| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم ؛۔۔۔ ایک وقت تھا جب خود میرے لیے یہ ایک نیا علمی موضوع تھا ۔(یہ عقیدہ اہل تشیع میں کتنا باقی رہ گیا ہے میں نہی جانتا) لیکن مجھے اس نظریہ پر یقین ہے اور چاہتا ہوں کے اس کو شیئر کروں اور اگر کسی حدیث یا قرانی آیات سے کچھ نظریہ بدل سکئے تو میں دعوت دیتا ہوں کہ ضرور اس پر بحث کریں اس لیے میں اس موضوع کو سوالات کی صورت میں رکھا ہے ۔ ۔ ۔شکریہ۔ سوال :- کیا ہم دو بار مریں گئے ؟؟ اور کیا ہم دو بار زندہ ہونگے ؟؟ دیکھتے ہیں کہ قرآن کیا کہتا ہے ۔ ۔ ۔ سُوۡرَةُ مؤمن / غَافر40- قَالُواْ رَبَّنَآ أَمَتَّنَا ٱثۡنَتَيۡنِ وَأَحۡيَيۡتَنَا ٱثۡنَتَيۡنِ فَٱعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلۡ إِلَىٰ خُرُوجٍ۬ مِّن سَبِيلٍ۬ (١١) وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو بار موت دی اورتو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کر لیا پس کیا نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے (11) اس آیت سے دو بار موت کا تصور نظر آتا ہے ۔ اور دو بار زندہ ہونا تو سب ہی جانتے ہیں۔ اس آیت میں دو2 بار مرنے اور دو2 بار زندہ ہونے کہ بعد یہ کہا جارہا ہے کہ کیا نکلنے کی کوئی راہ ہے سوال :- کیا کسی اور امت میں ایسا ہوا ہے ؟؟ پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا کسی امت میں دو 2 بار مرنا اور دو 2 بار زندہ ہونے کا علمل رکھاگیا ہے جو ہم یہ سوچئں کہ یہ امت بھی اسی عمل سے گزرے گی پہلی مثال ؛- ۔سُوۡرَةُ البَقَرَة ایت 55 وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦ يَـٰقَوۡمِ إِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ أَنفُسَڪُم بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلۡعِجۡلَ فَتُوبُوٓاْ إِلَىٰ بَارِٮِٕكُمۡ فَٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ ذَٲلِكُمۡ خَيۡرٌ۬ لَّكُمۡ عِندَ بَارِٮِٕكُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۚ إِنَّهُ ۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ (٥٤) وَإِذۡ قُلۡتُمۡ يَـٰمُوسَىٰ لَن نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى ٱللَّهَ جَهۡرَةً۬ فَأَخَذَتۡكُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَأَنتُمۡ تَنظُرُونَ (٥٥) اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو، تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھہرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے، تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو۔ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے۔ پھر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا۔ وہ بے شک معاف کرنے والا (اور) صاحبِ رحم ہے (۵۴) اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے (۵۵) دوسری مثال :- سُوۡرَةُ البَقَرَة ۞ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ خَرَجُواْ مِن دِيَـٰرِهِمۡ وَهُمۡ أُلُوفٌ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِ فَقَالَ لَهُمُ ٱللَّهُ مُوتُواْ ثُمَّ أَحۡيَـٰهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَڪۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَشۡڪُرُونَ (٢٤٣) سورة البَقَرَة بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے (۲۴۳) تیسری مثال "- سُوۡرَةُ البَقَرَة أَوۡ كَٱلَّذِى مَرَّ عَلَىٰ قَرۡيَةٍ۬ وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحۡىِۦ هَـٰذِهِ ٱللَّهُ بَعۡدَ مَوۡتِهَاۖ فَأَمَاتَهُ ٱللَّهُ مِاْئَةَ عَامٍ۬ ثُمَّ بَعَثَهُ ۥۖ قَالَ ڪَمۡ لَبِثۡتَۖ قَالَ لَبِثۡتُ يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ۬ۖ قَالَ بَل لَّبِثۡتَ مِاْئَةَ عَامٍ۬ فَٱنظُرۡ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمۡ يَتَسَنَّهۡۖ وَٱنظُرۡ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجۡعَلَكَ ءَايَةً۬ لِّلنَّاسِۖ وَٱنظُرۡ إِلَى ٱلۡعِظَامِ ڪَيۡفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكۡسُوهَا لَحۡمً۬اۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ ۥ قَالَ أَعۡلَمُ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ ڪُلِّ شَىۡءٍ۬ قَدِيرٌ۬ (٢٥٩) یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے)رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے (۲۵۹) سوال :- کیا قیامت سے پہلے زندہ کرنے کی کوئی آیت ہے جب زندہ کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد قیامت میں بھی زندہ کیا جائے گا ؟؟ ثابت کریں ؟؟ اس ایت میں صاف ظاہر ہے کہ اللہ نے جب پہلی موت کے بعد گناہ گار لوگوں کو زندہ کیا تو وہ قیامت کا زندہ کرنا نہی ہے کیونکہ ایت کہہ رہی ہے کہ اسی طرح قیامت میں بھی لوٹائے جانے کا زکر ہے ۔ ۔ سورہ 41-ایت 19،20-21 ، 22حٰم السجدہ / فُصّلَت وَيَوۡمَ يُحۡشَرُ أَعۡدَآءُ ٱللَّهِ إِلَى ٱلنَّارِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ (١٩) حَتَّىٰٓ إِذَا مَا جَآءُوهَا شَہِدَ عَلَيۡہِمۡ سَمۡعُهُمۡ وَأَبۡصَـٰرُهُمۡ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ (٢٠) وَقَالُواْ لِجُلُودِهِمۡ لِمَ شَهِدتُّمۡ عَلَيۡنَاۖ قَالُوٓاْ أَنطَقَنَا ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنطَقَ كُلَّ شَىۡءٍ۬ وَهُوَ خَلَقَكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةٍ۬ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ (٢١) وَمَا كُنتُمۡ تَسۡتَتِرُونَ أَن يَشۡہَدَ عَلَيۡكُمۡ سَمۡعُكُمۡ وَلَآ أَبۡصَـٰرُكُمۡ وَلَا جُلُودُكُمۡ وَلَـٰكِن ظَنَنتُمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَا يَعۡلَمُ كَثِيرً۬ا مِّمَّا تَعۡمَلُونَ (٢٢) اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کرلیئے جائیں گے(19) یہاں تک کہ جب وہ سب وہاں آجائیں گے تو گواہی دیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان اعمال کے جو وہ کرتے رہے۔(20) اور کہیں گے وہ اپنے اعضا سے، کیوں گواہی دی ہے تم نے ہمارے خلاف؟ تو وہ کہیں گے کہ گویائی دی ہے ہمیں اس اللہ نے جس نے گویائی بخشی ہے ہر چیز کو اور اسی نے پیدا کیا ہے تمہیں پہلی بار اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔(21 اور تم پردہ نہ کرتے تھے اس بات سے کہ تم کو بتلائیں گے تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہارے چمڑے پر تم کو یہ خیال تھا کہ اللہ نہیں جانتا بہت چیزیں جو تم کرتے ہو(22) سوال :- کیا قتل/ شہید ہوئے بغیر جنت میں جاسکتے ہیں ؟؟ یہ بھی ہم دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شائد جنت نے وعدہ لیا ہے کہ وہ شہیدوں کو ہی اپنے پاس بلائے گئی ۔ ۔یعنی جن لوگوں کے اعمال بہت اچھے ہیں اور دنیا میں اللہ اور رسول کو راضی کیا تو کیا وہ جنت میں نہی جائیں گئے ؟؟ جو لوگ طبعی موت مرئے ہیں ان کا کیا ہوگا؟؟ ۔۔ کیونکہ شہادت ہی جنت میں جانے کا واحد زریعہ ہے ۔ تو پھر یہ عقیدہ تقویت پاتا ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کے بعد شہید ہونگے تو جنت میں جائیں گئے۔ پھر سمجھاتا ہوں کہ وہ نیک لوگ جو اس زندگی میں طبعی موت مرئے ہیں اور دوسری بار جب زندہ ہوں گئے تو وہ شہادت پائیں گئے اور جو لوگ پہلی بار شہید ہوئے تھے وہ دوسری بار طبعی موت /یا شہادت پائیں گئے ۔ ۔ سُوۡرَةُ التّوبَة ۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٲلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقۡتُلُونَ وَيُقۡتَلُونَۖ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّ۬ا فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ وَٱلۡقُرۡءَانِۚ وَمَنۡ أَوۡفَىٰ بِعَهۡدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِۚ فَٱسۡتَبۡشِرُواْ بِبَيۡعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعۡتُم بِهِۦۚ وَذَٲلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ (١١١) بے شک الله مسلمانوں سے ان کی جان اوران کا مال اس قیمت پر خرید لیے ہیں کہ ان کی جنت ہے الله کی راہ میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل بھی کیے جاتے ہیں یہ توریت اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنااسے ضروری ہے اور الله سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہ بڑی کامیابی ہے (۱۱۱) سوال :- کیا قیامت میں ہم اللہ کے حضور حاضر کیے جائیں گئے تو گناہ گار اور مومن سب ایک ساتھ ہوں گئے یا صرف گناہ گار یا صرف مومن ہونگے ؟؟جواب سب حاضر کیے جائیں گئے ۔۔۔گناہ گار اور مومن سب ۔ ۔ ۔ سورہ ُ آل عِمرَان وَلَٮِٕن مُّتُّمۡ أَوۡ قُتِلۡتُمۡ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحۡشَرُونَ (١٥٨) اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکھٹے کئے جاؤ گے (15 سوال؛- کیا جس جگہ پہلی بار مرنے کے ہم کو رکھا جائے گا اس کا زکر بھی ہے ؟؟ ہر امت میں سے صرف گناہ گاروں کو حاضر کیا جائے گا اس جگہ کا بھی زکر ہے ۔ ایت دیکھیں ۔ سُورہ النَّمل27- وَيَوۡمَ نَحۡشُرُ مِن ڪُلِّ أُمَّةٍ۬ فَوۡجً۬ا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَـٰتِنَا فَهُمۡ يُوزَعُونَ (٨٣) حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَڪَذَّبۡتُم بِـَٔايَـٰتِى وَلَمۡ تُحِيطُواْ بِہَا عِلۡمًا أَمَّاذَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ (٨٤) اورجس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہو گی (83) یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوں گے کہے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں سمجھے بھی نہ تھے یا کیا کرتے رہے ہو (84) سوال اس طرح تو گناہ گاروں کے لیے دو عذاب ہوگئے ؟ تو کیا کوئی آیت ایسی ہے ؟؟ سورہ 32 ایت 21 وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ اور ہم ان کو یقیناً بڑے عذاب سے پہلے قریب تر عذاب چکھائیں گے تاکہ وہ باز آجائیں۔ یہ تمام آیات اور اس کے علاوہ بھی کچھ اور ہیں اور اس کے علاوہ بھی جو ہم نہی جانتے یا جس کا مطلب ہم نہی سمجھ سکتے قران میں ہیں ۔ یقینا جواب کے منتظر ہیں ۔ ۔توجہ کے منتظر ہیں ۔ایک سوچ کی منتظر ہیں ۔ Last edited by حیدر Rehan; 14-11-09 at 03:18 PM. |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
حیدر بھائی السلام علیکم،
میں تو اپنی ذہنی کیفیت کی وجہ سے فی الحال اس بحثکا حصہ نہیں بن سکوں گا، البتہ مجھے یقین ہے اس موضوع پر دیگر صاحبان علم اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں گے۔ آپ سمیت تمام دوستوں سے گذارش ہے کے اس موضوع پر علمی گفتگو کریں اور کسی بھی قسم کے "فتنے" سے بچنے کی کوشش کریں، تاکہ ماڈریشن ہٹائے جانے کا فیصلہ صحیح ثابت ہوجائے، نوٹ: اس موضوع پر صرف وہی صاحبان گفتگو کریں جو اپنے نظریات کو دلائل سے ثابت کرسکیں۔ کسی بھی قسم کی بے جا نکتہ چینی اور فضول جملوں کو حذف کردیا جائے گا! والسلام، شاہد علی صدیقی |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔ ۔
ایسا بلکل نہی ہے کہ اگر کوئی اس نظریہ سے ہٹ کر نظریہ پیش کریے اور قران اور سنت سے ثابت بھی کرئے تو میں انکار کردوں ۔ میں ساتھ ساتھ قران کی کچھ اور آیات بھی اس میں بعد میں شامل کرنے کی کوشش کروں گا تا کہ یہ موضوع اور واضع ہوجائے ۔ ۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,664
کمائي: 557,407
شکریہ: 25,087
10,217 مراسلہ میں 38,074 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھائ انشاء اللہ جلد اس پر لکھنے کی کوشش کروں گی
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (15-11-09), حیدر Rehan (16-11-09) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
کوئی بھی شخص اگر قران پاک کی کسی بھی ایت سے کسی بھی انداز میں اگر انکاری ہے تو یقینا اس شخص پر کفر لازمی قرار پاتا ہے۔ لیکن جانتے بوجھتے یا جان لینے کے بعد اگر کوئی شخص ایک بھی آیت سے (جو واضع ہو۔اور جس سے کئ مطلب ظاہرنہ ہوتے ہوں تو) انکھ بچاتا ہے تو ہم نہیں کہہ سکتے یہ کتنا غلط اور ظلم ہوگا ۔ ہاں مگر یہ ضرور جانتے ہیں کہ :- اگر قران سے کوئی عقیدہ ظاہر ہوتا ہے تو اس پر ایمان لازمی ہے ۔اور اس پر ایمان لانے والے کو مومن ہی کہاجائے گا۔ ہم نہی جانتے کہ قران کس بات کے لیے کہہ رہا ہے ۔ مگر کہہ رہا ہے کہ "اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو جانتے بوجھتے اللہ کی ایتوں کو چھپائے " اس لیے ہم نے چھپایا نہی تاکہ کم از کم ہم "ظالموں کے دائروں " یا "ظلم کے حدود" میں نہ آئیں ۔ ۔ اس لیے ایک اور ایت ہم لکھ رہے ہیں شاید کچھ اور مدد ملے اس موضوع کو سمجھنےمیں ۔ سورہ ا18 ایت 47 وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا اورجس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ اگر یہ دن قیامت سے مطلق ہے تو قیامت میں تو زمیں اور سب کچھ تباہ ہوجائے گا ۔اس ایت میں زمین باقی ہے کیا یہ وہی دن ہوگا جس کا ہم زکر کررہے ہیں ۔ |
|
|
|
| حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (16-11-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کو مان لیتے ہٰیں اور اللہ کے علم اور مشیت کے اگےسر تسلیم خم کرتے ہیں ۔
اگرچہ یہ آیات یا صرف ایک ہی واضع ایت بہت ہےکسی بھی شخص کے لیے اس بات پر ایمان لانے کے لیے کہ ہم دو بار مریں گئے۔ اور دو بار زندہ ہونگے ۔ مگر پھر بھی کچھ وقت اور کچھ آیات ضرور دوںگا ۔۔۔۔ ایک بات کرتا چلوں شاید کچھ اور آسانی ہوجائے ۔ بہت ہی واضح احادیث جن کی تعداد تقریباً دو سو ہے اور تقریباً چالیس راویوں اور علمانے نقل کی ہیں ،اور پچاس سے زیادہ کتابوں میںوارد ہوئی ہیں۔ ہماری اجداد کی کتابوں میں تحریر ہے ۔ان کتابوں میں جو تقریبا 1400 سو سال پرانی ہیں۔۔۔ ان لوگوں کی جن کا تعلق اہلیبت سے بہت زیادہ نزدیک کا ہے ۔ یا یہ کہ ان کی محبت اہل بیت سے بہت زیادہ اور قریب کی ہے ۔ |
|
|
|
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے مان لیتے ہیں اور زیادہ حجت نہی کرتے
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
مجھے لگتا ہے کچھ یا چند ایک ایات اور دینا ضرور چاہیں تاکہ اپکے ایمان کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہوں ویسے میری نظر میں قرآن میں ابھی کئی ایات ہیں جو میں چاہتا ہوں کہ اہستہ اہستہ بیان کروں تاکہ کوئی حجت باقی نہ رہے ۔ ۔ ۔
ایک اور ایت پڑھتے ہیں ۔ سورہ القصص 28 ایت 5 خلائق عالم اپنے کلام ميں فرماتا ہے و نريد ان نمن الذين استغعفوا في الارض و نجعلھم آئمۃ و نجعلھم الاوارثين5) ترجمہ: اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں اللہ نے یہ وعدہ کيا تھا اور قران میں یہ وعدہ ہے اور تا حال پورا نہيں ہوا لہذا اس ايفائے عہد کے ليے کوئي زمانہ ضرور ہونا چاہیے اللہ کا يہ عہد اسی زمانے میں پورا ہوگا۔جب ہم دوبارہ پیدا ہونگے ۔ ایک بات کہوں مجھے اتنی آیات اس وقت معلوم نہی تھی جب اس بات پر میں ایمان لایا ۔ ۔ ۔لیکن اپ خوش قسمت ہیں کہ اپ کے لیے مضبوط اور مستحکم ایات مل گیں ۔۔ایک ساتھ ایک ہی صفحہ پر ۔ ۔ Last edited by حیدر Rehan; 19-11-09 at 06:54 PM. |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
ایک آیت اور اسی نظریہ کے تحت لیجئے ۔ سورہ نور 24 ایت 55 وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔55 جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم وپائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں سوال کیا اس ایت میں کیا گیا اللہ کا وعدہ پورا ہوا ؟ جواب نہی اور یہ اسی دن کے بعد ہوگا جب ہم دوبارہ پیدا ہونگے اور دنیا میں ائیں گئے ۔ حقيقت يہ ہے کہ يہ وعدہ خداوندي ابھي تک اس طرح پورا نہيں ہوا جس طرح اللہ نے وعدہ کیا ہے اور ایت بتا رہی ہے اور تمام امت اسلاميہ ميں امن و امان قائم نہی ہوا جیسا ایت بتا رہی ہے ۔ اور ان کے دلوں سے خوف و ہراس اور شکوک شبہات اب تک دور نہی ہوئے جیسا ایت میں زکر ہے ۔ اور یہ ديکھتے ہيں کہ ان کے درميان جنگوں کا سليہ برابر جاري و ساري رہا ہے ۔ اور ویسا امن ابھی تک امت مسلمہ کو نصیب نہی ہوا ۔ کیا خیال ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا ہوگا ؟؟ بے شک ضرور پورا ہوگا اور اسی زمیں پر پورا ہوگا ۔۔ |
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
سلام ان پر جو حق کی پیروی کرتے ہیں اور نفی نہی کرتے۔
سورہ 61 ایت 9 ارشاد قدرت ہوتا ہے: ھوالذي ارسل رسول بالھديٰ و دين الحق ليظہرہ علي الدين کلہ ولوکرہ المشرکون۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اسے سب ادیان پر غالب و سربلند کردے خواہ مشرک کتنا ہی ناپسند کری واضح بات ہے کہ ابھي تک يہ غلبہ حاصل نہيں ہو سکا جب کہ قرآن کي صداقت ہي ميں کسي کو شک ہي نہيں تو ماننا پڑے گا کہ ايک ايسا زمانہ ہونا چاہيے جس ميں دين اسلام کو غلبہ حاصل ہو وہ صرف زمانہ وہ ہی ہوگا جب ہم دوبارہ زندہ ہونگے ۔ ابھی بھی شک ہے کیا انسان پہ وہ وقت نہی آیا کہ اس کے دل نرم ہوجائیں اور اللہ کی طرف جھک جائیں ؟؟؟؟؟؟ (القران) |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,082
کمائي: 110,129
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ سورۃ البقرۃ2 آیت نمبر 28 تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
__________________
|
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | مسٹر شیف (24-11-09), اخترحسین (28-11-09), حیدر (27-11-09), عادل سہیل (25-11-09), عبداللہ حیدر (24-11-09) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ
وَكُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ سورۃ البقرۃ2 آیت نمبر 28 تم کس طرح اللہ کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر تمہیں موت سے ہمکنار کرے گا اور پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپ کا شکریہ اپ نے کچھ ہمت دیکھائی ۔ مگر شائد اپ کچھ لکھنا بھول گئے اس ایت سے کیا بتانا چاہ رہے ہیں وہ بھی لکھ دیں ۔ اس میں جواب تو ہے نہی ہوسکتا ہے کہ کوئی اور بات اپ کہنا چاہ رہے ہیں ۔ |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,082
کمائي: 110,129
شکریہ: 12,557
4,514 مراسلہ میں 15,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جب میں نے جواب دیا ھے تو میں کچھ بھی نہیں بھولا تھا خود ہی نہیں لکھا، تاکہ سوال کرنے والے کا بھی پتہ چلے کہ سوال خود اپنے دماغ سے تجویز کیا ھے یا کہیں سے لیا ھے۔ اب اس کے آگے آپ فرمائیں کیا مزید جاننا ھے پھر اس اللہ نے ہمت دی اور زندگی رہی تو ضرور جواب ملے گا ان شاء اللہ۔ والسلام |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (29-11-09), مسٹر شیف (24-11-09), حیدر (27-11-09), حیدر Rehan (24-11-09), عادل سہیل (25-11-09) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، کنعان بھائی ، آپ نے سورت البقرہ کی آیت کا ذکر فرما کر ریحان بھائی کو جو سمجھانے کی کوشش کی ہے اللہ کرے وہ ان کی سمجھ میں آ جائے ، جزاک اللہ خیرا ، و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, کوشش, گذارش, واقعات, قرآن, موت, مؤمن, ایمان, اللہ, بھائی, جواب, حکم, حدیث, خوش, خدا, دیکھو, زندگی, سودا, شخص, عقیدہ, علمی, عذاب, عرصہ, صاف, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کیا ہم مسلمان ہیں ؟؟ | سعید الرحمان | تجاویز اور شکایات | 10 | 17-08-10 12:13 AM |
| کراچی میں گلزار ہجری کہاں واقع ہے؟؟ | احمد بلال | آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی | 7 | 26-07-10 10:38 AM |
| قران میں ہمارا مقام کہاں ہے ؟؟ کیا ہم جانتے ہیں ؟؟ | حیدر Rehan | علوم قرآن کریم | 3 | 25-11-09 01:00 PM |
| اصلاح فرد میں صحافت کیا کردار ادا کر سکتی ہے ؟؟ | راجہ اکرام | صحافت | 13 | 05-11-09 12:40 AM |
| کیا پارلیمنٹ کیری لوگر بل کو مسترد کر سکتی ہے؟؟/؟؟ | راجہ اکرام | گپ شپ | 9 | 11-10-09 07:35 AM |