واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


اسلام کو قابلٍ نفرت بنانے کی ایک سازش

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-09, 07:29 AM  
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اسلام کو قابلٍ نفرت بنانے کی ایک سازش

اِسلام کو قابلِ نفرت بنانے کی عالمگیر مہم ۔ ۔ ۔ این کاؤنٹرٹو

"این کاؤنٹر" ( اسے پیرس ریویو بھی کہتے تھے) دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد دنیا میں کمیونزم کا سب سے بڑا نقیب بن کر طلو ع ہوا۔ آفسٹ پیپر پر جدید ترین پرنٹنگ سسٹم کے تحت شائع ہونے والا یہ رسالہ پیرس کی بندرگاہوں، ایئرپورٹس اور ریلوے اسٹیشنوں سے نکلتا اور پھر چند ہی روز میں دنیا بھر کے ٹی ہاؤسز، کافی شاپس اور شراب خانوں میں پہنج جاتا، جہاں نہ صرف اس کی ایک ایک سطر کو الہام سمجھ کر پڑھا جاتا بلکہ ایمان کا درجہ دے کر اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا جاتا۔ یہ سچ ہے کہ اگر ہم مار کسی نظریات، مارکسزم کے پیروکاروں کے حلیوں اور ان کے متشدد نظریات کے تاریخ کھود کر نکالیں تو ہمیں "این کاؤنٹر" ہی ملے گا، جس نے پوری دنیا میں بھوک کو مضبوط ترین فلسفہ بنا دیا۔ یہ این کاؤنٹر ہی تھا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے بال بڑھا لئے، غسل کرنے کے عادت ترک کر دی، مارکسی لٹریچر کو مقدس سمجھ کر ایک ایک لفظ رٹ لیا، بیویوں کو طلاقیں دے دیں اور بچوں کو "ان امیروں کو لوٹ لو" کا درس دینا شروع کر دیا۔

رسالے کے پیچھے کروڑوں روبل تھے، دنیا کے ذہین ترین مار کسی دماغ تھے، ماہر صحافی تھے، انتہائے زیرک نقاد اور دانشور تھے، لہذا اس دور میں اس سے بڑھ کر معیاری، جامع اور پراثر جریدہ دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ معیار کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سپیڈر، آڈن اور مارلو جیسے دانشور اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی مجلس ادارت تھی، جو دنیا بھر سے موصول ہونے والے مضامین، تجزیوں اور تبصروں کا کڑی نظر سے جائزہ لیتی، انہیں مار کسے کسوٹی پر پرکھتی، زبان و بیان کے غلطیوں کی نشاندہی کرتی، اعداد و شمار اور حقائق کی صحت کا اندازہ لگاتی۔ تسلی کے بعد یہ مضامین سیلف ڈیسکوں پر چلے جاتے، جہاں اپنے وقت کے ماہرین ان کا انگریزی میں ترجمہ کرتے، ان کی نوک پلک سنوارتے۔ اس کے بعد ایک اور شعبہ اس ترجمے کا جائزہ لیتا، اس میں پائی جانے والی جھول، سقم اور لفظی کوتاہیاں درست کرتا۔ آخر میں جب اشاعت کا مرحلہ آتا تو انتظامیہ انگریزی ٹیکسٹ کے ساتھ ساتھ اصل متن ( جو مختلف زبانوں میں ہوتا) بھی چھاپ دیتی، تاکہ اگر ترجمے میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو قارئین اصل مضمون دیکھ کراسے درست کر لیں۔ اس کڑے معیار، انتخاب اور عرق ریزی کے باعث ناقدین "این کاؤنٹر" کو کمیونزم کی ترویج میں وہ مقام دیتے تھے جو شاید کارل مارکس اور لینن کو بھی نصیب نہیں تھا۔

لیکن قارئین کرام! المیہ دیکھئے "این کاؤنٹر" کی اشاعت کے دس پندرہ برس بعد انکشاف ہوا کہ جسے دنیا کمیونزم کی بائبل سمجھ رہی تھی، دراصل سی آئی اے کا منصوبہ تھا اور امریکی خفیہ اِدارے کے ہیڈ کوارٹر کے ایک چھوٹے سے کمرے سے ڈپٹی سیکرٹری رینک کا ایک امریکی، دو کلرک اور ایک چپڑاسی چند فائلوں، ٹیلکس کے چند پیغامات اور کچھ خفیہ ٹیلیفون کالز کے ذریعے برسوں تک پوری اشتراکی دنیا کو بیوقوف بناتے رہے، ان کے نظریات میں زہر گھولتے رہے، یہاں تک کہ کمیونزم کے ٹارگٹ ممالک میں مقامی سطح پر کمیونزم کے خلاف مزاحمت شروع ہو گئی۔

عرصے بعد جب این کاؤنٹر پراجیکٹ کا چیف، ثقافتی یلغار کے ایک سیمینار میں شرکت کے لئے پیرس گیا تو شرکاء نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔ بوڑھے ریٹائرڈ امریکی نے ہیٹ اتار کر سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر جھک کر سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پوچھنے والوں نے پوچھا "سر! آپ نے یہ سب کچھ کیسے کیا؟" بوڑھا امریکی مسکرایا اور پھر مائیک کو انگلی سے چھو کر بولا: "ینگ میں ویری سمپل، ہم نے کمیونزم کو اتنا کڑا، سخت اور غیر لچک دار بنا دیا کہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہی نہ رہا"۔ ایک اور نوجوان اٹھا اور بوڑھے سے مخاطب ہو کر بولا: "لیکن جریدے کے سارے منتظمیں تو کمیونسٹ تھے اور جہاں تک ہماری معلومات ہیں، سی آئی اے کا ان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا"۔

بوڑھے نے قہقہ لگایا اور پھر دوبارہ مائیک کو چھو کر بولا: "نوجوان ہاں، ہمارا این کاؤنٹر کی انتظامیہ، اس کے ایڈیٹوریل بورڈ اور اس کے کمیونسٹ ورکرز سے کوئے تعلق نہیں تھا، لیکن دنیا کے مختلف کونوں سے این کاؤنٹر تک پہنچنے والے مضامیں تو ہم لوگ ہی لکھواتے تھے"۔ ایک اور نوجوان کھڑا ہوا اور بوڑھے کو ٹوک کر بولا: "لیکن اس سے کیا ہوتا ہے؟" بوڑھا آہستہ سے مسکرایا اور پھر مائیک چٹکی میں پکڑ کر بولا: "بہت کچھ ہوتا ہے، ینگ مین! تم خود فیصلہ کرو، جو بائبل ایسے احکامات دے جو انسانی فطرت سے متصادم ہوں، جو انسان کو آزادی سے سوچنے، بولنے اور عمل کرنے سے روکتے ہوں، جو لوگوں کو بدبودار کپڑے پہننے، شیو نہ کرنے، دانت گندے رکھنے، اور گالے دینے کا درس دیتی ہو، وہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہو گی؟ ہم نے یہی کیا۔ این کاؤنٹر کے پلیٹ فارم سے اشتراکی نظریات کے حامل لوگوں کو بے لچک، متشدد اور سخت مؤقف کے حامل افراد ثابت کر دیا جس کے بعد تیسری دنیا میں ان لوگوں کے خلاف مزاحمتی تحریکیں اٹھیں اور ہمارا کام آسان ہو گیا"۔ یہاں پہنچ کر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ بوڑھا نشست سے اٹھا، دوبارہ ہیٹ اتار کر ہوا میں لہرایا، سینے پر ہاتھ رکھا اور سٹیج کے اداکاروں کی طرح حاضرین کا شکریہ ادا کرنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں جب بھی محفلوں میں "پڑھے لکھے" خواتیں و حضرات کے منہ سے علماء کرام کے خلاف "فتوے" سنتا ہوں، نوجوانوں کو اسلام کو (نعوذ باللہ) قدیم، فرسودہ اور ناقابلِ عمل نظام قرار دیتے دیکھتا ہوں، شائستہ، خاموش طبعہ اورذکر اللہ سے جھکے ہوئے لوگوں کو "مولوی" کے نام سے مخاطب ہوتا دیکھتا ہوں، ہاں! میں جب مسجد کے سامنے کلاشنکوف بردار گارڈ دیکھتا ہوں، مختلف مذہبی رہنماؤں کو کیل کانٹے سے لیس باڈی گارڈز کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ اخبارات، رسائل و جرائد کی پھیلائی ڈس انفارمیشن پرمدرسوں کے معصوم بچوں کو سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے دیکھتا ہوں، تو میں سوچتا ہوں کہیں سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کے کسی کمرے میں بیٹھا کوئی ڈپٹی سیکرٹری، دو کلرک اور ایک چپڑاسی چند فائلوں، ٹیلکس کے چند پیغامات اور ٹیلی فون کی کچھ کالز کی مدد سے اسلام کو اسلامی دنیا میں اجنبی بنا رہے ہوں، اسے فرسودہ، ناقابلِ عمل اور انسانی فطرت کے خلاف نظام ثابت نہ کر رہے ہوں؟

قارئین کرام! اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو آپ مجھ سے پورا اتفاق کریں گے کہ اسلام کے خلاف جتنی نفرت اسلام کے ذریعے پھیلائی گئی، مولوی کو جتنا مولوی کے ذریعے ناقابلِ برداشت بنایا گیا، مدرسے کو مدرسے کے ذریعے جتنا قابلِ نفریں ثابت کیا گیا اور مسجد کو مسجد کے ذریعے جتنا بدنام (نعوذ باللہ) کیا گیا، اتنا پچھلے دو تین سو برسوں میں یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے بیانات، خطبات اور تحریروں نے نہیں کیا۔

یقین کیجئے، جب کوئی نوجوان بڑی نفرت سے کہتا ہے یہ "مولوی" تو فوراً میرے دماغ میں ایک بوڑھے امریکی کی تصویر اُبھر آتی ہے، جو مائیک کو چٹکی میں پکڑ کر کہتا ہے " ویری سمپل، ہم نے اسلام کو اتنا کڑا، سخت اور غیر لچک دار بنا دیا کہ وہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہی نہ رہا" اور بوڑھا کہتا ہے: " ہم نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ جس مذہب میں ایک مولوی دوسرے مولوی کے پاس بیٹھنے کا روادار نہیں، وہ مذہب جدید دنیا کے انسانوں کے لئے کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم نے ثابت کر دیا کہ جو لوگ معمولی سا اختلاف برداشت نہیں کرسکتے، اپنی مسجد میں کسی دوسرے مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے، وہ جمہوری روایات کی پاسداری کیسے کرسکتے ہیں؟ ہاں ہم نے ثابت کر دیا کہ مسلمان پتھر کے زمانے کے لوگ ہیں، جو ہر سوال کا جواب پتھر سے دیتے ہیں"۔

ہاں، رات کے آخرے پہر جب گلی کی ساری بتیاں کہر کی چادر اوڑھے سو چکی ہیں، میں سوچ رہا ہوں کہ عالم اسلام میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جو "این کاؤنٹر پراجیکٹ ٹو" کی فائل پڑھ سکے۔

(جاوید چودھری)
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (13-05-09), فیصل ناصر (13-05-09), پاکستانی (16-05-09), منتظمین (13-05-09), ماسٹر مقسود (14-05-09), ابو عمار (01-12-09), ابن آدم (13-05-09), حیدر (30-11-09), حیدر Rehan (28-05-09), حسنین ایوب (31-08-09), خرم شہزاد خرم (14-05-09), راشد احمد (14-05-09), رضی (10-06-09), سحر (14-05-09), عبداللہ حیدر (14-05-09)
پرانا 28-05-09, 04:37 PM   #16
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ تعالٰی کا شکر ھے اور اس کالم سے ثابت ھوتا ھے کہ اسلام ویسا نہیں ھے جیسا ہمیں ہمارا "میڈیا" دکھا رہا ھے،اسلام کو سمجھنے کے لئیے اہل علم کی رہنمائی کی ضرورت ھوتی ھے نہ کہ ٹی وی اور انٹرنیٹ کی،اسلئیے میری تمام مسلمان بھائی بہنوں سے درخواست ھے کہ اسلام کو مسلمان علماء کرام سے سمجھیں مثلا توحید،نماذ،روزہ،حج،ذکوٰتہ ،جہاد، وغیرہ وغیرہ،
جزاک اللہ
sahj
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (29-05-09), ابو عمار (01-12-09), رضی (10-06-09)
پرانا 28-05-09, 05:22 PM   #17
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,455
کمائي: 45,606
شکریہ: 5,921
1,797 مراسلہ میں 4,231 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی سوچ ہے ، جاوید چودھری واقعی عجیب انداز سے سوچتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں جو ہم سوچ بھی نہی سکتے ، ،
واقعی اسلام کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا، ، جو یہودی اسلام میں داخل ہوئے انھوں نے اسلام کی صورت چھپادی
اور لوگ ایک دوسرے کا گلہ کاٹتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ، ، کون جانے ، کون کیا تھا ، ، ،
مگر یہ سچ ہے کہ اکثریت یہودیوں کی کبھی اسلام نہی لائی ، ، اور اج بھی ایسا ہی ہے لیکن ہم پہلے یہ نہی سوچ سکے کیونکہ ہم تالیاں بجانے والے ہیں ، ، ، سوچنے والہ کوئی نہی ، ،
حیدر Rehan آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (29-05-09), راشد احمد (29-05-09)
پرانا 10-06-09, 04:02 AM   #18
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,495
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس تحریر کو میں نے کافی دنوں پہلے پڑھا تھا دراصل زیادہ لمبی تحریر ھونے کی وجہ سے پیج سیو کر لیا تھا اور بعد میں پڑھا تھا اس لیئے تبصرہ نہیں کر پایا تھا آج پھر نظر سے گزری۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دشمن کے عزائم اچھے نہیں مگر دین اسلام کی ایک خاص بات ہے کہ اسلام کہیں پرغالب آئے یا مسلمانوں پر کوئی غالب آئے یہ دین اپنا رنگ ضرور چھوڑتا ہے آپ دیکھ لیں یورپ وغیرہ میں ۔ اسلام کو ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔
__________________

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (10-06-09), ام غزل (10-06-09)
پرانا 31-08-09, 07:19 AM   #19
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,058
کمائي: 18,801
شکریہ: 1,695
619 مراسلہ میں 1,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللہ ہمیں محفوظ رکھے ابن ابلیس امریکہ سے
حسنین ایوب آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 30-11-09, 11:22 PM   #20
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,046
کمائي: 75,215
شکریہ: 50,011
10,107 مراسلہ میں 31,957 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی جاوید چوہدی نے بہت ہی بہترین مضمون لکھا ہے۔ اور اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔میں ذاتی طور پر خود اس نظریے کا حامی ہوں کہ پاکستان میں اسلام کے موجودہ علمبردار حقیقت میں "کٹھ پتلیاں" ہیں۔ یہ کٹھ پتلیاں اپنے تئیں خود کو آزاد اور زندہ سمجھتی ہیں لیکن در حقیقت کسی کے اشارے پر چلتی ہیں۔
لیکن محض سی آئی آے پر الزام دھر دینا مناسب نہیں۔ پہلے ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔ وہ کیا شعر ہے کہ
ادھر ادھر کی نہ بات کر مجھے یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلا نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
ان کا کام تو ہے ہی ہم سے دشمنی کرنا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ یہود و ہنود و نصاری تو پہلے بھی ہمارے دوست نہ تھے جب ہم ترقی کی بام عروج پر تھے۔سازشیں تو تب بھی انکو عروج پر تھیں جب ہم فتوحات پر فتوحات کرتے جا رہے تھے۔ لیکن اج کیوں انکی کوششیں و سازشیں کامیاب ہوتی جا رہی ہیں؟
مجھے جو واحد وجہ سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ ہم نے علوم قرانی کو چھوڑ کر علوم یونانی کو اختیار کر لیا ہے۔یاد کیجیے کہ جب سقوط بغداد ہوا تو اس وقت کے مسلمان مشہور یونانی فن "علم الکلام"میں مستغرق تھے اور اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں یا قرآن مخلوق ہے یا نہیں وغیرہ۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال سقوط غرناطہ کے وقت تھی اور شاید کچھ زیادہ بڑھ کر سقوط دہلی کے وقت۔
تب ہم اصل قرانی مقاصد بھلا کر ایسے فضول مباحث میں مشغول تھے جن کا نا کوئی دنیاوی فائدہ تھا نہ دینی۔
وہ تمام سازشیں نہ تو کسی سی آئی اے کی پیداوار تھیں نہ کسی موساد کی ذہن رسا۔ وہ ہماری اپنی غلطیاں تھیں۔ آج بھی جو کچھ سوات، وزیرستان وغیرہ میں ہو رہا ہے یہ سب ہمارے اپنے اعمال ہیں جو ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ وہ کھیتی ہے جو ہم نے برسوں قبل بوئی تھی اور پھر ہل چلانا بھول گئے تھے جس کے نتیجے میں وہاں فصل کے بجائے خار دار جھاڑیاں اور درخت اگ آئے ہیں۔
سی آئی آے یا امریکہ کو مطعون کرنے کے بجائے ہمکو خود کو تبدیل کرنا چاہیے۔ ورنہ یہ جھاڑیاں اور کانٹے ہمارے راتے میں آتے رہیں گے اور ہمارا جسم لہو لہان ہوتا ہی رہے گا۔
حیدر آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فورم, فارم, لوگ, نفرت, منصوبہ, مسجد, آج, ایمان, انتظامیہ, اجنبی, اسلام, اسلامی, بچوں, تحریر, ترک, تصویر, جواب, جاوید چودھری, حضرات, خلاف, دل, شخص, صحافی, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger