واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > عبادات > عمرہ و حج



عمرہ و حج عمرہ و حج


روضۂ اطہر کی زیارت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-11-09, 03:33 PM  
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default روضۂ اطہر کی زیارت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے میرے روضۂ اطہر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہے-

(سنن دارقطنى:
کتاب الحج، حدیث نمبر::2727-
(شعب الإيمان للبيهقي،
الخامس و العشرين من شعب الإيمان و هو باب في المناسك ،
فضل الحج و العمرة حدیث نمبر: 4159-



حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس نے حج کیا پھر میری زیارت کے قصد سے میری مسجد کو آیا تو اس کے لئے دو مقبول حج لکھے جائیں گے۔

(سنن دیلمی –
جامع الأحاديث،حدیث نمبر: 21996-
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
نعیم۔ (04-02-10), مباح (02-02-10), ابو عمار (18-11-09), احمدنواز (19-11-09), حیدر Rehan (07-02-10), طارق راحیل (27-11-09)
پرانا 10-02-10, 12:37 AM   #46
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام عادل بھائی!
آپ جواب دیجیے میں آپ کے جواب پہ فتنے جیسے یا آپ نے کہا کہ مختلف معنی نکالے جائیں گے ایسا کچھ میری طرف سے نہیں ہو گا ہاں اگر مجھ ناسمجھ کو سمجھ میں نہ آیا تو عرض کروں گا میرے سوال کا مقصد مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہونا اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قبرِ انور کی زیارت کرنا ہے امید کرتا ہوں آپ سمجھ گئے ہوں گے! باقی فتنے والی کیا بات ہے میرے سوال میں عرض کر دیں؟؟؟ میں نے ایک سادہ سا سوال پوچھا ہے آپ سے میرے ذہن میں اور میرے گمان میں فتنے والی کوئی ایسی بات نہیں تھی کیا آپ میرے سوال کو کوئی فتنہ خیال کر رہے ہو؟

جزاک اللہ خیرا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی مباح ، جب بات ایسی ہو کہ اس میں سے مختلف معانی اور مفاہیم کے اخراج کی گنجائش ہو تو غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں ، اور اگر دو مسلمانوں کے درمیان کوئی ایسی غلط فہمی آن گھسے جو اُن کے دِلوں میں دُوری کا سبب بن جائے تو یقینا ً وہ ایک بہت بڑا فتنہ ہوتی ہے ،
دیکھ لیجیے ، میں نے آپ کے بارے میں تو نہیں کہا تھا کہ آپ کی طرف سے کسی فتنے والی بات کا ، یا کچھ اور معنی نکالنے کا اندیشہ ہے ، لیکن میری بات سے آپ کو ایسا محسوس ہو گیا ،
میرے بھائی میں نے آپ کی بات کو فتنہ محسوس نہیں کیا ، اور نہ ہی میں کسی کے دِل کا حال جانتا ہوں ، ایسے بے شمار نا پسندیدہ ، واقعات کا مشاہدہ زندگی کےہرمیدان میں ہوتا رہتا ہے جو صرف بات کو درست طور پر نہ سمجھنے کی بنا پر ہوتے ہیں ،
اسی لیے میں نے آپ سےآپ کے سوال کی وضاحت کی گذارش کی تھی ،
اور پھر دیکھ لیجیے ، کہ اب آپ کی وضاحت سے آپ کا ایک سوال ، دو سوال بن گیا ، یا یوں کہیے کہ ایک سوال میں دو جز ہو گئے ، جن کا حکم الگ الگ ہے ،
اب ان شاء اللہ آپ کی وضاحت کے مطابق دو نوں سوالات یا دونوں اجزاء کے جواب دیتا ہوں ، اور ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ سے دیتا ہوں ،
آپ نے اپنے سوال کی وضاحت لکھا :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
میرے سوال کا مقصد مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہونا اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قبرِ انور کی زیارت کرنا ہے
اس طرح آپ کا سوال دو کاموں ، دو معاملات کے بارے میں ہو گیا :::
(۱) مسجد نبوی شریف علی صاحبہ افضل الصلاۃ و السلام میں حاضر ہونا ، اور ،
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنا ،
پہلے معاملے کے بارے میں جواب ، اور اس میں ہی دوسرے معاملے کا بھی جواب ہے :::
((((( ،،،،، لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلا إلى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسجِدِ الحَرَامِ وَمَسجِدِ الأَقصَى وَمَسجِدِي هذا ::: ،،،،، تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کی طرف (دینی زیارت کے طور پر )سفر نہیں کیا جائے گا ، مسجد الحرام ، مسجد الاقصی اور میری یہ مسجد ))))) متفقٌ علیہ ، صحیح البخاری /کتاب الکسوف /ابواب التطوع /باب 19، صحیح مُسلم /کتاب الحج / باب 95 ،
دوسرے معاملے کے جواب کے لیے یہ حدیث مبارک بھی ملاحظہ فرمایے ((((( لَا تَجعَلُوا بُيُوتَكُم قُبُورًا ولا تَجعَلُوا قَبرِي عِيدًا وَصَلُّوا على فإن صَلَاتَكُم تَبلُغُنِي حَيثُ كُنتُم ::: تُم لوگ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح مت بنانا (کہ اُن میں نماز و قران نہ پڑھے جائیں) اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا اور میرے لیے رحمت کی دُعا کیا کرو بے شک تُم لوگ کہیں بھی ہو تُمہاری یہ رحمت کے دُعا مجھ تک پہنچتی ہے ))))) سنن ابو داؤد /کتاب المناسک کی آخری حدیث ،
ان دونوں احادیث مبارکہ میں آپ کے دونوں سوالات کے جوابات ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ مبارک میں ہیں ، میں نے ان کی شرح کے لیے اپنی طرف سے کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ یہ احادیث مبارکہ بالکل واضح ہیں ، ان کے ترجمے میں جو الفاظ (قوسین) کے درمیان لکھے ہیں وہ بھی میری کسی سوچ کا نتیجہ نہیں ، بلکہ کسی اور حدیث شریف کی بنا پر ہیں ، یا اماموں کی شرح ہیں ،
مثلاً اس حدیث شریف کو پڑہیے تو ان شاء اللہ مذکورہ بالا دو میں سے دوسری حدیث کے ترجمے میں (قوسین) کے درمیان لکھے ہوئے الفاظ میں نے ان دو حدیاحادیث شریفہ کی بنا پر لکھا ((((( لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ من الْبَيْتِ الذي تُقْرَأُ فيه سُورَةُ الْبَقَرَةِ :::اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ بے شک شیطان اس گھر سے (دُور)بھاگتا ہے جس میں سورت البقرہ پڑھی جاتی ہو ))))) ،
((((( اجْعَلُوا مِن صَلَاتِكُمْ في بُيُوتِكُمْ ولا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا:::اپنی نمازوں میں سے (کچھ حصہ ) اپنے گھروں میں بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ)))) دونوں احادیث ،صحیح مُسلم /کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا /باب 29 ،
ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ مبارکہ پر مبنی اتنا جواب کافی ہو گا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
باذوق (10-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 11:01 AM   #47
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی مباح ، جب بات ایسی ہو کہ اس میں سے مختلف معانی اور مفاہیم کے اخراج کی گنجائش ہو تو غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں ، اور اگر دو مسلمانوں کے درمیان کوئی ایسی غلط فہمی آن گھسے جو اُن کے دِلوں میں دُوری کا سبب بن جائے تو یقینا ً وہ ایک بہت بڑا فتنہ ہوتی ہے ،
دیکھ لیجیے ، میں نے آپ کے بارے میں تو نہیں کہا تھا کہ آپ کی طرف سے کسی فتنے والی بات کا ، یا کچھ اور معنی نکالنے کا اندیشہ ہے ، لیکن میری بات سے آپ کو ایسا محسوس ہو گیا ،
میرے بھائی میں نے آپ کی بات کو فتنہ محسوس نہیں کیا ، اور نہ ہی میں کسی کے دِل کا حال جانتا ہوں ، ایسے بے شمار نا پسندیدہ ، واقعات کا مشاہدہ زندگی کےہرمیدان میں ہوتا رہتا ہے جو صرف بات کو درست طور پر نہ سمجھنے کی بنا پر ہوتے ہیں ،
اسی لیے میں نے آپ سےآپ کے سوال کی وضاحت کی گذارش کی تھی ،
اور پھر دیکھ لیجیے ، کہ اب آپ کی وضاحت سے آپ کا ایک سوال ، دو سوال بن گیا ، یا یوں کہیے کہ ایک سوال میں دو جز ہو گئے ، جن کا حکم الگ الگ ہے ،
اب ان شاء اللہ آپ کی وضاحت کے مطابق دو نوں سوالات یا دونوں اجزاء کے جواب دیتا ہوں ، اور ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ سے دیتا ہوں ،
آپ نے اپنے سوال کی وضاحت لکھا :::

اس طرح آپ کا سوال دو کاموں ، دو معاملات کے بارے میں ہو گیا :::
(۱) مسجد نبوی شریف علی صاحبہ افضل الصلاۃ و السلام میں حاضر ہونا ، اور ،
(۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنا ،
پہلے معاملے کے بارے میں جواب ، اور اس میں ہی دوسرے معاملے کا بھی جواب ہے :::
((((( ،،،،، لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلا إلى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسجِدِ الحَرَامِ وَمَسجِدِ الأَقصَى وَمَسجِدِي هذا ::: ،،،،، تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کی طرف (دینی زیارت کے طور پر )سفر نہیں کیا جائے گا ، مسجد الحرام ، مسجد الاقصی اور میری یہ مسجد ))))) متفقٌ علیہ ، صحیح البخاری /کتاب الکسوف /ابواب التطوع /باب 19، صحیح مُسلم /کتاب الحج / باب 95 ،
دوسرے معاملے کے جواب کے لیے یہ حدیث مبارک بھی ملاحظہ فرمایے ((((( لَا تَجعَلُوا بُيُوتَكُم قُبُورًا ولا تَجعَلُوا قَبرِي عِيدًا وَصَلُّوا على فإن صَلَاتَكُم تَبلُغُنِي حَيثُ كُنتُم ::: تُم لوگ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح مت بنانا (کہ اُن میں نماز و قران نہ پڑھے جائیں) اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا اور میرے لیے رحمت کی دُعا کیا کرو بے شک تُم لوگ کہیں بھی ہو تُمہاری یہ رحمت کے دُعا مجھ تک پہنچتی ہے ))))) سنن ابو داؤد /کتاب المناسک کی آخری حدیث ،
ان دونوں احادیث مبارکہ میں آپ کے دونوں سوالات کے جوابات ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ مبارک میں ہیں ، میں نے ان کی شرح کے لیے اپنی طرف سے کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ یہ احادیث مبارکہ بالکل واضح ہیں ، ان کے ترجمے میں جو الفاظ (قوسین) کے درمیان لکھے ہیں وہ بھی میری کسی سوچ کا نتیجہ نہیں ، بلکہ کسی اور حدیث شریف کی بنا پر ہیں ، یا اماموں کی شرح ہیں ،
مثلاً اس حدیث شریف کو پڑہیے تو ان شاء اللہ مذکورہ بالا دو میں سے دوسری حدیث کے ترجمے میں (قوسین) کے درمیان لکھے ہوئے الفاظ میں نے ان دو حدیاحادیث شریفہ کی بنا پر لکھا ((((( لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ من الْبَيْتِ الذي تُقْرَأُ فيه سُورَةُ الْبَقَرَةِ :::اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ بے شک شیطان اس گھر سے (دُور)بھاگتا ہے جس میں سورت البقرہ پڑھی جاتی ہو ))))) ،
((((( اجْعَلُوا مِن صَلَاتِكُمْ في بُيُوتِكُمْ ولا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا:::اپنی نمازوں میں سے (کچھ حصہ ) اپنے گھروں میں بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ)))) دونوں احادیث ،صحیح مُسلم /کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا /باب 29 ،
ان شاء اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے الفاظ مبارکہ پر مبنی اتنا جواب کافی ہو گا ، و السلام علیکم۔
وعلیکم السلام عادل بھائی!
صحیح مسلم/کتاب الصلوۃ میں جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس میں اپنے (گھر کو قبرستان بنانے) سے کیا مراد ہے؟ ابو دائود کتاب المناسک کی آخری حدیث کہ ''اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا'' اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم زیارت قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جا سکتے ہیں ہاں بار بار نہیں لیکن جا سکتے ہیں کیا میں درست سمجھا ہوں عادل بھائی؟؟؟؟؟

والسلام
__________________
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
(اقبال)
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مباح کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 05:24 PM   #48
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مراسلات: 172
کمائي: 5,413
شکریہ: 99
143 مراسلہ میں 521 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام عادل بھائی!
صحیح مسلم/کتاب الصلوۃ میں جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس میں اپنے (گھر کو قبرستان بنانے) سے کیا مراد ہے؟ ابو دائود کتاب المناسک کی آخری حدیث کہ ''اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا'' اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم زیارت قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جا سکتے ہیں ہاں بار بار نہیں لیکن جا سکتے ہیں کیا میں درست سمجھا ہوں عادل بھائی؟؟؟؟؟

والسلام
السلام علیکم
مباح بھائی ، معذرت چاہتا ہوں کہ دوبارہ دخل اندازی کا مرتکب ہو رہا ہوں۔
میرے علم کی حد تک تو زیارتِ قبر یا قبور سے ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

ورنہ تو قبرستان جا کر اہل القبور کو سلام بھیجنے والی صحیح حدیث کا مطلب ہی فوت ہو جاتا۔
دراصل ہمارا کنفوژن غالباَ سفر کے مسئلے کو نہ سمجھنے کے سبب ہے۔

آپ آس پاس کے کسی بھی قبرستان کو چلے جائیں ، اس کی ممانعت نہیں بلکہ ترغیب ہی دلائی گئی ہے کہ اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔
لیکن کسی قبر کی زیارت کے لیے جب سفر کیا جائے گا تو یہی عمل صحیح حدیث کی روشنی میں ممنوع قرار پاتا ہے !
جبکہ اپنے علاقے یا اپنے شہر کے قبرستان کو جانا ، سفر کرنے کے معنوں میں بہرحال نہیں آتا !!

بہرکیف آپ کی بات کا بہتر جواب تو عادل بھائی ہی دے سکیں گے۔
باذوق آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے باذوق کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (21-06-10), عادل سہیل (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 05:39 PM   #49
Senior Member
 
مباح's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: karachi
مراسلات: 250
کمائي: 5,959
شکریہ: 762
206 مراسلہ میں 543 بارشکریہ ادا کیا گیا
مباح کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

[QUOTE=باذوق;265182]السلام علیکم
مباح بھائی ، معذرت چاہتا ہوں کہ دوبارہ دخل اندازی کا مرتکب ہو رہا ہوں۔
میرے علم کی حد تک تو زیارتِ قبر یا قبور سے ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔

ورنہ تو قبرستان جا کر اہل القبور کو سلام بھیجنے والی صحیح حدیث کا مطلب ہی فوت ہو جاتا۔
دراصل ہمارا کنفوژن غالباَ سفر کے مسئلے کو نہ سمجھنے کے سبب ہے۔


وعلیکم السلام برادر!
کنفیوژن آپ کا ہے میرا نہیں ہے میرا سوال سفر کو لے کر نہیں بلکہ اس سے ہٹ کر ہے اگر آپ سمجھے ہیں تو!
مباح آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
مباح کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 06:19 PM   #50
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,519
کمائي: 55,687
شکریہ: 5,981
1,908 مراسلہ میں 5,597 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم برادران اسلام

موضوع سے متعلق کچھ باتیں حاضر خدمت ہیں،

سب سے پہلے حدیث مبارک

حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن زيد بن رباح، وعبيد الله بن أبي عبد الله الأغر، عن أبي عبد الله الأغر، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ صلاة في مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام‏"‏‏.
صحیح بخاری
کتاب فضل الصلوۃ فی مکۃ والمدینۃ


ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے زید بن رباح اور عبید اللہ بن ابی عبد اللہ اغرسے خبر دی، انہیں ابو عبد للہ اغر نے اور انہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

" میری اس مسجد میں نماز مسجد حرام کے سوا تمام مسجدوں میں نماز سے ایک ہزار درجہ زیادہ افضل ہے۔"


میری مسجد سے مسجد نبوی مراد ہے۔ حضرت امام رحمہ اللہ کا اشارہ یہی ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت کے لیے شد رحال کیا جائے اور جو وہاں جائے گا لازماً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وحضرات شیخین پر بھی درود وسلام کی سعادتیں اس کو حاصل ہوں گی۔

دوسری حدیث

حدثنا علي، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد المسجد الحرام، ومسجد الرسول صلى الله عليه وسلم ومسجد الأقصى‏"‏‏.

صحیح بخاری
کتاب فضل الصلوۃ فی مکۃ والمدینۃ


( ) ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

" تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ ( یعنی سفر نہ کیا جائے ) ایک مسجد حرام، دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد اور تیسرے مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس۔ "


تشریح:-

مسجد اقصیٰ کی وجہ تسمیہ علامہ قسطلانی کے لفظوں میں یہ ہے۔ وسمی بہ لبعدہ عن مسجد مکۃ فی المسافۃ یعنی اس لیے اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھا گیا کہ مسجد مکہ سے مسافت میں یہ دور واقع ہے۔لفظ رحال رحل کی جمع ہے یہ لفظ اونٹ کے کجاوہ پر بولاجا تا ہے۔ اس زمانہ میں سفر کے لیے اونٹ کا استعمال ہی عام تھا۔ اس لیے یہی لفظ استعمال کیا گیا۔

مطلب یہ ہوا کہ صرف یہ تین مساجد ہی ایسا منصب رکھتی ہیں کہ ان میں نماز پڑھنے کے لیے، ان کی زیارت کے لیے سفرکیا جائے ان تین کے علاوہ کوئی بھی جگہ مسلمانوں کے لیے یہ درجہ نہیں رکھتی کہ ان کی زیارت کے لیے سفر کیا جاسکے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے یہی حدیث بخاری شریف میں دوسری جگہ موجود ہے۔ مسلم شریف میں یہ ان لفظوں میں ہے: عن قزعۃ عن ابی سعید قال سمعت منہ حدیثا فاعجبنی فقلت لہ انت سمعت ھذا من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فاقول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالم اسمع قال سمعتہ یقول قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تشدوا الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد مسجدی ھذا والمسجد الحرام والمسجد الاقصیٰ الحدیث۔
یعنی قزعہ نامی ایک بزرگ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث سنی جو مجھ کو بے حد پسند آئی۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا فی الواقع آپ نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے؟ وہ بولے کیا یہ ممکن ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہو۔ ہرگز نہیں بے شک میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ کجاوے نہ باندھومگر صرف ان ہی تین مساجد کے لیے۔ یعنی یہ میری مسجد اور مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔ ترمذی میں بھی یہ حدیث موجود ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں ھذا حدیث حسن صحیح یعنی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ معجم طبرانی صغیر میں یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی ان ہی لفظوں میں موجود ہے اور ابن ماجہ میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص کی روایت سے یہ حدیث ان ہی لفظوں میں ذکر ہوئی ہے اور حضرت امام مالک نے مؤطا میں اسے بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے روایت کیا ہے۔ وہاں والی مسجد ایلیااوبیت المقدس کے لفظ ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے بالکل صحیح قابل اعتماد ہے اور اسی دلیل کی بنا پر بغرض حصول تقرب الی اللہ سامان سفر تیار کرنا اور زیارت کے لیے گھر سے نکلنا یہ صرف ان ہی تین مقامات کے ساتھ مخصوص ہے دیگر مساجد میں نماز ادا کرنے جانا یا قبرستان میں اموات مسلمین کی دعائے مغفرت کے لیے جانا یہ امور ممنوعہ نہیں۔ اس لیے کہ ان کے بارے میں دیگر احادیث صحیحہ موجود ہیں۔ نماز باجماعت کے لیے کسی بھی مسجد میں جانا اس درجہ کا ثواب ہے کہ ہر ہر قدم کے بدلے دس دس نیکیوں کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح قبرستان میں دعائے مغفرت کے لیے جانا خود حدیث نبوی کے تحت ہے۔جس میں ذکر ہے فانھا تذکر الاخرۃ یعنی وہاں جانے سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ باقی بزرگوں کے مزارات پر اس نیت سے جانا کہ وہاں جانے سے وہ بزرگ خوش ہو کر ہماری حاجت روائی کے لیے وسیلہ بن جائیں گے بلکہ وہ خود ایسی طاقت کے مالک ہیں کہ ہماری ہر مصیبت کو دور کر دیں گے یہ جملہ اوہام باطلہ اور اس حدیث کے تحت قطعا ناجائز امور ہیں۔

ا س سلسلہ میں علامہ شوکانی فرماتے ہیں:
واول من وضع الاحادیث فی السفر لزیارۃ المشاھد التی علی القبور اھل البدع الرافضۃ ونحوھم الذین یعطلون المساجد ویعظمون المشاھد یدعون بیوت اللہ التی امر ان یذکر فیھا اسمہ ویعبد وحدہ لا شریک لہ ویعظمون المشاھد التی یشرک فیھا ویکذب فیھا ویبتدع فیھا دین لم ینزل اللہ بہ سلطانا فان الکتاب والسنۃ انما فیھا ذکر المساجد دون المشاھد وھذا کلہ فی شدالرحال واما الزیارۃ فمشروعۃ بدونہ۔ ( نیل الاوطار )
یعنی اہل بدعت اور روافض ہی اولین وہ ہیں جنہوں نے مشاہد اور مقابر کی زیارت کے لیے احادیث وضع کیں، یہ وہ لوگ ہیں جو مساجد کو معطل کر تے اور مقابر ومشاہد ومزارات کی حد درجہ تعظیم بجالاتے ہیں۔ مساجد جن میں اللہ تعالی کے ذکر کرنے کا حکم ہے اور خالص اللہ کی عبادت جہاں مقصود ہے ان کو چھوڑ کر یہ فرضی مزارات پر جاتے ہیں اور ان کی اس درجہ تعظیم کرتے ہیں کہ وہ درجہ شرک تک پہنچ جاتی ہے اور وہاں جھوٹ بولتے اور ایسا نیا دین ایجاد کرتے ہیں جس پر اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ کتاب وسنت میں کہیں بھی ایسے مشاہد اور مزارات ومقابر کا ذکر نہیں ہے جن کے لیے بایں طور پر شد رحال کیا جاسکے۔ ہاں مساجد کی حاضری کے لیے کتاب وسنت میں بہت سی تاکیدات موجود ہیں۔ ان منکرات کے علاوہ شرعی طریق پر قبرستان جانا اور زیارت کرنا مشروع ہے۔

رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرشریف پرحاضر ہونا اور وہاں جا کر آپ پر صلوۃ وسلام پڑھنا یہ ہر مسلمان کے لیے عین سعادت ہے۔مگر“گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی”کے تحت وہاں بھی فرق مراتب کی ضرورت ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ زیارت سے قبل مسجد نبوی کا حق ہے۔ وہ مسجد نبوی جس میں ایک رکعت ایک ہزار رکعتوں کے برابر درجہ رکھتی ہے اور خاص طورپر روضۃ من ریاض الجنۃ کا درجہ اور بھی بڑھ کر ہے۔اس مسجد نبوی کی زیارت اور وہاں ادائے نماز کی نیت سے مدینہ منورہ کا سفر کرنا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر بھی حاضر ہونا اور آپ پر صلوۃ وسلام پڑھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت صدیق اکبروحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے اوپر سلام پڑھنا پھر بقیع الغرقد قبرستان میں جاکر وہاں جملہ اموات کے لیے دعائے مغفرت کرنا۔ اسی طرح مسجد قبا میں جانا اور وہاں دو رکعت ادا کرنا، یہ جملہ امور مسنون ہیں جو سنت صحیحہ سے ثابت ہیں۔

حضرت علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر یہ الزام لگایا جاتا ھے کہ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پر صلوۃ وسلام سے منع کرتے ہیں۔ یہ صریح کذب اور بہتا ن ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں جو فرمایا ہے وہ یہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔ باقی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہو کردرود وسلام بھیجنا، یہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے مسلک میں مدینہ شریف جانے والوں اور مسجد نبوی میں حاضری دینے والوں کے لیے ضروری ہے۔

چنانچہ صاحب صیانۃ الانسان عن وسوسۃ الشیخ الدحلان علامہ محمد بشیر صاحب سہسوانی مرحوم تحریرفرماتے ہیں:
لانزاع لنا فی نفس مشروعیۃ زیارۃ قبر نبینا صلی اللہ علیہ وسلم واما ما نسب الی شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ من القول بعدم مشروعیۃ زیارۃ قبر نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فافتراءبحت قال الامام العلامۃ ابو عبد اللہ محمدبن احمد بن عبد الھادی المقدسی الحنبلی فی الصارم المنکی ان شیخ الاسلام لم یحرم زیارۃ القبور علی الوجہ المشروع فی شئی من کتبہ ولم ینہ عنھا ولم یکرھھا بل استحبھا وحض علیھا ومصنفاتہ ومناسکہ طافحۃ بذکر استحباب زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم سائر القبور قال رحمہ اللہ فی بعض مناسکہ باب زیارۃ قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا شرف علی مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبل الحج او بعدہ فلیقل ما تقدم فاذا دخل استحب لہ ان یغتسل نص علیہ الامام احمد فاذا دخل المسجد بدءبرجلہ الیمنیٰ وقال بسم اللہ والصلوۃ علی رسول اللہ اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک ثم یاتی الروضۃ بین القبر والمنبر فیصلی بھا ویدعو بما شاءثم یاتی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیستقبل جدار القبر لا یمسہ ولا یقبلہ ویجعل القندیل الذی فی القبلۃ عند القبر علی راسہ لیکون قائما وجاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ویقف متباعد کما یقف اوظھر فی حیاتہ بخشوع وسکون ومنکسر الراس خاض الطرف مستحضرا بقلبہ جلالۃ موقفہ ثم یقول السلام علیک یا رسول اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیک یا نبی اللہ وخیرتہ من خلقہ السلام علیک یا سید المرسلین ویاخاتم النبیین وقائد الغر المحجلین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد انک رسول اللہ واشھد انک قد بلغت رسٰلٰت ربک ونصحت لامتک ودعوت الی سبیل ربک بالحکمۃ الموعظۃ الحسنۃ وعبدت اللہ حتی اتاک الیقین فجزاک اللہ افضل ما جزی نبیا ورسولا عن امتہ اللھم آتہ الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمود الذی وعدتہ لیغبطہ بہ الاولون والاخرون اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمیدمجید اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید اللھم احشرنا فی ذمرتہ وتوف علی سنۃ واوردنا حوضہ واسقنا بکاسہ شربا رویا لانظما بعدہ ابداً ثم یاتی ابا بکر وعمر فیقول السلام علیک یا ابا بکر الصدیق السلام علیک یا عمر الفاروق السلام علیکما یا صاحبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضجیعیہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جزا کما اللہ عن صحبۃ نبیکما وعن الاسلام خیر السلام علیکم بما صبر تم فنعم عقبی الدار قال ویزور قبور اھل البقیع وقبورالشھداءان امکن ھذا کلام الشیخ رحمہ اللہ بحروفہ انتہی مافی الصارم۔ ( صیانۃ الانسان عن وسوسۃ الدحلان، ص:3 )
یعنی شرعی طریقہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کرنے میں قطعا کوئی نزاع نہیں ہے اور اس بارے میں علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر یہ محض جھوٹا بہتان ہے کہ قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو ناجائز کہتے تھے، یہ محض الزام ہے۔ علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد نے اپنی مشہور کتاب الصارم المنکی میں لکھا ہے کہ شرعی طریقہ پر زیارت قبور سے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ہرگز منع نہیں کیا نہ اسے مکروہ سمجھا۔ بلکہ وہ اسے مستحب قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے رغبت دلاتے ہیں۔انہوں نے اس بارے میں اپنی کتاب بابت ذکر مناسک حج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کے سلسلہ میں باب منعقد فرمایا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ جب کوئی مسلمان حج سے پہلے یا بعد میں مدینہ شریف جائے تو پہلے وہ دعا مسنون پڑھے جو شہروں میں داخلہ کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ پھر غسل کر ے اور بعد میں مسجد نبوی میں پہلے دایاں پاؤں رکھ کر داخل ہو اور یہ دعا پڑھے بسم اللہ والصلوۃ علی رسول اللہ اللھم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک پھر اس جگہ آئے جو جنت کی کیاری ہے اوروہاں نماز پڑھے اور جو چاہے دعا مانگے۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آئے اور دیوار کی طرف منہ کرے نہ اسے بوسہ دے نہ ہاتھ لگائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو اورپھر وہاں سلام اور درود پڑھے ( جن کے الفاظ پیچھے نقل کئے گئے ہیں ) پھر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے آئے اور وہاں بھی سلام پڑھے جیسا کہ مذکور ہوا اورپھر ممکن ہو تو بقیع غرقد نامی قبرستان میں جاکر وہاں بھی قبور مسلمین اور شہداءکی زیارت مسنونہ کرے۔

سابق امتوں میں کچھ لوگ کوہ طور اور تربت بابرکت حضرت یحیٰ علیہ السلام وغیرہ کی زیارت کے لیے دور دراز سے سفر کر کے جایا کرتے تھے۔ اللہ کے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام سفروں سے منع فرما کر اپنی امت کے لیے صرف یہ تین زیارت گاہیں مقرر فرمائیں۔ اب جو عوام اجمیر اورپاک پٹن وغیرہ وغیرہ مزارات کے لیے سفر باندھتے ہیں یہ ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے کی وجہ سے عاصی نافرمان اور آپ کے باغی ٹھہرتے ہیں۔ ہاں قبور المسلمین اپنے شہر یا قریہ میں ہوںوہ اپنوں کی ہوں یا بیگانوں کی وہاں مسنون طریقہ پر زیارت کرنا مشروع ہے کہ گورستان والوں کے لیے دعا ئے مغفرت کریں اور اپنی موت کو یاد کر کے دنیا سے بے رغبتی اختیار کریں۔ سنت طریقہ صرف یہی ہے۔

علامہ ابن حجر اس حدیث کی بحث کے آخر میں فرماتے ہیں فمعنی الحدیث لاتشد الرحال الی مسجد من المساجد او الی مکان من الامکنۃ لاجل ذلک المکان الا الی الثلاثۃ المذکورۃ وشد الرحال الی زیارۃ او طلب علم لیس الی المکان بل الی من فی ذلک المکان واللہ اعلم ( فتح الباری )
یعنی حدیث کا مطلب اسی قدر ہے کہ کسی بھی مسجد یا مکان کے لیے سفر نہ کیا جائے اس غرض سے کہ ان مساجد یا مکانات کی محض زیارت ہی موجب رضائے الٰہی ہے ہاں یہ تین مساجد یہ درجہ رکھتی ہیں جن کی طرف شد رحال کیا جانا چاہیے اور کسی کی ملاقات یا تحصیل علم کے لیے شد رحال کرنا اس ممانعت میں داخل نہیں اس لیے کہ یہ سفر کسی مکان یا مدرسہ کی عمارت کے لیے نہیں کیا جاتا بلکہ مکان کے مکین کی ملاقات اور مدرسہ میں تحصیل علم کے لیے کیا جاتا ہے۔

امید ھے جو کچھ لکھا گیا ھے آسانی سے سمجھ میں آجائے گا

شکریہ

والسلام
sahj آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (21-06-10), عادل سہیل (10-02-10), عبداللہ حیدر (10-02-10)
پرانا 10-02-10, 11:51 PM   #51
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
وعلیکم السلام عادل بھائی!
صحیح مسلم/کتاب الصلوۃ میں جس حدیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس میں اپنے (گھر کو قبرستان بنانے) سے کیا مراد ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مباح بھائی ، لگتا ہے آپ نے میرا سابقہ مراسلہ جس میں آپ کے دو سوالوں کے جوابات تھے توجہ سے نہیں پڑھا ، ایسا لگنے کے دو سبب ہیں :::
(۱) آپ نے اب جس حدیث کے بارے میں سوال کیا ہے، اوریہ لکھا ہے کہ میں نے اس حدیث کا حوالہ صحیح مسلم /کتاب الصلاۃ ، دیا ہے ، جبکہ آپ نے جس حدیث کے بارے میں سوال کیا ہے وہ اس حوالے حدیث کے بارے میں نہیں بلکہ اس حدیث کا حوالہ میں نے """ سنن ابو داؤد /کتاب المناسک کی آخری حدیث """ دیا ہے ،
محترم مباح بھائی ، براہ مہربانی جلدی مت کیجیے ، آرام و تحمل سے مطالعہ فرمایے ، اسی طرح غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور فتنے کا سبب بنتی ہیں ،
(۲) آپ نے ایک سوال کیا جس کا جواب میں پہلے ہی سابقہ مراسلے میں دے چکا ہوں :::
آپ کے منقولہ بالا نئے سوال کا جواب میرے اُسی سابقہ مراسلے میں موجود ہے جس میں وہ حدیث مذکور ہے جس کے بارے میں آپ نے اب یہ منقولہ بالا سوال کیا ہے ، اور اس کے حوالے کی طور پر دوسری حدیث کا حوالہ لکھ دیا ،
مُباح بھائی ، مجھے اسی قسم کے سوال کی توقع تھی ، پس الحمد للہ میں نے جواب پہلے ہی لکھ دیا تھا ، پھر ملاحظہ فرمایے :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
مثلاً اس حدیث شریف کو پڑہیے تو ان شاء اللہ مذکورہ بالا دو میں سے دوسری حدیث کے ترجمے میں (قوسین) کے درمیان لکھے ہوئے الفاظ میں نے ان دو (مذکورہ ذیل) احادیث شریفہ کی بنا پر لکھا ((((( لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ من الْبَيْتِ الذي تُقْرَأُ فيه سُورَةُ الْبَقَرَةِ :::اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ بے شک شیطان اس گھر سے (دُور)بھاگتا ہے جس میں سورت البقرہ پڑھی جاتی ہو ))))) ،
((((( اجْعَلُوا مِن صَلَاتِكُمْ في بُيُوتِكُمْ ولا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا:::اپنی نمازوں میں سے (کچھ حصہ ) اپنے گھروں میں بناؤ اور اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ)))) دونوں احادیث ،صحیح مُسلم /کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا /باب 29 ،
مباح بھائی ، ان دو مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں یہ وضاحت میسر ہے کہ گھروں کو قبرستان بنانے سے مراد اُن میں قُران نہ پڑھنا اور نماز نہ پڑھنا ہے ، کیونکہ قبرستانوں میں اور قبروں پر نہ قُران پڑھا جانا درست ہے اور نماز ہی نماز پڑھنا ، یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں معروف تھا اس لیے رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن کو یہ مثال دے کر اور ان کے اس فہم کو درست قرار دیتے ہوئے یہ فرمایا ((((( لَا تَجعَلُوا بُيُوتَكُم قُبُورًا ،،،،،،،،،،،::: تُم لوگ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح مت بنانا (کہ اُن میں نماز و قران نہ پڑھے جائیں)،،،،،،،،، ))))) سنن ابو داؤد /کتاب المناسک کی آخری حدیث ،
::::::: اس حدیث پاک سے ہمیں یہ حُکم بھی مِل گیا کہ قبرستانوں میں ، قبروں پر قران اور نماز پڑھنا جائز نہیں ،
اب آپ کے دوسرے سوال کی طرف چلتے ہیں ، ان شاء اللہ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), محمد عاصم (21-06-10), عبداللہ حیدر (11-02-10)
پرانا 11-02-10, 01:18 AM   #52
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,298
کمائي: 86,522
شکریہ: 1,994
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مباح مراسلہ دیکھیں
ابو دائود کتاب المناسک کی آخری حدیث کہ ''اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا'' اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم زیارت قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جا سکتے ہیں ہاں بار بار نہیں لیکن جا سکتے ہیں کیا میں درست سمجھا ہوں عادل بھائی؟؟؟؟؟
والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
مباح بھائی آپ کے دو نئے سوالات میں سے پہلے کا جواب سابقہ مراسلے میں ہو چکا ہوں ، و للہ الحمد و المِنّۃ ، اب آپ کے دوسرے سوال کی طرف چلتے ہیں ، ان شاء اللہ ،
مباح بھائی ، میں نے اپنے مراسلہ رقم ،،،،،،،،،، میں جو حدیث پاک سنن ابو داؤدسے نقل کی وہ یہ تھی ((((( لَا تَجعَلُوا بُيُوتَكُم قُبُورًا ولا تَجعَلُوا قَبرِي عِيدًا وَصَلُّوا على فإن صَلَاتَكُم تَبلُغُنِي حَيثُ كُنتُم ::: تُم لوگ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح مت بنانا (کہ اُن میں نماز و قران نہ پڑھے جائیں) اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا اور میرے لیے رحمت کی دُعا کیا کرو بے شک تُم لوگ کہیں بھی ہو تُمہاری یہ رحمت کے دُعا مجھ تک پہنچتی ہے ))))) ،
آپ نے اس میں سے """ اور نہ ہی میری قبر کو بار بار آنے والی جگہ بنانا """ کے بارے میں سوال کیا ہے کہ """ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم زیارت قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جا سکتے ہیں ہاں بار بار نہیں لیکن جا سکتے ہیں کیا میں درست سمجھا ہوں عادل بھائی؟؟؟؟؟
"""
جی مباح بھائی جا سکتے ہیں ، لیکن جانے کا سبب ، اور جانے کی نیت صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دیے ہوئے احکامات ، دی ہوئی تعلیمات کی حدود میں ہونی چاہیے ،
قبروں کی زیارت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے منع فرمایا تھا اور پھر اس کی اجازت دے دی ، جیسا جیسا کہ انس ابن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشادفرمایا (((((نهيتُکُم عن زَيارةَ القُبورَ فَزُورُوها فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُم المَوتَ ::: میں نے تُم لوگوں کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن (اب ) تُم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبریں تم لوگوں کو موت یاد کرواتی رہیں گی ))))) المستدرک الحاکم ،
ممانعت کے بعد اس اجازت کا سبب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ساتھ ہی بتایا ،اور اپنی اُمت کو یہ سکھایا کہ تُم لوگ قبروں کی زیارت صرف اس سبب کی بنا پر کر سکتے ہو ، اس کی مزید شرح اس دوسری حدیث میں ملتی ہے جو ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور رو پڑے اور ان کے ساتھ باقی لوگ بھی رو پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( استَأذَنتُ رَبِّي في أَن أَستَغفِرَ لها فلم يَأذَن لي وَاستَأذَنتُ رَبِّي في أَن أَزُورَ قَبرَهَا فَأَذِنَ لي فَزُورُوا القُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُم المَوتَ::: میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی مغفرت کی دعا کرنے کی جازت مانگی لیکن اس نے مجھے اجازت نہیں دی ، اور (پھر)میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر دیکھنے کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی ، پس تُم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبریں تم لوگوں کو موت یاد کرواتی رہیں گی )))))، سنن ابن ماجہ / کتاب الجنائز/باب 48 ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُن کی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت جس سبب سے دی اُسی سبب کو بیان فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی امت کو بھی قبروں کی زیارت کی اجازت دے دی ،
لہذا مباح بھائی ، اب تک بیان کردہ احادیث مبارکہ کے مطابق یہ ثابت ہوا کہ مدینہ المنورہ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر نہیں کیا جائے گا ،
جی اگر کوئی شخص مدینہ المنورہ میں موجود ہو تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے اُسی استثنائی سبب کی بنا پر جا سکتا ہے جو سبب خود اللہ کے رسول نے بیان فرمایا ہے ، اور وہ سبب ہے """ موت کی یاد کے لیے """ ،
وہاں جا کر جانے والا یہ سوچے کہ یہ قبر مبارک اللہ کی سب سے زیادہ محبوب ترین ہستی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہے جو اللہ کے بعد سب سے زیادہ بلند رتبے والے ہیں ، اُن پر بھی اللہ کے حکم سے موت طاری ہوئی اور قبر میں دفن کیے گئے تو کوئی اور موت سے کیسے بچ سکتا ہے ؟؟؟ اور یہ سوچے کہ احکم الحاکمین اور ہر چیز پر قادر مطلق صرف اور صرف اللہ ہے کوئی بھی اور اللہ کے کسی بھی حکم میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتا ورنہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر موت طاری نہ ہونے دیتے ،
جی تو مباح بھائی ، قبروں کی زیارت سے ممانعت نہیں ، بس ان کی زیارت کی نیت ، اُن کے باسیوں کے متعلق عقائد کے مطابق زیارت کا حکم مرتب ہوتا ہے ،
بس آخر میں صرف یہ بتاتا چلوں کہ میرے سب سے پہلے جواب میں سب سے پہلی متفقٌ علیہ حدیث ((((( ،،،،، لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إلا إلى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسجِدِ الحَرَامِ وَمَسجِدِ الأَقصَى وَمَسجِدِي هذا ::: ،،،،، تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور جگہ کی طرف (دینی زیارت کے طور پر )سفر نہیں کیا جائے گا ، مسجد الحرام ، مسجد الاقصی اور میری یہ مسجد ))))) کا اور اس زایرتءِ قبور کی اجازت والی احادیث کا آپس میں کوئی تعارض یا تضاد نہیں ، بلکہ دوسری اجازت والی احادیث پہلے والی حدیث کے عام حکم میں سے ایک کام کے استثناء کا حکم لیے ہوئے ہیں ، اور """ علم اصول الفقہ """ میں یہ معروف ہے کہ کوئی ایک نص کسی دوسرے نص میں موجود عام حکم میں سے کسی ایک یا چند ایک چیزوں یا احکام کے لیے استثناء کا کام دیتا ہے ، اگر ضرورت ہوئی تو ان شاء اللہ""" اصول الفقہ """کے ان قواعد و قوانین پر بھی بات کی جا سکتی ہے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (11-02-10), فیصل ناصر (11-02-10), محمد عاصم (21-06-10), باذوق (13-02-10), عبداللہ حیدر (11-02-10)
پرانا 24-05-10, 05:38 PM   #53
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2010
مراسلات: 844
کمائي: 16,170
شکریہ: 4,383
785 مراسلہ میں 2,219 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
نور من قبر النبي الأكرم "صلی اللہ علیہ وسلم "






سبحان اللہ

مسجد نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم )


اگر کوئی دیکھنا چاہتا ھے اور آڈیو سے الرجی ہو
تو آڈیو بند کر کے بھی دیکھ سکتے ہیں ، شکریہ











شکریہ کعنان بھائی


سبحا ن اللہ بہت اچھا لگا دیکھ کر
rabab آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
rabab کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (25-05-10)
جواب

Tags
color, green, magenta, کوشش, کنعان, پہچان, قصد, نظر, مکہ, ممکن, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, اللہ, انسان, بھائی, جلد, حال, حدیث, خصوصی, راستہ, زندگی, شخص, علم, عبداللہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو بزم خیال تجاویز اور شکایات 15 25-11-11 09:40 PM
منتظر الزیدی پر تشدد کرکے زبردستی وزیراعظم کے نام معافی نامہ لکھوایا گیا ۔ عودے الزیدی چیتا چالباز خبریں 4 02-08-11 11:06 PM
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے آئر لینڈ کے مزید دو سینئر پادری مستعفی گوہر گپ شپ 1 27-12-09 04:04 AM
نہ جانے ظرف زیادہ تھا کم یا انا زیادہ تھی The Great احمد فراز 0 28-08-09 10:00 PM
خصوصی افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے، سہراب سرکی عبدالقدوس شعبہ طب 0 26-10-07 07:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger