| عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
| 8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (05-09-09), منتظمین (05-09-09), محمدعدنان (05-09-09), ایس اے نقوی (04-09-09), حیدر (04-09-09), حسنین ایوب (04-09-09), سحر (04-09-09), عبداللہ حیدر (04-09-09) |
|
|
#16 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
خود میرے ذہن میں کوئی ترتیب نہیں بن پا رہی۔ مجھے تو اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بچے کے لیے "ماں" کا مطلب وہ عورت نہیں کہ جس نے اس کو جنم دیا ہے بلکہ "ماں" کا مطلب وہ عورت ہے جس نےاسکو پالا پوسا۔ ورنہ کیونکر ایسا معاملہ کیا جاتا کہ بچے کو اس وقت کہ جب ماں کو بچے کو اٹھانے کی تڑپ ہوتی ہے اسی وقت اس کو ماں سےدور کیا جا رہا ہے اور ماں بخوشی کر رہی ہے۔ میں ڈاکٹر نور کی بیان کردہ وجوہات سے اتفاق کرتے ہوئے بھی ان سے گزارش کروں گا کہ محترمہ سحر کی بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ اتنی سادہ بات نہیں کر رہیں انکے الفاظ پر نہیں بلکہ مقصد پر جائیں۔
میرا خیال ہے کہ حیدر بھائی یا عادل بھائی زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں اس معاملے پر۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#17 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,968
کمائي: 276,743
شکریہ: 33,206
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جہاں تک میںں سمجھتا ہوں یہ بچے کی تربیت کا حصہ ہونا چاہئے
ماں بچے کی محبت میں بعض اوقات اسکی تربیت اس معنوں میں نہیں کرپاتی کہ بچہ اپنے فیصلے ماحول کے مطابق خود کرسکے میں نے بہت سے ایسے عمر رسیدہ بچے بھی دیکھے ہیں جو آج تک بڑے نہیں ہوسکے اور اس کے پس منظر میں ہمیشہ مجھے ماؤں کے بے جا لاڈ پیار کی جھلک ہی نظر آئی میں بذات خود باپ ہونے کے ناطے اپنے بچوں کو بہادر اور سخت جان دیکھنا چاہتا ہوں لیکن ان کی ماں بچوں کو شیشے کے نازک برتن کی طرح رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے دوسرے یہ کے وہ بچے جن کو اپنے ہم عمر بچوں کی صحبت حاصل ہوتی ہے انہیں ہمیشہ میں نے کانفڈنٹ پایا بنسبت ان بچوں کے جو تنہا پرورش پاتے ہیں یہ کچھ آئیڈے ہیں باقی اہل علم افراد کی رائے درکار ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#18 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اپنے سوال میں چند باتوں کا اضافہ کروں گی
ہم تربیت ماں کی گود کو کہتے ہیں لیکن ایک حدیث ہے جس کا مفیوم کچھ یوں ہے باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے اچھی چیز اچھی تعلیم وتربیت ہے اس حدیث میں صرف باپ کا ذکر ہے والدین کا نہیں یا ماں کا نہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#19 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ میرے خیال میں تعلیم و تربیت واقعی والد کا کام ہے لیکن اس کا ایک مرحلہ ہے مدت رضاعت یعنی دوسال بلکہ اس کے بعد بھی کافی عرصہ بچہ یا والد اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ ایک دوسرے سے کچھ حاصل کر سکیں اس وقت ماں جو کا کردار اہم ہوتا ہے۔ جب بچہ تعلیم و تربیت کے اس مرحلے میں داخل ہو جائے جب باپ کا کردار شروع ہوتا ہے تو پھر اس حدیث کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر خدانخواستہ زوجین میں کسی وجہ سے علیحدگی ہو جائے تو بچہ اگر چھوٹا ہو تو ماں کے سپرد کیا جاتا ہے اور جب سمجھدار ہو جائے تو باپ لے جاتا ہے۔ یہ خالصتا میری رائے ہے جس کے غلط ہونے کا 100% امکان موجود ہے۔ اہل علم سے رہنمائی کی التجا ہے۔ |
|
|
|
|
|
|
#20 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
چونکہ اس معاملے میں میری معلومات صفر بٹا صفر ہیں کہ نہ تو بچے ہیں اور نہ اس سلسلہ میں کوئی معلومات ہیں تو میں کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کر سکتا۔
تاہم ماں ۔ ۔ ۔ بچہ اور ۔ ۔ ۔ معاشرے کی تشکیل بذات خود ایک اہم موضوع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کی ماں کو مضبوط اعصاب، مضبوط ارادے، اور بچے کی تربیت کے معاملہ میں کچھ سخت گیر ہونا چاہیے۔ محض لاڈ پیار کرنے والی ماں اپنے بچوں کو "ممی ڈیڈی بچہ" بنا دیتی ہے ۔چونکہ زندگی بہت ظالم ہے تو انکو میدان کار میں بھی اسی جیسی چھتری کی ہی ضرورت رہ جاتی ہے۔ ہماری ماں چونکہ خؤد مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اسی لیے انہوں نے ہماری تربیت بھی ایسی کی کہ باوجود انتہائی تنگ معاشی حالات اور بالکل اجنبی معاشرے میں (Being a Baloch in Punjab) تنہا گھر کے آج ہمارا گھر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اس معاشرے میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم بھائیوں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہ محض ہماری ماں کی وجہ سے تھا۔ بچپن میں ہم کو انکا سخت رویہ بالکہ نہیں بھاتا تھا۔لیکن اب ہم کو احساس ہوا ہے کہ ہم آج جو بھی ہیں اپنی امی کی اسی قربانیوں اور محنت کی وجہ سے ہیں۔ اس میں تھوڑی سی مثال کچھھ یوں بھی دوں گا کہ میرے علاوہ میرے سب ھائیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ ان میں سے کچھھ کی بیگمات اپنی اولاد پر صدقے واری ہیں ۔ اس لیے باوجود ان پر کھلا خرچ کرنے، اچھی تعلیم اوراچھے اداروں میں داخلوں کے ۔ ۔ ۔ نہ تو ان میں وہ اعتماد ہے اور نہ ہی ان میں وہ بڑوں کا عزت و اکرام کا طریق ہے جو ہماری امی نے ہم کو سکھایا۔ اس کے بالعکس ایک بھائی کی اولاد میری امی کے زیر نگرانی پرورش پا رہی ہیں۔ ان میں اور انکے دیگر کزنز کے اطوار میئں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ماؤں کے لاڈ پیار کا ایک اور نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باپ کسی بات پر سختی کرنا چاہے تو ایسے میں ماں آڑے آ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں کبی کبھی یہ ہوتا ہے کہ باپ کی وہ عزت و اکرام اور دباؤ باقی نہیں رہتا اولاد کی نظر میں جو ہوناچاہیے۔ اور انجام کار وہ ماں بھی اسی المیہ کا شکار ہو جاتی ہے ہ اولاد اس پر سے بھی توجہ ہٹا لیتی ہے۔ میرے خیال میں اولاد کی تربیت او چناچہ اچھے معاشرے کی تشکیل میں اچھی ماؤں کا سب سے اہم کردار ہے یا شاید باپ سے بڑھ کر کردار ہے۔ کسی فلسفی نے کہا تھا کہ "مجھے تم پڑھی لکھی مائیں دے دو ۔ ۔ ۔، میں تم کو پڑھا لکھا معاشرہ دے دوں گا" آج ہماری لڑکیاں اعلیٰ ڈگری ہولڈر تو ہیں لیکن بد قسمتی سے ان میں تربیت کا اتنا ہی فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر آنےوالی نسل تعلیم میں تو آگے سے آگے جا رہی ہے لیکن آج وہ اخلاقی معیار، دوسروں کی عزت و تکریم، ہمدردی و رواداری باقی نہیں رہی جو سابقہ نسلوں کا خاصہ تھی۔ ایک وہ مائیں تھیں جو گھر بیٹھے بیٹوں کو تعنے مار مار کے میدان جنگ میں بھیجا کرتی تھیں ۔ ۔ ۔ آ ج ایسی مائیں بھی ہیں جو جب اپنے بچوں کے منہہ سے جنگ کا لفظ سنتی ہیں تو لرز جاتی ھیں۔ کسی اور ٹاپک میں محبت کی شادی پر ڈسکشن چل رہی ہے ۔ ۔ ۔ میں ببانگ دل کہنے کو تیار ہوں کہ ہمارے معاشرے کی ابتری میں محبت کی شادی کا بھی ایک ہاتھ ہے۔ محبت کی شادی میں لڑکی کی خوبصورتی دیکھی جاتی ہے، اسکی تعلیم دیکھی جاتی ہے، اسکا خاندان دیکھا جاتا ہے، اسکی دولت دیکھی جاتی ہے اور پھر اس سے محبت ہوتی ہے۔ کسی نے آج تک دین کی وجہ سے محبت کی ہےِ؟ کسی نے آج تک کسی ایسی لڑکی کو پسندیا ہو جو پردے کی پابند ہو، صوم و صلاۃ کا خیال رکھتی ہو، دین اپنا بچا کر رکھتی ہو؟ مجھے آج تک ایسی کوئی مثال سنائی نہیں دی کہ کسی لڑکے نے کسی لڑکی کو اسکی دینداری کی وجہ سے پسند کیا ہو،۔ تو جناب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں دین کی اہمیت کسی درجہ کی بھی نہ ہو ۔ ۔ ۔ وہاں کس قسم کا معاشرہ تخلیق پائے گا۔ واللہ عالم |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#21 |
|
Senior Member
![]() |
مری آرزؤں کی تمہید تم ہو
مرا چاند تم ہو مری عید ہو |
|
|
|
|
|
#22 |
|
Senior Member
![]() |
مری آرزؤں کی تمہید تم ہو
مرا چاند تم ہو مری عید ہو |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| پھول, پاک, قدم, نظر, مکمل, ماں, محبت, مسائل،, مسجد, آج, اللہ, بہترین, بچپن, بچوں, تلاش, تحریر, حل, خواتین, خبر, خدا, خصوصی, سفر, عزیز, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 25 | 03-02-12 09:14 PM |
| پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں | khanamjan | میری ڈائری | 5 | 28-10-11 09:16 PM |
| مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ | ابن جمال | متفرقات | 0 | 07-02-11 02:42 PM |
| لڑکیو ں کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز | جان جی | گپ شپ | 1 | 20-08-08 09:56 PM |
| ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش | عبدالقدوس | فلمی دنیا | 0 | 27-10-07 10:53 AM |