واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-09, 09:04 PM  
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default ماں کا پیار : پر امن معاشرے کے قیام کی طرف پہلا قدم

کل صبح دفتر جانے کے لئے اٹھا تو طبیعت بوجھل سی محسوس ہوئی۔ لیکن جانا بھی ضروری تھا ۔ تیاری کی اور خراماں خراماں بس سٹاپ کی جانب چل پڑا۔ پیر ودھائی سے فیصل مسجد جانے والی کوسٹر میری اکلوتی سواری ہے ۔ جو فیض آباد، زیروپوائنٹ، آبپارہ ، سپر مارکیٹ سے ہوتی ہوئی جناح سپر آتی ہے۔ کیوں کہ وہاں سے کوئی اور سروس جناح سپر نہیں آتی۔ اس کوسٹر کی حالت کیا ہوتی ہے ، سفر کیسا گزرتا ہے ، کتنا ٹائم گزارنا پڑتا ہے اور بس سے اترنے کے بعد کیا حالت ہوتی ہے ؟ یہ ایک دردناک کہانی ہے اس لئے اسے رہنے دیتے ہیں۔

آبپارہ پہنچ کر اکثر اسٹاپ لمبا ہو جاتا ہے ۔کیوں کہ یہاں آ کر گاڑی انتظار کرتی ہے۔ اور اپنے پیچھے آنے والی بس کا دیدار کئے بغیر سٹاپ چھوڑنا محبت کے اصولوں کے منافی سمجھتی ہے۔ آج بھی حسب معمول بس آکر رکی ، میں دائیں جانب کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ باہر کا موسم سرد ہونے کے باوجود سہانا تھا۔ میں نے باہر دیکھا تو ایک بورڈ لگا نظر آیا۔ جس پر”لیڈیز انڈسٹریل ہوم“ یا اس کے ہم معنی الفاظ درج تھے۔متوسط اور غریب طبقے کی اکا دکا خواتین اس طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔ اتنے میں ایک نئے ماڈل کی کار آ کر اس بورڈ سے کچھ فاصلے پررکی ۔ ایک برقعہ پوش خاتون گود میں بچہ لئے اتریں۔ اور روڈ کے دائیں طرف عمارت کی جانب چل پڑیں۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ ، اتنی اچھی کار متوسط یا غریب خاندان تو کسی صورت بھی نہیں رکھ سکتا۔

حیرت فطری تھی۔ میں نے ادھر ادھر کا جائزہ لینا شروع کر دیا کہ شاید اس انڈسٹریل ہوم کے علاوہ بھی ایسا ادارہ ہو جہاں خوشحال خاندان کی خواتین بھی کام کرنے آتیں ہوں۔ اتنے میں میری نظر ایک اور بورڈ پر پڑی جو سائز میں پہلے والے بورڈ سے نسبتا چھوٹا تھا۔ جس پر Day Care Center کے الفاظ درج تھے۔ فورا میرے ذہن میں خیال آیا کہ ضرور یہ خاتون اپنے اس بچے کو اس سینٹر میں چھوڑنے آئی ہوں گی۔ تھوڑی دیر بعد خاتون کی خالی ہاتھ واپسی نے میرے خیال کی تصدیق کر دی۔

اندرونی کیفیت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے لیکن بظاہر ایک خوشحال خاندان تھا۔ اللہ کی عطا کردہ اتنی نعمتوں کے باوجود انہوں نے اپنے پھول سے بچے کو کسی اور کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔

حالانکہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ اور جس کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہو وہ دیوار کیا سیدھی ہو گی۔ اور جدید تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بچے کی سوچ اور خیالات ابتدائی عمر سے ہی پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس کے لئے بہترین ماحول ، اپنائیت اور بھرپور خیال ضروری ہوتا ہے۔ جو ایک بچے کو اس کی ماں کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔

ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں خیال آیا کہ خوشحال گھرانوں میں پلنے والے بچے اس دولت سے محروم ہیں جو غریب خاندان کے بچوں کو میسر ہے ۔ اگرچہ اچھا بستر، خوبصورت گھر، اچھی گاڑی کی سواری اور خدمت گزار انہیں میسر نہیں لیکن کم از کم اپنی ماں کا فطری پیار تو وافر مقدار میں ملتا ہے ۔

انہی خیالوں میں گم تھا کہ منزل آگئی۔ بس سے اترا اور آفس کی جانب چل پڑا۔ آفس پہنچ کر القمر آن لائن کی سائٹ کھولی تو ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ کیوں کہ وہ اسی سے متعلق تھی جس پر میں سارے راستے سوچتا آیا تھا۔

ایک تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں بڑھتے ہوئے جرائم میں نوجوانوں کی شمولیت کے پیش نظر اس کی وجوہات جاننے کے لئے ایک تحقیق کی گئی۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جرائم میں ملوث بیشتر افراد بچپن میں ماں کے دودھ اور توجہ سے محروم رہتے ہیں۔
ماں کا دودھ اور توجہ نہ ملنے سے نہ صرف بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ اس کی اخلاقی تعمیر بھی متاثر ہوتی ہے ۔کیوں کہ یہ فطری عمل ہے کہ جب بچپن سے ہی ایک بچہ پیار ، محبت، ایثار اور قربانی کے مظاہر سے محروم رہے گا تو وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا۔ اس کی سوچ کو صحیح سمت نہ مل سکے گی ۔ نتیجتا وہ جرائم پیشہ افراد کے لئے بہترین مددگار ثابت ہو گا۔

آج وطن عزیز جن مسائل، مشکلات، اور بحرانوں کا شکار ہے وہ اس چیز کا بالکل متحمل نہیں ہو سکتا کہ اس میں مزید ایسے نوجوان پروان چڑھیں۔ لہذا حکومت اور اہل اختیار کو اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے موثر حکمت عملی وضع کی جاسکتی ہے جس کے نتیجے میں ملازمت پیشہ خواتین کو اتنی سہولیات دی جائیں کہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی فطرت کے اصولوں کے مطابق کر سکیں۔

ورنہ ہمارا حال بھی یورپ سے مختلف نہ ہو گا۔ انہوں نے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد افرادی قوت کی قلت کے باعث خواتین کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پر ابھارا اور مساوات کے پردے میں انہیں چار دیواری سے باہر لے آئے۔ مادی ترقی کا ہدف تو انہوں نے حاصل کر لیا لیکن خاندان کا ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس کا انہیں بہت دیر بعد احساس ہوا۔ اور اب اس ادارے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن کافی دیر ہو چکی ہے۔لہذا ہمیں مادی ترقی کے عوض میں اخلاقی اور ذہنی پس مانندگی کو کبھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔

یہ تو خوشحال گھرانوں کا حال تھا۔ اب ذرا ایک نظر ان ماﺅں پر بھی ڈال لیجئے جو اتنے پیار اور محبت سے اپنے بچوں کو پالتی ہیں، خود بھوکا رہ کر ، بھیک مانگ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ہیں۔ اب وہ بھی حالات سے تنگ آکر اپنے جگر گوشوں کو سر عام نیلام کرنے پر مجبور ہیں۔ اور اس میں قصور ان کی مامتا کا نہیں بلکہ ان اصحاب اخیتار کا ہے جنہوں نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں۔ اور حالات کا جبر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا حل اگر نہ تلاش کیا گیا تو نتائج پہلے والی صورت سے بھی زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔کیوں کہ وہ ماں جس کی ممتا کا یہ حال ہو کہ ۔۔۔

ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے

اگر اپنے بے لوث پیار کے باوجود اپنے جگر گوشے کو نیلام کرنے پر اتر آئے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آئیے مل کر ان مسائل کا پائیدار حل تلاش کریں کہ کوئی ماں اپنے جگر گوشے کو بیچنے پر مجبور نہ ہو۔ کوئی باپ اپنے خاندان کو آگ لگا کر خود کشی نہ کرے ۔ تاکہ پر امن فلاحی معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

(یہ تحریر کافی عرصہ پہلے لکھی تھی تب شاید پاک نیٹ سے اتنی شناسائی نہیں تھی، نیٹ پر کئی جگہ دستیاب ہے۔ سوچا یہاں بھی شیئر کر دوں“)
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), منتظمین (05-09-09), محمدعدنان (05-09-09), ایس اے نقوی (04-09-09), حیدر (04-09-09), حسنین ایوب (04-09-09), سحر (04-09-09), عبداللہ حیدر (04-09-09)
پرانا 05-09-09, 04:22 PM   #16
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خود میرے ذہن میں کوئی ترتیب نہیں بن پا رہی۔ مجھے تو اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے بچے کے لیے "ماں" کا مطلب وہ عورت نہیں کہ جس نے اس کو جنم دیا ہے بلکہ "ماں" کا مطلب وہ عورت ہے جس نےاسکو پالا پوسا۔ ورنہ کیونکر ایسا معاملہ کیا جاتا کہ بچے کو اس وقت کہ جب ماں کو بچے کو اٹھانے کی تڑپ ہوتی ہے اسی وقت اس کو ماں سےدور کیا جا رہا ہے اور ماں بخوشی کر رہی ہے۔ میں ڈاکٹر نور کی بیان کردہ وجوہات سے اتفاق کرتے ہوئے بھی ان سے گزارش کروں گا کہ محترمہ سحر کی بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ اتنی سادہ بات نہیں کر رہیں انکے الفاظ پر نہیں بلکہ مقصد پر جائیں۔
میرا خیال ہے کہ حیدر بھائی یا عادل بھائی زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں اس معاملے پر۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09), سحر (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 06:29 PM   #17
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,968
کمائي: 276,743
شکریہ: 33,206
12,657 مراسلہ میں 36,995 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جہاں تک میںں سمجھتا ہوں یہ بچے کی تربیت کا حصہ ہونا چاہئے
ماں بچے کی محبت میں بعض اوقات اسکی تربیت اس معنوں میں نہیں کرپاتی کہ بچہ اپنے فیصلے ماحول کے مطابق خود کرسکے
میں نے بہت سے ایسے عمر رسیدہ بچے بھی دیکھے ہیں جو آج تک بڑے نہیں ہوسکے اور اس کے پس منظر میں ہمیشہ مجھے ماؤں کے بے جا لاڈ پیار کی جھلک ہی نظر آئی
میں بذات خود باپ ہونے کے ناطے اپنے بچوں کو بہادر اور سخت جان دیکھنا چاہتا ہوں لیکن ان کی ماں بچوں کو شیشے کے نازک برتن کی طرح رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے

دوسرے یہ کے وہ بچے جن کو اپنے ہم عمر بچوں کی صحبت حاصل ہوتی ہے انہیں ہمیشہ میں نے کانفڈنٹ پایا بنسبت ان بچوں کے جو تنہا پرورش پاتے ہیں

یہ کچھ آئیڈے ہیں
باقی اہل علم افراد کی رائے درکار ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09), سحر (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 06:45 PM   #18
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,582
کمائي: 157,647
شکریہ: 8,062
5,019 مراسلہ میں 19,296 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں اپنے سوال میں چند باتوں کا اضافہ کروں گی
ہم تربیت ماں کی گود کو کہتے ہیں
لیکن ایک حدیث ہے جس کا مفیوم کچھ یوں ہے
باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے اچھی چیز اچھی تعلیم وتربیت ہے
اس حدیث میں صرف باپ کا ذکر ہے والدین کا نہیں یا ماں کا نہیں
سحر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (05-09-09), حیدر (05-09-09), راجہ اکرام (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 08:34 PM   #19
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,230
شکریہ: 24,741
15,343 مراسلہ میں 39,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
میں اپنے سوال میں چند باتوں کا اضافہ کروں گی
ہم تربیت ماں کی گود کو کہتے ہیں
لیکن ایک حدیث ہے جس کا مفیوم کچھ یوں ہے
باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دیتا ہے اس میں سب سے اچھی چیز اچھی تعلیم وتربیت ہے
اس حدیث میں صرف باپ کا ذکر ہے والدین کا نہیں یا ماں کا نہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
میرے خیال میں تعلیم و تربیت واقعی والد کا کام ہے لیکن اس کا ایک مرحلہ ہے
مدت رضاعت یعنی دوسال بلکہ اس کے بعد بھی کافی عرصہ بچہ یا والد اس پوزیشن میں نہیں ہوتے کہ ایک دوسرے سے کچھ حاصل کر سکیں
اس وقت ماں جو کا کردار اہم ہوتا ہے۔
جب بچہ تعلیم و تربیت کے اس مرحلے میں داخل ہو جائے جب باپ کا کردار شروع ہوتا ہے تو پھر اس حدیث کا اطلاق ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر خدانخواستہ زوجین میں کسی وجہ سے علیحدگی ہو جائے تو بچہ اگر چھوٹا ہو تو ماں کے سپرد کیا جاتا ہے اور جب سمجھدار ہو جائے تو باپ لے جاتا ہے۔

یہ خالصتا میری رائے ہے جس کے غلط ہونے کا 100% امکان موجود ہے۔
اہل علم سے رہنمائی کی التجا ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
حیدر (05-09-09), سحر (05-09-09)
پرانا 05-09-09, 09:44 PM   #20
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چونکہ اس معاملے میں میری معلومات صفر بٹا صفر ہیں کہ نہ تو بچے ہیں اور نہ اس سلسلہ میں کوئی معلومات ہیں تو میں کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کر سکتا۔
تاہم ماں ۔ ۔ ۔ بچہ اور ۔ ۔ ۔ معاشرے کی تشکیل بذات خود ایک اہم موضوع ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کی ماں کو مضبوط اعصاب، مضبوط ارادے، اور بچے کی تربیت کے معاملہ میں کچھ سخت گیر ہونا چاہیے۔ محض لاڈ پیار کرنے والی ماں اپنے بچوں کو "ممی ڈیڈی بچہ" بنا دیتی ہے ۔چونکہ زندگی بہت ظالم ہے تو انکو میدان کار میں بھی اسی جیسی چھتری کی ہی ضرورت رہ جاتی ہے۔ ہماری ماں چونکہ خؤد مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اسی لیے انہوں نے ہماری تربیت بھی ایسی کی کہ باوجود انتہائی تنگ معاشی حالات اور بالکل اجنبی معاشرے میں (Being a Baloch in Punjab) تنہا گھر کے آج ہمارا گھر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ اس معاشرے میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہم بھائیوں کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ یہ محض ہماری ماں کی وجہ سے تھا۔ بچپن میں ہم کو انکا سخت رویہ بالکہ نہیں بھاتا تھا۔لیکن اب ہم کو احساس ہوا ہے کہ ہم آج جو بھی ہیں اپنی امی کی اسی قربانیوں اور محنت کی وجہ سے ہیں۔
اس میں تھوڑی سی مثال کچھھ یوں بھی دوں گا کہ میرے علاوہ میرے سب ھائیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ ان میں سے کچھھ کی بیگمات اپنی اولاد پر صدقے واری ہیں ۔ اس لیے باوجود ان پر کھلا خرچ کرنے، اچھی تعلیم اوراچھے اداروں میں داخلوں کے ۔ ۔ ۔ نہ تو ان میں وہ اعتماد ہے اور نہ ہی ان میں وہ بڑوں کا عزت و اکرام کا طریق ہے جو ہماری امی نے ہم کو سکھایا۔ اس کے بالعکس ایک بھائی کی اولاد میری امی کے زیر نگرانی پرورش پا رہی ہیں۔ ان میں اور انکے دیگر کزنز کے اطوار میئں زمین آسمان کا فرق ہے۔
ماؤں کے لاڈ پیار کا ایک اور نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر باپ کسی بات پر سختی کرنا چاہے تو ایسے میں ماں آڑے آ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں کبی کبھی یہ ہوتا ہے کہ باپ کی وہ عزت و اکرام اور دباؤ باقی نہیں رہتا اولاد کی نظر میں جو ہوناچاہیے۔ اور انجام کار وہ ماں بھی اسی المیہ کا شکار ہو جاتی ہے ہ اولاد اس پر سے بھی توجہ ہٹا لیتی ہے۔
میرے خیال میں اولاد کی تربیت او چناچہ اچھے معاشرے کی تشکیل میں اچھی ماؤں کا سب سے اہم کردار ہے یا شاید باپ سے بڑھ کر کردار ہے۔
کسی فلسفی نے کہا تھا کہ
"مجھے تم پڑھی لکھی مائیں دے دو ۔ ۔ ۔، میں تم کو پڑھا لکھا معاشرہ دے دوں گا"
آج ہماری لڑکیاں اعلیٰ ڈگری ہولڈر تو ہیں لیکن بد قسمتی سے ان میں تربیت کا اتنا ہی فقدان ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر آنےوالی نسل تعلیم میں تو آگے سے آگے جا رہی ہے لیکن آج وہ اخلاقی معیار، دوسروں کی عزت و تکریم، ہمدردی و رواداری باقی نہیں رہی جو سابقہ نسلوں کا خاصہ تھی۔ ایک وہ مائیں تھیں جو گھر بیٹھے بیٹوں کو تعنے مار مار کے میدان جنگ میں بھیجا کرتی تھیں ۔ ۔ ۔ آ ج ایسی مائیں بھی ہیں جو جب اپنے بچوں کے منہہ سے جنگ کا لفظ سنتی ہیں تو لرز جاتی ھیں۔
کسی اور ٹاپک میں محبت کی شادی پر ڈسکشن چل رہی ہے ۔ ۔ ۔ میں ببانگ دل کہنے کو تیار ہوں کہ ہمارے معاشرے کی ابتری میں محبت کی شادی کا بھی ایک ہاتھ ہے۔ محبت کی شادی میں لڑکی کی خوبصورتی دیکھی جاتی ہے، اسکی تعلیم دیکھی جاتی ہے، اسکا خاندان دیکھا جاتا ہے، اسکی دولت دیکھی جاتی ہے اور پھر اس سے محبت ہوتی ہے۔ کسی نے آج تک دین کی وجہ سے محبت کی ہےِ؟ کسی نے آج تک کسی ایسی لڑکی کو پسندیا ہو جو پردے کی پابند ہو، صوم و صلاۃ کا خیال رکھتی ہو، دین اپنا بچا کر رکھتی ہو؟ مجھے آج تک ایسی کوئی مثال سنائی نہیں دی کہ کسی لڑکے نے کسی لڑکی کو اسکی دینداری کی وجہ سے پسند کیا ہو،۔
تو جناب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں دین کی اہمیت کسی درجہ کی بھی نہ ہو ۔ ۔ ۔ وہاں کس قسم کا معاشرہ تخلیق پائے گا۔
واللہ عالم
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (08-09-09), راجہ اکرام (05-09-09), سحر (05-09-09)
پرانا 08-09-09, 02:24 PM   #21
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,246
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مری آرزؤں کی تمہید تم ہو
مرا چاند تم ہو مری عید ہو
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 08-09-09, 02:24 PM   #22
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 26
مراسلات: 2,882
کمائي: 31,246
شکریہ: 3,975
1,161 مراسلہ میں 2,345 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مری آرزؤں کی تمہید تم ہو
مرا چاند تم ہو مری عید ہو
طارق راحیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
پھول, پاک, قدم, نظر, مکمل, ماں, محبت, مسائل،, مسجد, آج, اللہ, بہترین, بچپن, بچوں, تلاش, تحریر, حل, خواتین, خبر, خدا, خصوصی, سفر, عزیز, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 25 03-02-12 09:14 PM
پیار ایک پاکیزہ جذبہ :::آیئےپیار سے جیئیں khanamjan میری ڈائری 5 28-10-11 09:16 PM
مغربی ممالک خیراتی کاموں میں پیش پیش۔ ابن جمال متفرقات 0 07-02-11 02:42 PM
لڑکیو ں‌ کے لئے اسلامی پیارے پیارے نام بتائیں پلیز جان جی گپ شپ 1 20-08-08 09:56 PM
ہند و پاک میں بھائی چارے اور امن کا ایک بڑا قدم رفیع پیر تھیٹر کی پیش کش عبدالقدوس فلمی دنیا 0 27-10-07 10:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger