واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش،میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-05-09, 08:54 PM  
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,571
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,621 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش،میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

ایسی ہستی کے بارے میں جو احترام و ادب،محبت و عشق اور جنوں کی حدوں کو پہنچی ہو اسکے بارے میں کچھ لکھنے کےلئے الفاظ ڈھونڈنا اور پھر استعمال کرنا بہت مشکل کام ہے
ماں کے لئے لکھنے بیٹھا تو بہت دیر تلک ایک جملہ ہی نہ بن پایا یہی سوچتا رہا کہ کہاں سے شروع کروں اور کہاں ختم پھر جو ذہن میں آتا گیا اسے تحریر کرتا چلا گیا دل بہت بوجھل ہو گیا اور آنکھ بھر آئی کیونکہ ماں ہی وہ ٹھنڈی چھاں ہے جس کے شفیق اور مہربان سائے تلے آکر اسیا لگتا ہے جیسے تپتی دوپہر میں سایہ مل گیا ہو اور ماں کی دعائیں ہی انسان کو کامیاب بناتی ہیں
سب مائیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور ان کی دعائیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں گھر کی دہلیز کے ادنر قدم رکھتے ہوئے ٹھنڈک اور طمانیت کا احساس ماں کے وجود سے ہی ہوتا ہے اسی لئے ماں سے توٹ کر محبت کرنے والے کہتے ہیں کہ
”ماں کی دعا ،جنت کی ہوا“
ہر انسان کی کامرانیوں کے پیچھے انکی ماں کی طاقتور دعائیں ہوتی ہیں کیونکہ ماں کی گود اور اس کا فیضان و طمانیت کی بانہوں میں سمیٹے رکھتا ہے ،
ماں کی شان کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ دو جہانوں کے رب نے ماں کو اس معراج تک پہنچایا کہ جنت اس کے قدموں تلے رکھ دیاور نبی کریم(ص) نے فرمایا کہ
”ماں باپ کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالنا ایک حج اکبر کے برابر ہے،جتنی بار ماں باپ کے چہرے کی جانب دیکھو سمجھو تم نے اتنی بار حج ادا کیا“
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ
”ماں کی‌کوشنودی دنیا میں باعث دولت اور آخرت میں باعث نجات ہے“
ماں ایک ایسا پختہ مقدس اور دائمی رشتہ ہے جس سے بڑا تعلق پوری دنیا میں نہیں کیونکہ ماں
شفقتوں،محبتوں،ٹھنڈکوں،بہا روں،خوشبوئوں،اور راحتوں کا استعمارہ ،راہنمائی و روشنی کی علامت ہے
چند روز قبل عالمی یوم ماں نہایت جذباتی انداز میں منایا گیا تھا
ہر گھر چونکہ ماں کی محبت و شفقت بے پایاں سے معمور ہوتا ہے اس لئے تقریبا ہر گھر میں اولاد اپنی والدہ ماجدہ سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے اور جن کیمائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں ان مسلمانوں کےلئے اللہ تعالی نے یہ عظیم نعمت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے آگے گئے ہوئے پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے ایصال‌ ثواب کر کے ان پر جنت الفردوس کے دروازے کھل جانے کا سبب بن سکتے ہیں ،کہتے ہیں مسلمان نیک اولاد اسی لئے مانگتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں وفات پا جانے والے والدین اور دیگر پیاروں کی بخشش و مغفرت کےلئے دعا کر سکیں
یہ احساس ہی اولاد کو کرب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اس کےلئے شب و روز دعائیں مانگنے والی ہستی خاک نشین ہو چکی ہے اس کی آمد کی منتظر نگاہیں ہمیشہ ہمیشہ کےلئے بندہو چکی ہیں (دوستوں یہاں میں اپنے ایک دوست کے الفاظ ایڈ کرتا ہوں جو اخبار فروش یونین کا جزل سیکرٹری ہے جس کی والدہ محترمہ کی آج صبح پہلی سالانہ برسی تھی)
جب بھی کسی ماں کی دنیا سے رخصت ہونے کی خبر سنتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کیونکہ رحمتوں ،برکتوں اور دعائوں کی یہ آغوش ایک سال قبل ہم سے چھن گئی تھی ماں جی کے دنیا سے منہ موڑ جانے کے بعدمجھے اپنا دل و دماغ ہی نہیں بلکہ اپنا وجود بھی ریزہ ریزہ پوتا محسوس ہوا ایسا لگا کہ دنیا ختم ہو گئی ہے وہ ایسے وقت رخصت ہوئی جب میں پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا بھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس قابل تھا کہ ان کی خدمت کر سکوں،کوئی سوچ سمجھ ہی نہیں تھی لیکن ان کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ جس گھر میں ماں نہیں ہوتی وہ گھر گھر نہیں صرف مکان ہوتا ہے کیونکہ گھر رشتوں سے بنتے ہیں اور رشتوں کی لڑی اس وقت تک ہی جڑی رہتی ہے جب تک سارے رشتوں کو جوڑنے والی ڈور سلامت رہی سارے رشتوں کا اس وقت ہی اندازہ ہوا جب وہ ہم میں نہین تھی وہ بظاہر تو ہم سے دور چلی گئی لیکن ان کی دعائوں کا سلسلہ اسی طرح میرے ساتھ رہا بس یہی افسوس ہے کہ ہم ان کی خدمت نہیں کر سکے ( دوستوں گفتگو اس دوست کی ہے مگر الفاظ کا انتخاب میرا ہے)


دوستوں بہت اچھا لگتا ہے جب ہم کسی کو اپنی ماں کو”ماں جی“والدہ“یا امی جان کہہ کر بلاتے ہیں یا دیکھتے ہیں
اور خدمت کرتے ہوئے دیکھں تو دل باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ ان الفاظ میں جو مٹھاس اور خوبصورتی ہے وہ دوسرے لفظوں میں نہیں لیکن دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی ہے جبکہ میرے نزدیک ماں کی خدمت کرنے،خیال رکھنے اور اسے ہر طرح کا سکون و اطمنیان بہم پہنچانے کا دعوی کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلا شبہ”ہم اپنی ماں کی ایک رات کی خدمت کا قرض ہی نہیں چکا سکتے جب وہ خود گیلے بستر پر سوتی ہے اور ہمیں خشک جگہ پر سلاتی ہے
دوستوں
آئو عہد کریں کہ وہ تمام لوگجن کی ٹھنڈی چھائین موجود ہیں وہ اسکی ٹھنڈک کو اپنی روحوں میں اتاریں اور جن کی مائیں آسودہ خاک ہیں وہ ان سے روحانی فیض حاصل کریں اور یہ دعا کریں کہ
آسمان ان کی لحد پہ شبنم اشفانی کرے
کیونکہ افراتفری اور انتشار کے عالم میں اگر کہیں پناہ ملتی ہے تو وہ‌خدا کی بارگاہ ہے یا ماں کی دعا ہے یہ ماں ہی ہے جس کے دل سے نکلی ہوئی دعا کبھی در نہیں ہوتی اور عرش بریں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماں سے محبت کا اظہار کرنے کےلئے صرف ایک دن کو ہی مخصوص نہیں ہونا چاہیئے بلکہ وقتا فوقتا اس عمل کو جاری رکھنا ہم سب کا فرض ہے کیونکہ ماں جیسی ہستی دوبارہ نہیں ملتی
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جن کی مائیں زندہ ہیں وہ انہیں ان کی خدمت اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ جو اس ہستی سے محروم ہو چکے ہیں انہیں صبر و جمیل عطا فرماتے ہوئے انہیں اپنے نیک اعمال کے ذریعے ثواب پہنچانے کی ہمت فرمائے آمین ثم آمین
نوٹ: دوستوں مذکورہ تحریر میں میرے استاد محترم جناب محمد عظیم اقبال نے میری حوصلہ افزائی فرمائی اور چند ایک مقامات ہر الفاظ کی درستگی کی اور مذکورہ تحریر ایک دوست کی والدہ ماجدہ کی پہلی سالانہ برسی پر لکھی تھی جب وہ ماں کو یاد کر کے راقم کے گلے لگ کر رویا تھا
اور دوستوں میں گناہ گار بندہ ہوں اور اللہ کا خاص کرم ہے کہ جب بھی رخصت پر گھر جاتا ہوں اپنی امی کے قدموں تلے دونوں ہاتھ رکھ کر لیٹ جاتا ہوں اور گفتگو شروع کرتا ہوں اور میں اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا ہوں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں سید انجم شاہ اپنی ماں بنا کچھ بھی نہیں ہوں کچھ بھی نہیں ہوں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی میری ماں کو صحت و تندرستی عطا فرمائے آمین ثم آمین




Last edited by ایس اے نقوی; 02-12-09 at 12:36 PM.
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (09-05-09), ڈاکٹرنور (25-07-09), مرزا محمد فاروق (04-06-09), مزمل فاروق (08-05-09), wajee (25-07-09), ام غزل (09-05-09), اخترحسین (06-09-09), حسنین ایوب (05-09-09), خرم شہزاد خرم (09-05-09), رانا امر (13-05-09), رضی (11-05-09), شاہ جی 90 (01-12-09), طارق راحیل (05-12-09), علی....Ali (04-06-09), عدنان دانی (01-12-09)
کمائي نے ایس اے نقوی کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
01-12-09 شاہ جی 90 ماں کے بارے میں اتنی پیاری تحریر پر ہماری جانب سے 150
پرانا 01-12-09, 11:20 AM   #31
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
میری ماں‌اور دنیا کی سب ماؤں‌ کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔!

YouTube - maa ki shan

YouTube - Rahat Fateh Ali Khan - Maa part 1

YouTube - Rahat Fateh Ali Khan - Maa part 2
دوستو ،
ام غزل بہن نے لنک لگائے
ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ان ویڈیوز کو ڈائریکٹ لگا دیا جائے
تو لیں جناب
ماں کی شان


راحت فتح علی خان کی آواز میں ماں کے لیئے پارٹ ون



راحت فتح علی خان کی آواز میں ماں کے لیئے پارٹ ٹو


Last edited by شاہ جی 90; 01-12-09 at 11:25 AM.
شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-12-09, 11:31 AM   #32
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 97,901
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,790 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور ماں کے نام ہمارے علی نے بھی کچھ کہا ہے
لیجیئے وہ بھی دیکھہ لیجئیے


شاہ جی 90 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 05-12-09, 10:16 PM   #33
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,246
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کل میری ملاقات ایک اداس باپ سے ہو گئی

وہ کس کا باپ تھا کتنوں کا باپ تھا کہاں سے آیا تھا کہاں جارہا تھا یا کہیں جابھی رہا تھا یا نہیں اس کے بارے میں مجھے کچھ علم نہیں میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ وہ پارک کے ایک کونے میں بنچ پر بیٹھا ایک ادا س باپ تھا مجھے دیکھ کر اس نے سراٹھایا اور کہنے لگا،تارڑ صاحب آپ بھی باپ ہیں، میں نے کہا’’ ہاں جی ماشاء اللہ میں تو ایک نانا اور دادا بھی ہوں‘‘ تو وہ ذرا ناراض ہو کر بولا کہ میں نے آپ سے صرف یہ پوچھا ہے کہ کیا آپ ایک باپ ہیں اور آپ جواب دے رہے ہیں کہ میں ایک نانا اور دادا ہوں۔ ۔ ۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا حضرت اگر میں نانا اور دادا ہوں تو ظاہر ہے پہلے باپ ہوا اور پھر اس کے بعد یہ کچھ ہوا۔

’’ اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک باپ ہیں، اس نے سرہلایا کیا آپ خوش ہیںکہ آپ ایک باپ ہیں؟

اب پارک میں سیر کرتے ہوئے طرح طرح کے مختلف اقسام کے لوگوں سے ملاقات ہوتی رہتی ہے ان میں سے کچھ حواس باختہ بھی ہوتے ہیں تو یہ شخص شائد ان میں سے ایک ہے اور اسے ذرا احتیاط سے ہینڈل کرنا چاہیے جی میں بالکل خوش ہوں کہ میں ایک باپ ہوں‘‘

’’لیکن میں خوش نہیں ہوں میں ایک اداس اور رنجیدہ باپ ہوں، مجھے نہ صرف اپنے بچوں سے بلکہ اس پورے معاشرے سے شکایت ہے کہ یہ باپوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا ہر جانب صرف ماؤں کی تعریفیں ہوتی ہیں ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں یہ بچے یہ نہیں سوچتے کہ اگر ہم باپ نہ ہوتے تو وہ بھی نہ ہوتے اور یہ ساری سازش ماؤں کی ہے جو اولاد کے کان بھرتی رہتی ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہیں جنم دیا پھر راتوں کو جاگ جاگ کر تمہیں پالا، تمہیں طرح طرح کے پکوان بنا کر کھلائے وغیرہ وغیرہ اب کوئی پوچھے کہ بھلا یہ سب کچھ ممکن تھا اگر باپ دن رات مشقت کر کے رزق کما کر گھر نہ لاتا بیمار ہو جائے تب بھی آرام نہیں کرتا کہ اس کے ذہن میں سکولوں کی فیسیں، یونیفارم، بسوں کے کرائے اور بچوں کے جیب خرچ چل رہے ہوتے ہیں اور اس کے باوجود ہر جانب ماں ماں ہو رہی ہوتی ہے یقین کیجئے میں نے اپنے بڑے بیٹے کو واقعی راتوں کو جاگ جاگ کر پالا ہے اسے ہمیشہ ساتھ سلاتا تھا اور دودھ گرم کر کے پلاتا تھا۔ اور اس کے پوتڑے دھوتا تھا اور اس کے باوجود وہ الو کا کان بڑا ہواہے تو وہ بھی ماں
ماں پکارتا ہے کبھی باہر سے فون کرتا ہے تو کہے گا ہیلو ابو کیا حال ہے اس سے بیشتر کہ میں اپنا حال بتاؤں وہ فوراً فرمائش کردے گا کہ ذرا امی سے توبات کروادیں اور پھر ایک ایک گھنٹہ اس سے باتیں کرتا رہتا ہے۔

ماں سے محبت تو ایک قدرتی بات ہے جناب‘‘ میں نے اسے ڈھارس دی۔’’تو کیا باپ سے محبت کرنا غیر قدرتی ہے؟ اب یہ جو چاروں طرف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ماں کے قدموں میں جنت ہے تو یہ بھی ماؤں کی سازش ہے، ابھی پچھلے دنوں بیوی کے ساتھ میرا چھوٹا سا جھگڑا ہوگیا جب کہ بڑا بیٹا بھی وہاں موجود تھازیادتی سراسر بیوی کی تھی اور وہ قدرے بدتمیز بھی ہو رہی تھی تو میں نے پورا کیس بیٹے کے سامنے رکھ دیا کہ تم فیصلہ کرو اس نے کان کھجا کر کہا کہ ہاں غلطی تو امی کی ہے یہ سن کر امی نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا تو بیٹے نے فوراً کہا غلطی تو امی کی تھی لیکن آپ کا لہجہ بہت سخت تھا ذرا دھیما بولتے تو کیا حرج تھی آئندہ احتیاط کیجئے گا یہ میری پیاری امی ہیں اس پر پیاری امی نے فرزند ارجمند کو گلے لگا کر خوب پیار کیا اور وہ دونوں میرے جانب یوں دیکھنے لگے جیسے میں ہی مجرم ہوں دنیا کا سب سے برا شخص ہوں۔ ۔ ۔
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
کمائي نے طارق راحیل کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
06-12-09 شاہ جی 90 اگر باپ دن رات مشقت کر کے رزق کما کر گھر نہ لاتا بیمار ہو جائے تب بھی آرام نہیں کرتا کہ اس کے ذہن میں سکولوں کی فیسیں، یونیفارم، بسوں کے کرائے ا 50
جواب

Tags
فرض, پیاروں, پاک, قدم, لوگ, ماں, معذرت, معراج, آج, اللہ, بھائی, تحریر, جواب, خواتین, خوش, دیکھو, دعا, زندگی, سال, عشق, غم, غزل, صاحبہ, صحت, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حضرت نوح کی کشتی میں 16 ہزار اقسام کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار تھا وجدان دلچسپ اور عجیب 26 21-09-11 01:25 PM
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
پرسنل کمپیوٹر ٹیکنالوجیز میں جدید ترین تھرڈ جنریشن کا انٹل وی پرو سوئیٹ متعارف ابن جلال کمپیوٹر کی باتیں 2 25-09-08 12:10 AM
نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 08:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:40 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger