واپس چلیں   پاکستان کی آواز > عمومی بحث و مباحثہ > عمومی بحث



عمومی بحث روز مرہ کی بحث کے لئے یہ سکشن الگ کیا گیا ہے اس میں آپ کسی بھی موضوع پر بات کر سکتے ہیں جس کا کوئی سکشن نہیں ہے


پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-05-09, 02:00 PM  
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,556
شکریہ: 20,498
4,943 مراسلہ میں 14,619 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی

جرم سے پہلے کبھی قانون نہیں ببن سکتا جب جرم ہوتا ہے تب اس ملک کےحکمران اس کی روک تھام کےلئے قانون بناتے ہیں پاکستانمیں جرم ہونے کے بعد جب وہ یا تو کئی انسانوں کی جانیں لے چکا ہوات ہے یا معاشرے کو تباہی کی طرف جا چکا ہوات ہے تو قانون بنتا ہے بیرون ملک رہنے والوں سے جب ہماری بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جب بھی کوئی دشواری پیش آتی ہے تو وہ فوری پولیس سے رابطہ کرتے ہیں جو نہ صرف ہمیں مدد فراہم کرتی ہے بلکہ تسلی کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر بھی آخری وقت تک ساتھ دیتی ہے
پاکستان میں شریف شہری کو اگر پولیس سے صرف ایک گھنٹہ کا واسطہ پڑجائے تو وہ اپنی نسلوں کو بھی ان سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے یہاں پولیس والے کو دیکھ کر شہری مزید خوفزدہ اور خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں
اگر کسی کے ہاں چھوٹی موٹی چوری ہوجائے یا کوئی حادثہ ہو جائے تو کہا جات ہے کہ تھانے جانے سے مزید مال جائے گا بار بار تفتیشی آئے گا یا پھر فون پر بلا کر گھنٹوں تھانے بیٹھا دے گا جو کسی اذیت سے کم نہین اگر حادثاتی طور پر کوئی مجرم پکڑا جائے تو پولیس والے اسے شرفا کے گھروں میں لے جا کر نشاندہی کرانے کے ساتھ ساتھ پورے اہل خانہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہیں ہمارے ہاں ایک مزاحیہ مثال دی جاتی ہے کہ اگر کسی ”ہاتھی“کو تھانے لے جا کر اس پر بغیر سوچے سمجھے لاتوں مکوب اور فحش گالیوں کی بارش کی جائے تو وہ بھی کہے گا کہ میں ہاتھی نہیں بکرا ہوں

اگر کوئی شریف شہری پکڑا جائے تو اسے تھانیدار کے خفیہ سیل میں رکھا جاتا ہے پولیس کے مخبر کی اطلاع پر کہ اس شہری کے ورثاء عدالت سے رجوع کر رہے ہیں تو اس شہری کو دوسرے تھانے میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ عدالتی بیلف کی آمد پر تھانے سے برآمدگی نہن ہوسکے بات یہی ختم نہں ہوتی شریف شہری کے پکڑے جانے پر ورثاء یا چھوٹی موٹی سیاسی شخصیت کسی اعلی افسر سے رابطی کرتی ہے تو ٹیلی فون سننے والا پوری بات سن کر کہتا ہے کہ ”صاحب“ میٹنگ میں ہیں نہ جانے کب فارغ ہوں گے اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات تو کئی دن چلتا رہتا ہے آخر شریف شہری کے ورثاء جو اذیت کاٹ رہے ہوتے ہیں مک مکا پر مجبور ہوجاتے ہیں اس طرح پولیس کی تنخواہ کے علاوہ ان کی اوپر کی کمائی ہزار گناہ زیادہ ہوجاتی ہے مراعات کی بات پر یاد آیا کہ کبھی کسی حکمران ،سیاستدان،وڈیرے نے توجہ دی ہے کہ انسپکٹر،سب انسپکٹر اے ایس آئی حوالدار یا سپاہی کی تنخواہن سے زیادہ اس کا رہن سہن ہے تنخواہ تو الگ ایک معمولی سپاہی کے پاس بھی گاڑی ہے گھر اگر اپنا نہیں تو اسکی تنخواہ کے برابر کرایہ پر ضرور ہے
یہاں یہ بات بھی مانی جاتی ہے کہ پولیس کے محکمہ میں خاندانی افراد بھی موجود ہیں جنکی زمین جائیداد بہت ہے تو وہ آٹےمیں نمک کے برابر ہیں ہمارے ملک میں بہت سے ایماندار ،ذہین اور اعلی کردار کے مالک پولیس افسران اب بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے محکمہ پولیس کا نام روشن ہے ایسے ہی ایک اعلی کردار کے مالک ایک SP صاحب ہیں جن کے نام کے ساتھ ”امام“ آتا ہے نے ایک روایت قائم کی تمام تھانیداروں کے ساتھ کام کرنے والے کارخاص ختم کر دیئے ان کا موقف تھا کہ یہ کارخاص اصٌ خرابی کی جڑ ہیں ان کے‌ذریعے معاملات طے ہوتے ہی‌یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلا ایس پی کی ٹرانسفر ہوئی سلسلہ پھر شروع ہو گیا
اسی طرح ایک ایس پی الحاج عمر فاروق بھٹی تھے جن کی پوسٹنگ لاہور میں تھی اور ہارٹ اٹیک ہونے وہ وفات پاگئے مرحوم سے میرا بہت اچھی دوستی تھی اور یہ میرٹ پر فیصلہ کرتے تھے ان کا قول تھا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے عمر فاروق بھٹی کام کام بس کام کا مشن لئے ہوئے تھے
بات ہو رہی تھی کارخاص کی تو یہ علاقے کئ سیاہ و سفید کے مالک ہوتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اکثر ایماندار پولیس افسر یا اہلکار نے‌آج تک وردی نہیں پہنی پھر ہمارے حکمران اور پولیس والے کہتے ہیں کہ
”پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی“
دوستون آپ کو یاد ہو گا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک ڈرامہ ””اندھیرا اجالا““ کے نام سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا
جس میں جمیل فخری ہوشیارترین ایس ایچ او اور حوالدار عرفان کھوسٹ جو تھانہ کا محرر تھا انتہای سادہ شخصیت کا مالک ہوتا ہے ہمارے معاشرے میں بھی ایسے کردار موجود ہیں بہت سے پولیس کے ایماندار افسران اور اہلکار اس معاشرے کو سدھارنے میں لگے ہوئے ہیں صرف چند کالی بھیڑوں اور گندی مچھلیوں نے معاملی خراب کر رکھا ہے اگر ہمارے سیاستدان پولیس کو اپنے مخصوص مقاصد کےلئے استعمال نہ کریں اور قانون کی وردی میں چھپا بھیڑیا پکڑا جائے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جائے تا کہ معاشرہ درست سمت کی طرف بڑھ سکے اس کےلئے‌حکومت کو بھی پولیس ملازمین کی ضروریات اور ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیئے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی حکومت آنے کی گفتگو ہوری تھی اور میں نے بہت سے پولیس افسران کو دیکھا اور کہتے سنا کہ بندے دے پتر بن جائو وزیر اعلی معاف نئی کرنا کسے نوں وی
اور وزیر اعلی کا منصب سنبھالنے کے بعد موجودو وقت میں انہوں نے پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ ضرور کیا ہے تا کہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات کےلئے رشوت نہ لیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ایک شکایت سیل قائم کیا گیا مگر محترم وزیر اعلی صاحب پنجاب کی عوام آپ سے اپیل کرتی ہے کہ تھانوں میں چھاپے مارنے کا سلسہ جاری رکھیں اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے
اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
16 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
arshad khan (09-05-09), فیصل ناصر (09-05-09), فرحان دانش (27-06-10), منتظمین (09-05-09), ماہی (18-06-09), محمدخلیل (09-05-09), مرزا عامر (27-06-10), yashaka (10-05-09), ایم آصف (26-06-10), ام غزل (09-05-09), تانیہ رحمان ستارہ (09-05-09), حسنین ایوب (03-09-09), راشد احمد (10-05-09), رضی (11-05-09), طارق راحیل (19-05-09), عدنان دانی (26-06-10)
پرانا 11-05-09, 06:35 PM   #16
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 1,305
کمائي: 37,743
شکریہ: 245
1,034 مراسلہ میں 3,112 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پولیس آپ کی ھر حال میں مدد کرے گی

مگر اس کے لیے پہلے آپ کو پولیس کی مدد کرنی پڑے گی

سمجھے یا نہیں سمجھے ؟؟؟
Haya 786 آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Haya 786 کا شکریہ ادا کیا
ماہی (18-06-09), مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (12-05-09), ام غزل (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 11-05-09, 06:40 PM   #17
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,957
کمائي: 276,389
شکریہ: 33,147
12,651 مراسلہ میں 36,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پولیس کا ہے فرض مدد آپکی
کریں پاکٹ سے ان کی مدد آپ بھی
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ماہی (18-06-09), مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (12-05-09), ام غزل (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 11-05-09, 06:47 PM   #18
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مراسلات: 832
کمائي: 8,508
شکریہ: 409
260 مراسلہ میں 393 بارشکریہ ادا کیا گیا
yashaka کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں yashaka کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی اب تو پولیس والوں کی تنخوہ ڈبل ھو گئی ھے
yashaka آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے yashaka کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (12-05-09), ام غزل (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 11-05-09, 07:01 PM   #19
ناظم اعلی

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,957
کمائي: 276,389
شکریہ: 33,147
12,651 مراسلہ میں 36,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سندھ پولیس کی نہیں ہوئی
فیصل ناصر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (12-05-09)
پرانا 12-05-09, 01:09 PM   #20
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,556
شکریہ: 20,498
4,943 مراسلہ میں 14,619 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حیا جی آپ نے فرمایا کہ پولیس مدد کرتی ہے
مگر واضح کرتا چلوں کہ اس محکمہ میں گو کہ اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے مگر مدد کا سوال اس محکمہ سے ایک عجیب سا لگتا ہے

جب کسی شہری کے ساتھ کوئی مسلئہ ہوتا ہے تو وہ 15 یعنی پولیس کنٹرول کو آگاہ کرتا ہے اور موقع پر پہنچنا پولیس کہ ذمہ داری ہے مگر جب بھی آپ کا تھانہ جانا ہو تو اندازہ ہو گا کہ مدد کس چڑیا کا نام ہے یہاں متعدد افراد کا پولیس سے واسطہ پڑتا ہو گا کسی کا لڑائی جگڑے میں کسی کو موٹر سائیکل چھڑوانے میں وہ آپ کو بتا سکتے ہین کہ پولیس کی مدد کیسی جا سکتی ہے علاوہ ازیں تنخواہ ڈبل ہوجانے کے باوجود پولیس اپنے روایتی ہھتکنڈوں سے باز نہیں آ سکتی
میرا روزانہ ان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ لوگوں کو تھانہ کچہری اور سرکاری ہسپتالوں سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-05-09), منتظمین (19-05-09), ماہی (18-06-09), مرزا عامر (03-07-10), ام غزل (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 19-05-09, 03:23 AM   #21
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,693
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم جی بات یہ ہے کہ ہماری پولیس کو تنخواہ کتنی ملتی ہے اس لیے بس وہ اتنی مدد کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ کا ان کو کوئی شوق نہیں میٹرک پاس بچارہ پولیس والا
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
ماہی (18-06-09), مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 19-05-09, 10:33 AM   #22
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,556
شکریہ: 20,498
4,943 مراسلہ میں 14,619 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ستارہ مراسلہ دیکھیں
انجم جی بات یہ ہے کہ ہماری پولیس کو تنخواہ کتنی ملتی ہے اس لیے بس وہ اتنی مدد کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ کا ان کو کوئی شوق نہیں میٹرک پاس بچارہ پولیس والا
بہت شکریہ ستارہ جی آپ کا اسی لئے آپ کو عہد صدارتے پر فائز کرنے کا سوچا جارہا ہے مگر
جناب ایک پولیس انسپکٹر کی تنخواہ 28ہزار ہے اور جب وہ کسی تھانہ میں ایس ایچ او تعینات ہوتا ہے تو 10 ہزار کا اضافہ ہوتا ہے اسی طرح پولیس کانسٹیبل کی تنخواہ 12ہزار روپے ہے اس میں اب ھکومت پنجاب نے اضافہ کرتے ہوئے ہر اہلکار کی تنخواہ کو ڈبل کر دیا ہے اور میٹرک پاس صرف پولیس کانسٹیبل ہوتا ہےمگر بےچارہ نہیں میرے کئی ایسے ملنے والے ہیں جو تنخواہ کے علاوہ اوپرئی کمائی سےکا آپ اندازہ کر لو
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
ماہی (18-06-09), مرزا عامر (03-07-10), ام غزل (19-05-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 27-06-09, 10:34 AM   #23
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السّلام علیکم انجم بھائی!
آپ نے بالکل صحیح موضوع چنا ہے پنجاب کی پولیس کے لیے تو خیر خواہ حکومت پنجاب ہے لیکن یہاں سندھ پولیس کی حالت بہت خراب ہے ابھی کچھ عرصے پہلے مئی میں وزیرِ اعلٰی سندھ نے سندھ پولیس کی تنخواہیں بڑانے کا ناٹکی ڈھنگ سے اعلان کیا تھا لیکن تنخواہیں نہیں بڑھیں اور وہ اعلان صرف اعلان ہی رہا پولیس میں موجود کافی ساری کالی بھیڑیں تو سیاسی پارٹیوں کی ناجائز بھرتیاں ہیں جن کی وجہ سے 8 سے دس سال تک کا عرصہ ایک اے ایس آئی کو لگتا ہے سب انسپکٹر بننے میں اور بندے کی ریٹائرمنٹ کی نوبت آجاتی ہے کیوں ہمارے سیاستدان پولیس کے محکمے کو آرمی کی طرح خودمختار نہیں ہونے دیتے اس لیے کہ یہ سب پولیس کے ڈنڈے کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں تا کہ وقت پڑھنے پر اپنے مخالف کے خلاف استعمال کر سکیں سب یہ کہتے ہیں کہ جوڈیشری ایک اہم ستون ہے صحافت ایک اہم ستون ہے جمہوریت ایک اہم ستون ہے کوئی یہ نہیں کہتا کہ قانون بھی ایک اہم ستون ہے جس کو آزاد ہونا چاہیے جب تک قانوم آزاد نہیں ہو گا ان تمام ستونوں کی آزادی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا باہر ممالک میں پولیس کا محکمہ آزاد ہے وہاں کے ایک سپاہی کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملک کے پریذیڈنٹ کو قانون توڑنے پہ اریسٹ کر سکتا ہے کیا ہمارے ملک کے کسی بھی صوبے کے سپاہی کو یہ اختیار ملا؟ نہیں ملا ۔ حالانکہ قانون میں اس کی اجازت ہے ضابطہ فوجدرای کی دفعہ 54 کے تحت ایک پولیس کے سپاہی سے لے کہ آئی جی تک پاکستان کے کسی بھی شہری کو چاہے اسکا تعلق کسی بھی محکمے سے ہو یا چاہے وہ صدر یا وزیر اعظم یا کوئی بھی شخصیت ہو قانون کہ توڑنے پہ گرفتار کر سکتا ہے لیکن کیا ایسا ہوا ہے نہیں ایسا نہیں ہوا ابتک پولیس والوں کو تو میڈیکل کی سہولت بھی دستیاب نہیں یہاں سندھ میں۔ جبکہ ہماری آرمی ایئر فورس نیوی کے اہلکاروں کے لیے بہترین سہولیات ملے ہیں لیکن پولیس کا محکمہ کیوں محروم ہے ان سہولیات سے ہم عوام یہ تو کہتے ہیں کہ پولیس والے رشوت لیتے ہیں بھتہ لیتے ہیں اگر حکومت کی جانب سے صحیح توجہ اس محکمےکو ملے گی تو انشاء اللہ یہ سب برائیاں ختم ہو جائیں گی آج کرپشن میں پولیس کا محکمہ نمبر ون پر ہے تو انشاء اللہ مناسب توجہ ملنے پر اس محکمے میں بھی سدھار آئے گا آج سندھ پولیس کا ایک افسر 10 ہزار تنخواہ لے رہا ہے تو پنجاب پولیس کا وہی افسر 25 ہزار تنخواہ لے رہا ہے اس میں قصور کس کا ہے آپ خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں!
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-07-10), ایم آصف (26-06-10), ایس اے نقوی (03-09-09), حسنین ایوب (03-09-09)
پرانا 27-06-09, 10:35 AM   #24
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ڈبل ریپلائی ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Last edited by مباح; 27-06-09 at 10:39 AM.
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مباح کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (03-09-09)
پرانا 03-09-09, 01:44 AM   #25
Senior Member
 
حسنین ایوب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 1,057
کمائي: 18,768
شکریہ: 1,692
618 مراسلہ میں 1,240 بارشکریہ ادا کیا گیا
حسنین ایوب کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھا لکھا ہے شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
حسنین ایوب آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسنین ایوب کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (03-07-10), ایس اے نقوی (03-09-09)
پرانا 26-06-10, 01:08 PM   #26
Junior Member
اجنبی
 
ایم آصف's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: بھاولپور
مراسلات: 23
کمائي: 538
شکریہ: 28
22 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام و علیکم دوستو آپ سب کے نیک خیالات پڑھے شروع میں‌ تو لگتا ھے کہ اس قالم میں صرف پولیس کی برائیو ں پر ھی بحث ھونے والی ھے مگر آھستہ آھستہ کچھ خیالات بدلے بحر حال ایس اےنقوی صاحب آپ اس بات سے انکار نھیں کر سکتے کہ اگر پولیس میں کچھ لوگ بطور قالی بھیڑیں ھیں تو معافی پریس رپوٹر کے پاس بھی نھیں یہ بھی اپنے آپ کو ھر قانون سے بالا سمجھتے آپ ھی بتائیں پولیس کو قانونی طریقے سے تفتش کرنی چائیے یاں کہ ھر مجرم کو میڈیا کے سامنے کرسی پر بیٹھا کر منت کر کے پوچھنا چایئے کہ بھیا بتاو آپ نے فلاں بندے کو نقصان پہنچایا یا نھیں ۔ اور یہ بھی کہ پولیس کو اپنے کام میں جتنی مداخلت ھو گی پولیس دلبردشتہ ھوگی اور ملزمان کھلے عام واردات کریں گے ایک وقوعہ میں اگر کسی سنیر آفیسر کا حکم ھےکہ آپ نے امن امان کی صورت درست رکھنی ھے تو کیا خیال ھے آگر پریس رپورٹر تخریبی کاروائیاں کرنے والوں کی طرف سے اکر کار سرکار میں رکاوٹ ڈالیں‌ تو کیا مزید حالات خراب نہ ھونگے۔ ھر ادارے کو اپنا کام بغیر کسی دباو کے ایمانداری سے انجام دینے کیے لیئے بھی حالات سازگار چائیے۔ جسیے ایک واقعہ میں مس سانیہ نے بتایا کہ گاڑی ایکسیڈنٹ کرنے فرار ھوگئی آپ کے خیال میں کیا اس بندے نے پولیس کو آسانی سے بتایا کہ میں ایکسڈنٹ کیا مجھے پکڑ کر لے جایئں نھیں ایسا ھر گز نھیں ھوا ھو گا ھان یہ ضرور ھے موقع پر موجود لوگوں نے گاڑی کا نمبر نوٹ کرکے پولیس کو انفارم کیا جس پر گشت آفیسر نے ناکہ بندی کے ذریعے ملزمان کو ٹریس کیا اور مدعی کو انفارم کیا کہ آپ چائیں تو کاروئی ھوگی ورنہ صلاح کمپرومائز کر لیں ۔ کیا خیال ھے پولیس اگر ملزم کو دیکھ کر ان دیکھا کر سکتی تھی نھیں یہ نا تو ڈیوٹی کے ساتھ انصاف ھے نہ ھی مدعی کی شکائت پر ازالہ اور ایک دسرا خوف بھی کہ مدعی نے یا جس شخص نے گاڑی کا نمبر دیکھا وہ بھی افسران کے نوٹس میں لاسکتا ھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ناکہ بندی پوئینٹ کو کراس کرنے پر مطلعقہ آفیسر بھی افیسران کو اور ھر اس شخص کو جواب داہ ھے جس کا اس وقوعہ کے سے کوئی تعلق ھو
ایم آصف آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایم آصف کا شکریہ ادا کیا
Nasiwise (27-06-10), مرزا عامر (03-07-10)
پرانا 26-06-10, 01:20 PM   #27
Junior Member
اجنبی
 
ایم آصف's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: بھاولپور
مراسلات: 23
کمائي: 538
شکریہ: 28
22 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
کیوں ہمارے سیاستدان پولیس کے محکمے کو آرمی کی طرح خودمختار نہیں ہونے دیتے اس لیے کہ یہ سب پولیس کے ڈنڈے کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں تا کہ وقت پڑھنے پر اپنے مخالف کے خلاف استعمال کر سکیں!
دوست آپ کے خیالات سے میں متفق ھوں ساری حقیقت یہی ھے اور اس میں آپ اور میں سب ھی شامل ھیں ھم نوکری کے لئے جائین یاں کسی بھی کام کے لئے متعلقہ محکمہ میں معلومات نہ ھونے کی وجہ سے سفارشی پھلے ڈھونڈتے ہیں اور ھر سفارشی بعد میں مجبور ھوتا ھے کہ سفارش کرنے والے کی چاکری پھلے کرے تو ایمانداری کا رھے گی
ایم آصف آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایم آصف کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (03-07-10)
پرانا 26-06-10, 01:27 PM   #28
Junior Member
اجنبی
 
ایم آصف's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: بھاولپور
مراسلات: 23
کمائي: 538
شکریہ: 28
22 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : تانیہ رحمان ستارہ مراسلہ دیکھیں
انجم جی بات یہ ہے کہ ہماری پولیس کو تنخواہ کتنی ملتی ہے اس لیے بس وہ اتنی مدد کرتے ہیں ۔ اس سے زیادہ کا ان کو کوئی شوق نہیں میٹرک پاس بچارہ پولیس والا
سانیہ جی اب پولیس 1947 والی نھیں رہی جتنے لوگ بھی نئے آرہے ہیں آپ میں سے ھم میں سے ھیں اگر آپ پڑھ لکھ کر یاں آپ کی فیملی میں کوئی پڑھا لکھا ھوگا تو ظاہر سی بات ھے قسمت سے پولیس میں آسکتا ۔ اور پولیس میں کوئی بیدایشی پولیس والے نھین اتے بلکہ میرٹ پر ھر طبقہ کےلوگ آرہے ھیں اس میں بھی کچھ لوگ خاندانی ھیں اور کچھ لوگوں کو ماحول کے مطابق ھی چلنا ھوتا ھے ۔
ایم آصف آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایم آصف کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (03-07-10)
پرانا 26-06-10, 01:53 PM   #29
Junior Member
اجنبی
 
ایم آصف's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مقام: بھاولپور
مراسلات: 23
کمائي: 538
شکریہ: 28
22 مراسلہ میں 32 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ایس اے نقوی مراسلہ دیکھیں
پولیس مدد کرتی ہے
مگر واضح کرتا چلوں کہ اس محکمہ میں گو کہ اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے مگر مدد کا سوال اس محکمہ سے ایک عجیب سا لگتا ہے
جب کسی شہری کے ساتھ کوئی مسلئہ ہوتا ہے تو وہ 15 یعنی پولیس کنٹرول کو آگاہ کرتا ہے اور موقع پر پہنچنا پولیس کہ ذمہ داری ہے

ایس اے نقوی پولیس 15 کنٹرول کا مقصد ھی یہی ھے کہ بزریعہ وائرلیس ھر پولیس اسٹیشن کو انفارم کرتا ھے جو کہ بزریعہ ناکہ بندی تمام افیسران سن کر کاروائی کرتے ھیں 15 پولیس پر موصول پر والی ھر کال جب بزریعہ وائرلیس افیسران کو انفارم کرتی ھے تو پولیس الرٹ ھوکر سرچنگ کرتی ھے اور تمام سنئیر آفیسران کے نوٹس میں وقوعہ اجاتا ھے جب اگر اپ ڈائرکٹ تھانہ یا کسی سنگل افیسر کو بتاتے ھیں تو وہ اپنے ذاتی / سرکاری مصروفیت کے باعث ایگنور کرسکتا ھے یاں اکثر اوقات کھیں دور ھونے کی وجہ سے لیٹ وقوعہ پر پھنچے گااور پھر بھت دیر ھوجاتی ھے اسی لئے ریسکیو 15سنٹر پر ایکٹیو ملازمان کو تعنیات کیا جاتا ھے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں کالر کی پوری بات سمجھ کر متعلقہ افیسران کے نوٹس میں لائے اور متعلقہ پولیس کو جائے وقوعہ پر روانہ کرے پنجاب میں تمام اضلاع کے ریسکیو 15 سنٹرز کی ڈیلی ڈائری بھی ڈسٹرکٹ آفیسران کو پیش کی جاتی ھے جو ھر وقوعہ کے بارے تھانہ جات سے رپورٹ طلب کر کے کاروائی پر نظر رکھتے ھیں
ایم آصف آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایم آصف کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (03-07-10)
پرانا 26-06-10, 02:06 PM   #30
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,061
کمائي: 109,559
شکریہ: 12,495
4,491 مراسلہ میں 15,304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ایم آصف مراسلہ دیکھیں
سانیہ جی اب پولیس 1947 والی نھیں رہی جتنے لوگ بھی نئے آرہے ہیں آپ میں سے ھم میں سے ھیں اگر آپ پڑھ لکھ کر یاں آپ کی فیملی میں کوئی پڑھا لکھا ھوگا تو ظاہر سی بات ھے قسمت سے پولیس میں آسکتا ۔ اور پولیس میں کوئی بیدایشی پولیس والے نھین اتے بلکہ میرٹ پر ھر طبقہ کےلوگ آرہے ھیں اس میں بھی کچھ لوگ خاندانی ھیں اور کچھ لوگوں کو ماحول کے مطابق ھی چلنا ھوتا ھے ۔
السلام علیکم بھائی

میرٹ کی بات نہ کریں بھئی میں نے بھی ٹرائی کیا تھا اور وہاں پر ایک کینڈیڈیٹ نے بتایا تھا کہ میرا بھائی آئی۔جی کے گھر میں کام کرتا ھے اور 5 سال سے وہ آئی۔جی کو میرے لئے کہہ رہا تھا مگر اب 5 سال بعد اس نے میری سفارش کروائی ھے تو بھرتی میں ہو چکا ہوں بس یہاں پر فارمیلٹی کے لئے آیا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ھے جب اے ایس آئی کے لئے 75 ہزار لیتے تھے۔

میرا ایک کزن نے ڈاکٹریٹ کی اور انہی دنوں اس کے شادی کے لئے ایک رشتہ آیا جو بریگیڈیر کی لڑکی کا تھا، گھر والوں نے رشتہ قبول کیا اور اس کے سسر نے اسے کیپٹن ڈاکٹر بھرتی کیا اور اب وہ میجر ھے۔

میری سسٹر ان لاء ایف۔ایس۔سی میں 730 نمبر حاصل کئے تھے اور میڈیکل میں داخلہ کے لئے اپلائی کیا میرٹ 740 کا تھا، داخلہ نہیں ملا اور 1 لاکھ روپے کی فرمائش کی گئی۔


اور پھر یہ قانون بھی ھے گورنمنٹ کا کہ فیلڈ میں آنے کے بعد یہی کہا جاتا ھے میں میرٹ بیس پر ہی بھرتی ہوا ہوں میرٹ کی آپ بات نہ کریں، پاکستان میں میرا خاندان کے بہت سے بندے جس میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں وہ میرٹ میں‌ بھی جانتا ہوں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
کنعان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (03-07-10)
جواب

Tags
color, فرض, پولیس, پاک, پاکستان, لوگ, موبائل, معاشرہ, آدمی, اللہ, الزام, امیر, بہترین, بھائی, تحریر, تعلیم, جواب, حال, حضرات, خوش, خلاف, سال, غزل, صحافت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا “تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“ بچے The Great قہقہے ہی قہقے 1 28-01-11 03:55 PM
نشئی بیوروکریٹ نے پولیس کو جوتے مار کر ایس ایس پی سندھ بدر کرا دیا جاویداسد خبریں 0 28-11-10 06:41 PM
چیف جسٹس کی برہمی پر وکلاءپر پولیس تشدد کی تمام ایف آئی آرز بحال ،بے قابو پولیس کسی کی نہیں سنتی جاویداسد خبریں 0 24-11-10 06:25 PM
پنجاب پولیس کے اشتہار میں بھارتی پولیس کا مونو گرام محمدعمر خبریں 1 19-03-10 09:38 PM
راشد رؤف فرارکیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں2 روز کی توسیع عبدالقدوس خبریں 0 25-12-07 02:43 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger