|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہے-
(سنن دارقطنى: کتاب الحج، حدیث نمبر::2727- (شعب الإيمان للبيهقي، الخامس و العشرين من شعب الإيمان و هو باب في المناسك ، فضل الحج و العمرة حدیث نمبر: 4159- حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے حج کیا پھر میری زیارت کے قصد سے میری مسجد کو آیا تو اس کے لئے دو مقبول حج لکھے جائیں گے۔ (سنن دیلمی – جامع الأحاديث،حدیث نمبر: 21996-
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا | نعیم۔ (04-02-10), مباح (02-02-10), ابو عمار (18-11-09), احمدنواز (19-11-09), حیدر Rehan (07-02-10), طارق راحیل (27-11-09) |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم، بھائی ساھج، ماشاء اللہ آپ آجکل خوب اور مفید پوسٹںگ کر رہے ہیں۔ لیکن ان دو احادیث کے بارے میں مجھے شک ہے کہ یہ صحیح نہیںہیں۔ براہ مہربانی ان کے بارے میںمحدثین کی رائے سے بھی ہمیں آگاہ کیجیے۔
والسلام علیکم |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
السلام علیکم بھائی عبداللہ حیدر میں کوشش کروں گا کہ محدثین کی رائے بھی پیش کرسکوں ، لیکن بھائی میں کم علم انسان ھوں ، باقی آپ سمجھ سکتے ہیں ، والسلام |
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 862
کمائي: 13,859
شکریہ: 1,235
602 مراسلہ میں 1,498 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ ہمیں روضہ اطہر کی حاضری نصیب فرمائے ۔ امین
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے احمدنواز کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم
بھائی عبداللہ حیدر آپ کے توجہ دلانے پر کچھ مواد حاضر خدمت ھے، اپنے مفید مشورے سے رہنمائی ضرور کیجئے کا ، شکریہ زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کا وجوب : زائر روضہ اقدس کو چاہئے کہ حاضری میں خالص زیارت اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیت کرے جیسا کہ امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں فرمایا ہے ، اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جو حج کرے اور میرے وصال کے بعد میرے روضہ کی زیارت کرے تو گویااس نے میری زندگی میں میری زیارت کی- حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنے کتاب "جذب القلوب" میں زیارت روضۂ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ثبوت میں حسب ذیل حدیثیں بیان فرمائی ہیں:۔ (1) من جاء نی زائرا لاتحمله حاجة الازيارتی کان حقا علی ان اکون له شفيعا يوم القيامة- ترجمہ:جو میری زیارت کے لئے اس طرح آئے کہ بجز میری زیارت کے اس کا کوئی اور مقصد نہ ہوتوقیامت کے دن لازماً میں اس کی شفاعت کروں گا۔ ( معجم كبير طبرانی، حدیث نمبر:12971- معجم اوسط طبراني , حدیث نمبر::4704- - مستدرك على الصحيحين: 1747- مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، حدیث نمبر: 5842 جامع الأحاديث ، حدیث نمبر: 21932- الجامع الكبير للسيوطي , حدیث نمبر: 4663- كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال , حدیث نمبر: 3492 (2) من حج البيت ولم يزرنی فقد جفانی(ابن عدی) ترجمہ:جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور پھر میری زیارت نہ کی تو اس نے مجھ سے جفا کی۔ ( جامع الأحاديث: 21997- الجامع الكبير للسيوطي: 4728- كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال: 1236 (3) من حج الی مکة ثم قصدنی فی مسجد ی کتبت له حجتان مبرورتان- ترجمہ:جس نے حج کیا پھر میری زیارت کے قصد سے میری مسجد کو آیا تو اس کے لئے دو مقبول حج لکھے جائیں گے۔ (سنن دیلمی – جامع الأحاديث،حدیث نمبر: 21996- الجامع الكبير للسيوطي،حدیث نمبر: 4727- کنز العمال ،حدیث نمبر: 12370) اور حضرت قاضی عیاض رحمہ اللہ نے اپنی کتاب" شفا ء" میں طبرانی کے حوالہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے ۔ (4) من زار قبری وجبت له شفاعتی- ترجمہ: جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوچکی ہے- (سنن دارقطنى: کتاب الحج، حدیث نمبر::2727- (شعب الإيمان للبيهقي، الخامس و العشرين من شعب الإيمان و هو باب في المناسك ، فضل الحج و العمرة حدیث نمبر: 4159) جامع الأحاديث، حرف الميم، حدیث نمبر: 22304- جمع الجوامع، حرف الميم، حدیث نمبر: 5035- مجمع الزوائد ،ج 4،ص 6،حدیث نمبر:5841- كنز العمال ، زيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم،حدیث نمبر: 42583-) اور ابن عساکر نے تحفۃ الزائر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح روایت کی ہے : ۔ (5) من لم يزر قبری فقد جفانی – ترجمہ:جس نے میرے روضۂ اطہر زیارت نہیں کی اس نے مجھ پر جفا کی ۔ (یہ حدیث مبارک قدرے اختلاف الفاظ سے ( جامع الأحاديث: 21997- الجامع الكبير للسيوطي, حدیث نمبر: 4728- اور كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال: 1236 میں موجود ہے- اور بیہقی نے شعب الایمان میں زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت میں اس طرح روایت کی ہے : ۔ (6) من زارنی متعمدا کان فی جواری يوم القيامة - ترجمہ: جو شخص میری زیارت کے ارادہ سے (مدینہ منورہ ) حاضرہو، قیامت کے دن وہ میرا ہمسایہ اور میری پناہ میں ہوگا ۔ شعب الإيمان للبيهقي , حدیث نمبر: 3994- سنن صغرى للبيهقي , حدیث نمبر: 1818- جامع الأحاديث, حدیث نمبر: 22308- الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 5039- كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال , حدیث نمبر: 12373) (7) ومن سکن المدينة وصبر علی بلا ئها کنت له شهيدا وشفيعا يوم القيامة- ترجمہ: اورجو شخص مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرے اور وہاں کی آزمائش پر صبر کرے توقیامت کے دن میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والاہوں ۔ شعب الإيمان للبيهقي , حدیث نمبر: 3994- سنن صغرى للبيهقي , حدیث نمبر: 1818- جامع الأحاديث, حدیث نمبر: 22308- الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 5039- كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال , حدیث نمبر: 12373) ( ومن مات فی احدالحرمين بعثه الله من الامنين يوم القيامة –ترجمہ: اور جو شخص حرمین شریفین (مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ) میں کسی ایک میں وفات پائے تو اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن امن پانے والوں میں اٹھائے گا۔ شعب الإيمان للبيهقي , حدیث نمبر: 3994- سنن صغرى للبيهقي , حدیث نمبر: 1818- جامع الأحاديث, حدیث نمبر: 22308- الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 5039- كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال , حدیث نمبر: 12373) امام ترمذی اور امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس طرح روایت کی ہے : ۔ (9) من استطاع ان يموت بالمدينة فليمت بها فانی اشفع لمن يموت بها - ترجمہ: جس شخص کے لئے یہ ممکن ہو کہ اس کی موت مدینہ میں ہوتو اس کو چاہئے کہ (وہ مدینہ میں سکونت اختیار کرے یہاں تک کہ اس کی ) موت آجائے اس لئے کہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی (خصوصی) شفاعت کروں گا۔ (جامع ترمذی،حدیث نمبر: 4296- مسند امام احمد،حدیث نمبر: 5566- مصنف ابن ابی شیبہ،باب ما ذكر في المدينة وفضلها، حدیث نمبر:1- معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر: 20277- بیہقی شعب الایمان، حدیث نمبر: 4023- کنز العمال ،حدیث نمبر: 34840) |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,098
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,388 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نور من قبر النبي الأكرم "صلی اللہ علیہ وسلم " سبحان اللہ مسجد نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر کوئی دیکھنا چاہتا ھے اور آڈیو سے الرجی ہو تو آڈیو بند کر کے بھی دیکھ سکتے ہیں ، شکریہ
__________________
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
بھتیجے پہلی قسط کے طور پر بھائی ساھج کی یش کردہ احادیث میں سے پہلی مذکورہ بالا روایت کی تخریج پیش کرتا ہوں، ان شا اللہ بھائی ساھج کی مشقت بھی کم ہو جائے گی ::: یہ مذکورہ بالا روایت سنن الدار قطنی میں بمعہ سند یوں ہے ::: ثنا القاضي المحاملي نا عبيد الله بن محمد الوراق نا موسى بن هلال العبدي عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ((((( مَن زَار قَبري وَجبَت لَهُ شفاعتي ))))) میرے پاس موجود سنن الدار قطنی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبان کے نسخے میں یہ حدیث کتاب الحج /باب المواقیت میں رقم 194 پر ہے ، اس مذکورہ بالا سند میں """ موسی بن ھلال العبدی """ نامی راوی نا قابل اعتماد اور ناقابل حجت قرار دیا گیا ہوا راوی ہے ، اور اسی طرح """ عبید اللہ بن عمر (العمری) """ جسے کبھی """ عبداللہ بن عمر """ بھی لکھا ، کہا جاتا ہے ، بھی ایک ناقابل اعمتاد راوی ہے ، اور امام البیہقی رحمہُ اللہ کی """ شعب الایمان """ میں ساھج بھائی کے لکھے ہوئے حوالے کے مطابق اس روایت کی دو اسناد مذکور ہیں ، 4159 اور4160 ، ان دونوں میں مرکزی راوی یہی دو نوں یعنی """ موسیٰ بن ھلال العبدی """ اور """ عبیدا للہ بن عمر العمری """ ہیں ، ::::::: امام البیہقی رحمہُ اللہ نے ان دونوں اسناد کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ، یعنی روایت رقم 4160 کے آخر میں لکھا """ عن موسى بن هلال عن عبيد الله وسواء قال عبيد الله او عبد الله فهو منكر عن نافع عن بن عمر لم يأت به غيره ::: موسیٰ بن ھلال کے ذریعے (بیان ہوئی) اور اِس نے "عبید اللہ "کے ذریعے بیان کی ، اور ایک ہی بات ہے کہ اگر "عبید اللہ " کہا جائے یا "عبداللہ " ، (بہر حال) یہ عبید اللہ یا عبداللہ (جب ) نافع کے ذریعے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کوئی روایت بیان کرے تو (وہ روایت ) """ مُنکر""" ہوتی ہے """ آیے اب اُس کے بارے میں دیگر اماموں کی بات سنتے ہے جس نے یہ روایت اس """ عبید اللہ یا عبداللہ بن عمر العمری """ سے روایت کی ہے ، یعنی """ موسیٰ بن ھلال العبدی """ ، امام محمد شمس الدین الذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے """ المغنی فی الضعفاء / ترجمہ رقم 6540/من اسمہ موسیٰ / جلد 2 /صفحہ 688 ، میں لکھا """"" موسى بن هلال العبدي البصري عن هشام بن حسان وعبد الله بن عمر قال العقيلي لا يتابع على حديثه وقال ابن عدي أرجو أنه لا بأس به وقال أبو حاتم مجهول ::: موسیٰ بن ھلال العبدی البصری (جو ) ہشام بن حسان اور عبداللہ ابن عمر (العُمری) کے ذریعے روایات بیان کرتا تھا ، اِس (کی کمزوری کو بیان کرتے ہوئے ( اِمام ) العقیلی (رحمہ اللہ ) نے کہا """ اس کی (بیان کردہ) احادیث کی اتباع نہیں کی جائے گی """"" اور (اِمام) ابن عِدی (رحمہُ اللہ ) نے کہا """ میں امید کرتا ہوں کہ اس (کی روایات ) میں کوئی نقصان نہ ہو گا """ اور (اِمام) أبو حاتم (الرازی رحمہُ اللہ ) نے کہا """ مجھول (یعنی اس کے حال احوال اور با اعتماد ہونا نا معلوم ) ہے """"" اور، امام ابن حجر العسقلانی رحمہُ اللہ نے اپنی معروف کتاب """ لسان المیزان / من اِسمہ موسیٰ میں ترجمہ رقم82 / جلد 6/ صفحہ 135، """ میں اس کے بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے جس کا حاصل کلام یہی ہے کہ یہ شخص ناقابل اعتماد اور اس کی روایات نا قابل قبول ہیں ، خاص طور پر اس مذکورہ بالا روایت کے بارے میں کافی مفصل بات کی ہے ، تفصیل جاننے کے لیے اس کا مطالعہ کیا جائے ، پس یہ بات بہت واضح ہو جاتی ہے کہ روایت نا قابل اعتماد روایت ہے ، ان شا اللہ دوسری روایت کی تخریج اگلے مراسلے میں ۔ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,184
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,060 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جواتنے حوالے دیے گئے ہیں کیا سب کا اس بات پر اعتبار تھا کہ یہ حدیث صیح نہیں ہے؟ یا پھر اپنی مرضی کے اعتبار نہ کرنے والوں کو اعتبار کرنے والوں پر ترجیح دی گئی ہے۔
مقصد طنز نہیں بلکہ معاملہ کی وضاحت ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#9 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
""""" مَن حَجَ ثُّم قَصدَنِي فِي مَسجِدي كُتِبت لَهُ حَجتَانِ مَبرُورَتان """"" اس روایت کی سند میں بھی دو ناقابل حجت راوی ہیں ، ایک کا نام """ عیسی بن بشیر """ اور دوسرے کا نام """ أسید بن زید الجمال """ ہے ، امام محمد بن احمد شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ نے اس """ عیسی بن بشیر """ کے ترجمے میں اس روایت کو اور اس روایت کی سند کو بیان کرتے ہوئے لکھا ::: """"" عيسى بن بشير لا يدري من ذا وأتى بخبر باطل فقال إسحاق بن سيار النصيبي حدثنا أسيد بن زيد الجمال حدثنا عيسى بن بشير عن محمد بن عمرو عن عطاء عن ابن عباس يرفعه من حج ثم قصدني في مسجدي كتبت له حجتان مبرورتان تفرد به أسيد وهو ضعيف ولا يحتمله ::: عیسی بن بشیر کیا چیز ہے جانا نہیں جا سکا (یعنی اس کے کام ایسے بے حال ہیں کہ اس کی شخصیت کے بارے میں کسی طور اعتماد والی بات معروف نہیں ) اور یہ ایک """ باطل """ خبر لے کر آیا ، پس اسحاق بن سیار النصیبی نے کہا ، ہمیں أسید بن زید الجمال نے بتایا ،( اُسید نے کہا ) ہمیں عیسی بن بشیر نے بتایا ، محمد بن عمرو کے ذریعے اور اس نے عطاء کے ذریعے اور اس نے (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ذریعے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب کرتے ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ) کہ """"" جس نے حج کیا اور پھر میرے زیارت کے لیے میری مسجد (آنے ) کا ارداہ کیا ، (یا وہاں آیا) تو اس کے لیے مکمل قبول شدہ حج لکھ دیے جاتے ہیں """'' ( یعنی اسے دو مقبول حجوں کا ثواب مل جاتا ہے ) یہ روایت صرف أسید نے اکلیے نے ہی (اس عیسی بن بشیر کے حوالے سے ) روایت کی ہے اور یہ اسید ضعیف ہے ، اور وہ اس کا (یعنی ایسی روایت بیان کرنے کا ) متحمل نہیں """"" میزان الاعتدال فی نقد الرجال / جلد5 /صفحہ 374/مطبوع دار الکتب العلمیہ /بیروت /لبنان، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ::::::: امام ابو جعفر محمد بن عمر العقیلی رحمہ اللہ نے ""' الضعفاء الکبیر / جلد 1 /صفحہ 28، مطبوع دار المتبہ العلمیہ /بیروت /لبنان، میں اس " أسید بن زید الجمال " کے ترجمہ میں لکھا """"" أسيد بن زيد الجمال كوفي حدثنا محمد بن عيسى قال حدثنا عباس بن محمد سمعت يحيى بن معين يقول أسيد بن زيد الجمال كذاب ذهبت الى الكرخ ونزلت في دار الحذائين فأردت أن أقول له يا كذاب ففرقت من شفار الحذائين ::: أسید بن زید الجمال کوفی (کے بارے میں ) ہمیں محمد بن عیسی (امام الترمذی) نے بتایا ، کہ ، مجھے عباس بن محمد نے بتایا نے کہ انہوں نے (اِمام ) یحی بن معین رحمہ اللہ ( اِمام البخاری کے استادوں میں سے ہیں ) کو کہتے ہوئے سُنا کہ """ أسید بن زید الجمال جھوٹا ہے میں الکرخ (ایک علاقے کا نام) گیا اور وہاں موچیوں کی ایک سرائے میں ٹھہرا (ان موچیوں کے پاس ہی یہ اسید بن زید رہتا تھا جیسا کہ دیگر کتب میں صراحت ہے) اور میں نے ارداہ کیا (تھا) کہ اسے کہوں """ اے جھوٹے """ لیکن موچیوں کے خادموں نے مجھے (زبردستی) الگ کر دیا """"" ::::::: امام ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی شہر آفاق اور علم و عرفان کے خزانوں سے بھر پور """ فتح الباری شرح صحیح البخاری """ کے """ مقدمہ """ میں لکھا ::: """"" أسيد بن زيد الجمال قال النسائي متروك وقال بن معين حدث بأحاديث كذب وضعفه الدارقطني وقال بن عدي لا يتابع على روايته وقال بن حبان يروي عن الثقات المناكير ويسرق الحديث ،،،،، ::: أسید بن زید الجمال (کے بارے امام ) النسائی نے کہا ، متروک (یعنی اس کی حدیث چھوڑ دی جانے والی ہیں ) ،اور (امام یحی) بن میعن نے کہا اس نے مَن گھڑت احادیث بیان کی ہیں ، اور (امام ) الدارقطنی نے اسے ضعیف قرار دیا ، اور (امام) ابن عدی نے کہا اس کی روایات کی اتباع نہیں کی جا سکتی ، اور (امام) ابن حبان نے کہا یہ با اعتماد راویوں کے نام سے منکر باتیں روایت کرتا تھا اور حدیث چوری کرتا تھا ،،،،، """"" اس کے علاوہ مزید بیانات بھی سامنے لائے جا سکتے ہیں ، لیکن امید ہے کہ ان شاء اللہ اتنے ہی کافی ہوں گے ، امام الالبانی کی ایک بات مجھے بہت یاد آتی رہتی ہے اور اس وقت پھر یاد آ رہی کہ ::: """"" طالب الحق یکفیہ دلیل واحد ، و صاحب الھویٰ لا یکفیہ الف دلیل ، الجاھل یتعلم و صاحب الھویٰ لیس لنا علیہ سبیل ::: حق کے طلبگار کے لیے ایک ہی دلیل کافی ہوتی ہے اور خواہشات کے پیروکار کے لیے ہزار دلیل بھی نا کافی ہوتی ہے ، جاھل تو سیکھ لیتا ہے لیکن خواہشات کے پیروکار (کو مطمئن کرنے ) کے لیے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں """"" اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حق کی پہچان ، اور اسے قبول کر کے اس پر عمل کی ہمت عطا فرمائے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ پس محترم بھائیو ، ان عظیم اماموں کی ان گواہیوں کی موجودگی میں یہ ثابت ہوا کہ ہمارے زیر مطالعہ یہ دونوں روایات جھوٹی ہیں ، کسی طور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے ان کی نسبت ثابت نہیں ہوتی ، براہ مہربانی اس تحقیق کو کسی تعصب یا ضد کی نظر سے نہیں ، محبت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نظر سے دیکھا اور سمجھا جائے کہ ہم اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک سے صرف اسے قول یا فعل کو منسوب مانیں جو سچے امانت دار متقی صالح لوگوں کے ذریعے ہم تک پہنچے نہ کہ ہر اُس قول یا فعل کو اپنے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مان لیں جو اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب ہو ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے توفیق عطاء فرمائی تو باقی احادیث کی تخریج بھی ان شاء اللہ ایک ایک کر کے ارسال کروں گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
منتظمین بھائی طنز بھی کر لیجیے تو بھائی کو خندہ پیشانی لیے ہوئے پائیں گے ، ان شا اللہ ، ویسے آپ کی یہ بات طنز کے زمرے میں نہیں آتی ، جی سوء ظن ضرور ہے ، اتنے عرصہ میں آپ کو یہ انداز نہیں ہوا کہ اللہ کی عطا کردہ توفیق سے میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ گھنٹوں نہیں دنوں کے مطالعہ کا نچوڑ ہوتا ہے ، پہلے بھی آپ نے ایک دفعہ ایسے ہی اندیشے کا اظہار کیا تھا اور میں نے عرض کیا تھا کہ جن راویوں کے بارے میں اماموں کے یہ فیصلے میں نے ذکر کیے ہیں ، کوئی بھی اور ان کے بارے میں کسی اور علمی حجت سے ان راویوں کا قابل اعتماد ہونا سامنے لائے تو پھر آپ یا کوئی بھی اور بھائی یا بہن ایسی بات کرے تو وہ کسی وزن کی حامل ہو ، حوالہ جات ان کتابوں کے ہیں جہاں سے لکھنے والوں نے یہ روایات لکھی ہیں ، اور جن اماموں نے یہ روایات اپنی ان کتابوں میں لکھی جن کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ، ان کی امانت داری یہ ہے کہ انہوں نے ساتھ سند ذکر کردی تا کہ اس علم کے ماہرین ائمہ راویوں کے مطابق روایات پر حکم لگا سکیں ، منتظمین بھائی ، آپ یہاں نظر آ ہی گئے ہیں تو گذارش ہے کہ ذرا """ یہاں """ توجہ فرمایے ، ذی الحج کے دس دنوں میں سے چار تو گذر چکے ہیں ، و السلام علیکم ۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
محترم بھائی ساھج ، اور بھتیجے عبداللہ حیدر اس دھاگے کے بنیادی مراسلے میں مذکور دو روایات کی تخریج کے بعد ، اسی موضوع پر پیش کی گئی دیگر روایات کی تخریج ان شاء اللہ ایک ایک کر کے پیش کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اسے ہم سب کے اور ہر قاری کے خیر والا بنائے ، اس منقولہ بالا روایت کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں ::: """ من حج فزار قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي :::جس نے حج کیا اور میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اُس نے میری زندگی میں میری زیارت کی """ الفاظ میں کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت مندرجہ ذیل کتب میں روایت کی گئی ، سنن البیہقی الکبریٰ /حدیث /کتاب الحج /باب 349 باب زيارة قبر النبي ، مکتبہ دار الباز / مکہ المکرمہ سنن الدار قطنی / کتاب الحج /باب المواقیت میں حدیث ۱۹۲ اور ۱۹۳ ، میرے پاس جو نسخہ ہے وہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت لبنان کا مطبوعہ ہے اور یہ ارقام میں اسی کے مطابق لکھ رہا ہوں ، اس کے علاوہ جو بھی حوالہ جات دیے جا رہے ہیں وہ ان نسخوں کے مطابق ہیں جو میرے پاس ہیں ، جی تو یہ روایت امام الطبرنی نے اپنی المعجم الاوسط (مطبوع دار الحرمین /قاہرہ /مصر ) /من اسمہ جعفر میں حدیث رقم 54، اور کتاب کی عام ترقیم کے مطابق حدیث رقم 3376، پر روایت کی ہے اور اس روایت کے آخر میں امام الطبرنی رحمہ اللہ کا یہ قول بہت اہمیت کا حامل ہے کہ """ لم يرو هذا الحديث عن ليث إلا حفص ::: یہ حدیث لیث سے سوائے حفص کے کسی اور نے روایت نہیں کی """ اس لیث کا پورا نام " لیث بن ابی سلیم بن زنیم اللیثی" ہے ، اور حفص کا پورا نام """ حفص بن سلیمان ابی داود """ ہے ، اور انہی امام الطبرانی رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنی المعجم الکبیر(مطبوع مکتبہ الزھراء /الموصل )/مجاھد عن بن عمر (حدیث رقم ۳۳) میں بھی روایت کی ہے ، اور اس کی سند بھی وہی المعجم الاوسط والی ہے ، اور یہ روایت امام البیہقی کی شعب الایمان (مبطوع دارالکتب العلمیہ /بیروت /لبنان)/حدیث 4154/ جلد ۳ /صفحہ 489 میں بھی ہے ، اور وہاں امام صاحب رحمہ اللہ روایت کا آغاز یہ فرماتے ہوئے کیا ہے کہ """ وروى حفص بن أبي داود وهو ضعيف، عن ليث بن أبي سليم::: حفص بن ابی داود نے لیث سے روایت کیا اور (یہ)حفص بن ابی داود ضعیف (یعنی کمزور نا قابل حجت ) ہے """" یہاں ایک نکتے کی طرف خاص طور پر توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ میں نے ساھج بھائی کے ذکر کردہ حوالہ جات سے ہی ابتداء کی ہے ، تا کہ پھر کوئی بھائی یا بہن یہ خیال نہ کریں کہ میں نے """ اپنی مرضی کے لوگوں """ کی بات بیان کی ہے ، بلکہ انہی امام صاحب رحمہ اللہ کی اسی کتاب اور اسی روایت کے ساتھ انہی کے لکھے ہوئے حُکم سے ابتداء کی ہے جن کا حوالہ ساھج بھائی کے مراسلات میں ہے ، اور اسی طرح اس سے پہلے بھی جن دو روایات کی تخریج پیش کی تھی اگر اس پر بھی غور کیا جائے تو اس میں ان اماموں کی بات بھی نظر آئے گی جن کی کتابوں کا حوالہ ساھج بھائی کی طرف سے دیا گیا تھا ، اور ان شاء اللہ تعالیٰ اگلی روایات کے تخریج میں بھی یہ نکتہ مقدم ہو گا ، باذن اللہ تعالیٰ ، جی ، حفص بن ابی داؤد کے بارے میں امام البیہقی رحمہ اللہ کا حکم جاننے کے بعد اب اس حفص بن ابی داود کے بارے میں امام الہیثمی رحمہ اللہ کا فرمان جو امام الطبرنی رحمہ اللہ کی روایت کی سند کے بارے میں ہے ،بھی ملاحظہ کیجیے ، انہوں نے""" مجمع الزوائد / کتاب الحج / باب 166زیارۃ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم /جلد چار /صفحہ دو (مطبوع دار الریان للتراث اور دار الکتاب العربی /قاہرہ /مصر ) میں فرمایا """ رواه الطبراني في الكبير والاوسط وفيه حفص بن ابي داود القاريء وثقة احمد وضعفه جماعة من الأئمة :::یہ روایت طبرانی نے الکبیر اور لاوسط میں رویات کی اور اس (کی سند) میں حفص بن ابی داود القاری ہے جسے (امام) احمد نے با اعتماد کہا اور(لیکن)اماموں کی جماعت (یعنی ایک بڑی تعداد) نے اسے ضعیف قرار دیا """" اور معاملہ صرف اس حفص بن ابی داود سلیمان القاری کا ہی نہیں ، بلکہ جس سے یہ روایت کرتا ہے یعنی """ لیث بن ابی سلیم """ اس کا بھی حال ایسا ہی ہے ، بلکہ اس سے بھی پتلا ، امام محمد بن حیان رحمہ اللہ نے اپنی """ المَجروحین مِن المحدثین و الضُعفاء و المَتروکین /باب اللام /پہلا ترجمہ """ میں اس """ لیث بن ابی سلیم بن زنیم اللیثی """ کے بارے بہت تفصیل سے بہت سے اماموں کی طرف سے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ سب اس کو شدید ضعیف قرار دیتے تھے اور اس کی روایات قبول نہیں کرتے تھے ، جن میں سے ان اماموں کے ناموں کا صراحت سے ذکر ہے ::: امام یحی القطان رحمہ اللہ ، امام یابن مھدی رحمہ اللہ، امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ، امام یحی بن معین رحمہ اللہ ، مزید تفصیلات کے خواہش مند مذکورہ بالا حوالہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں ، اور امام ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ان اماموں کے احکامات کو مختصراً ""' تھذیب التھذیب /من اسمہ لیث /جلد 8 /صفحہ 418،مطبوع دار الفکر/ بیروت/لبنان """ میں یوں بیان کیا """" صدوق اختلط أخيرا و لم يتميز حديثه فترك .::: سچا تھا لیکن ایک وقت آیا کہ (اس کا حافظہ) مختلط ( ملی جلی چیز وں کا مجموعہ) ہو گیا اور اپنی (بیان کردہ) حدیث کی (خود ہی ) تمیز نہ کر سکتا تھا لہذا اِسے چھوڑ دیا گیا (یعنی اس کی روایت کو قبول کیا جانا ترک کر دیا گیا ، کیونکہ اس بات کی خبر نہیں پائی سکتی تھی کہ کون سی روایات اختلاط سے پہلے کی ہے اور کون سی بعد کی ) """"" سبحان اللہ ، دیکھیے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ جو کہ اللہ کے دین کا ایک لازمی اور تفسیری جز ہے ،کی حفاظت کے لیے کیسے کیسے لوگ مہیا فرمائے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اُن سب کو اپنی رحمت سے مالا مال رکھے ، دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، اب ایسے عقل کے مارے ہوئے لوگوں کا کیا کیجیے جو اپنی جہالت کی بنا پر حدیث اور ائمہ حدیث میں کمی اور نقائص کا دعویٰ کرتے ہیں و لا حول و لا قوۃ الا باللہ ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اللہ کی حکمت ہی ہے کہ ((((( وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نِبِيٍّ عَدُوّاً شَيَاطِينَ الإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ ::: اور اسی طرح ہم نے بنائے ہر نبی کے دُشمن جنوں اور انسانوں کے شیطان (لوگ)جو ایک دوسری کی طرف وحی کرتے ہیں باتوں کو سجا سنوار کر دھوکہ دہی کرتے ہیں اور اگر (اے محمد) آپ کا رب چاہتا تو وہ لوگ ایسا نہ کر پاتے ، پس آپ انہیں اور جو جھوٹ وہ باندھتے ہیں (اُن سب کو اللہ کی طرف سے فیصلے ہونے تک ) چھوڑ دیجیے ))))) سورت الأنعام/ آیت112 ، اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے یا ان کے شر سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے ، جو اپنی جہالت کی وجہ سے سنت رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور اس کو جمع کرنے اور اس کی حفاظت کرنے والوں کے بارے میں دھوکہ دہی کرتے ہیں اور اپنی باتوں کو بڑا سجا سنوار کر پیش کرتے ہیں گویا کہ وہ بڑے عالم ہیں اور اسلام کے بڑے محب ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بڑے چاہنے والے ہیں لیکن اللہ نے ان کی حقیقت اس مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں پہلے ہی بیان فرما رکھی ہے ، یہ بات تو یوں ہی ائمہ کرام کی حفاظت سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک مثال سامنے آنے پر ہو گئی ، میں اپنے موضوع کی طر ف واپس آتے ہوئے کہتا ہوں کہ ، یہ مذکورہ بالا روایت بھی کسی طور قابل قبول نہیں ، جیسا کہ اس کی اسناد کے حال سے أٔئمہ رحمہم اللہ کے احکام سے واضح ہو چکا ، اس کے بعد ان شاء اللہ ساھج بھائی کی ذکر کردہ اگلی روایت کی تخریج چند دن میں حاضر کروں گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
اگر کوئی کافر زیارت کر لے تو پھر؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
|
|
|
|
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مراسلات: 68
کمائي: 1,900
شکریہ: 174
59 مراسلہ میں 178 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ۔
محدث سعودی عرب محترم جناب عادل سہیل صاحب سعودی مکاتب میں اگر زیر تعلیم رہے ہیں تو یقینا امام البانی بالواسطہ یا بلاواسطہ انکے اساتذہ میں ہوں گے جو کہ اہلحدیث (وہابی) مکتبہ فکر کے نامور عالم دین ہیں۔جبھی تو انکی یاد انہیں رہ رہ کر ستاتی ہے اور وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگئے ۔۔ اقتباس:
حصہ اول حصہ دوم حصہ سوم امید ہے یہ کلپس دیکھ لینے کے بعد غلامان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تعجب باقی نہ رہے گا کہ اہلحدیث و وہابی حضرات کیوں بارگاہ رسالت میں حاضری کی برکات اور اجروثواب پر مبنی فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سرے سے ضعیف، متروک، غیر ضروری، بلکہ معاذ اللہ غلط اور موضوع ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک نکتہ عرض کردوں کہ کسی حدیث کی صحت ہمیشہ فقہی اصول طے کرتے وقت ضروری ہوتی ہے اور اسی وقت حدیث کی صحت کی ضرورت پڑتی ہے۔ وگرنہ فضائل و برکات کے ضمن میں ضعیف احادیث بھی قابل قبول ہوتی ہیں۔ اس لیے خواہ مخواہ اپنے عقیدے کو سچ اور دوسروں کو باطل و گمراہ ثابت کرنے کے لیے ہر حدیث پر ہی ضعیف ہوکر "ناقابل عمل" ہونے کا اطلاق کرنا علمی دیانت نہیں ہے۔ ذرا ایک لمحے کو سوچیے کہ اگر کل روز قیامت جب ہر کوئی شفاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متمنی و حاجتمند ہوگا۔اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت عظمی کے منصب پر فائز ہوں گے ۔۔ اور ایک شخص جو ساری زندگی صرف مکہ مکرمہ تک تو جاتا رہا مگر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری سے گریز کرتا رہا ۔ وہ شفاعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس منہ سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کرے گا ؟؟؟؟ Last edited by نعیم۔; 04-02-10 at 12:48 PM. |
|
|
|
|
| نعیم۔ کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر Rehan (07-02-10) |
![]() |
| Tags |
| color, green, magenta, کوشش, کنعان, پہچان, قصد, نظر, مکہ, ممکن, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, اللہ, انسان, بھائی, جلد, حال, حدیث, خصوصی, راستہ, زندگی, شخص, علم, عبداللہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو | بزم خیال | تجاویز اور شکایات | 15 | 25-11-11 09:40 PM |
| منتظر الزیدی پر تشدد کرکے زبردستی وزیراعظم کے نام معافی نامہ لکھوایا گیا ۔ عودے الزیدی | چیتا چالباز | خبریں | 4 | 02-08-11 11:06 PM |
| بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے آئر لینڈ کے مزید دو سینئر پادری مستعفی | گوہر | گپ شپ | 1 | 27-12-09 04:04 AM |
| نہ جانے ظرف زیادہ تھا کم یا انا زیادہ تھی | The Great | احمد فراز | 0 | 28-08-09 10:00 PM |
| خصوصی افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے، سہراب سرکی | عبدالقدوس | شعبہ طب | 0 | 26-10-07 07:09 AM |