واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


فاروق سرور خان کی خدمت میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-09, 11:34 AM  
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فاروق سرور خان کی خدمت میں

فاروق بھائی یہ مضمون زرا تعصب کی عینک اتار کے پڑھیے گا شاید آپکی کچھ تشفی ہو سکے؎

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟

بولتے حقائق مجرم کون مسٹریاملا؟ الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
کچھ عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور دنیا کو ا ن سے متنفر کرنے کے لئے باقاعدہ مہم اور منصوبے کے تحت مختلف ہتھگنڈے اور حربے استعمال کئے جارہے ہیں ۔
چونکہ اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے علماء ،دینی مدارس اور ان میں پڑھنے والے طلباء ہیں، اس لئے اسلام او ر مسلمانوں کو براہ راست نشانہ بنانے کے بجائے مدارس ،طلباء اور علماء کرام پر طعن و تشنیع کے نشتر برسائے جاتے ہیں، انہیں منہ بھر کرگالیاں دی جاتی ہیں اوران کو دنیا جہاں کی تمام برائیوں اورشرارتوں کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔
چنانچہ کبھی انہیں ملک دشمن کہا جاتا ہے تو کبھی امن امان کا مخالف ،کبھی انہیں ملکی ترقی کی راہ میں حارج قرار دیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گرد ،کبھی انہیں فسادی کہا جاتا ہے تو کبھی شرارتی، کبھی انہیں تشدد پسند کہا جاتا ہے تو کبھی ملک اور قوم کے باغی۔غرض اس وقت طعن و تشنیع اور توہین و تضحیک کی تمام توپوں کا رخ ملا،مولوی،دینی مدارس اورطالبان (طلبہ )کی طرف ہے ،دوسری طرف یہ مظلوم، بھری دنیا میں بے یارو مددگاراکیلے مخالفت کی بادِ سموم کے تھپیڑے برداشت کرنے اورہرقسم کی تنقید وتنقیص سننے او ر سہنے کے لئے موجود ہیں ۔
صرف یہی نہیں!بلکہ اب تو نوبت بایں جا رسید کہ قریب قریب پوری قوم کوذہنی طور پر اس کے لئے تیار کر لیا گیا ہے کہ اگر ملکی سلامتی اور امن و امان در کا ر ہے توان” شرارتیوں“ سے جان چھڑانی ہوگی اور ان کے خلاف منظم جد جہد کرنی ہوگی ، چنانچہ اس ناپاک منصوبہ کو پروان چڑھا نے کے لئے کسی مسجد ،مدرسہ اور علمی مرکز پر بمباری کرکے ان معصوموں کو خاک و خون میں تڑپایا جاتاہے اوراس کے بعد بیان جاری کردیاجاتاہے کہ:” اس جگہ مظلوم انسانوں کو ذبح کیا جاتا تھا، یا یہا ں جہادی تربیت کا مرکز اور اسلحہ کا ذخیرہ تھاوغیرہ وغیرہ۔“
اسی طرح کہیں دھماکا کرکے یہ کہا نی گھڑ لی جاتی ہے کہ:” یہ طالبان کا اڈہ تھا اور یہاں بارود کا ذخیرہ تھا جوقبل از وقت پھٹ گیا“چنانچہ میاں چنوں کے ماسٹرریاض کے مکان میں بم دھماکہ کو مدرسہ میں دھماکہ قرار دینا،اس کاواضح ثبوت ہے ،جب کہ اس کے برعکس وفاق المدارس کی قیادت چلاچلاکرکہہ رہی ہے کہ یہ سب کچھ مدارس کوبدنام کرنے کی سازش ہے،چنانچہ وفاق المدارس کے اکابر کی مبنی بر حقیقت وضاحت ملاحظہ ہو:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) میاں چنوں کے جس مکان میں دھماکہ ہو ا وہ کوئی مدرسہ نہیں،بلکہ حاضر سروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا مکان تھا۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعے کا ملبہ مدارس پر ڈال کر درسگاہوں کو بدنام کیا جارہا ہے جو افسوس ناک ہے ۔میڈیا اس سازش کو ناکام بنائے ۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے علماء و مشائخ کے ایک نمائندہ وفد نے دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث حضرت مولانا حامد حسن کی سربراہی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مرکز کو اطلاع دی کہ اس واقعے کو سراسر غلط رپورٹ کیا گیا، وہا ں کوئی مدرسہ نہیں، بلکہ ایک حاضرسروس اسکول ٹیچر ماسٹر ریاض کا گھر تھا، جس میں اس کی بہن محلے کے چند بچوں کو پڑھایا کرتی تھی۔ اس سے قبل اس اسکول ٹیچر کی مشکوک سرگرمیوں کی پولیس کو اطلاع دی گئی، وہ گرفتار بھی ہوا، لیکن پولیس نے پیسے لیکر چھوڑ دیا۔ وفاق المدا رس العربیہ پاکستان کے راہنما مولانا سلیم اللہ خان ، قاری محمد حنیف جالندھری ، مفتی محمد رفیع عثمانی ،ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مدارس کو بد نام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔“ (روزنامہ جنگ کراچی۔۱۵جولائی ۲۰۰۹ء)
اسی طرح ڈیرہ غازیخان کی ایک خالی حویلی پر راتوں رات مدرسہ کا بورڈ لگانا اور رات کی تاریکی کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس میں اسلحہ رکھنے کے بعد اس پر” چھاپہ“ مار کراس سے اسلحہ کی برآمدگی کی خبر بھی مدارس کوبدنام کرنے اوران کے خلاف باقاعدہ سازش کے مترادف ہے، لیجیے! اس سلسلہ کی صحیح صورت حال بھی ملاحظہ فرمائیے:
”اسلام آباد(ثناء نیوز) وفاق المدار س العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جرنل اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ترجمان قاری محمد حنیف جالندہری نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کی ایک ویران حویلی سے اسلحہ برآمد کرکے اسے مدرسہ قرار دیکر جنوبی پنچاب اور مدارس کے خلاف آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،انہوں نے مدرسہ سے اسلحہ برآمدگی کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا،مدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری کی ہدایت پر گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں وفاق المدارس کے نمائندے مفتی خالد محمود کی قیادت میں مبینہ مدرسہ کا دورہ کیاگیا، جہاں سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وفد کی جانب سے وفاق المدار س العربیہ کے ذمہ داران کو بھجوائی گئی رپورٹ کے مطابق جس مقام سے اسلحہ برآمد کیا گیا، وہاں ایک ویران حویلی ہے ،باقاعدہ کوئی مدرسہ نہیں، نہ وہاں کوئی طلباء زیر تعلیم ہیں، بلکہ ایک ویران جگہ ہے“ (روزنامہ جنگ کراچی،۱۳ جولائی ۲۰۰۹ء) ایسے حالات میں جبکہ ہر طرف ان بے یارومددگارمظلوموں اورمسکینوں کے خلاف چڑھائی اور حملہ کابگل بجایاجارہا ہے، کچھ حقیقت بین ایسے بھی ہیں جو حقائق سے پردہ اُٹھانے سے نہیں ہچکچاتے،چنانچہ ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے ملا، مولوی اور طالبان نہیں کہلا سکتا ، اس کی شہادت قابل قبول ہونی چاہیے۔
لیجئے! روزنامہ امت کے کالم نگار ریٹائرڈ لفٹنٹ کر نل جناب عادل اختر کی چشم کشااور حقائق آشنا تحریر پڑھیے اور فیصلہ فرمائیے کہ”مجر م کون،ملا یا مسٹر“۔” ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی“کے مصداق اس پر ہم کسی قسم کا کوئی اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے،چنانچہ موصوف تحریر فرماتے ہیں:
”۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کی صبح ناشاد تھی ۔ مقام ڈھاکہ کا میدان جنگ ۔ ناظر یہ راقم کمترین۔( اس وقت ایک لفٹین) آسمان سے آگ برس رہی تھی… اور زمین سے خون کے چشمے ابل رہے تھے کہ اچانک بڑی کمانڈ پوسٹ سے ایک حیران کن آرڈر آیا ” ہندوستانی جہازوں پر فائرنگ نہ کی جائے“ اس کے بعد کنفیوز کردینے والے احکامات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ دوپہر تک ساری رجمنٹ کو ایک مرکزی مقام پر جمع ہو نے کا آرڈر آگیا ، کسی کو کچھ معلوم نہ تھا ،کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ہونے والا ہے،ہرطرف ایک کنفیوژن کا عالم تھا۔ جلد ہی صبح ناشاد، شام غم میں بدل گئی۔
اس واقعے کو چالیس برس ہو نے کو آئے ،گو حکمرانوں کا سرپُر غرور خاک میں مل گیا ، پر ر عونت وہی باقی ہے اور عوام میں بھی کنفیوژن کا وہی عالم ہے،صوبے،صوبوں سے دست و گریباں ہیں ،طبقے ،طبقوں سے نالاں ہیں، ہر طبقہ پاکستان کی بربادی کا ذمہ دار دوسرے طبقے کو ٹھہرارہا ہے۔(کم ظرفوں میں ایسا ہی ہو تا ہے ) ملک میں پانی ہے نہ پیٹرول ،البتہ گرانی اور سرگردانی ہیں کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہیں۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے،سیاستدان ؟ فوجی حکمران؟ یا بیورو کریٹ؟ یا اجتماعی شعور و بصیرت کی کمی؟۔
اس افراتفری اور شور قیامت میں ایک طبقہ ملک کی ناکامی کی ذمہ داری ملاوٴں پر ڈال رہا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں ایک دن بھی ملاوٴں کی حکومت نہیں رہی ۔دس گیارہ برس ایک نیم ملا فوجی ڈکٹیٹر ضرور ملک پر قابض رہا ، اس ڈکٹیٹر کے آنے یا جانے میں ملاوٴں کا کوئی دخل نہیں تھا، اس لئے اسے ملاوٴں کی حکومت نہیں کہا جاسکتا ،اس کے علاوہ پاپائیت کی مانند ، اسلام میں ملائیت نام کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ نہ کبھی سارے ملا، مولوی، کسی مسئلے پر متفق ہوئے ہیں۔ فکری مسائل پر ہر طبقے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور یہ عین فطری بات ہے۔
برصغیر کے ملاوٴں پر ایک سنگین الزام یہ ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، آج ان ملاوٴں کا دفاع غداری کے زمرے میں آسکتا ہے، اور ہاتھوں کے علاوہ سر بھی قلم ہو سکتا ہے، بہرحال اس وقت کے ملاوٴں کا موٴقف اصولی تھا، وہ کہتے تھی: آپ تو کشور حسین میں بیٹھ کر عیش کریں گے، جو کروڑوں مظلوم و مردود مسلمان بھارت میں رہ جائیں گے ،ان کا ولی وارث کون ہو گا؟ وہ تاقیامت بے بسی کی دلدل میں اترتے چلے جائیں گے۔ ان کی زندگی میں کبھی صبح امید نہیں آئے گی،ان ملا وٴں کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ تحریک پاکستان میں شامل ہو جانے والے ہزاروں کھوٹے سکے ناقابل اعتبار ہیں ، ان سکوں سے خیر کی کوئی امید نہیں، یہی ہوا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان کی وفات کے بعد انہوں نے کھل کھیلنا شروع کردیا ، ملک میں سازشیں اور چھینا جھپٹی شروع ہو گئی، اول تو ملک میںآ ئین بننے نہیں دیا گیا اور جب آئین بن گیا تو اسے جلد ہی قتل کردیا گیا، جو لوگ حکمران بنے، وہ نہ تو اللہ کا قانون( قرآن) ماننے کے روادار تھے نہ انسان کابنایاہواقانون (آئین)ماننے کے لئے تیار تھے ، ان طالع آزماوٴں کی حماقتوں کے نتیجے میں قائد اعظم کا پاکستان دو نیم ہوگیا ، لاکھوں انسان قتل ہو ئے، کروڑوں بے گھر اور ایک لاکھ افراد دشمن کی قید میں چلے گئے ، قائد اعظم کی روح پر قیامت گزر گئی ہو گی۔کمروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنے والے دانشور اس کرب کا ،اس ذلت و اذیت کا احساس ہی نہیں کرسکتے ، جو اس آگ کے دریا سے گزرنے والوں پر بیت گئی۔
ملاوٴں پر الزام ہے کہ وہ ہمیشہ ظالم حاکم کی حمایت کرتے ہیں، عرض ہے کہ ملاوٴں نے حاکموں کی حمایت اپنی انفرادی حیثیت میں کی ہے ،بہ حیثیت جماعت یا ادارے کے ملا وٴں نے کبھی کسی حاکم کی حمایت نہیں کی، ہزاروں ملا ظالم حکمرانوں کے درباروں میں چٹان کی طرح باوقار انداز سے کھڑے رہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ،امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ، مجدد الف ثانی رحمہ اللہ …مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمہ اللہ،حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ،حاجی امداداللہ مہاجرمکی رحمہ اللہ،شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ،اور شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ،مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ، امیرشریعت مولاناسیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ․․․․․ناقل۔ کا سر ہمیشہ بلند اور سخن دلنواز رہا ۔
پاکستان میں حاکموں کی حمایت کرنے والوں میں جاگیر دار، جج، جرنیل، جرنلسٹ، اساتذہ کرام ، تاجر ، دانشور ہمیشہ پیش پیش رہے اور ظل الہٰی سے اس کا پورا پورا معاوضہ وصول کرتے رہے ،آج انصاف اور سائینٹیفک تحقیق کا تقاضا ہے کہ ملک کے پانچ دس ہزار روٴسائے اعظم کی فہرست بنائی جائے اور دیکھا جائے اس میں ملا کتنے ہیں ؟اور مسٹر کتنے ؟اگر یہ مشکل ہو تو چک شہزاد میں عطاء کئے جانے والے ۴۹۹ فارم ہاوٴسوں کے مالکان کے نام جو اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں، دیکھ لئے جائیں کہ ان میں ملا کتنے ؟اور مسٹر کتنے ہیں؟ عوام کو بتایا جائے، ملا مودودی نے کس قدرجائیداد چھوڑی اور پرویز مشرف نے کس قدر دولت بٹوری۔ (دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں دہلی کے رہنے والے تھے)…
تحقیق اور انصاف سے دلچسپی رکھنے والوں سے التماس ہے کہ وہ کچھ مشہور ملاوٴں: مثلاََ حسرت موہانی، ابو الکلام آزاد، حسین احمد مدنی ،حسین احمد قاضی،حافظ حسین احمد، احمدعلی لاہوری ،سرفراز احمد نعیمی …اگر اس کے ساتھ ساتھ مفتی کفایت اللہ،مولانامحمود حسن دیوبندی ،مولانامحمدقاسم نانوتوی،مولاناغلام غوث ہزاروی،مولانامفتی محمود،مولانامحمدعبداللہ درخواستی ،مولانامحمدبہلوی،مولاناسی د محمدانورشاہ کشمیری،مولاناخلیفہ غلام محمد دین پوری،مولاناسیدمحمدیوسف بنوری، شیخ الاسلام مولاناشبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ،مولاناظفر احمدعثمانی رحمہم اللہ وغیرہ کے نام بھی شامل کردیے جائیں تونامناسب نہ ہوگا․․․․ناقل ۔کی دولت و جائیداد کی تفصیلات حاصل کریں اور پرویز مشرف اور موجودہ حکومتی و سیاسی رہنماوٴں کی دولت سے موازنہ کریں، پھر انصاف سے بتائیں کہ پاکستان پر حکومت کس نے کی؟ دولت کس نے بٹوری؟۔
ملاوٴں پر ایک الزام اور بھی ہے کہ ان کا پسندیدہ نظام ملوکیت ہے اور وہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔(کیا اقتدار پر قبضے کی کوششیں جنرلز نہیں کرتے؟)عرض یہ ہے کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی نظام کی حمایت یا مخالفت کرسکتا ہے ، اس وقت ہندوستان اور پاکستان میں جس قدر مذہبی پارٹیاں سیاست میں حصہ لے رہی ہیں، وہ ملک کے آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں اور جمہوریت کی حامی ہیں(ورنہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہ ملتی) پاکستان کی کسی مذہبی جماعت نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی ،پر امن مقاصد سے اپنے مشن اور مقصد کا حصول ہر سیاسی پارٹی کا آئینی حق ہے۔ کوئی جرم نہیں ۔ البتہ غیر ملا پارٹیوں میں نہ کبھی الیکشن ہو تے ہیں، نہ فنڈز کا حساب رکھا جاتا ہے۔ برصغیر میں باہر سے آنے والی قوموں نے اقتدار اور اختیار پر قبضہ کرکے یہاں کے رہنے والی قدیم اور پسماندہ اقوام کا استحصال کیا ،آریا ، مغل ،عرب، ترک ، ایرانی اور انگریز… آج بھی پاکستان پر ایک استحصالی طبقہ قابض ہے، ضرورت پڑنے پر یہ لوگ فوراََ چولا بدل لیتے ہیں ، ان کا کوئی دین و مذہب نہیں ، اس طبقے کے لوگ ہر نظام کے خلاف ہیں، اسلام ، کمیونزم ،سوشلزم، سیکولرازم…
کیونکہ دنیا کے تمام مذاہب اور تمام نظام ، استحصال کے خلاف ہیں، کسی بھی نظام کی کامیابی کی صورت میں استحصالی ٹولے کی لوٹ مار کا خاتمہ ہو جائے گا، اس طبقے کی ظلم وستم کی داستانیں کبھی کبھار اخباروں میں چھپ جاتی ہیں، ورنہ عام طور پر عوام کی نظروں سے چُھپی رہتی ہیں۔ ان طبقات کی داستانیں پڑھ کر حیرت ہو تی ہے کہ انسان کس قدر گرسکتا ہے؟
پاکستان میں اس طبقے کے بنائے ہوئے عالیشان محلات دیکھ لیجئے ، ہر محل ایک قلعہ ہے، باہر لوہے کا جنگلہ ،اندر جنگلی کتے غرارہے ہیں ،مسلح چوکیدار گشت کررہے ہیں، سیکورٹی کیمرے نصب ہیں ،فرار ہونے کے لئے ہیلی پیڈ ہیں اورڈوب مرنے کے لئے سو ئمنگ پول۔
اخباری قیاس آرائیوں کے مطابق اس طبقے کے پاس ناجائز ذرائع سے جمع کئے ہوئے بارہ ہزار ارب روپے موجود ہیں، اتنے روپے حکومت کے پاس بھی نہیں ہیں ،اس رقم کو بینک کی اصطلاح میں کالا دھن کہتے ہیں، بیرون ممالک ان لوگوں کے پاس ساٹھ ستر ارب ڈالرز کے اثاثے موجود ہیں، اس طبقے کی عیاشیوں کی داستانوں پر عام طورپر پردہ پڑا رہتا ہے، بیرون ممالک جا کر بہتریں مہنگے ترین ہو ٹلوں میں قیام و طعام، مہنگے ترین اسٹوروں میں شاپنگ ، جوئے خانوں، نائٹ کلب اور عیاشی کے اڈوں پر ”حاضری “کبھی کبھار تیز ہوا چلتی ہے تو کچھ دیر کے لئے پردہ ہٹ جاتا ہے اور ان کے کالے کرتوت نظر آجاتے ہیں ،جو لوگ حق اور سچ کے متلا شی ہیں وہ تحقیق کرکے دیکھ لیں،ان لوگوں میں ملا کتنے ہیں، مسٹر کتنے؟ نوٹ:اس مضمون میں علماء کرام کی جگہ ملا کا لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا گیاہے، کیونکہ جو حضرات اسلام کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا کرتے ہوئے مصلحتاََ علماء کرام یا اسلام کی جگہ لفظ ملا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اس میں حقارت کا عنصر شامل ہو تا ہے۔
کچھ دانشور ملا کو ملعون و مطعون قرار دے کر مسرت محسوس کرتے ہیں ،ملا اپنے دفاع میں اور کیا کہہ سکتے ہیں، سوائے اس کے کہ :
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات انہیں بہت گراں گزری ہے
جب تک ملا وٴں کی جان میں جان باقی ہے، یہ تزئین درو بام کرتے رہیں گے،حق پسند قاری خود دیکھ لیں، ملا کے پاس کتنا مال ہے؟ اور غیر ملاوٴں کے پاس کس قدر؟
ملا وٴں کی سب سے اچھی خدمت یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے ملک میں میرٹ
اور انصاف کی حکومت ہو۔“(روزنامہ امت کراچی،۱۶جولائی ۲۰۰۹ء)
مکررعرض ہے کہ یہ تحریر کسی ملا،مولوی، یاکسی دینی مدرسہ کے پڑھے لکھے” تنگ نظر“ کی نہیں، بلکہ یہ ایک ریٹائرڈ فوجی کی آپ بیتی ہے جو۱۹۷۱ء کی جنگ میں خود شریک تھااوراس نے وہ سارامنظر بچشم خوددیکھا،جس کے دیکھنے اورسننے کی ہما رے” بڑے“ بھی تاب لانے سے قاصر ہیں۔
ہاں!ہاں یہ تحریرایک غیرجانبدار تجزیہ نگاری ہے ،جویقینا مسجد،مدرسہ،ملا،مولوی اور دین دار طبقہ کے مخالفین کے خلاف حجت قاطعہ ہے۔خداکرے کہ اس کے ذریعے ہمارے معصوم قارئین کے دل ودماغ میں ڈالی گئی غلط فہمیاں دورہوجائیں۔ اور وہ اس بین الاقوامی سازش کاادراک کرسکیں۔واللّٰہ یقول الحق وھو یہدی السبیل
وصلی اللّٰہ تعالی علی خیرخلقہ سیدنامحمد وآلہ واصحابہ اجمعین


مولانا سعید احمد جلال پوری (ماہنامہ '''بینات'' اگست 2009ءکراچی ؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (08-10-09), اخترحسین (12-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), طاھر (08-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عادل سہیل (12-10-09), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 12-10-09, 10:52 AM   #16
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترم فاروق سرور بھا ئی احباب کی پریشانی دور فرما دیجئے جناب؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎؎
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا
اخترحسین (12-10-09), حیدر (12-10-09), عادل سہیل (13-10-09)
پرانا 12-10-09, 01:42 PM   #17
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس میں کوئی قابل ذکر معاملہ نہیں ہے ، لہذا کس بات کا جواب دوں

اس بات کا کہ ملا کے پاس پیسہ نہیں ہے جبکہ اللہ تعالی دولت کو حب اللہ کے لئے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اس بات کا کہ ملا کو اقتدار کی ہوس نہیں ہے جبکہ ایران کی ملا سپریم کونسل اسی اقتدار کی بھوکی ہے، سعوی مفتی کنگ میکر ہے۔ پاکستانی ملاء روز کرازی سے خیبر تک بم کا دھماکہ کرتا ہے


کہ ملا ایک نیک انسان ہے جبکہ اللہ کی تعلیمات کو بگاڑنے کے لئے اللہ کی کتاب کی تردید کرنے والی کتب کے ڈھیر میں چھپا بیٹھا ہے؟

کہ ملا پردہ کے نام پر خواتین کا استحصال کرتا ہے ۔

فرمائیے؟ آج مسلمانوں کی عزت ساری دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ یا تو اسی ملا کی کتب پڑھ لو، اس کے فتاوی سن لو یا پھر کسی یکجائی سے اب عہد غلامی کرلو، ملت احمد مرسل کو مقامی کرلو۔ رسول اکرم کی پیش کی ہوئی کتاب قرآن حکیم پر صدق دل سے ایمان لے آئیے اور سنت رسول کو قرآن کی روشنی میں دیکھئے ۔ آپ کو سب جواب انشاء اللہ اسی کتاب میں مل جائیں گے ۔ پھر آپ مجھ جیسے معمولی طالب علم سے نہیں پوچھیں گے

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 12-10-09 at 11:43 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 13-10-09, 02:39 AM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی اب آپ کو اپنا اندازء فرار تبدیل کر لینا چاہیے ،
بھائی میرے اگر کسی کے صاف سیدہے سوالات بھی سمجھ نہیں آتے یا ان کے بھی جوابات نہیں آتے تو اس طرح بحث میں شامل ہی نہ ہوا کیجیے ،
ایرانی اور سعودی """ ملاؤں """ کی بات پھر کبھی سہی ، ان شاء اللہ ،
مشترکہ """ ملاؤں """ کی بات کرتے ہیں ،
اللہ کی کتاب کی تردید کرنے والی کونسی کتابیں ہیں جن کے ڈھیر میں ""' ملاں """ چھپے بیٹھا ہیں ،
اور اللہ کی کتاب کی """ تائید """ کرنے والی """مسٹرز""" کی وہ کونسی کتابیں ہیں جن کے گمراہ کن فلسفوں کا ان کے پیروکار شکار ہو چکے ہیں اور اس گمراہی کو مزید پھیلا رہے ہیں ،
وہ """ مسٹرز """ جو اپنے زعم میں """ مفکرء اسلام """ ، """' مدبرء قران """ قسم کی شخصیت بنے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں انہیں قران کریم کی چند آیات کا معنی اورمفہوم تک معلوم نہیں ہوتا ، اپنے فلسفوں کی روشنی میں اللہ کا کلام تک بدلنے کی کوشش میں گم رہتے ہیں ،
""" ملاء """ عورت کو پردے کی تلقین کر کے اس کا استحصال کر رہا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
یا """" مسٹر """" عورت کو پردے سے نکال کر اپنی ہوس رانی کا سامان بنا رہا ہے ، گھر سے باہر ہر جگہ اسے اپنی عورت کے علاوہ عورتیں چاہیں پس پردہ اس کی راہ میں بڑی روکاٹ ہے اور اس پردے کی تلقین کرنے والا """ ملاء """ بہت بڑا دشمن ہے ،

بھائی جی ، دیکھ لیجیے اب آپ نے ایک دفعہ پھر اپنے ایک دعویٰ کی خود ہی تردید کر دی ہے ، آپ نے تو کہا تھا کہ علماء اور امام کو آپ ملاء نہیں کہتے ، کیا سعودی عرب کے مفتی آپ کی نظر میں عُلماء میں شمار نہیں ہوتے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اگر نہیں تو پھر ان شاء اللہ آپ کے علم کو مزید آشکار کرنا ہو گا ،
اور اگر ہاں تو پھر ایسی شخصیت کی بات کا کیا بھروسہ اور ایسی شخصیت کے فہم و دانش کا کیا اعتبارجو خود ہی اپنی بات کی تردید کرے ،
اگر کوئی ""' ملاء """ ایسا کرے تو """ مسٹرز""" بولتے اور لکھتے ہوئے تھکتے نہیں اور اگر خود ایسا کریں تو !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

واللہ یھدی من یشاء ،،،،، والسلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (13-10-09), احمدنواز (13-10-09), حیدر (13-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), عامرشہزاد (13-10-09), عبداللہ حیدر (13-10-09)
پرانا 13-10-09, 02:43 PM   #19
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بجا فرمایا عادل بھائی آپ نے۔ اللہ آپکو حق و سچ کی مزید استقامت اور دور بین نگاہ دے ۔ایسا ذوق نظر دے جو شے کی حقیقت کو پہچان سکے۔آمین
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
احمدنواز (13-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), عادل سہیل (14-10-09), عبداللہ حیدر (13-10-09)
پرانا 13-10-09, 11:30 PM   #20
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اللہ کی کتاب کی تردید کرنے والی کونسی کتابیں ہیں جن کے ڈھیر میں ""' ملاں """ چھپے بیٹھا ہیں ،
۔
وعلیکم السلام

آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے علم میں‌اضافہ کے لئے یہ سوال ایک بار پھر پوچھا۔ حسب دستور آپ کے علم میں اضافہ کے لئے جواب پھر حاضر ہے۔

ملاء کو پہچاننا بہت ہی آسان ہے۔ یہ عموماً بنیادی عبادات کے پردے میں چھپا رہتا ہے اور موقع دیکھ کر اپنے باطل نظریات کا پرچار کرتا ہے۔

1۔ ملاء پوچھتا پھرتا ہے کہ ملاء کون ہوتا ہے۔ 2، ملاء موقع دیکھ کر خلاف قرآن نظریات پروموٹ کرتا ہے۔ ایسے نظریات جن کا دور دور تک قرآن میں سراغ نہیں ملتا بلکہ یہ نظریات قرآن کے مخالف ہوتے ہیں۔ 3۔ ملاء کو وہ کتب پسند ہیں جن میں توہین رسالت، خلاف قرآن اور اللہ تعالی کے فرمان کے عین خلاف روایات موجود ہیں۔ انہی کتب کا وہ سہارا لیتا ہے۔ 4۔ ملاء کا پیشہ ہے کہ رسول اللہ صلعم سے منسوب کرکے محدثین کی کتب میں‌ اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کرنے والی روایات کا پیوند لگاتا ہے۔

آپ اس کو درج ذیل معاملات میں بہت فعال پائیں گے۔
1۔ عورتوں‌ کا استحصال، زور و زبردستی سے ایک ایسے پردے کا نفاذ جو عورتوں کی چور بازاری میں‌ممدد و معاون ثابت ہو۔
2۔ عوام کی دولت کو ایک فرد واحد کی نگرانی میں دینے کا زبردست حامی ہو۔ تاکہ اس فرد واحد کو ملاء کٹھ پتلی بنا کر استعمال کرسکے اپنی کتب روایات سے۔
3۔ اقتدار فرد واحد کو دینے کا حامی ہو۔
4۔ منکر القرآن ہو بلکہ مخالف القرآن ہو۔ ایسی روایات لے کر ائے جو نہ صرف قرآن کے مخالف ہوں بلکہ رسول اکرم کی ہتک بھی کرتی ہوں۔
5۔ نمبر 2 اسلام اس کا شیوہ ہو۔

مثالیں۔
1۔ نظریہ عذاب قبر، جو اللہ تعالی کے فرمان کے خلاف ہے۔
2۔ نا مناسب پردہ کا نظریہ جو کہ اللہ تعالہ کے فرمان کے خلاف ، عورتوں کے معاشرہ میں مقام کو کم کرتا ہے۔
3۔ عیسی علیہ السلام کی قرآن سے ثابت شدہ وفات و موت کو عیسائی نظریہ سے خلاف قرآن ہم آہنگ کرنا
4۔ یہودی نظریات جیسے قانون رجم کا پرچار۔
4۔ اللہ کے فرمان کے خلاف غربت کی تلقین
5۔ اللہ کے فرمان کے خلاف باہمی مشورہ کے نظریہ کی تکفیر
6۔ قرآن کو آخری کتاب ماننے سے انکار۔
7۔ رسول اکرم پر بہتان در بہتان۔

نعوذ باللہ

امید ہے کہ اس سے آپ کو ملاء کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کرنے میں بہت ملے گی۔

کہ ایسے منافق جو سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور پیچھے باطل نظریات کا پرچار کرتے ہیں ملاء کہلاتے ہیں


والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-10-09, 12:36 AM   #21
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
بجا فرمایا عادل بھائی آپ نے۔ اللہ آپکو حق و سچ کی مزید استقامت اور دور بین نگاہ دے ۔ایسا ذوق نظر دے جو شے کی حقیقت کو پہچان سکے۔آمین
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بدر بھائی ، اللہ تعالیٰ آپ کی دعائیں قبول فرمائے اور آپ کو اس سے زیادہ اور بہتر عطا فرمائے جس کی آپ نے میرے لیے دعا کی ، جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
پرانا 14-10-09, 12:55 AM   #22
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام

آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنے علم میں‌اضافہ کے لئے یہ سوال ایک بار پھر پوچھا۔ حسب دستور آپ کے علم میں اضافہ کے لئے جواب پھر حاضر ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ ‌خیرا ، فاروق بھائی ، میں تو ہوں ہی طالب علم ہر وقت طلب علم میں مشغول رہتا ہوں ، و للہ الحمد ،
آپ نے کوشش تو کی میرے بھائی لیکن میرے علم میں کسی بات کا اضافہ نہیں کر سکے ، آپ کی باتیں وہی پرانی رٹی رٹائی ہیں ، بہر حال اس کوشش پر شکریہ ادا کرتا ہوں ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-10-09, 02:12 AM   #23
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,516
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,348 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
ملاء کو پہچاننا بہت ہی آسان ہے۔ یہ عموماً بنیادی عبادات کے پردے میں چھپا رہتا ہے اور موقع دیکھ کر اپنے باطل نظریات کا پرچار کرتا ہے۔

1۔ ملاء پوچھتا پھرتا ہے کہ ملاء کون ہوتا ہے۔ 2، ملاء موقع دیکھ کر خلاف قرآن نظریات پروموٹ کرتا ہے۔ ایسے نظریات جن کا دور دور تک قرآن میں سراغ نہیں ملتا بلکہ یہ نظریات قرآن کے مخالف ہوتے ہیں۔ 3۔ ملاء کو وہ کتب پسند ہیں جن میں توہین رسالت، خلاف قرآن اور اللہ تعالی کے فرمان کے عین خلاف روایات موجود ہیں۔ انہی کتب کا وہ سہارا لیتا ہے۔ 4۔ ملاء کا پیشہ ہے کہ رسول اللہ صلعم سے منسوب کرکے محدثین کی کتب میں‌ اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی کرنے والی روایات کا پیوند لگاتا ہے۔

آپ اس کو درج ذیل معاملات میں بہت فعال پائیں گے۔
1۔ عورتوں‌ کا استحصال، زور و زبردستی سے ایک ایسے پردے کا نفاذ جو عورتوں کی چور بازاری میں‌ممدد و معاون ثابت ہو۔
2۔ عوام کی دولت کو ایک فرد واحد کی نگرانی میں دینے کا زبردست حامی ہو۔ تاکہ اس فرد واحد کو ملاء کٹھ پتلی بنا کر استعمال کرسکے اپنی کتب روایات سے۔
3۔ اقتدار فرد واحد کو دینے کا حامی ہو۔
4۔ منکر القرآن ہو بلکہ مخالف القرآن ہو۔ ایسی روایات لے کر ائے جو نہ صرف قرآن کے مخالف ہوں بلکہ رسول اکرم کی ہتک بھی کرتی ہوں۔
5۔ نمبر 2 اسلام اس کا شیوہ ہو۔

مثالیں۔
1۔ نظریہ عذاب قبر، جو اللہ تعالی کے فرمان کے خلاف ہے۔
2۔ نا مناسب پردہ کا نظریہ جو کہ اللہ تعالہ کے فرمان کے خلاف ، عورتوں کے معاشرہ میں مقام کو کم کرتا ہے۔
3۔ عیسی علیہ السلام کی قرآن سے ثابت شدہ وفات و موت کو عیسائی نظریہ سے خلاف قرآن ہم آہنگ کرنا
4۔ یہودی نظریات جیسے قانون رجم کا پرچار۔
4۔ اللہ کے فرمان کے خلاف غربت کی تلقین
5۔ اللہ کے فرمان کے خلاف باہمی مشورہ کے نظریہ کی تکفیر
6۔ قرآن کو آخری کتاب ماننے سے انکار۔
7۔ رسول اکرم پر بہتان در بہتان۔

نعوذ باللہ

امید ہے کہ اس سے آپ کو ملاء کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور قرآن حکیم سے رہنمائی حاصل کرنے میں بہت ملے گی۔

کہ ایسے منافق جو سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور پیچھے باطل نظریات کا پرچار کرتے ہیں ملاء کہلاتے ہیں


والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،
آخر کار آپ نے """ ملاء """ کی کوئی تعریف بیان کر ہی دی ، اور """ ملاء """ کی کچھ ایسی صفات ذکر کر ہی دیں جو اُس میں نہیں ہوتی ہیں ،
بڑے بھائی ہم اور تقریباً سارے ہی اردو اور فارسی دان مسلمان """ ملاء """ دینی علم سے مزین """ عالم """ کو کہتے ہیں ،
دینی علوم سے دشمنی رکھنے والوں کا سب سے بڑا دشمن ان علوم کا محافظ یہ ہی """ ملاء """ ہے لہذا وہ اس """ ملاء """ کو ایسی صفات سے متصف کرتے ہیں جو اس میں نہیں ،
فاروق بھائی ، آج تک آپ اپنے """ خلاف قران """ فلسفے کی نہ تو کوئی ایک ایسی تعریف بیان کر سکے ہیں جس کی آپ خود ہی مخالفت نہ کرتے ہوں ،
اور نہ ہی آج تک کوئی ایسی صحیح ثابت شدہ روایت سامنے لا سکے ہیں جو قران کے خلاف ہو ،
اور نہ ہی آپ کو علوم ء حدیث اور کتب حدیث کا ابتدائی علم تک ہی ہے کہ آپ اس فن کے بارے میں بات کر سکیں ،
اس کے علاوہ بھی آپ نے جن جن موضوعات کا ذکر کیا ہے تقریبا ان سب پر ہی آپ سے کافی بات چیت ہو چکی ہے اور ڈھیروں کے ڈھیر سوال آپ کے جوابات کے منتظر ہیں ،
وہاں بھی اور یہاں بھی حسب عادت ، اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے ، اپنے """ خلاف ء قران """ فلسفے کی جان بچانے کے لیے بات کو گھماتے پھراتے چلتے ہیں ،
بڑے بھائی ، شاید آپ کو یاد نہیں رہا ہو گا ، ایک دفعہ پھر اس مندرجہ ذیل تھریڈز کا مطالعہ کییجیے ،
عورت کے استحصال ، ملاء کے کردار ، انسان کی تخلیق کے واحد مقصد ، خلاف قران فلسفے، عذاب قبر کے انکار کے فلسفے ، رجم کے انکار کے فلسفے ، حدیث کی کتابوں پر الزام اور محدثین رحمہم اللہ کی شان میں گستاخیوں کے ، میری طرف سے ہر ایک کا الحمد للہ مکمل علمی جواب دیا جا چکا ہے ، نہیں دیے تو آپ نے میرے پچاسویں سوالات کے جوابات نہیں دیے ،
صرف 61 سوال تو """" اسلام اور تعلیم """" میں آپ کے منتظر ہیں ،
بہت سے """ کیا قرآن اور حدیث لازم و ملزوم ہیں؟ """ میں بھی ہیں ،

الزام تراشی آپ کے مشغلے کا ایک جز ہے ، مذکورہ بالا لنکس کا پھر سے مطالعہ کیجیے ،
اسلامی قوانین کو یہودیوں کے قوانین کہنے کی ہمت آپ ہی کی ہے ،
"""" زانی کو سر عام کوڑے مارو """ دیکھیے یاد آ جائے گا ،
""" :::: آخرت کے دوسرے مرحلے ''' برزخ ''' میں ، آخرت کی پہلی منزل ::::: قبر :::::: """ کو بھی پھر سے پڑھیے ،
آپ وہی """ عالم القران """ ہیں ناں جسے""' پردہ بوسیدہ عورتوں کی تجارت """ لگتا ہے ،
اور وہی """ مدبر القران """ ہیں ناں ، جسے قران میں """ عورت اور مرد کے شانہ بشانہ """ کام کرنے کا حکم ملا تھا ،
اوروہی """ تعلیم یافتہ مولوی """ ہیں ناں جسے """ داڑھی جنگلی اور یہودیوں کی عادت """ لگتی ہے

یاد نہیں آ رہا تو """ یہاں """ دیکھیے ،

فاروق بھائی ، آپ نے """ ملاء """ پر جن صفات کی موجودگی کے الزام لگائے ہیں وہ بدرجہ اتم خود آپ میں موجود ہیں ،
مذکورہ بالا لنکس کا پھر سے مطالعہ کیجیے ، اور توبہ کیجیے ، جھوٹ گناہ کبیرہ ہوتا ہے ، اور توبہ کیجیے """ اپنے دو نمبر خود ساختہ خلاف قران فلسفوں """ سے ،
بڑے بھائی ، کچھ تُرش گوئی ہو جانے پر معذرت خواہ ہوں لیکن مسلسل جھوٹ ، الزام تراشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دیکھ دیکھ کر کبھی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے ،
میں نے تقریبا سارے ہی سابقہ تھریڈذ کے لنکس اس تھریڈ میں دے چکا ہوں ، اگر آپ انہی موضوعات پر پھر سے بات کرنا چاہتے ہیں تو وہیں تشریف لے چلیے ، جہاں جہاں پہلے بات ہو چکی ہے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-10-09), حیدر (14-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), عبداللہ حیدر (14-10-09)
پرانا 14-10-09, 05:48 AM   #24
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادر من سلام علیکم،
ان تمام دھاگوں‌کا جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے آپ کو قرآن حکیم سے مستند حوالہ فراہم کئے گئے ہیں۔ آپ کی ترش گوئی مجھے تکلیف نہیں‌دیتی ، دعا یہ ہے کہ آپ کو ان معاملات پر صدق دل اور نرم دلی سے غور کرنے کا موقع ملے۔

آپ کے ہر مناسب سوال کا جواب عرض‌کرچکا ہوں۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں‌ اللہ سے ڈرتا ہوں‌اور اس کی کتاب سے ہدایت حاصل کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔ جو کچھ میں لکھتا ہوں اس کے لئے ہمیشہ قرآن حکیم سے ریفرنس فراہم کرتا ہوں۔

توہین رسول مقبول پر مبنی روایات کے لیے "متعہ" والے دھاگہ کا معائنی فرمایئے آپ کو یقیناً ایسی روایات ملیں‌گی جو رسول عربی صلعم کی سنت اور جناب (ص) کی زبان سے ادا ہوئے قرآن حکیم کے صاف صاف مخالف ہیں، بلکہ ان روایات میں رسول اکرم صحابہ کرام کو "متعہ" کی اصطلاح کے تحت ایک عظیم گناہ کی تعلیم دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ یہ ایک تہمت عظیم ہے۔

آپ دیکھیں گے کہ میں‌بہت ساری جگہوں پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں صرف اور صرف موضوع پر نطر رکھتا ہوں ، کون کہہ رہا ہے اس پر نہیں۔ جب آپ درست فرماتے ہیں تو میرا شکریہ اور تائید ہمیشہ پائیں گے اور جب مجھے آپ یا کسی کے بھی بیان میں ایسے نکات نطر آتے ہیں جن کے بارے میں رب عظیم کا فرمان کچھ اور ہے تو پھر وہ ریفرنس فراہم کردیتا ہوں۔ اب یہ مسلمان کا کام ہے کہ اس ریفرنس پر اور اس آیت کے ایک سے زیادہ ترجمہ پر خود غور و خوض کرے کہ یہی اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ اس کی کتاب پر غور کرتے رہو۔

آپ میری بات کو کم اہمیت دیجئے۔ تو پھر جھوٹ، الزام تراشی ، صد اور ہٹ دھرمی ایک طرف ہوجائین گی اور قرآن حکیم کی آیات پر زیادہ توجہ دیجئے۔ ان آیات کو کسی روایت کی مدد سے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ شرط صرف اور صرف غور کرنے کی ہے۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-10-09, 10:09 AM   #25
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال میں اس ساری گفتگو کے بعد خاموشی ہی بہتر ہے
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (14-10-09)
پرانا 14-10-09, 03:44 PM   #26
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں ۔ ۔ ۔ اکرام بھائی۔ ۔ ۔ اتنی واضح دلیلوں کے بعد بھی جب ڈھاک کے تین پات ہی رہیں ۔ ۔ ۔ تو پھر خاموشی ہی بہتر رہتی ہے۔ اور بقول سید مودودی مقدمہ اللہ کی عدالت میں بھیج دیا جانا چاہیے تاکہ ہر کوئی وہاں اپنے دلائل کو پیش کرے ۔ ۔ ۔ ۔بے شک اللہ ہی سب سے بہتر انصاف کرنے والا اور فیصلہ کرنے والا ہے ۔
میں بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہوا تھا کہ محترم بھائی شاید کچھ لوگوں کی کتابیں پڑھ کر ان کی بنیاد پر اپنا ذہن بنا بیٹھے ہیں ۔ ۔ ۔تاہم ہیں کھُلے دماغ کے۔ بات کو سمجھنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔لیکن افسوس وہ ان ٹاپکس میں بھی اکثریت کی دل شکنی کرنے سے نہیں چُکتے جہاں ایسی ویسی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے خود دوسروں کو جمہوری ھق سے محروم کرتے ہیں۔ اب اگر کسی موقف پر زیادہ تر علما اتفاق کرتے ہیں تو انکو چاہیے تھا کہ ان کو تسلیم کریں خؤش دلی سے۔ ۔ ۔مگر ملا، تنگ نظر، دشمن دین، متعصب، وغیرہ کے القابات سے یہ فورم اس وقت بھرا پڑا ہے (تاہم انہوں نے مجھے آج تک ایسا نہیں کہا)۔
شاید اکثر لوگوں کو میری بات بُری لگے یا شاید میری یہ بات حذف کر دی جائے لیکن ۔ ۔ ۔ ۔میں حق بات کہنے سے گریز نہیں کیا کرتا اور وہ یہ ہے کہ فاروق بھائی میری نظر میں یہ سب کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کراور جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ اور سوچ سمجھ کر کی گئی بات اور عمل ۔ ۔ ۔ سوچا سمجھا منصوبہ کہلاتا ہے۔ وہ اور لوگ ہوں گے جو صرف موجودہ پوسٹ کی بنیاد پر بات کرتے ہوں گے۔ ۔ ۔ میں ہر پوسٹ کا جواب اسکی سابقہ کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیا کرتا ہوں اور بد قسمتی سے ان کی باتوں میں اس قدر تضاد پایا جاتا ہے کہ اب ان سے اسلامی ٹاپکس پر بات کرنے سے دل اچاٹ ہو گیا ہے ۔ یہ جس بھی نظریے کے علم بردار ہیں ۔ ۔ ۔میں یہ کہوں گا کہ اس نظریے کی بد قسمتی ہے کہ انکو ایک نا اہل پیروکار ملا جو اپنی باتوں میں یا اپنے موقف synergyنہیں لا سکا۔ فاروق بھائی قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر افسوس ۔ ۔ ۔ کہ وہ میری ایک ہی پوسٹ کی تہہ میں نہ جا سکے ۔ ۔ ۔ اور اسکا غلط مفہوم لے کر ۔ ۔ ۔ مجھ پر قرآن مخالف ہونے کا الزام لگا بیٹھے۔ اس کے برخلاف تنگ نظر ، جاہل ۔ متعصب، دشمن دین،اور قرآن کا علم نہ رکھنے والے ۔ ۔۔ کہلانے والے ملا عادل بھائی میری پوسٹ کا مقصد بخوبی سمجھ گئے۔ میری عادل بھائی سے بھی درخؤاست ہے اب اس قصے کو ختم ہی کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ تاہم اگر آئیندہ کی کسی پوسٹ میں کوئی نئی بات آئی تو آپ اور ہم اپنا موقف بیان کر دیں گے ۔ ۔ ۔تاریخ خود ہی فیصلہ کرے گی حق اور سچ کا۔ اور اتفاق ہے کہ م"لا آج بھی قائم و دائم ہیں اس دین میں مگر جدت پسند آتے ہیں اور کچھ عرسے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔
اللہ ہمکو اور انکو حق اور سچ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (14-10-09), احمدنواز (14-10-09), راجہ اکرام (14-10-09), عامرشہزاد (14-10-09), عادل سہیل (15-10-09)
پرانا 14-10-09, 03:53 PM   #27
Senior Member
 
احمدنواز's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یعنی آپکا مطلب ہے کہ ہم اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اقدامی سے دفاعی جہاد کی طرف آتے ہیں ؎؎؎؟
احمدنواز آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
احمدنواز کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 14-10-09, 04:04 PM   #28
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
مگر افسوس ۔ ۔ ۔ کہ وہ میری ایک ہی پوسٹ کی تہہ میں نہ جا سکے ۔ ۔ ۔ اور اسکا غلط مفہوم لے کر ۔ ۔ ۔ مجھ پر قرآن مخالف ہونے کا الزام لگا بیٹھے۔

بدر الزماں صاحب، آپ سے عرض ہے کہ اس مراسلہ کا حوالہ عطا فرمائیے جہاں آپ کو کچھ کہا گیا ہو؟ تاکہ بندہ اپنی اس غلطی کا ازالہ کرسکے۔ ان معاملات میں‌ سے جن پر بحث ہوتی ہے کوئی بھی معاملہ میرا یا آپ کاذاتی معاملہ نہیں ہے۔ لہذا آپ کی ذاتیات پر اترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر ایسا ہے تو ایسے جملہ کی ترمیم کی ضرورت ہے۔


والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 14-10-09 at 04:07 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-10-09, 04:27 PM   #29
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سلام بدر بھائی
آپ نے جو کہا اس سے اتفاق کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
یقین مانیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات ذاتیات کی طرف نکل جاتی ہے اس لئے میں اکثر خاموشی اختیار کر جاتا ہوں۔
لیکن فاروق سرور خان بھائی میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں، میں نے ہمیشہ ان سے اخلاق کے دائرے میں رہ کر بات کی ہے لیکن جب بات ایک حد سے گزر جائے تو وہیں رک جانا بہتر ہوتا ہے۔
آپ نے کہا کہ فاروق بھائی قرآن سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ میری اب تک ان سے جو تھوڑی بہت گفتگو ہوئی ہے اس سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قران کریم تو بہت بڑی چیز ہے َ،(جسے سمجھنے کے لئے برسوں کا مطالعہ اور فکر و تدبر درکار ہے، احادیث اور اقوال صحابہ کا جو علم لازمی ہے، دیگر معاون علوم پر جو دسترس درکار ہے، اور ان کا علم جس حد تک ہے اس سے وہ خود بھی واقف ہیں۔)
میں تو سمجھتا ہوں کہ انتہائی ابتدائی علمی اور تحقیقی مبادیات پر بھی انہیں کوئی دسترس نہیں۔
اگرچہ بات بہت سخت ہے، اور میں علمی لحاظ سے ان کا عشر عشیر بھی نہیں ہوں لیکن حق گوئی کے تقاضے کے پیش نظر یہ کہنے پر مجبور ہوں۔ اور خاص طور پر انہوں نے جن مسائل پر بغیر دلیل کے لب کشائی کی ہے اس کے بعد تو یہ لکھ کر مجھے کوئی شرمندگی نہیں

میری رائے ہے کہ محترم بھائی کو کوئی کتاب مل گئی ہے جس میں موضوعات کے اعتبار سے آیات لکھی ہوئی ہیں
موصوف آیت بمعہ ترجمہ تو نقل کر دیتے ہیں ، لیکن اس کا سیاق و سباق، تاریخی پس منظر، شان نزول، اس آیت کی تفسیر کے حوالے سے اقوال نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اقوال صحابہ، اقوال تابعین و اسلاف کیا ہیں، اس کی نا انہیں خبر ہے اور نہ وہ اس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

اس لئے کسی علمی اسلامی موضوع پر فاروق سرور بھائی سے بحث سوائے نقصان کے کچھ نہیں دے گی، اور نقصان ہو گا اسلام کی طے شدہ اور ثابت شدہ تعلیمات کا سر عام استہزاء اور انکار

بات بڑھ جاے گی دل مچل جائے گا۔۔۔۔۔۔اس لئے معذرت خواہ ہوں اگر میں نے حدود سے تجاوز کیا ہو

برائے مہربانی میری باتوں کو فاروق بھائی کی ان باتوں سے موازنہ کر کے دیکھا جائے جو انہوں نے کہیں ہیں اسلامی تعلیمات کے بارے میں
محترم کی گل افشانیاں مندرجہ ذیل ہیں
۔ نظریہ عذاب قبر، جو اللہ تعالی کے فرمان کے خلاف ہے۔
2۔ نا مناسب پردہ کا نظریہ جو کہ اللہ تعالہ کے فرمان کے خلاف ، عورتوں کے معاشرہ میں مقام کو کم کرتا ہے۔
3۔ عیسی علیہ السلام کی قرآن سے ثابت شدہ وفات و موت کو عیسائی نظریہ سے خلاف قرآن ہم آہنگ کرنا
4۔ یہودی نظریات جیسے قانون رجم کا پرچار۔
4۔ اللہ کے فرمان کے خلاف غربت کی تلقین
5۔ اللہ کے فرمان کے خلاف باہمی مشورہ کے نظریہ کی تکفیر
6۔ قرآن کو آخری کتاب ماننے سے انکار۔
7۔ رسول اکرم پر بہتان در بہتان۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-10-09, 04:45 PM   #30
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,754
شکریہ: 6,463
2,598 مراسلہ میں 7,610 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
میری رائے ہے کہ محترم بھائی کو کوئی کتاب مل گئی ہے جس میں موضوعات کے اعتبار سے آیات لکھی ہوئی ہیں


آپ کا خیال بالکل درست ہے۔ اس کتاب کا نام ہے قرآن حکیم، اس کا روزانہ مطالعہ بہت شافی ہے

والسلام
طالب علم قرآن
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, پولیس, پوسٹ, پاکستان, پسند, پسندیدہ, قرآن, لیاقت علی خان, لوگ, نیوز, موجودہ, منصوبہ, مسائل, مسجد, معلوم, آپریشن, آج, اللہ, الزام, اسلام, اعلیٰ, بچوں, تعلیم, دھماکہ, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger