واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-05-09, 10:54 AM  
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,134
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default مُلائیت کی طبقاتی جان ،خرد دشمنی اور جہالت کے طوطے میں ہے

پیارے قارئین درجِ ذیل تحریر جناب راجہ فتح خان کے قلم سے نکلی تلخ حقیقت ہے جو آج سنڈے کے جنگ میں‌جناب ارشاد احمد حقانی صاحب نے اپنے کالم میں‌ نقل کیں ہیں۔
اس کے مندرجات کی اہمیت کی وجہ سے میں اسے یہاں‌نقل کرنے کی جسارت کرہا ہوں، جناب ارشاد احمد حقانی صاحب اور جناب راجہ فتح خان سے پیشگی معذرت!

عظیم مذاہب ِ عالم کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر مذہب رائج نظامِ پیداوار پر قابض حکمران اقلیت کی چیرہ دستیوں سے محنت کشوں کی عظیم ترین اکثریت کو نجات دلانے کا پروگرام لے کر آیا۔ مظلوموں نے اسے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر جوق در جوق اپنایا اور حکمران طبقات نے ہمیشہ ان مذاہب کے بانیوں کی ایڑی اور چوٹی کے زور سے مخالفت اور مخاصمت کی۔ جب خطے کی اکثریت اس مذہب کی حلقہ بگوش ہو گئی تب جا کر حکمران طبقات نے اپنے طبقاتی مفاد کی خاطر اس مذہب کو اپنایا۔ شروع میں کچھ ہستیاں خود کو متعلقہ مذہب کی کماحقہ تعلیم کے لئے وقف کرتی رہیں جس میں طاق ہو کر مذہب کی تبلیغ اور درس و تدریس کا مقدس مشن اختیار کیا۔ تصنیف و تالیف ،مذہب کی تاویل اور تفسیر کو اپنے مذہبی دائرئہ فرائض میں شامل کیا اور آئندہ نسلوں کے لئے کتب رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ نظامِ پیداوار پر قابض گروہ اپنے حق حکمرانی سے رضاکارانہ طور پر کبھی دستبردار نہیں ہوتے کہ ان کے عیش و آرام کا سارا دار و مدار محنت کشوں کی ”حق ماری“ سے وابستہ ہوتا ہے۔ چنانچہ بانی ٴ مذہب اور ان کے مخلص ساتھیوں کے بعد حکمران طبقات اُس مذہب کو استعمال کر کے مذہبی سند کے ساتھ ہمیشہ اپنی ملوکیت قائم کرتے آئے ہیں۔ اس کے لئے بس انہیں مذہب کی علماء جماعت اور اس کے سربراہوں کی وفاداری خریدنی ہوتی ہے جو پہلے ہی اپنی مذہبی ”خدمات“ کے حوالے سے خود کو عوام میں مذہب کے بانی کے ”وارث“ منوا چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملوکیت اور ملائیت کا یہ اٹوٹ اور مقدس اتحاد صدیوں سے قائم چلا آ رہا ہے اور حقیقی جمہوریت سے پہلے تک یہ قائم و دائم ہی رہے گا۔ ملا، پادری، پنڈت اپنے ”ظل الٰہیوں“، ”دین کے محافظوں“ اَن داتاؤں اور سورج کے بیٹوں سے مذہبی ”خدمت“ کے زندہ ثبوت تعمیر کرا کے آئندہ نسلوں کے لئے بھی محترم بناتے رہتے ہیں۔ ان سے شاہی مسجدیں اور فیصل مسجدیں بنواتے ہیں۔ ٹاٹا اور برلا مندر بنواتے ہیں۔ چرچ اور پگوڈے ان کے نام سے تعمیر ہوتے ہیں۔ ملائیت کے قاضی اور مفتی اپنے ظل سبحانیوں کی ہر خواہش کو مذہب سے سند ِ جواز مہیا کر کے اسے عملی جامہ پہنانے میں زیر دست آلہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی اورنگ زیب نے اپنے بھائی کو قتل کرنا ہو تو ملائیت اس کی خواہش پر اسے ملحد قرار دے کر واجب القتل ہونے کا فتویٰ حاضر کر دیتی ہے۔ کوئی اکبر اعظم درجن بھر شادیاں کرنا چاہے تو علما باجماعت اس کو قرآنی سند کے ساتھ 20 شادیاں کر سکنے کے حق کا فتویٰ مہیا کر دیتے ہیں۔ کسی بھٹو سے جاگیریں چھن جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے تو سینکڑوں ملا بمعہ مکے مدینے کے امامِ اعظم کے بھٹو کو کافر قرار دے دیتے ہیں اور بالآخر اسے قتل کرانے تک فوجی آمر کی حکومت میں شامل رہتے ہیں۔

اصل میں ملائیت کی طبقاتی زندگی خرد دشمنی کی ڈور سے بندھی ہوتی ہے۔ جہالت کی سرزمین پر ہی ملائیت وہم کی فصلیں اگاتی ہے اور اپنا حلوہ مانڈہ یقینی بناتی ہے اور مروجہ غلامانہ، قبائلی سرداری اور جاگیردارانہ نظام کے تسلسل میں مذہبی ونگ طاقتور نظریاتی ہتھیار ہے۔ ملائیت کے سارے مگرمچھ صرف جہالت کے تالاب ہی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ اسی لئے ان کی دن رات کی کوشش ہوتی ہے کہ سارے معاشرے ہی کو گندے جوہڑ میں تبدیل کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملائیت جدید علم کا داخلہ اپنے مذہبی اداروں میں ہمیشہ ممنوع رکھتی ہے اور ریاست پر اثر انداز ہو کر وہاں کے تعلیمی اداروں میں بھی اپنی پسند کا ملا دوست نصابِ تعلیم رائج کرواتی ہے۔ کوئی سرسید جدید تعلیم کے لئے عملی اقدام کرے تو ملائیت اسے نیچری ، کافر اور پادریوں کا ایجنٹ قرار دے کر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے مذہب کے نام پر روکتی ہے۔
ہمارے ہاں جو تعلیمی ادارے بموں سے اڑائے جا رہے ہیں، ٹی وی اور ویڈیو شاپس جلائی جا رہی ہیں حتیٰ کہ پولیو کے قطرے پلانے والے سٹاف کو قتل کر دیا جاتا ہے تو یہ حقیقت میں ملائیت اپنی طبقاتی بقا کی آخری جنگ لڑ رہی ہے۔

جاہل اور وحشی ملا اس خوش فہمی میں ہے کہ وہ ملائیت کی فتح کے لئے آزادانہ طور پر خود یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ پی این اے کی تحریک والے بھی لوگوں کو یہی باور کراتے تھے کہ یہ خالص قومی جمہوری تحریک ہے اور طالبان بھی اسی خودفریبی میں مبتلا تھے کہ وہ واقعی جہاد کر رہے ہیں اور روس کی شکست وہ آج بھی اپنا کارنامہ باور کرتے ہیں مگر حقیقت میں پی این اے اور طالبان دانستہ یا نادانستہ اپنے مربی آقاؤں کے ہاتھوں ان کے مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال ہو رہے تھے جو سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ پاکستان میں ملاؤں کی دہشت گردی کی اس تحریک کی پشت پر بھی وہ داخلی اور خارجی مفادات ہیں جو اس خطے پر بالادستی میں حصہ بقدر جثہ چاہتے ہیں اور اسی تناسب سے اپنے اپنے حصے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں!
ملائیت ہمیشہ کی طرح موجودہ اور متوقع حکمران طبقات کے ہاتھوں استعمال ہو رہی ہے۔

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کے (غلط) واقعہ پر ملائیت نے بحیثیت مجموعی اور مذہبی سیاسی جماعتوں نے مذمت کرنے سے انکار کر دیا خصوصاً جماعت اسلامی کے نئے امیر نے تو صاف انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ کے ایک مشہور صحافی تو قرآنی آیتوں کے حوالے سے یہ ثابت کر رہے تھے کہ اس کی مذمت کرنا گناہ ہے۔ جاگیردارانہ اور قبائلی معاشروں میں عورت کی معاشرے میں حیثیت اس محاورے سے ہی ظاہر ہے کہ ”زن، زر اور زمین فساد کی جڑ“ گویا زر اور زمین کی طرح زن بھی اشیائے صرف ہے۔ استعمال کی چیز ہے۔ انسان نہیں بلکہ پیر کی جوتی سمجھی جاتی ہے۔ پھر اسے بلوچستان میں زندہ گاڑیں، سندھ میں گولی مارنے سے پہلے کتے اسے بھنبھوڑیں یا کاری قرار دے کر سینکڑوں قتل کی جاتی رہیں اور مردِ مومن کے دور میں انکے ننگے جلوس نکالے جائیں ملائیت ایک لفظ بھی کہنے کی جرأت نہیں کرتی۔ وراثت میں حصے سے محروم رکھنے کیلئے بھی جاگیرداروں کی مدد کو ملا ہی آتا ہے۔ قرآن سے شادی کرا کے کنواری بیوہ بنا دیتا ہے۔ غیرت کے نام پر بے شمار عورتیں قتل ہوتی رہتی ہیں ۔اس وقت غیرت کہاں چلی جاتی ہے جب باپ ایک معصوم بچی کو بوڑھے کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور ملا نکاح پڑھا دیتا ہے اور اس وقت پختون کی غیرت کس حال میں ہوتی ہے جب ایک خاوند جوئے میں اپنی بیوی ہار کر اپنی بیوی جیتنے والے کے حوالے کر دیتا ہے؟
ملائیت نے پادری کے فتوے سے یورپ میں ہزارہا عورتوں کو جادوگرنی قرار دے کر اذیت ناک موت مروایا۔ پنڈت خاوند کی میت کے ساتھ اس کی زندہ بیوی کو مذہب کے نام پر جلا کر مارتا رہا۔ ستی کی اس رسم میں مردہ خاوند کے ساتھ صرف اس کی بیوی زندہ جلائی جاتی تھی۔ مردہ عورت کے ساتھ زندہ مرد نہیں جلایا جاتا تھا کیونکہ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو ناقص العقل مانا جاتا ہے۔
اور ملا بدچلن عورت کو مذہب کے نام پر کوڑے مرواتا اور سنگسار کراتا ہے۔ مغربی ممالک میں جمہوریت نے وحشی پادری کا ریاست کے اقتدار میں حصہ ختم کر کے اس کے زہریلے دانت اکھاڑ پھینکے۔ بھارت میں پنڈت بی جے پی کی آڑ میں اپنی جنت رفتہ کی واپسی کے کبھی نہ پورے ہونے والے سہانے خواب دیکھتا ہی رہ جائے گا۔ دوسرے ہندو ملک نیپال میں بھی جمہوریت پنڈت کی اہمیت گھٹانے جا رہی ہے۔ صرف 57 مسلم ممالک کی ملائیت جمہوریت کو اسلام کے خلاف قرار دے کر عوام دشمن حکمران طبقات کی حکمرانی کو طول دینے کے جتن کر رہی ہے۔ مگر کب تک؟
(جاری ہے)
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
Arabian (29-06-09), فیصل ناصر (29-06-09), فاروق سرورخان (16-07-10), فرحان دانش (13-11-09), نورالدین (16-07-10), مرزا عامر (13-07-10), حیدر (16-07-10)
پرانا 04-09-09, 08:45 AM   #31
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,134
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام دوستوں،
اپنی پوسٹنگ کے بعد سے ایک عرصے تک یہ تھریڈ یونہی پڑا رہا مگر اب صاحبان علم صاھب تحریر کے خوب لتے لے رہے ہیں۔
مجھے اس تھریڈ‌پر عادل صاحب کا تبصرہ اور عبداللہ بھائی کا شکریہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔
اللہ عزوجل آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے!
آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (13-07-10), حیدر (16-07-10), عبداللہ حیدر (04-09-09)
پرانا 04-09-09, 09:20 PM   #32
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
سلام دوستوں،
اپنی پوسٹنگ کے بعد سے ایک عرصے تک یہ تھریڈ یونہی پڑا رہا مگر اب صاحبان علم صاھب تحریر کے خوب لتے لے رہے ہیں۔
مجھے اس تھریڈ‌پر عادل صاحب کا تبصرہ اور عبداللہ بھائی کا شکریہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔
اللہ عزوجل آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے!
آمین ثم آمین ۔ ۔ ۔ ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، شاھد بھائی ، ہر مسلمان کو خوشی ہونا ہی چاہیے ، اللہ نہ کرے یہ خوشی کچھ اسی طرح کی تو نہیں جس طرح کی مجھے یہ مضمون آپ کی طرف سے، پاک نیٹ کے اسلامی سیکشن کے ناظم اعلیٰ کی طرف ، ارسال کردہ دیکھ کر ہوئی تھی ،
صدیقی بھائی میں تو خود کو صاحبان علم میں شمار نہیں کرتا ، وہ تو ٹھہرے """" جہالت کے تالاب کے مگر مچھ """" میں تو ان """ مگر مچھوں """ کا ایک ادنیٰ سا شاگرد ہوں ، اورشاگرد بھی ایسا جو اُن """ مگر مچھوں """ کے """" جہالت کے تالاب """ میں نہیں ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے صاحب مضمون اور ان کے ہم خیال لوگوں کے """" خرد و دانش کے سمندر """ میں غوطہ زنی کا بھی خوب موقع اور تجربہ عطا کیا ہے ،
اور جس """ جدیدعلم """ کا انہیں زعم ہے اس """ علم """ کی درس گاہوں اور اس علم سے مزین """" عُلما """" کے احوال تو چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں ،
""" جاھل ملاء """" جس کا دین """" فساد فی سبیل اللہ """ ہے ، اس کے کالے کرتوت اور """ جدید تعلیم سے مزین عُلماء""" کی روشن حرکات معاشرے کا ہر فرد دیکھتا ہے ، سنتا ہے اور سمجھتا ہے سوائے ان کے جن کے دل ، کان اور آنکھیں حق سے دور ہیں ،
میری شدید خواہش ہے کہ یہاں ہماری گفتگو میں شامل ہوں ، تاکہ ایسے """ عالم """ سے ہم کچھ استفادہ کر سکیں جس کے دل میں دین دشمنی کی چکا چوند ہے اور جن صاحب کی """ خرد """" اور""" علم """" کی سطحیت یہ ہے کہ دین دار مسلمانوں بلکہ مسلمانوں کے دینی عُلماء کو جانوروں سے مشابہت دیتے ہیں ،
اس کا """ علم """ اس قدر وسیع اورعمیق ہے کہ """" فساد """ میں سے کچھ کو """ سبیل اللہ """ بھی سمجھتا ہے ، اور بہت سے باتیں ہیں ،
ان """ عُلماء کرام """ سے جب پوچھا جائے گا کہ """ من ربک ؟ """" ، """" ما دینک ؟ """" ، """ من نبیک ؟ """ تو یہ کیا کہیں گے ؟
"""جاھل ملاء """ کی بات تو سنی نہیں ، """ جدید علوم """" میں ایسی کوئی معلومات میسر نہیں، نتیجہ """" ھاہ ھاہ لا ادری """" ،
""" جاھل ملاء """ تو ان شاء اللہ اس پہلے سوال نامے کو حل کر لے گا ، لیکن یہ """ خرد دوست عُلماء """ کیا جواب دیں گے ؟؟؟
و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), ھارون اعظم (16-07-10), محمد عاصم (16-07-10), مرزا عامر (13-07-10), حیدر (16-07-10), عبداللہ آدم (14-07-10), عبداللہ حیدر (04-09-09)
پرانا 04-09-09, 11:36 PM   #33
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اپنا واقعہ سنا دیتا ہوں۔ میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا ۔میرے والد صاحب جماعت اسلامی اور مودودی کے سخت مخالف ہیں۔ وہ ایک کتاب لائے "عظمت امیر معاویہ" ۔ اس کتاب میں جگہ جگہ مودودی کا تذکرہ آئے کہ انہوں نے خلافت و ملوکیت میں یہ غلط لکھا اور یہ غلط لکھا وغیرہ باقاعدہ خلافت و ملوکیت میں سے حوالے دے کر اس نے ثابت کیا کہ مودودی صاحب نے دین دشمنی کی۔ اس کتاب کو پڑھ کر میرے ذہن میں مودودی اور خلافت و ملوکیت کے خلاف سوچ پیدا ہو گئی۔ اس سے کوئی 8 سال بعد مجھے کتاب ملی خلافت و ملوکیت۔ میرا اسکو پڑھنے کو دل نہ کیا ۔لیکن اللہ نے ہدایت دینی تھی۔ میں نے اس کتاب کو پڑھ ڈالا۔ ایک بار نہیں تین بار۔ مجھے اس میں ایک بھی ایسی قابل اعتراض بات نہ ملی جیسے عظمت امیر معاویہ کے مصنف نے تحریر کی تھی۔ تب میرے ذہن میں ایا کہ کبھی بھی ادھوری بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ پھر میں نے سید مودودی کی ایک نہیں کئی کتابیں چاٹ ڈالیں۔ میں نے بہت سے مصنفوں کی دینی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں مگر مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مجھے جو دلیل کی طاقت سید مودودی کی تحریر میں نظر آئی وہ کسی میں نظر نہیں آئی۔

میرا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والا چیف ایگزیکٹو میرے کمرے میں آیا اور مجھ سے کہا کہ میں آج کا دن تمہارے پاس رہوں گا۔ میں نے کہا بخوشی۔ وہ کتابوں کی الماری کے پاس گیا اور کتابیں دیکھنے لگا۔ اچانک ہی عجیب سی آواز میں مجھے ایک کتاب دکھا کر بولا کہ اس کتاب کو نہ پڑھنا اس میں مسلمانوں کو خراب کرنے والی باتیں لکھی ہیں۔ وہ کتاب سید مودودی کی "خلافت و ملوکیت" تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ اچھا ٹھیک ہے میں محتاط رہوں گا۔ انہوں نے ایک اور کتاب نکالی اور پڑھنے بیٹھ گئے۔ کتاب ختم کرنے کے بعد کہا کہ یار اس کتاب کو ضرور پڑھنا ۔ ۔ ۔ بہت معلوماتی کتاب ہے۔ وہ کتاب کیرن آرمیسٹرنگ کی "اسلام کا عروج و زوال" تھی۔ ابکی بار میری ہنسی چھوٹ گئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا۔ میں نے ادب سے جواب دیا کہ سر یہ کتاب "آسلام کا عروج و زوال" سید مودودی کی کتاب " خلافت و ملوکیت" سے اکتباسات لے کر لکھی گئی ہے بلکہ میں یہ کہوں کہ اسکا چربہ ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ آپ چربہ کتاب کو زبردست کہہ رہے ہیں اور جو اصل ہے اس کو مسلمانوں کو گمراہ کرنے والی کہہ رہے ہیں۔ تو انہوں نے خفیف ہو کر جواب دیا کہ یار میں نے خود تو نہیں پڑھی خلافت و ملوکیت لیکن ہم کو ہمارے "امیر" نے بتایا تھا کہ اس سے محتاط رہنا اس میں بہت فساد والی باتیں لکھی ہیں۔ تو میں نے انکو مشورہ دیا کہ ماشااللہ آپ دین کا علم رکھنے والے ہیں آپ سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں آپ ایسے ہی سنی سنائی پر اعتبار کر کے ایک بندے کے بارے میں بد گمانیاں پالے ہوئے ہیں۔آپ اسکو پڑھ کر تو دیکھیں۔ باوجود اس واقعہ کے ان حضرت کے دماغ میں سید مودودی کے خلاف اس قدر باتیں بھری ہوئی تھیں کہ انہوں نے وہ کتاب پڑھنے سے انکار کر دیا۔
اس سے آپ لوگ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے اکثر لوگ محض سنی سنائی بات پر کسی کے خلاف بد گمانی سے بڑھ کر دشمنی پال لیتے ہیں۔
بس میرا یہی مقصد ہوتا ہے اس قسم کی پوسٹ کرنے کا کہ لوگوں کی غلط فہمی دور کر دوں شاید اسی سبب میرے کردہ اور نا کردہ گناہ معاف ہو جائیں ورنہ میں تو کبھی کبھی مایوس ہونے لگ پڑتا ہوں اپنے آپ سے۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), ھارون اعظم (16-07-10), محمد عاصم (16-07-10), مرزا عامر (13-07-10), راجہ اکرام (04-09-09), سحر (05-09-09)
پرانا 04-09-09, 11:52 PM   #34
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,968
کمائي: 276,743
شکریہ: 33,206
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

موضوع کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مندرجہ ذیل تھریڈ کے اس حصہ کا جائزہ ضرور لیں
جس سے اندازہ ہوتا ہے کے مودودی صاحب پر لگائے گئے الزامات کی کیا حقیقت ہے
Name:  15.png
Views: 45
Size:  1.3 KB
http://pak.net/%D8%A7%D9%BE%DA%A9%DB...37/#post147437
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), ھارون اعظم (16-07-10), مرزا عامر (13-07-10), راجہ اکرام (04-09-09)
پرانا 13-07-10, 09:15 PM   #35
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ابھی پورا نہیں پڑھا۔۔ پڑھ رہا ہوں ۔ تبصرات بعد میں۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (13-07-10)
پرانا 16-07-10, 12:54 AM   #36
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جہالت سے پر تحریر ہے۔
اصل میں یہ کوئی اسلام دشمن کیمونسٹ کی تحریر لگتی ہے جس کو اسلام کی ہر بات میں ملائیت ہی نظر آرہی ہے، اگر کسی جاہل مولوی نے حکمران طبقہ کا ساتھ دیا ہے تو اس کو اسلام کے زمرے میں کیوں ڈالا گیا ہے؟؟؟
ایسے جاہلوں سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، جن کو صرف دنیا ہی نظر آتی ہے آخرت کا نام لینا بھی گوارہ نہیں۔
__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), حیدر (16-07-10)
پرانا 16-07-10, 01:08 AM   #37
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,900
کمائي: 73,040
شکریہ: 26,773
3,500 مراسلہ میں 11,235 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوام کی آج تفرقہ سے بھرپور حالت مولویوں کی وجہ سے ہے تو- معاشی بد حالی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیرون ملک پاکستان کا پیسہ اپنے اپنے اکائونٹس میں رکھا ہے- ملک میں کرپشن اور بے ایمانی کو عروج پر پہنچانے کی ذمہ داری بھی شاید مولویوں کی نہیں ہے۔
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے

اٰل عمران 160
مرزا عامر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), محمد عاصم (16-07-10), حیدر (16-07-10)
پرانا 16-07-10, 02:25 AM   #38
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,638
کمائي: 51,162
شکریہ: 5,036
1,495 مراسلہ میں 5,779 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Mirza Amir مراسلہ دیکھیں
عوام کی آج تفرقہ سے بھرپور حالت مولویوں کی وجہ سے ہے تو- معاشی بد حالی کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے بیرون ملک پاکستان کا پیسہ اپنے اپنے اکائونٹس میں رکھا ہے- ملک میں کرپشن اور بے ایمانی کو عروج پر پہنچانے کی ذمہ داری بھی شاید مولویوں کی نہیں ہے۔
اصل میں بھائی اس تحریر کے لکھنے والے نے سب علماء کو ایک جیسا ہی کہا ہے جو کہ اس کی اسلام دشمنی کو ظاہر کر رہا ہے اگر یہ بات کو اس طرح لکھتا کہ بعض مولوی شر پسند ہیں یا وہ جہالت پھیلا رہے ہیں تو بات کچھ سمجھ میں آتی بھی ہے کہ ایسا ہی ہے کہ بعض جہل قسم کے مولویوں کی وجہ سے ہی امت میں انتشار ہے،اور آج اس طرح کے اسلام دشمنوں کو موقعہ ملا ہے کہ وہ کھل کر اپنی اسلام دشمنی کا اظہار کر سکیں تو بنیاد یہ جاہل مولوی ہی ہیں۔
محمد عاصم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), حیدر (16-07-10)
پرانا 16-07-10, 07:13 AM   #39
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
تو جناب ان سے کوئی پوچھے کہ اگر آپ ملاؤؤں کو برا کہہ رہے ہیں تو ساتھ میں ہی ان بادشاہوں کو بھی تو برا کہیں۔
ملائیت میں کوئی مولوی یا عالم دین شامل نہیں ہوتا۔ نہ ہی تمام علماء کو ملائیت یا پاپائیت کا لیبل لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کو بہت سے علماء‌کی کتب بازار میں مل جائین گی جن کا سیاست سے دور دور تک واسطہ نہیں رہا۔ یہ قابل صد احترام علماء، ٹیچر ، پروفیسر، کسی طور بھی ملائیت کا شکار نہیں تھے۔ "ملائیت" مذہبی سیاست کی ایک کڑی ہے۔ اس کے لئے دوسری لازمی کڑی کا ہونا ضروری ہے وہ ہے بادشاہت ، ملوکیت یا فرد واحد کی حکومت۔ بادشاہ اپنی دولت اور فوج کی مدد سے "ملائیت" کو حفاظت فراہم کرتا ہے اور ملائیت اس فرد واحد کی "ذاتی خواہشات " کی رکھوالی کرتی ہے۔ ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ملوکیت اور خلافت کے تجزیہ میں لوگ عموماً ان نبیوں‌کی مثال دیتے ہیں جو اپنی قوم پر بطور "ملک" یا "بادشاہ " کے طور پر حکومت کرتے رہے۔ یہ ملوکیت کی حمایت میں ایک نہایت بھیانک اور سنگین مذاق ہے۔
ایک "فرد واحد" کی حکومت صرف اپنی "ذاتی خوہشات کی پیروی " میں صرف ہوتی ہے ۔ عدل و انصاف و مساوات سے اس کا دور دور تک تعلق نہیں ہوتا۔ ملائیت اس "فرد واحد" کو مکمل طور پر سپورٹ‌کرتی ہے تاکہ "ملائیت" خود بناء‌کچھ کئے "عوام کی دولت"‌پر اپنا تصرف رکھے۔

جبکہ ایک نبی "فرد واحد " ضرور ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ اللہ تعالی کے احکام شامل ہوتے ہیں، عدل و انصاف و مساوات کا علمبردار اور یہ نبی اللہ تعالی سے کئے ہوے بھاری وعدے کا پاس رکھتا ہے۔ یہ "ملک" (بادشاہ) کبھی "عوام کی دولت " پر اپنا ذاتی تصرف نہیں رکھتا۔ اور اس کے گرد کوئی ملاء (مذہبی سیاستدان)‌نہیں ہوتا۔ عموماً مذہبی سیاستدان ، ایک نبی کی وفات کے بعد پیدا ہوتے ہیں‌۔ جو اس کے مذہب سے سیاسی فائیدہ اٹھاتے ہیں۔ خود بادشاہ گر بن جاتے ہیں۔ اور بادشاہ کو ایک "کٹھ پتلی "‌ کی طرح عوام کی سرکوبی اور اپنے اتباع کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

یورپ میں ملائیت ، پاپائیت کے نام سے جانی جاتی ہے۔ ایک بار پھر ملائیت یا مولویت کا تعلق علماء سے نہیں بلکہ مذہبی سیاستدانوں سے ہے۔

ابھی اتنا ہی ۔ باقی تبصرات کے بعد۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 16-07-10 at 07:26 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (16-07-10), مرزا عامر (16-07-10), حیدر (16-07-10)
جواب

Tags
ہندو, فروخت, پیارے, پوسٹ, پاکستان, پسند, قرآنی, لڑکی, مکمل, موت, موجودہ, متوقع, معذرت, آج, اکبر, انسان, امیر, اسلامی, بھائی, تعلیم, خان, دوست, طالبان, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ریمنڈ کے معاملہ پر سفارتی برادری امریکا کی حمایت نہیں کررہی گلاب خان خبریں 2 14-02-11 10:56 AM
بھارتی وفد کی مقبوضہ کشمیر آمد،حریت رہنماﺅں کا ملنے سے انکار،وادی میں کرفیو جاری جاویداسد خبریں 0 20-09-10 05:58 PM
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت ۔3کشیمری شہید جاویداسد خبریں 0 07-07-10 07:03 PM
ق لیگ کے اہم رہنماؤں کی ڈاکٹر قدیر سے ملاقات، حمایت پر کچھ رعایتیں مل سکتی ہیں خرم شہزاد خرم خبریں 0 17-12-07 09:36 AM
ڈرا کیلئے نہیں صرف جیت کیلئے میدان میں اتریں گے،یونس خان،کپتانی سے بھاگتا ہوں یہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتی خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 08-12-07 09:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger