ان بے یارومددگارمظلوموں اورمسکینوں کے خلاف چڑھائی اور حملہ کابگل بجایاجارہا ہے، کچھ حقیقت بین ایسے بھی ہیں جو حقائق سے پردہ اُٹھانے سے نہیں ہچکچاتے،چنانچہ ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے ملا، مولوی اور طالبان نہیں کہلا سکتا ، اس کی شہادت قابل قبول ہونی چاہیے۔
لیجئے! روزنامہ امت کے کالم نگار ریٹائرڈ لفٹنٹ کر نل جناب عادل اختر کی چشم کشااور حقائق آشنا تحریر پڑھیے اور فیصلہ فرمائیے کہ”مجر م کون،ملا یا مسٹر“۔” ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی“کے مصداق اس پر ہم کسی قسم کا کوئی اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے،چنانچہ موصوف تحریر فرماتے ہیں:
”۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کی صبح ناشاد تھی ۔ مقام ڈھاکہ کا میدان جنگ ۔ ناظر یہ راقم کمترین۔( اس وقت ایک لفٹین) آسمان سے آگ برس رہی تھی… اور زمین سے خون کے چشمے ابل رہے تھے کہ اچانک بڑی کمانڈ پوسٹ سے ایک حیران کن آرڈر آیا ” ہندوستانی جہازوں پر فائرنگ نہ کی جائے“ اس کے بعد کنفیوز کردینے والے احکامات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ دوپہر تک ساری رجمنٹ کو ایک مرکزی مقام پر جمع ہو نے کا آرڈر آگیا ، کسی کو کچھ معلوم نہ تھا ،کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ہونے والا ہے،ہرطرف ایک کنفیوژن کا عالم تھا۔ جلد ہی صبح ناشاد، شام غم میں بدل گئی۔
اس واقعے کو چالیس برس ہو نے کو آئے ،گو حکمرانوں کا سرپُر غرور خاک میں مل گیا ، پر ر عونت وہی باقی ہے اور عوام میں بھی کنفیوژن کا وہی عالم ہے،صوبے،صوبوں سے دست و گریباں ہیں ،طبقے ،طبقوں سے نالاں ہیں، ہر طبقہ پاکستان کی بربادی کا ذمہ دار دوسرے طبقے کو ٹھہرارہا ہے۔(کم ظرفوں میں ایسا ہی ہو تا ہے ) ملک میں پانی ہے نہ پیٹرول ،البتہ گرانی اور سرگردانی ہیں کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے،سیاستدان ؟ فوجی حکمران؟ یا بیورو کریٹ؟ یا اجتماعی شعور و بصیرت کی کمی؟۔
اس افراتفری اور شور قیامت میں ایک طبقہ ملک کی ناکامی کی ذمہ داری ملاوٴں پر ڈال رہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ایک دن بھی ملاوٴں کی حکومت نہیں رہی ۔دس گیارہ برس ایک نیم ملا فوجی ڈکٹیٹر ضرور ملک پر قابض رہا ، اس ڈکٹیٹر کے آنے یا جانے میں ملاوٴں کا کوئی دخل نہیں تھا، اس لئے اسے ملاوٴں کی حکومت نہیں کہا جاسکتا ،اس کے علاوہ پاپائیت کی مانند ، اسلام میں ملائیت نام کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ نہ کبھی سارے ملا، مولوی، کسی مسئلے پر متفق ہوئے ہیں۔ فکری مسائل پر ہر طبقے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ عین فطری بات ہے۔
برصغیر کے ملاوٴں پر ایک سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، آج ان ملاوٴں کا دفاع غداری کے زمرے میں آسکتا ہے، اور ہاتھوں کے علاوہ سر بھی قلم ہو سکتا ہے، بہرحال اس وقت کے ملاوٴں کا موٴقف اصولی تھا، وہ کہتے تھی: آپ تو کشور حسین میں بیٹھ کر عیش کریں گے، جو کروڑوں مظلوم و مردود مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے ،ان کا ولی وارث کون ہو گا؟ وہ تاقیامت بے بسی کی دلدل میں اترتے چلے جائیں گے۔ ان کی زندگی میں کبھی صبح امید نہیں آئے گی،ان ملا وٴں کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ تحریک پاکستان میں شامل ہو جانے والے ہزاروں کھوٹے سکے ناقابل اعتبار ہیں ، ان سکوں سے خیر کی کوئی امید نہیں، یہی ہوا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد انہوں نے کھل کھیلنا شروع کردیا ، ملک میں سازشیں اور چھینا جھپٹی شروع ہو گئی، اول تو ملک میںآ ئین بننے نہیں دیا گیا اور جب آئین بن گیا تو اسے جلد ہی قتل کردیا گیا، جو لوگ حکمران بنے، وہ نہ تو اللہ کا قانون( قرآن) ماننے کے روادار تھے نہ انسان کابنایاہواقانون (آئین)ماننے کے لئے تیار تھے ، ان طالع آزماوٴں کی حماقتوں کے نتیجے میں قائد اعظم کا پاکستان دو نیم ہوگیا ، لاکھوں انسان قتل ہو ئے، کروڑوں بے گھر اور ایک لاکھ افراد دشمن کی قید میں چلے گئے ، قائد اعظم کی روح پر قیامت گزر گئی ہو گی۔کمروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنے والے دانشور اس کرب کا ،اس ذلت و اذیت کا احساس ہی نہیں کرسکتے ، جو اس آگ کے دریا سے گزرنے والوں پر بیت گئی۔
ملاوٴں پر الزام ہے کہ وہ ہمیشہ ظالم حاکم کی حمایت کرتے ہیں، عرض ہے کہ ملاوٴں نے حاکموں کی حمایت اپنی انفرادی حیثیت میں کی ہے ،بہ حیثیت جماعت یا ادارے کے ملا وٴں نے کبھی کسی حاکم کی حمایت نہیں کی، ہزاروں ملا ظالم حکمرانوں کے درباروں میں چٹان کی طرح باوقار انداز سے کھڑے رہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ،امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، مجدد الف ثانی رحمہ اللہ …مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ،حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ،حاجی امداداللہ مہاجرمکی رحمہ اللہ،شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ،اور شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ،مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، امیرشریعت مولاناسیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ․․․․․ناقل۔ کا سر ہمیشہ بلند اور سخن دلنواز رہا ۔
پاکستان میں حاکموں کی حمایت کرنے والوں میں جاگیر دار، جج، جرنیل، جرنلسٹ، اساتذہ کرام ، تاجر ، دانشور ہمیشہ پیش پیش رہے اور ظل الہٰی سے اس کا پورا پورا معاوضہ وصول کرتے رہے ،آج انصاف اور سائینٹیفک تحقیق کا تقاضا ہے کہ ملک کے پانچ دس ہزار روٴسائے اعظم کی فہرست بنائی جائے اور دیکھا جائے اس میں ملا کتنے ہیں ؟اور مسٹر کتنے ؟اگر یہ مشکل ہو تو چک شہزاد میں عطاء کئے جانے والے ۴۹۹ فارم ہاوٴسوں کے مالکان کے نام جو اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں، دیکھ لئے جائیں کہ ان میں ملا کتنے ؟اور مسٹر کتنے ہیں؟ عوام کو بتایا جائے، ملا مودودی نے کس قدرجائیداد چھوڑی اور پرویز مشرف نے کس قدر دولت بٹوری۔ (دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں دہلی کے رہنے والے تھے)…
تحقیق اور انصاف سے دلچسپی رکھنے والوں سے التماس ہے کہ وہ کچھ مشہور ملاوٴں: مثلاََ حسرت موہانی، ابو الکلام آزاد، حسین احمد مدنی ،حسین احمد قاضی،حافظ حسین احمد، احمدعلی لاہوری ،سرفراز احمد نعیمی …اگر اس کے ساتھ ساتھ مفتی کفایت اللہ،مولانامحمود حسن دیوبندی ،مولانامحمدقاسم نانوتوی،مولاناغلام غوث ہزاروی،مولانامفتی محمود،مولانامحمدعبداللہ درخواستی ،مولانامحمدبہلوی،مولاناسی د محمدانورشاہ کشمیری،مولاناخلیفہ غلام محمد دین پوری،مولاناسیدمحمدیوسف بنوری، شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ،مولاناظفر احمدعثمانی رحمہم اللہ وغیرہ کے نام بھی شامل کردیے جائیں تونامناسب نہ ہوگا․․․․ناقل ۔کی دولت و جائیداد کی تفصیلات حاصل کریں اور پرویز مشرف اور موجودہ حکومتی و سیاسی رہنماوٴں کی دولت سے موازنہ کریں، پھر انصاف سے بتائیں کہ پاکستان پر حکومت کس نے کی؟ دولت کس نے بٹوری؟۔
ملاوٴں پر ایک الزام اور بھی ہے کہ ان کا پسندیدہ نظام ملوکیت ہے اور وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔(کیا اقتدار پر قبضے کی کوششیں جنرلز نہیں کرتے؟)عرض یہ ہے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی نظام کی حمایت یا مخالفت کرسکتا ہے ، اس وقت ہندوستان اور پاکستان میں جس قدر مذہبی پارٹیاں سیاست میں حصہ لے رہی ہیں، وہ ملک کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں اور جمہوریت کی حامی ہیں(ورنہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملتی) پاکستان کی کسی مذہبی جماعت نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی ،پر امن مقاصد سے اپنے مشن اور مقصد کا حصول ہر سیاسی پارٹی کا آئینی حق ہے۔ کوئی جرم نہیں ۔ البتہ غیر ملا پارٹیوں میں نہ کبھی الیکشن ہو تے ہیں، نہ فنڈز کا حساب رکھا جاتا ہے۔ برصغیر میں باہر سے آنے والی قوموں نے اقتدار اور اختیار پر قبضہ کرکے یہاں کے رہنے والی قدیم اور پسماندہ اقوام کا استحصال کیا ،آریا ، مغل ،عرب، ترک ، ایرانی اور انگریز… آج بھی پاکستان پر ایک استحصالی طبقہ قابض ہے، ضرورت پڑنے پر یہ لوگ فوراََ چولا بدل لیتے ہیں ، ان کا کوئی دین و مذہب نہیں ، اس طبقے کے لوگ ہر نظام کے خلاف ہیں، اسلام ، کمیونزم ،سوشلزم، سیکولرازم…
کیونکہ دنیا کے تمام مذاہب اور تمام نظام ، استحصال کے خلاف ہیں، کسی بھی نظام کی کامیابی کی صورت میں استحصالی ٹولے کی لوٹ مار کا خاتمہ ہو جائے گا، اس طبقے کی ظلم وستم کی داستانیں کبھی کبھار اخباروں میں چھپ جاتی ہیں، ورنہ عام طور پر عوام کی نظروں سے چُھپی رہتی ہیں۔ ان طبقات کی داستانیں پڑھ کر حیرت ہو تی ہے کہ انسان کس قدر گرسکتا ہے؟
پاکستان میں اس طبقے کے بنائے ہوئے عالیشان محلات دیکھ لیجئے ، ہر محل ایک قلعہ ہے، باہر لوہے کا جنگلہ ،اندر جنگلی کتے غرارہے ہیں ،مسلح چوکیدار گشت کررہے ہیں، سیکورٹی کیمرے نصب ہیں ،فرار ہونے کے لئے ہیلی پیڈ ہیں اورڈوب مرنے کے لئے سو ئمنگ پول۔
اخباری قیاس آرائیوں کے مطابق اس طبقے کے پاس ناجائز ذرائع سے جمع کئے ہوئے بارہ ہزار ارب روپے موجود ہیں، اتنے روپے حکومت کے پاس بھی نہیں ہیں ،اس رقم کو بینک کی اصطلاح میں کالا دھن کہتے ہیں، بیرون ممالک ان لوگوں کے پاس ساٹھ ستر ارب ڈالرز کے اثاثے موجود ہیں، اس طبقے کی عیاشیوں کی داستانوں پر عام طورپر پردہ پڑا رہتا ہے، بیرون ممالک جا کر بہتریں مہنگے ترین ہو ٹلوں میں قیام و طعام، مہنگے ترین اسٹوروں میں شاپنگ ، جوئے خانوں، نائٹ کلب اور عیاشی کے اڈوں پر ”حاضری “کبھی کبھار تیز ہوا چلتی ہے تو کچھ دیر کے لئے پردہ ہٹ جاتا ہے اور ان کے کالے کرتوت نظر آجاتے ہیں ،جو لوگ حق اور سچ کے متلا شی ہیں وہ تحقیق کرکے دیکھ لیں،ان لوگوں میں ملا کتنے ہیں، مسٹر کتنے؟ نوٹ:اس مضمون میں علماء کرام کی جگہ ملا کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا گیاہے، کیونکہ جو حضرات اسلام کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا کرتے ہوئے مصلحتاََ علماء کرام یا اسلام کی جگہ لفظ ملا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس میں حقارت کا عنصر شامل ہو تا ہے۔
کچھ دانشور ملا کو ملعون و مطعون قرار دے کر مسرت محسوس کرتے ہیں ،ملا اپنے دفاع میں اور کیا کہہ سکتے ہیں، سوائے اس کے کہ :
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات انہیں بہت گراں گزری ہے
جب تک ملا وٴں کی جان میں جان باقی ہے، یہ تزئین درو بام کرتے رہیں گے،حق پسند قاری خود دیکھ لیں، ملا کے پاس کتنا مال ہے؟ اور غیر ملاوٴں کے پاس کس قدر؟
ملا وٴں کی سب سے اچھی خدمت یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے ملک میں میرٹ
اور انصاف کی حکومت ہو۔“(روزنامہ امت کراچی،۱۶جولائی ۲۰۰۹ء)
مکررعرض ہے کہ یہ تحریر کسی ملا،مولوی، یاکسی دینی مدرسہ کے پڑھے لکھے” تنگ نظر“ کی نہیں، بلکہ یہ ایک ریٹائرڈ فوجی کی آپ بیتی ہے جو۱۹۷۱ء کی جنگ میں خود شریک تھااوراس نے وہ سارامنظر بچشم خوددیکھا،جس کے دیکھنے اورسننے کی ہما رے” بڑے“ بھی تاب لانے سے قاصر ہیں۔
ہاں!ہاں یہ تحریرایک غیرجانبدار تجزیہ نگاری ہے ،جویقینا مسجد،مدرسہ،ملا،مولوی اور دین دار طبقہ کے مخالفین کے خلاف حجت قاطعہ ہے۔خداکرے کہ اس کے ذریعے ہمارے معصوم قارئین کے دل ودماغ میں ڈالی گئی غلط فہمیاں دورہوجائیں۔ اور وہ اس بین الاقوامی سازش کاادراک کرسکیں۔واللّٰہ یقول الحق وھو یہدی السبیل
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیرخلقہ سیدنامحمد وآلہ واصحابہ اجمعین


مولانا سعید احمد جلال پوری (ماہنامہ '''بینات'' اگست 2009ءکراچی ؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), طاھر (08-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 14-10-09, 04:50 PM   #31
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی بات ہے جناب۔ اب اس میں غوطہ ہو جائیے تاکہ آپکے ذہن کی گرہ کھل سکے؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
احمدنواز کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-10-09, 05:07 PM   #32
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا خیال بالکل درست ہے۔ اس کتاب کا نام ہے قرآن حکیم، اس کا روزانہ مطالعہ بہت شافی ہے

کاش کہ ایسا ہوتا
آپ اسے روزانہ مطالعہ کرتے اور سمجھنے کے لئے ۔۔ نہ کہ اپنی مرضی کی آیات بغیر سیاق و سباق کے کوٹ کرنے کے لئے
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by راجہ اکرام; 14-10-09 at 11:59 PM.
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-10-09, 01:02 AM   #33
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاکما اللہ خیرا ، بھائی بدر الزمان اور بھائی راجہ اکرم ،
ماشا اللہ آپ صاحبان نے بھائی فاروق سرور صاحب کی عادتوں کو خوب پہچانا اور ان کے مبلغ علم کا بھی ٹھیک اندازہ لگایا ، میں خود بھی ان کے ساتھ بحث کرنا پسند نہیں کرتا ، کیونکہ ان کے اب تک کے اسلوب سے یہ یقین سا ہو گیا ہے وہ اللہ کی بات کو اللہ ہی کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے ماننے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اسے اللہ ہی کی مقررکردہ کسوٹیوں پر پرکھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے ،
میں فاروق بھائی سے یہ ساری گفتگواس لیے کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے جو کچھ سکھایا ہے اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے خلاف باتوں کا جواب دوں ، اور اس لیے کرتا ہوں کہ قارئین بھی ان کی طرح ان فلسفوں کا شکار نہ ہوں جائیں جن کا وہ پرچار کرتے ہیں ، اور اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کی حکمت کی بے عیبی کا کسی کو کوئی اندازہ نہیں کہ وہ کب کس کا دل بدل کر ہدایت دے گا وہ ہی جانتا ہے ،
اللہ تعالی ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-10-09, 06:29 AM   #34
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مؤدبانہ عرض ہے کہ :
قرآن کی آیات سے بہت سے لوگ بری طرح ناراض ہوجاتے ہیں وہ اس لئے کہ ایک تو قرآن ناظرہ سے پڑھا ہے، یہ پتہ ہی نہیں کہ اس میں لکھا کیا ہے اور اگر کسی نے پڑھا بھی ہے تو اس پر روایات کی اتنی تہیں لگ گئی ہیں کہ اصل کی پہچان ناممکن ہے۔ اہم بات یہ ہے اللہ تعالی کا فرمان فرض ہے اس کو پہچانیں۔ میں نے آج تک کسی کو ترجمہ کی خامی یا سیاق و سباق کی خامی کی طرف اشارہ کرتے نہیں دیکھا۔ کسی آیت کے خلاف دوسری آیت پیش کرتے نہیں دیکھا۔ درد مندی سے سوچئیے کہ کیا سنت نبوی قرآن کے نطریات کے خلاف ہوسکتی ہے؟

قرآن پڑھئے اور بار بار پڑھئیے ، آپ سب کو بھی اس کی بہتر سمجھ آنا شروع ہوجائے گی۔ یہ طنز نہیں ہے۔ بہت ہی مخلصانہ گذارش ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ بہت سے امور آپ کو چونکا دیتے ہیں۔ قرآن کا مطالعہ فرماتے رہئیے، انشاء اللہ اللہ تعالی بہتر ترین ہدایت عطا فرمائیں گے۔

فرمان آپ نے اللہ تعالی کا قبول کرنا ہے، میں ایک طالب علم ٹھیرا، نہ مولوی ، نہ مفتی ، صرف اور صرف حوالہ فراہم کرتا ہوں جو کہ مستند ہوتا ہے۔ ہر آیت خود اپنی وضاحت کرتی ہے ، اپنے سیاق و سباق کا تعین کرتی ہے۔ یہ کہنا بہت ہی غلط ہے کہ آیت بناء‌سیاق و سباق کے پیش کردی گئی ہے بلکہ ایک سراسر نیا الزام ہے۔ جو آیات پیش کی جاتی ہیں ان کا مفہوم مکمل طور پر ضروری امور کو واضح کردیتا ہے۔ چاہے وہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ہوں‌، تعلیم سے متعلق ہوں ، یا طرز حکومت سے متعلق ہوں۔

بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اپنی طرف سے قرآن کی ایات کی تفسیر مع ٹائم لائین کے مقرر کردی ہے میں اس کی مثال اس طرح دیتا ہوں۔

سورۃ النور:24 , آیت:12 دیکھئے:
ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس (بہتان) کو سنا تھا تو مومن مرد اور مومن عورتیں اپنوں کے بارے میں نیک گمان کر لیتے اور (یہ) کہہ دیتے کہ یہ کھلا (جھوٹ پر مبنی) بہتان ہے

اس کے سیاق و سباق سے کون واقف نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ آیت صرف اور صرف اسی سیاق و سباق کے لئے نازل ہوئی تھی؟ یعنی اب وہ وقت گذر گیا، اس کے کردار اس دنیا میں نہیں تو کیا یہ آیت اب بے معانی ہوگئی؟ متروک ہوگئی؟ منسووخ ہوگئی؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔ قرآن حکیم آنے والے تمام وقتوں کے لئے ہے۔ یہ نہ کبھی منسوخ‌ہوگا اور نہ ہی متروک، اس آیت کا اطلاق ہر اس سے ملتے جلتے سیاق و سباق پر ہوگا۔ ضرورت صرف اور صرف آنکھ کھول کر دیکھنے کی۔ ایک بار پھر عض‌کروں‌گا کہ کوشش کیجئے کہ میری بات پر کم سے کم توجہ دیں، اور قرآن حکیم کی آیت پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیجئے۔

آئندہ کے مؤدبانہ عرض ہے کہ اس روایتی طرز استدلال کو تبدیل کیجئے اور دلیل صرف اور صرف قرآن حکیم سے قبول کیجئے۔


والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 15-10-09 at 07:11 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-10-09, 07:13 AM   #35
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قرآن پڑھئے اور بار بار پڑھئیے ، آپ سب کو بھی اس کی بہتر سمجھ آنا شروع ہوجائے گی۔ یہ طنز نہیں ہے۔ بہت ہی مخلصانہ گذارش ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ بہت سے امور آپ کو چونکا دیتے ہیں۔ قرآن کا مطالعہ فرماتے رہئیے، انشاء اللہ اللہ تعالی بہتر ترین ہدایت عطا فرمائیں گے۔
آئندہ کے مؤدبانہ عرض ہے کہ اس روایتی طرز استدلال کو تبدیل کیجئے اور دلیل صرف اور صرف قرآن حکیم سے قبول کیجئے۔


فاروق بھائی
بات تو آپ کی بہت اچھی ہے لیکن اس مطالعے سے آپ علم کی جس گہرائیوں تک پہنچے ہیں اس مجھے بے طرح سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ کلمۃ حق ارید بہ الباطل
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پرانا 15-10-09, 07:57 AM   #36
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
قرآن پڑھئے اور بار بار پڑھئیے ، آپ سب کو بھی اس کی بہتر سمجھ آنا شروع ہوجائے گی۔ یہ طنز نہیں ہے۔ بہت ہی مخلصانہ گذارش ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ بہت سے امور آپ کو چونکا دیتے ہیں۔ قرآن کا مطالعہ فرماتے رہئیے، انشاء اللہ اللہ تعالی بہتر ترین ہدایت عطا فرمائیں گے۔
آئندہ کے مؤدبانہ عرض ہے کہ اس روایتی طرز استدلال کو تبدیل کیجئے اور دلیل صرف اور صرف قرآن حکیم سے قبول کیجئے۔


فاروق بھائی
بات تو آپ کی بہت اچھی ہے لیکن اس مطالعے سے آپ علم کی جس گہرائیوں تک پہنچے ہیں اس مجھے بے طرح سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ جملہ یاد آتا ہے کہ کلمۃ حق ارید بہ الباطل
برادرم راجہ
آپ کے ہوائی ریمارک کا شکریہ
میں نے آپ کا پیش کردہ کوئی نکتہ کبھی کسی مراسلہ میں‌کسی بھی آیت کے بارے میں نہیں دیکھا۔ آپ کو میرا حساب تو دینا نہیں ہے لہذا آپ اپنے علم کے اضافہ پر کام کیجئے۔ اللہ برکت دے گا۔ میں اپنا کام کرتا ہوں۔ آپ کو جب بھی کسی آیت کا ترجمہ درست نہ محسوس ہو تو تصحیح فرمادیجئے۔

اس وقت ایسا لگتا ہے کہ چونکہ آپ قرآنی آیات کے دلائل نہیں دے پاتے لہذا میری کرادر کشی آپ کا مشغلہ ہے

ذہن میں‌رکھئیے کہ میں فقط ایک طالب علم قرآن ہوں۔ آپ نے میری پیروی تو کرنی ہے نہیں کہ میرے کام کا تجزیہ کیجئے۔ آپ نے تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر نی ہے لہذا قرآن کو مع ترجمہ پڑھنے پر زور دیجئے۔

والسلام۔

Last edited by فاروق سرورخان; 15-10-09 at 08:52 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-10-09, 09:04 AM   #37
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس وقت ایسا لگتا ہے کہ چونکہ آپ قرآنی آیات کے دلائل نہیں دے پاتے لہذا میری کرادر کشی آپ کا مشغلہ ہے

السلام علیکم
فاروق بھائی
میں ایک بار پھر انتہائی ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں عرض کر دوں کہ میں نے کبھی آپ کی کردار کشی کرنے کا سوچا بھی نہیں اور نہ ایسا موقع آئےگا۔۔
اور اگر غیر جانبدار ہو کر اگر میرے تمام مراسلات کا مطالعہ ایک بر پھر کریں،، سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے، تو آپ کے کردار پر ایک بھی حرف نا ملائم نہیں ملےگا۔
میں ذاتی طور پر آپ کی عزت کرتا ہوں، آپ نہ صرف علم بلکہ عمر کے لحاظ سے بھی مجھ سے قریبا دوگنے ہیں، اس لئے آپ کا احترام مجھ پر لازم ہے۔۔۔ اگر کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو معذرت

مجھے اعتراض ہے آپ کی علمی ارشادات پر جو اسلام کی ثابت شدہ بنیادی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں، اور میرا ایمان انتہائی کمزور ہونے کے باوجود مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح علی الاعلان استہزاء اور انکار پر کم از کم جہاد باللسان تو کرتا رہوں۔۔۔

جہاں تک بات ہے آپ کو دلائل دینے کی تو میرے خیال میں اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔۔ کیوں کہ آپ نے 6 اردو تراجم اور 17 انگریزی تراجم اور نہ جانے کیا کیا پڑھ رکھا ہے اور میں نے بمشکل ایک مرتبہ پڑھا ہے، اور اب تو ناظرہ پڑھنے تک ہی محدود ہوں

بہر حال اگر آپ کو لگا کہ آپ کی کردار کشی ہو رہی ہے، میں نے آپ کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی، تو میں معذرت خواہ ہوں
لیکن آپ کے وہ نظریات جو مجھے اپنی دانست کے مطابق مصدقہ تعلیمات کے خلاف ہیں ان پر میں احتجاج کرتا رہوں گا۔۔۔۔تا آنکہ یا تو اسلام نافذ ہو جائے یا اس راہ میں میری زندگی ختم ہو جائے۔

و السلام
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
عادل سہیل (15-10-09), عبداللہ حیدر (15-10-09)
پرانا 15-10-09, 09:04 AM   #38
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس وقت ایسا لگتا ہے کہ چونکہ آپ قرآنی آیات کے دلائل نہیں دے پاتے لہذا میری کرادر کشی آپ کا مشغلہ ہے

السلام علیکم
فاروق بھائی
میں ایک بار پھر انتہائی ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں عرض کر دوں کہ میں نے کبھی آپ کی کردار کشی کرنے کا سوچا بھی نہیں اور نہ ایسا موقع آئےگا۔۔
اور اگر غیر جانبدار ہو کر اگر میرے تمام مراسلات کا مطالعہ ایک بر پھر کریں،، سیاق و سباق کو مد نظر رکھتے ہوئے، تو آپ کے کردار پر ایک بھی حرف نا ملائم نہیں ملےگا۔
میں ذاتی طور پر آپ کی عزت کرتا ہوں، آپ نہ صرف علم بلکہ عمر کے لحاظ سے بھی مجھ سے قریبا دوگنے ہیں، اس لئے آپ کا احترام مجھ پر لازم ہے۔۔۔ اگر کوئی گستاخی ہو گئی ہو تو معذرت

مجھے اعتراض ہے آپ کی علمی ارشادات پر جو اسلام کی ثابت شدہ بنیادی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں، اور میرا ایمان انتہائی کمزور ہونے کے باوجود مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح علی الاعلان استہزاء اور انکار پر کم از کم جہاد باللسان تو کرتا رہوں۔۔۔

جہاں تک بات ہے آپ کو دلائل دینے کی تو میرے خیال میں اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔۔ کیوں کہ آپ نے 6 اردو تراجم اور 17 انگریزی تراجم اور نہ جانے کیا کیا پڑھ رکھا ہے اور میں نے بمشکل ایک مرتبہ پڑھا ہے، اور اب تو ناظرہ پڑھنے تک ہی محدود ہوں

بہر حال اگر آپ کو لگا کہ آپ کی کردار کشی ہو رہی ہے، میں نے آپ کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی، تو میں معذرت خواہ ہوں
لیکن آپ کے وہ نظریات جو مجھے اپنی دانست کے مطابق مصدقہ تعلیمات کے خلاف ہیں ان پر میں احتجاج کرتا رہوں گا۔۔۔۔تا آنکہ یا تو اسلام نافذ ہو جائے یا اس راہ میں میری زندگی ختم ہو جائے۔

و السلام
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 15-10-09, 05:34 PM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
مجھے اعتراض ہے آپ کی علمی ارشادات پر جو اسلام کی ثابت شدہ بنیادی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں، اور میرا ایمان انتہائی کمزور ہونے کے باوجود مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ اس طرح علی الاعلان استہزاء اور انکار پر کم از کم جہاد باللسان تو کرتا رہوں۔۔۔
برادر من "یہ ثابت شدہ" اسلامی معلومات کی بنیاد عام طور پر وہ کتب ہیں جو عام طور پر فروخت ہوتی ہیں۔ اس میں آپ کا قصور نہیں۔ زیادہ تر افراد تک اسلامی معلومات، قرآن مجید سے نہیں بلکہ ثانوی کتب سے پہنچتی ہیں۔ بہت سے لوگ مجھے ایسے ملے ہیں جو یہ ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں کہ "ایسی کوئی آیت" قرآن میں ہے۔ جب تک وہ اندر سے قرآن نہ لے آئیں اور خود نہ دیکھ لیں۔ آپ کا ذہن بہت اچھا ہے اور سوالات بہت بہترین۔ استدعا ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی آیت نامناسب جگہ استعمال ہوتی نظر آئے، برملا اظہار کیجئے۔

آپ کو ان معاملات میں نئے خیالات ملیں گے۔ پبلک پالیسی، خواتین کا استحصال، جمہوری نظام، مالی نظام، فرد واحد کی حکومت، عوام کی دولت، جہاد و فساد کا فرق۔ آپ بھی سوچئے اور ہم بھی سوچتے ہیں اور دعا کرتے ہیں‌کہ اللہ تعالی ہدایت فرمائیں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
rana ammar mazhar (29-11-11)
جواب

Tags
فارم, پولیس, پوسٹ, پاکستان, پسند, پسندیدہ, قرآن, لیاقت علی خان, لوگ, نیوز, موجودہ, منصوبہ, مسائل, مسجد, معلوم, آپریشن, آج, اللہ, الزام, اسلام, اعلیٰ, بچوں, تعلیم, دھماکہ, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger