| علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
السلام علیکم۔
یہ سوال آپ کو بہت سے حلقوں سے ملے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل لکھا ہوا قرآن موجود نہیں تھا۔ اس مراسلہ میں کوشش کی گئی ہے کہ آپ کو وہ روایات مل جائیں جو قرآن کے پہلے دو نسخوںکی تدوین کے بارے میںہیں۔ اگر کوئی دوست ان روایات کا اردو اور عربی ترجمہ بھی فراہم کرسکیںتو لنک اور متن دونوںذیل میںکٹ پیسٹ کردیں اور شکریہ قبول کیجئے۔ قران حکیم ، فرمان رب عظیم اللہ تعالی کسی کی سنی سنائی اسناد سے آج ہم تک نہیں پہنچا۔ یہ رسول اللہ صلعم پر نازل ہوا، خود ان کے فرمان کے مطابق لکھایا گیا۔ ہر آیت -- لکھی ہوئی -- کم از کم دو اصحابہ کے پاس ملی، جس سے مصحف عثمانی ترتیب دیا گیا۔ ہوں۔ اس ریسرچ کے بغیر بھی ایک مسلمان اس پر یقین رکھتا ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے۔ کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالی خود فرماتے ہیں۔ "قرآن اپنے نزول کے ساتھ ساتھ لکھا جاتا رہا۔ حفاظ نے اس کو ذاتی طور پر یاد بھی رکھا لیکن لکھا ہوا ہمیشہ موجود تھا اور وہ مصحف عثمانی جس کی ہر آٰیت کم از کم دو اصحابہ کو یاد تھی اور ساتھ ساتھ لکھی ہوئی بھی تھی، اس مصحف ّعثمانی کی کم از کم 3 کاپیاں میری ریسرچ کے مطابق موجود ہیں اور ایک سے زائید آزاد تحقیق کے مطابق اس کا عربی مواد لفظ بہ لفظ موجودہ قرآن سے ملتا ہے۔ " میری استدعا ہے کہ آپ اس موضوع پر ذاتی ریسرچ کیجئے۔ اس کو پڑھنے میں وقت لگے گا، اور حوالہ جات کو پڑھنے میںبھی وقت لگے گا۔ گواہیوں کے لنک نیچے فراہمکررہا ہوں۔ یہ گواہیاںتاریخی امور سے ہیں ۔ 1۔ اصحابہ کرام سے منسوب روایتوں میں درج ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا ترتیب دیا ہوا قران، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس رہا اور اس کے بعد حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس رہا۔ اس قرآن سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے ترتیب کرائے ہوئے قرآن کا موازنہ کیا گیا۔ CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts قرآن کی ان کاپیوںکا لنک جو آج بھی موجود ہیں : وہ قرآن جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ شہادت کے وقت پڑھ رہے تھے۔ توپ کاپی میں Care2 - Photo Sharing مصحف عثمانی کی ایک اور کاپی ازبکستان - تاشقند میں IslamiCity.com - The oldest Quran in the world BBC NEWS | Asia-Pacific | Tashkent's hidden Islamic relic کویتی کاپی مصحف عثمانی کی Kuwait displays copy of Othman Quran قاہرہ مصر کی کاپی مصحف عثمانی کی The "Qur'an Of Uthman" At The Al-Hussein Mosque, Cairo, Egypt, From 1st / 2nd Century Hijra ابتدائی قرآن کی کتابت کی تاریخ: قرآن کا اولیں نسخہ: 1۔ حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم ، قرآن اپنی نگرانی میںلکھواتے تھے اور حفاظ اس کو یاد بھی کرلیتے تھے۔ رسول اکرم صلعم کی موجودگی میں ان لکھوائے ہوئے اوراق کی مدد سے اور حفاظ کرام کی مدد سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے پہلا نسخہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی نگرانی میں ترتیب دلوایا، کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اکرم خود لکھوایا کرتے تھے (حوالہ نیچے)۔ اور ایک مزید نسخہ بعد میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے انہی شرائط پر دوبارہ ترتیب دلوایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس نسخہ کا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے نسخے کو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے منگوا کر موازنہ کروایا ( گواہی کا حوالہ نیچے دیکھئے) 2۔ حضرت حفصہ بنت عمر الخطاب رضی اللہ تعالی عنہا ، رسول اکرم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں۔ قرآن کا ایک نسخہ ان کے پاس موجود تھا۔ (حوالہ نیچے دیکھیں) یہ نسخہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کاغذ پر لکھے ہوئے کی مدد سے اور حفاظ کرام کی مدد سے سے لکھوایا تھا، یہ کام زید بن ثابت نے کیا ۔ یہ نسخہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا اور پھر حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس پہنچا۔ 3۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے قرآن کا ایک دوسرا نسخہ ترتیب دلوایا ۔ یہ نسخہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہ ، سعید بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ اور عبدالرحمان بن حارث بن ہاشم کی مدد سے ترتیب دیا گیا۔ اس ترتیب دینے کی شرائط یہ تھیں۔ 1۔ ہر وہ شخصجسے قرآن کی ایک بھی آٰیت یاد تھی ، وہ زید بن ثابت کے پاس آیا اور وہ آٰیت دہرائی۔ 2۔ جس کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کوئی آیت لکھی تھی وہ زید بن ثابت کے پاس لے کر آیا 3۔ زید بن ثابت نے کوئی بھی ایسی آیت قبول نہیںکی جو رسول اکرم کی موجودگی میں نہیں لکھی گئی تھی۔ 4۔ صرف یاد کئے ہوئے یا صرف لکھے ہوئے پر بھروسہ نہیںکیا گیا بلکہ لکھے ہوئے کا موازنہ یاد کئے ہوئے سے کیا گیا۔ 5۔ جناب زید بن ثابت نے کوئی آیسی آیت قبول نہیںکی جس کے گواہ دو حفاظ نہیںتھے۔ زیدبن ثابت خود ایک گواہ تھے، اس طرح ہر آیت پر تین گواہیاں بن گئیں 6۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے جنابہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس سے جناب ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا ترتیب دیا ہوا قرآن منگوایا اور ان دونوں مصحف کا آپس میں موازنہ کیا گیا۔ اس قرآن کی متعدد کاپیاںبنوائی گئیں ، جن میںکم از کم 3 عدد مستند مقامات پر موجود ہیں۔ جب پم میں سے کسی کو یہ قرآن پڑھوایا جاتا ہے تو مندرجہ بالاء میں سے کچھ بھی نہیںبتایا جاتا۔ ہم سب اس قرآن پر اپنی مرضی اور اپنے والدین کی ہدایت پر ایمان لایے۔ اگر ہم میںسے کسی نے یہ سب کچھ نہ بھی پڑھا ہوتا تو بھی ہمارا ایمان ایسے ہی پختہ ہوتا۔ کہ اس کو اللہ تعالی نے نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ حوالہ جات: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی کہ قرآن کو رسول اکرم کے سامنے لکھے ہوئے سے لکھا گیا، صرف زبانی حفظ سے کام نہیں چلایا گیا CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts قرآن کا املا کرایا جارہا ہے ، ایک اور گواہی: CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts مزید صحابہ کی گواہی کہ اس وقت تک کا مکمل لکھا ہو قرآن رسول اکرم کی زندگی میں موجود تھا: CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts املا لکھانے کی ایک اور مثال: CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts جو قرآن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کی مدد سے ترتیب دلوایا وہ کاپی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچی، یہ تمام کا تمام قرآن لکھے ہوئے قرآن سے اور حفاظ کی گواہی سے ترتیب دیا گیا۔ اس کی گواہی CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts لکھے ہوئے سے جمع کرنے کی ایک اور گواہی: CRCC: Center For Muslim-Jewish Engagement: Resources: Religious Texts میں نے سوچا کہ ان معلومات پر مشتمل کچھ مزید لنک بھی ہونے چاہئیے۔ ملتی جلتی معلومات پر مشتمل ایک اور لنک، - یہ لنک میں نے بعد میں ڈھونڈھا۔ کوئی بھی مماثلت اتفاقیہ ہے۔ تھوڑی سے مختلف معلومات پر مشتمل ایک اور لنک اللہ تعالی قرآن حکیم میں بھی بیان فرماتے ہیںکہ یہ لکھا ہوا قران ہے۔ بحیثیت ایک مسلمان ہمارا یہ فرضہے کہ ہم مذہبی کتب کو قرآن حکیم یعنی اللہ کے فرمان کی روشنی میں دیکھیں۔ قرآن نئی اور تمام کتب کے لئےکسوٹی ہے۔ آپ فیصلہ کرلیجئے کہ آپ نئی اور پرانی مذہبی کتب کو قرآن کی مدد سے پرکھیں گے یا کہ فرمان الہی قرآن حکیم جو رسول اللہ صلعم کی زبان مبارک سے ادا ہوا، کیا اس کتاب کو کسی بھی انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب کی مدد سے پرکھا جانا چاہئیے کہ قران حکیم میں درست کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ یقیناً نہیں۔ نوٹ: اگر کسی بھائی کو اس مراسلہ میں کوئی غلطی نظر آئے تو سب کے فائیدہ کے لئے مجھے مطلع فرمائیے تاکہ اس غلطی کو فوراً درست کیا جاسکے۔ والسلام
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), shafresha (22-10-09), مرزا عامر (22-07-10), ابرارحسین (22-07-10), طارق راحیل (11-10-10) |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
فاروق بھائی السلام علیکم،
اللہ عزوجل آپ کو اس شئیرنگ پر جزائے خیر دے! میری جانب سے شکریہ قبول فرمائیے۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اللہ تعالی کی قرآن میں گواہی کہ قران حکیم رسول اللہ صلعم کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا۔ اگر یہ ایک ایسی کتاب کی شکل نہیں رکھتا جو کہ دیکھی اور پڑھی جاسکے تو پھر کفار کیوں کر ایسا کہتے کہ "اس شخص نے لکھوا رکھا ہے "؟
25:5 وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اور کہتے ہیں: (یہ قرآن) اگلوں کے افسانے ہیں جن کو اس شخص نے لکھوا رکھا ہے پھر وہ (افسانے) اسے صبح و شام پڑھ کر سنائے جاتے ہیں (تاکہ انہیں یاد کر کے آگے سنا سکے) اللہ تعالی قسم کھاتے ہیں لکھے ہوئے قرآن کی۔ 52:2 وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ اور لکھی ہوئی کتاب کی قَسم احادیث کے حوالوں، اکابرین اسلام کی گواہیوں اور قرآن حکیم فرمان الہی کی آیات سے یہ بات ثابت ہے کہ قرآن حکیم رسول اللہ کی زندگی میں ہی لکھایا جاتا رہا اور اولین خلفاء نے اسی لکھے ہوئے قرآن حکیم کی مدد سے قران حکیم کے اولیں نسخہ ---- لکھے ہوئے اور یاد کئے ہوئے ---- دونوں قسم کے قرآن حکیم کی مدد سے تیار کئے اور اپنے ہر صوبے میں بھجوائے۔ ایسا کہنا کہ قرآن حکیم، ہڈیوں پر لکھا ہوا تھا یا پتوں پر لکھا ہوا تھا یا کوئلہ سے لکھا ہوا تھا درست نہیں۔ کہ رسول اکرم کی زندگی میں اولین مصحف شریف کے مکمل ثبوت دستیاب ہیں اور اس کا تواتر حفاط اور تحریری نسخوں سے رسول اکرم سے آج تک ثابت ہے۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-12-11) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت قبول فرمائے۔آپ کے اس آرٹیکل سے اتنا تو بہرحال معلوم ہو گیا کہ قرآن کی حفاظت کا ثبوت مہیا کرنے کے لیے بھی "انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب " سے مدد لیے بغیر چارہ نہیں۔
والسلام علیکم |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، آپ نے اچھی معلومات لکھی ہیں ، عموما ان کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں کے ہاں معروف ہے ، و للہ الحمد ، فاروق بھائی ، آپ کے اس مراسلے میں سب سے بڑی اور واضح غلطی آپ کا یہ سمجھنا ہے کہ مسلمانوں میں کوئی ایسا مسلک بھی ہے جوقران کو کسی اور کتاب کےذریعے پرکھتا ہو ، لگتا ہے آپ کچھ نا درست فلسفہ نما معلومات پر بھروسہ کیے ہوئے ہیں ، بڑے بھائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کو قران کے لیے کسوٹی نہیں سمجھا جا تا بلکہ قران کی تفسیر سمجھا جاتا ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے لے کر آج تک اہل سنت والجماعت کے تمام مسالک اور ان کے ائمہ اور عُلما اس پر عمل پیرا ہیں ، اب اگر آپ کسی سبب یا کچھ اسباب کی وجہ سے جنہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور جو بظاہر کسی خیر والا نظر نہیں آتے ، اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مسلمانوں میں سے سواد اعظم ، اہل سنت و الجماعت کے ائمہ اور عُلما قران کو لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں پر پرکھتے تھے یا پرکھتے ہیں ، تو بھائی جی یہ محض ایک خیال ہے ، پہلے بھی کہہ چکا ہوں پھر کہتا ہوں ، بھائی میرے ، بلکہ درخواست کرتا ہوں کہ صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کو قران کی تفسیر اور شرح سمجھیے ، نہ کہ قران کا مقابل ، ان شاء اللہ ، بہتری ہو گی ، غور فرمایے ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے لے کر آج تک امت کے امام اور علماء جن باتوں کو خوب چھان پھٹک کر اپنائے ہوئے ہیں ،اب صدیوں بعد ان کو رد کرنے کے لیے کونسے نئے آسمانی دلائل نازل ہو گئے ؟ اور کیا معاذ اللہ ، اللہ تعالی نے ایسے نئے فلسفوں کے ظہور تک ساری امت کو گمراہی میں رکھا کہ جسے وہ سنت اور قران کی تفسیر سمجھ کر اپنائے چلے آ رہے ہیں وہ بقول آپ کے """ دخل در معقولات """ ہے ؟؟؟ فاروق بھائی ، اگر کہیں کوئی ایسا شخص ظاہر ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دی ہوئی ہدایت اور بتائے ہوئے طریقے ، سمجھائے ہوئے احکام اور بیان کی گئی تفسیر کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو ، کلی یا جزوی طورپر پس پشت ڈال کر کوئی اور راستہ اختیار کرے ، جس میں وہ راہ بھی ہے جس کا آپ نے ذکر کیا اوروہ راہ بھی ہے جس پر آپ گامزن ہیں تو ایسا کرنے والا حق کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل یا حجت نہیں ، اور نہ ہی اس کا کوئی قول یا فعل کوئی حیثیت رکھتا ہے ، بھائی جی ، آپ کے خیال میں تو صحیح البخاری چونکہ کافی عرصہ بعد مرتب ہوئی لہذا اس کی صحت آپ جسیے کے لیے مقبول نہیں ، تو اب اسی صحیح البخاری کی روایات کو اپنے موضوع کی دلیل کیوں بنا رہے ہیں ، مسلمانوں اور یہودیوں میں اتفاق کروانے کی کوشش میں ؟؟؟ بہت خوب ، یہ روایات آپ کو یہودیوں اور مسلمانوں کے روابط بڑہانے کی کوشش کرنے والوں کی طرف سے مل جائیں تو قابل قبول اور اگر مسلمانوں کی طرف سے ذکر کی جائیں تو نا قابل قبول ، محترم فاروق بھائی ، اپنی خوش فہمیوں کو پہچانیے ، اپنی راہ پر واپس آیے ، اللہ کی کتاب کو اللہ کے احکام کے مطابق ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مطابق سمجھیے ، سنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین بھی شامل ہیں ، جو بلا شک اللہ کے فرامین نہیں اور اسی طرح بلا شک اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، پس میرے محترم بھائی اللہ کے فرامین کو ، اللہ کی طرف سے نازل فرمودہ وحی کے مطابق معصوم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا شدہ فرامین کے مطابق سمجھیے ، فاروق بھائی ، یہودی اور مسلمان کبھی مثبت طور پر """ انگیج """ نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں ، ((((( لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَى ذلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَاناً وَأَنَّهُمْ لاَ يَسْتَكْبِرُونَ ::: اور (اے محمد ) آپ یقینا پائیں گے کہ ایمان لانے والوں کے لیے سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والے یہودی ہیں اور شکر کرنے والے ہیں اور آپ یقینا پائیں گے کہ ایمان لانے والوں کے مہربانی کے قریب ترین رویہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے (عیسیٰ علیہ السلام سے) کہا ہم مدد گار ہیں اور ایسا اس لیے ہے کہ ان میں عُلماء اور عبادت کے لیے الگ رہنے والے لوگ ہیں اور وہ لوگ تکبر نہیں کرتے ))))) سورت المائدہ / آیت 82 ، ہامرے لیے یہ کافی ہے کہ ((((( وَلَنْ تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ ::: اور ( اے محمد ) یہ یہودی اور عیسائی آپ سے کبھی بھی ہر گز خوش نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپ ان کے دین کی اتباع کریں ، آپ فرما دیجیے بے شک اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہی ہدایت ہے اور (اے محمد) آپ کے پاس عِلم آ جانے کے بعد اگر آپ نے ان کی خواہشات کی اتباع کی تو یاد رکھیے کہ اللہ کی طرف سے آپ کا کوئی دوست نہ ہو گا اور نہ ہی کوئی مددگار ))))) سورت البقرہ / آیت 120 ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اس کے ، اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مکمل تابع فرمان بنائے اور ہمیں اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مبارک نقش قدم کے عین مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (23-10-09), کنعان (21-11-09), محمد عاصم (31-07-10), مرزا عامر (22-07-10), آبی ٹوکول (22-07-10), ایکسٹو (03-12-11), احمد نذیر (03-12-11), ضِرار Derar (09-10-10), طارق راحیل (11-10-10), عامرشہزاد (30-10-09) |
|
|
#6 | ||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق بھائی ، اس تھریڈ میں آپ نے ایک اچھا موضوع شروع کیا ہے ، لیکن افسوس کہ کچھ اس تھریڈ میں آپ کچھ اس قسم کی باتیں بھی شامل کر رہے ہیں جن کے بارے میں درست لکھنا ہی پڑتی ہے میں نہیں چاہتا کہ یہاں بھی ایک بحث کا سماں بن جائے گا ، غلطی کی نشاندہی کر رہا ہوں ، اصلاح فرما لیجیے ، اللہ ہم سب کی اصلاح فرمائے ، آپ نے اپنے مراسلہ رقم تین کے اس منقولہ بالا حصہ میں جس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکی دور میں بھی قران لکھا ہوا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس تھا ، جس کی بنا پر مشرکین مکہ وہ کہتے تھے جس کا اللہ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ، تو بھائی جی ، بہت ہی بھلا ہو گا کہ آپ اس آیت کا سبب نزول ملاحظہ فرمایے ، اورسیاق و سباق بھی ملاحظہ فرمایے ، ان شا اللہ وضاحت ہو گی ، اور اس سے اگلی آیت بھی ملاحظہ فرمایے ((((( قُلْ أَنزَلَهُ ٱلَّذِي يَعْلَمُ ٱلسِّرَّ فِي ٱلسَّمَاوَاتِ وَٱلأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُوراً رَّحِيماً ::: کہیے ( اے محمد ) اس کو اللہ نے نازل فرمایا ہے وہ اللہ جو آسمانوں اور زمین کے راز جانتا ہے اور بے شک وہ مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ))))) غور فرمایے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار مکہ کے قول کو رد فرماتے ہوئے اپنے علم کا جو ذکر فرمایا ہے وہ اس بات کی نفی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کسی کے پڑھائے ہوئے""" اساطیر الاولین """ یعنی گذرے ہوئے لوگوں کے واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ اللہ کی وحی سے بیان کرتے ہیں ، مزید غور فرمایے کہ """ انزلہ """ میں """ ہ """ کی ضمیر کا معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان ہے جس کو کفار مکہ نے """ اساطیر الاولین """ کہا ، اور اسے نازل کرنے کا ذکر اس کلام کو اللہ کی وحی ہونا قرار دے رہا ہے ، """" ہ """" سے مراد قران نہیں ، اور یہ وحی جو قران نہیں ان کتابوں میں جمع ہے جنہیں ہم """ احادیث کی کتابیں """ کہتے ہیں ، اور ان میں موجود صحیح احادیث کے مطابق قران کریم کو سمجھتے ہیں ، فاروق بھائی ، اگر اس آیت کا وہ مفہوم درست مانا جائے جو آپ بیان فرماتے ہیں کہ اس وقت بھی لکھا ہوا قران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس تھا ، اور ایسا تھا کہ اسے کفار مکہ نے دیکھا اور پھر دیکھ کر یہ بات کہی ((((( أَسَاطِيرُ ٱلأَوَّلِينَ ٱكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً ::: گذر چکے لوگوں کے قصے ہیں جو محمد نے لکھوا رکھے ہیں اور وہ اسے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں صبح اور شام ))))) تو فاروق بھائی بڑی ہی مہربانی ہو گی ، کہ صرف یہ بتا دیجیے کہ ::: وہ لکھا ہوا قران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کسی کو دکھایا کیوں نہیں ؟؟؟؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد وہ قران کہاں گم ہو گیا ؟؟؟؟؟ اگر کہیں ہوتا تو ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کو قران جمع کرنے کی مہم چلانے کی بجائے ، اور زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کو دو دو گواہوں سے ہر ایک آیت سن کر لکھنے کی بجائے اس قران کے نسخے تیار کرنا کہیں آسان تھا ، اور زیادہ محفوظ بھی کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا نسخہ تھا !!!!! اقتباس:
ان گذراشات کا مقصد کسی بحث کا آغاز نہیں ، صرف یہ گذارش کرنا ہے کہ قران کو صرف الفاظ کے تراجم یا اپنی کسی مخصوص سوچ کے مطابق نہیں سمجھنا چاہیے ، ایسا عموماً درستگی سے دُور رکھتا ہے ، اقتباس:
اور اسی لکھے ہوئے قران حکیم کے نسخے کی مدد سے اولین خلفاء نے مزید نسخے لکھوائے ، جی تو بھائی جی ، اگر کم از کم یہ دو نسخے موجود تھے اور اس میں ایک کو دیکھ کر مزید نسخے تیار کیے گیے تھے تو پھر زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کو قران """ جمع کرنے """ پر کیوں لگایا گیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ فاروق بھائی ، """""" نسخہ """" کسی چیز کی ہو بہو نقل کو کہتے ہیں ، اور عموما اسی چیز کو کہا جاتا ہے جو آنکھوں سے سیکھی جا سکتی ہو ، یادداشت میں کسی چیز کو ہو بہو محفوظ کرنا اس کا نسخہ نہیں کہلاتا ، لہذا """ یاد کیے ہوئے نسخے """ کو کسی اور طور پر بہتر اور واضح الفاظ میں ذکر کرنا ان شاء اللہ بہتر ہو گا ، اقتباس:
بھائی ، اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو کونسی چیزیں میسر تھیں جن پر کچھ لکھا جاتا تھا ، اور جن سے کچھ لکھا جاتا تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ میں یقینا آپ کا شکر گذار ہوں گا اور آپ کے لیے دعا گو رہوں گا ، کہ اگر آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں ہی """ اولین مصحف شریف """ یعنی """ قران کریم کا ایک کتاب کی صورت میں مکمل نسخہ """ موجود ہونے کے """ مکمل ثبوت """ فراہم کردیں !!!؟؟؟ اور بھائی جی یہ بھی بتا دیں کہ وہ نسخہ کونسے چیز پر لکھا گیا تھا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اگر آپ ان باتوں کا """ مکمل ثبوت """ مہیا نہ کر سکیں تو یہی سمجھنا پڑے گا کہ آپ نے ایک دفعہ پھر آیات مبارکہ کا اپنی سوچ کے مطابق مفہوم نکالا ہے ، اور اس مفہوم کو درست کرنے کے اپنی مرضی سے کچھ """ روایات ""' کو مانا اور کچھ کو رد کر کردیا ، اور ایک عذر برقرار رکھنے کے لیے اپنی مانی ہوئی """ روایات ءِ احادیث """ کے بارے میں لکھا """" یہ گواہیاںتاریخی امور سے ہیں """ تا کہ ،،،،،،،،،،،، فاروق بھائی ، ازراہ کرم میرے مذکورہ بالا سوالات کے جوابات دے کر میری بلکہ ہر ایک قاری کی معلومات میں اضافہ فرمایے ، اور میری اس درخواست پر بھی غور فرمایے کہ آپ نے قران کے لکھے جانے اور ہم تک پہنچنے کے موضوع کے بارے میں تاریخی باتیں جمع کرنے اور یہاں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو اسے تاریخ تک ہی محدود رکھیے ، اپنے طور پر لفظی مماثلت کی بنا پر آیات قرانیہ کا غلط مفہوم بیان کرنے سے گریز فرمایے ، ان شاء اللہ ، اللہ پاک سے اجر حاصل کریں گے اور قارئین سے دعاء خیر ، و السلام علیکم۔ |
||||
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (31-07-10), مرزا عامر (22-07-10), احمد نذیر (03-12-11), ضِرار Derar (09-10-10), عامرشہزاد (30-10-09), عبداللہ حیدر (23-10-09) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، ماشا اللہ ، بہت اچھی بات کہی ہے ، اللہ کرے بھائیوں کی سمجھ میں آ جائے اور وہ قران فہمی کے لیے اللہ کے مقرر کردہ راستے پر چلیں ، قران کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے ذریعے سمجھیں ، اللہ تعالی ہمیں اور ان کو ہر گمراہی اور شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
کوئی مسئلہ نہیں۔
ذرا دوڑ کر وہ مشہور ہڈیاں ، پتھر اور پتے تو فراہم کردیجئے جن پر قرآن حکیم لکھا ہوا تھا۔ اس مراسلہ کو بغور پڑھئیے یہ طنز نہیں۔ شکریہ او سلام۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من عبد اللہ حیدر صاحب،
ایک اچھے سوال کا بہت ہی شکریہ۔ اس میں شبہ نہیں کہ انسانوں کی لکھی ہوئی کتب سے ہی وہ تاریخملتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کن ہاتھوںسے ہم تک پہنچا۔ ان ہی انسانوں کی لکھی ہوئی کتب سے ہم تک رسول اکرم کی احدیث مبارکہ پہنچی ہیں۔ لیکن ان کتب کی ہر روایت پر ہمارا من و عن ایمان نہیںہے۔ بہت سے لوگ ان کتب سے روایات کو الگ کرکے صحیح روایات شائع کرتے رہے ہیں۔ میرا مؤقف صرف اتنا ہے کہ ان کتب کی روشنی میں ہم قرآن کی آیات کو درست یا غلط ثابت نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ قرآن کی روشنی میں ان روایات کی درستگی کی جانچ کرتے ہیں۔ اس میں مکمل خلوص شامل ہے۔ یہی اللہ تعالی کا فرمان ہے اور یہی رسول اللہ کا فرمان ہے۔ اگر آپ کو میرے اس ایمان سے انکار ہے تو وجوہات بہیان فرمائیے میں ہمہ تن گوش ہوں بہت شکریہ اور سلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
کیا اس زمانے میں کاغذ قلم کا استعمال ہوتا تھا؟ 68:1 ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ نون (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، قلم کی قَسم اور اُس (مضمون) کی قَسم جو لکھتے ہیں گویا بوقت نزول قرآن حکیم، قلم موجود تھا اور اس سے لکھا بھی جاتا تھا۔ کیا عام طور پر لکھا جاتا تھا یا یہ بہت ہی عنقا تھا؟ 2:282 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُب بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّهُ فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّهَ رَبَّهُ وَلاَ يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لاَ يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُواْ شَهِيدَيْنِ من رِّجَالِكُمْ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى وَلاَ يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُواْ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَكْتُبُوْهُ صَغِيرًا أَو كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّهِ وَأَقْومُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَكْتُبُوهَا وَأَشْهِدُوْاْ إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلاَ يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَلاَ شَهِيدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اے ایمان والو! جب لین دین کرو تم اُدھار کا کسی میعادِ معین کے لیے تو اسے لکھ لیا کرو۔ اور لکھے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ، اور نہ انکار کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسا کہ سکھایا ہے اس کو اللہ نے سو چاہیے کہ وہ لکھے- اور تحریر لکھوائے وہ شخص جس پر قرض ہے اور چاہیے کہ ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور کمی بیشی نہ کرے اس میں ذرا بھی ، اور اگر ہو وہ شخص جس پر قرض ہے کم عقل یا ضعیف یا قابلیّت نہ رکھتا ہو کہ تحریر لکھوائے وہ خود تو لکھوائے اس کا ولی انصاف کے ساتھ ۔ اور گواہ بنالو دو گواہ اپنے مردوں میں سے پھر اگر نہ موجود ہوں دومرد تو ایک مرد اور دو عورتیں، ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو بطورِ گواہ تاکہ (اگر) بھول بھٹک جائے ان میں سے ایک تو یاد دہانی کرادے ان میں سے ایک دوسری کو۔ اور نہ انکار کریں گواہ جس وقت بھی بلائے جائیں۔ اور نہ تسا ہل کرو دستاویز لکھنے میں (معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا، تعیینِ میعاد کے ساتھ ۔تمہارا ایسا کرنا زیادہ قرین انصاف ہے اللہ کے نزدیک اور بہت درست طریقہ ہے شہادت کے لیے اور زیادہ قریب ہے اس کے کہ نہ پڑو تم شک و شبہ میں۔ ہاں یہ کہ ہو لین دین دست بدست (جس طرح) تم لیتے دیتے ہو آپس میں، سو نہیں ہے تم پر کچھ گناہ، نہ لکھنے میں اور گواہ کرلیا کرو جب تم سودا کرو اور نہ ستایا جائے لکھنے والے کو اور نہ گواہ کو۔ اور اگر تم ایسا کرو گے تو بیشک ہوگی یہ سخت گناہ کی بات تمہارے لیے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ اور (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے تم کو۔ اللہ اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔ یہ معاہدے کاغذ، کپڑے پر لکھے جاتے تھے؟ یا ہڈیوں پتھر اور درخت کی چھالوں اور درخت کے پتوں پر لکھے جاتے تھے؟ اگر لکھنا پڑھنا عام طور پر موجود نہیں تھا تو اس ہدایت الہی کے کیا معنی ؟ اگر معاہدے عام طور پر لکھوائے جاتے تھے تو کیا وجہ ہے کہ نبی اکرم صلعم نے مکمل قرآن حکیم کاغذ پر نہیں لکھوایا؟ اور یہ وہی قران حکیم کیوں نہ مانا جائے جو کہ حضرت حفصہ (ر) کے پاس موجود تھا آپ کو پرانا ترین قرآن جو کہ حضرت عثمان 0ر) کے زمانے سے معروف ہے کاغذ یا کپڑے پر ہی لکھا ملتا ہے ۔ کوئی بھی قرآن آج تک پتھروں ، ہڈیوں، اور پتوں پر لکھا ہوا موجود نہیں۔ سب سے پرانے قرآن کے صفحے سنعا ، یمن میں پائے گئے ، یہ صفحات بھی ایک طرح کے کپڑے سے بنے کاغذ پر لکھے گئے ہیں۔ یہ قرآن کی میری تفسیر نہیں ہے بھائی ، لکھے ہوئے قرآن کی گواہی تو خود قرآن دیتا ہے ۔ کیا نبی اکرم کے زمانے میں قرآن لکھایا جاتا رہا تھا؟ اس کی ایک اور مثال جناب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اسلام پر ایمان لانے کے واقعہ سے ملتی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کی بہن سورۃ طہ کی تلاوت کررہی تھیں جس کے اوراق انہوں نے چھپالئے تھے ، جو کہ ھضرت عمر کے استفسار کرنے پر ان کو دکھائے۔ جس کو پڑھ کر حضرت عمر (ر) کا دل ایمان سے روشن ہوگیا۔ مزید آیات اور روایات کا لنک اوپر دے چکا ہوں جس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن لکھی ہوئی حالت میں موجود تھا اور جوں جوں نازل ہوتا رہا لکھوایا جاتا رہا۔ قرآن کی سورۃ اور آیات کی ترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ترتیب دی ۔ اسی ترتیب کو خلفاء نے جاری رکھا۔ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ یہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔ کاغذ مصریوں نے 4000 سال پہلے بنانا شروع کردیا تھا۔ آپ کو پرانے سے پرانا قرآن بھی کاغذ یا کاغذ جیسے کپڑے پر ملے گا۔ بلکہ آپ کو بائیبل اور توراۃ بھی کاغذ پر لکھی مل جائیں گی۔ آج تک کوئی قران پتھر، کھال، پتے اور چمڑے پر لکھا ہوا نہیں نظر آیا۔ کیا وجہ ہے کہ ہم معروف تاریخ اور قرآن حکیم کی گواہیوں کو تسلیم نہ کریں ؟ ہر مسلمان کو یہ سوال پوچھنا چاہئیے کہ آیا کہ وہ قرآن حکیم کی گواہی پر یقین رکھے گا یا پھر فارسی ٹکسال کی ڈھلی ہوئی کتب پر، جن میں ہتک رسول بھی پائی جاتی ہے؟ والسلام |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
16:98 فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
سو جب آپ قرآن پڑھنے لگیں تو شیطان مردود (کی وسوسہ اندازیوں) سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں 7:204 وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَهُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے بغیر لکھے کو کیسے پڑھیں گے؟ اگر لکھی ہوئی کتاب نہیں تھی تو اللہ تعالی پڑھنے پر توجہ دینے پر کیا اپنے الفاظ ضائع کررہے ہیں؟ پھر اس کتاب کا نام دیکھئے "قرآن" ۔ پڑھا جانے والا۔ تو صاحب ، لکھا ہی نہیں تھا تو پڑھا کیسے جاتا۔ آپ کہیںگے کہ یہ وہ پڑھنا نہیں بلکہ یہ کوئی اور پڑھنا ہے۔ اس دوسرے والے پڑھنے کی بھی آیت ملاحظہ فرمائیے تاکہ آپ کو یقین ہوجائے کہ یہ کتاب پڑھنے والا پڑھنا ہی ہے۔ 73:4 أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا یا اس پر کچھ زیادہ کر دیں اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کریں والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
رسول اکرم کا آخری خطبہ ذرا غور سے پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ رسول اکرم صلعم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، 1) اللہ کی کتاب 2) میری سنت۔
یہ اللہ کی کتاب کس صورت میں تھی؟ ہڈیوں، پتھروں اور پتوں پر لکھی ہوئی تحاریر کو کتاب کون کہے گا؟ کبھی آپ نے استنبول میں یا تاشقند میں موجود مصحف کا حجم دیکھا ہے؟ جو کہ کپڑے نما کاغذ پر ہے؟ پتھروں، ہڈیوں اور پتوں پر لکھی ہوئی یہ تحریر کہاں محفوظ رکھی جاتی تھی؟ کسی صندوق میں ؟ جو قرآن حکیم ابوبکر (ر) کے وقت کمپائیل ہوا اس کی بھی شرط یہ تھی کہ اگر کسی کے پاس کوئی آیت ہے جو کہ رسول اکرم کی موجودگی میںلکھی گئی ہو تو وہ شامل ہوگی ورنہ نہیں۔ ان تمام نکات کی موجودگی میںیہ سوچنے کی کیا وجہ ہے کہ قران باقاعدگی سے لکھا ہوا رسول اکرم کی زندگی میںموجود نہیں تھا؟ اگر ایسا تھا قرآن لکھی صورت میں موجود نہیں تھا تو حضرت حفصہ (ر) سے جو قرآن حضرت ابوبکر(ر)ٌ نے منگوایا تھا، جس سے گواہوں کی تحاریر و یادواشت کا موازنہ کیا گیا تھا ، وہ کیا تھا؟ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | rana ammar mazhar (03-12-11) |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
عادل سہیل بھائی السلام علیکم،
برادر من ۔ آپ کی خدمت میں میںپہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ آپ کے سوالات بیانیہ نوعیت کے اور بہت ہی بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ مجھے کسی کے تبصروں پر تبصرہ کرکے کوئی فائیدہ نطر نہیں آتا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ قرآن کی آیات ایک ریفرنس ہیں۔ اگر آپ کے سچ مچ کوئی علمی سوالات ہیں تو اس کو اس طرح لکھئے: قرآن کے معانی کیا ہیں ؟ اور اگر اپ کے پاس اعتراضات ہیں تو ان کو مع دلیل کے لکھئے تاکہ آپ کے پاس معلومات سے سب فائیدہ حاصل کرسکیں۔ جو طریقہ کار آپ اپناتے ہیں، وہ معاف کیجئے گا کسی طور پر نہ معلوماتی دلائل کے زمرہ میںآتی ہے اور نہ ہی سوالات کے زمرہ میں۔ آپ کی تحریر کی مناسب تبدیلی ہم سب کے لیے معلومات کا سبب بنے گی اور مجھے آپ کے سوالات سمجھنے میں بھی آسانی ہوگی۔ اگر آپ نے صرف تبصرہ کرنا ہے تو ضرور کیجئے لیکن کسی سوال کی توقع اسی وقت رکھئے جب اس کو سوالیہ انداز سے لکھا گیا ہو۔ اس سے آپ کی شکائت بھی کم ہوگی اور سب کو آسانی بھی۔ والسلام |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی یہ آپ کے بھاگنے کا آخری انداز ہوتا ہے ، جب آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تو آپ اسی قسم کے باتیں کرتے ہیں ، میری اور آپ بہت سے موضوعات پرہو چکی گفتگو اس کا ثبوت ہے ، ہر دفعہ آپ کو سوال بار ابر لکھ کر دکھائے کہ بھائی جی یہ سوال ہیں ، لیکن آپ نے دیکھنے ہی نہ تھے پس نہ دیکھے کیونکہ جواب نہیں تھا ، بڑے بھائی ، آپ کی اسی کمزوری کے باعث اب میں ہر سوال کے سامنے کئی سوالیہ نشان ڈال دیتا ہوں کہ آپ دیکھ ہی لیں کہ کہاں کہاں سوال ہیں ، فلسفے اور تخیلات کی کوئی حد نہیں ہوتی ، اس تھریڈ میں اپنی ساری باتوں پر غور فرمایے ، کہ خود ہی آپ اپنی ہی کتنی ہی باتوں کی نفی کرتے ہیں ، بھائی جی ، بھاگیے نہیں ، جو چند ایک سوال کیے ہیں ، ان کا مدلل جواب دیجیے ، ہمیں ہڈیاں اور پتے وغیرہ جمع کرنے کا مشورہ دینے پر شکریہ ، بڑے بھائی آپ وہ نسخہ ثابت فرمایے جو کہ آپ کی بالکل انوکھی اور یقینا غلط قران فہمی جو محض لفظی ترجموں کی بنیاد پر سراسر غلط ہے ، خود قران میں بیان کردہ تفسیر ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیان کردہ تفسیر ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی بیان کردہ تفسیر ، تابعین ، تبع تابعین ، امت کے اماموں اور علما کی متفق علیہ تفسیروں کے خلاف ہے ، جس کی بنا پر آپ قران کی آیات کا کچھ سے کچھ مفہوم لیے جاتے ہیں کہ کسی طور الفاظ کی مشابہت اور معنی میں مشابہت آپ کی غلطیوں کو چھپا لے ، شاید مسلمانوں کو یہودیوں سے انگیج کرنے کے لیے یہ ہدف آپ کو دیا گیا ہو ، فاروق بھائی ، سیدہی سادہی بات ہے ، وہ نسخہ قران جو آپ کی غلط اور خود ساختہ قران فہمی کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس تھا جس کو دیکھ کر وہ پڑہتے تھے ، اس کے وجود کا کوئی """ تاریخی """ ثبوت ہی دیجیے ، شاید آپ جانتے ہوں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پڑہنا نہیں جانتے تھے ، اللہ نے بھی اس کی گواہی دی ہے اور یہ ان کو عطا کیے معجزات میں سے تھا کہ اس کے باوجود وہ اللہ کی وحی کے مطابق اللہ کا قران پڑہتے تھے ، بھائی جان ، اگر میرے سوالات کا جواب آپ کے پاس نہیں ، اور یقینا نہیں ، تو بہتر یہی ہے کہ اس موضوع کا پھر سے مطالعہ فرمایے ، اور اللہ کے کلام کو اپنے فلسفوں کی دلیل بنانے کے لیے غلط معانی اور مفاہیم دینے سے گریز کیجیے ، یقین جانیے میرے محترم بھائی ، کسی بھی اور سے پہلے یہ آپ کے لیے فائدہ مند ہو گا ، و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
عادل سہیل صاحب، جب بندہ حد سے گذر جاتا ہے تو اللہ کی کتاب میں نقص نکالتا ہے۔ اب یا یہ نقص میںنکال رہا ہوں یا پھر آپ۔ بھاگنے کے طعنوں کو میںآپ کی بدتمیزی سمجھتا ہوں۔ یہاں آپ اپنی انا کے تحت جیتنے ہارنے ، بھاگنے دوڑنے آتے ہیں۔ جبکہ میں صرف معلومات شئیر کرتا ہوں۔
آپ ایک بار پھر بغور ان روایات کو پڑھئیے۔ اب میں آپ کو آپ کا آئندہ قدم بتاتا ہوں، اب یہ روایات ضعیف ہوجائیں گی جی؟ بہت پرانے حربے ہیں عادل صاحب، چھوڑ دیجئے ۔ اللہ تعالی کے الفاظ سے کھیل کھیلنا اچھا نہیں۔ استدعا ہے اس سے گریز کیجئے۔ نہ یہ ملتے جلتے والی معانی والی آیات ہیں نہ معنوںمیں مشابہت ہے اور نہ ہی یہ ضعیف روایات ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی نے یقیناً اس قرآن حکیم کو آسان عربی زبان میں نازل کیا اور وہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ جو کتاب خود اپنے آپ کو کتاب کہہ کہہ کر مخاطب کرتی ہو، جس کو پڑھنے کا حکم دیتی ہو، اگر وہ کتاب ہی موجود نہیں تھی ، تو کیا مذاق ہورہا تھا؟ پھر اللہ تعالی کے اس بزرگ ترین نبی محترم و مکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن ہی ہم تک مکمل نہ پہنچا پاتے تو ان کا مقصد نبوت پایہ تکمیل تک کیسے پہنچتا۔دیکھئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں قرآن کے باقاعدہ ریکارڈ ہونے کا روایات سے ثبوت۔ Volume 5, Book 58, Number 155: Narrated Qatada: Anas said, "The Quran was collected in the lifetime of the Prophet by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Muadh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit." I asked Anas, "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles." یہ دوسرا حوالہ دیکھئے، Volume 6, Book 60, Number 307: Narrated Zaid bin Thabit: When we collected the fragramentary manuscripts of the Qur'an into copies, I missed one of the Verses of Surat al-Ahzab which I used to hear Allah's Apostle reading. Finally I did not find it with anybody except Khuzaima Al-Ansari, whose witness was considered by Allah's Apostle equal to the witness of two men. (And that Verse was 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah.' میں قران حکیم کی آیات سے اور روایات دونوں سے یہ ثبوت دے چکا ہوں کہ قرآن ایک کتاب کی شکل میںلکھا جاتا رہا، باقاعدہ اوراق پر لیکن چونکہ روایات میں ملاوٹ مقصود ہے لہذا یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قرآن اور حدیث دونوں ہی صرف دلوںمیں تھے، لکھے نیہںگئے تھے۔ ھب کہ حقیقت یہ ہے کہ قران رسول صلعم سے لے کر آج تک لکھا ہوا ثابت ہے اور اولیں قرآن کے نسخے جو کہ حضرت عثمان (ر) کے زمانے کے ہیں، موجود ہیں۔ جبکہ کتب روایات کے بارے میں آپ بخوبی جانتے ہیںکہ ایسا نہیں۔ یہ کتب تو رسول اکرم کی وفات کے 200 سال بعد تک موجود ہی نہیںتھیں۔ ان کےلکھنے والے ہی پیدا نہیں ہوئے تھے اور صاحب اگر نہیں جانتے تو اب جان لیجئے۔ تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن حکیم پڑھئیے، اعوذ و بسم اللہ دونوں کے ساتھ۔ اپنے خیالات و فہم کی تربیت کیجئے۔ ہدایت دینے والے صرف اور صرف اللہ تعالی ہیں ۔ اگر آپ کا اتنا ہی یقین کامل ہے کہ قرآن حکیم رسول اکرم صلعم کی زندگی میں لکھا نہیںجاتا رہا تو آپ اس کا ثبوت قرآن حکیم سے فراہم کیجئے، پیوند لگی روایات سے نہیں جو کہ صحیح اور قرآن سے ثابت شدہ روایات کی تردید کرتی ہیں۔ ان طعنوں اور تشنوں سے کوئی فائیدہ نہیں صاحب، کوئی مناسب دلیل لائیے۔ میں نے تو صرف یہ دیکھا ہے کہ آپ بلا سوچے سمجھے دوسروں کا کیا ہوا کام کٹ اور پیسٹ کرتے رہتے ہیں یا پھر طعنوں سے بحث جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوسروں کے کام کے کٹ پیسٹ کرنے کے بجائے کچھ اصل کام کیجئے۔ آئیے آپ کو میں تھوڑا سا کام دیتا ہوں۔ یقین محکم ہے کہ آپ بھاگ لیں گے ، مجھے آپ محنت کرنے والے نطر نہیں آتے لیکن پھر بھی کوشش کرلیتا ہوں۔ آپ اوپن برہان کی ڈاٹا بیس ڈاؤن لوڈ کیجئے۔ اس میں" قیو ورڈ " کا ایک ٹیبل ہے جس میں عربی کے الفاظ اور انگریزی کے 70 فی صد معانی موجود ہیں جو کہ بندہ نے لکھے ہیں۔ آپ بقایا 30 فی صد معانی اس میں ڈال دیجئے۔ آپ کو عربی بھی آتی ہے اور انگریزی اور اردو بھی۔ عربی الفاظ کے انگریزی معانی کا لنک بھی فراہم کیا ہوا ہے ، صرف معانی لے کر ڈیٹا بیس میں ڈالنے ہیں۔ آپ کو قرآن کے عربی الفاظ کے اردو معانی کا لنک فراہم کرتا ہوں تقریباً دو ہزار الفاظ ہیں آپ ان کو ڈیٹا بیس میں ڈال دیجئے تاکہ آپ کا کچھ فہم بہتر ہوسکے ۔ بھائی مجھے سخت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شروع میںآپ کے مراسلات پڑھ کر آپ کی معلومات کی قدر تھی لیکن اب اندازہ ہورہا ہے کہ آپ کا علم سطحی اور انداز اناپرستی پر محمول ہے۔ اللہ ہم کو اس بے دلیل طعنہ زنی سے بچائے۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 26-10-09 at 06:48 AM. |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (03-12-11), مرزا عامر (22-07-10) |
![]() |
| Tags |
| asia, color, com, hidden, hit, php, کوشش, قرآن, قرآن حکیم, قران, نظر, مکمل, موجودہ, world, آج, ایمان, اللہ, اردو, بھائی, دوست, زندگی, غلط, غلطی, صدیق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد بیوی کے ہاتھوں میاں کی پٹائی کا منظر | گوہر | عمومی بحث | 2 | 15-10-10 08:33 AM |
| میرے ہاتھوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ | سیپ | سیدہ ثوبیہ ناز | 7 | 12-03-09 10:14 AM |
| تمہارے ہاتھوں کے لئے ایک دعا | محمدعدنان | وصی شاہ | 3 | 04-01-09 06:09 PM |
| وقت ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے | محمدعدنان | کرکٹ | 0 | 17-12-08 07:21 AM |
| حیات بٹنے لگی ہے فنا کے ہاتھوں سے | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 01-07-08 06:27 PM |