واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > علوم قرآن کریم



علوم قرآن کریم علوم قرآن کریم


:::::: قران کی حفاظت :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 01:57 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb :::::: قران کی حفاظت :::::::

:::::: قران کی حفاظت :::::::

:::::: قران کی حفاظت :::::::

أعوذ ُ باللہِ السَّمیعِ العَیلمِ مِن الشِّیطٰنِ الرَّجیم و مِن ھَمزہِ و نَفخِہِ و نَفثہ،

قران الکریم دوسری آسمانی کتابوں سے سب سے بلند اور ممتاز اس سبب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کسی تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھنے کا خود ذمہ لیا ہے ، اور اس کا وعدہ فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) سورت الحجر/آیت9،
اللہ تعالیٰ نے قران کو اس بات سے محفوظ فرما دیا کہ اس میں کچھ بڑھایا جاسکے یا کچھ کم کیا جا سکے ، اور اگر اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے قُران کی حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو اس میں بھی تحریف اور تبدیلی کا وہی حال ہوتا جو سابقہ آسمانی کتابوں کا ہوا ، کیونکہ سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے انہی لوگوں کو سونپی تھی جن کی طرف اللہ نے وہ کتابیں اتاری تھیں ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ((((( إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن كِتَابِ اللّهِ وَكَانُواْ عَلَيْهِ شُهَدَاء فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآيَاتِي ثَمَناً قَلِيلاً وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ::: بے شک ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی ہے جس کے ذریعے اللہ پر ایمان لانے والے انبیاء ، اہل اللہ اور عُلماءیہودیوں کے لیے فیصلے کیا کرتے تھے ، کیونکہ انہیں اللہ کی کتاب کی حفاظت کا حُکم دیا گیا تھا ، اور وہ اس پر (اقرار کرتے ہوئے)گواہ تھے ، لہذا (اے یہودیو)تم لوگ ، لوگوں سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت مت کرو، اور جو اللہ کے نازل کردہ (احکام اور ہدایات)کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہ کافر ہیں))))) سورت المائدة/ آیت 44 ،
قران الکریم کو اس عظیم خوبی کے ذریعے دوسری آسمانی کتابوں سے بُلند اور ممتاز کرنے کی حکمت یہ نظر آتی ہے کہ یہ آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے ، آسمانی کتابوں کے سلسلے کو ختم کرنے والی ہے ،
لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لیے ایسے اسباب تیار اور مہیا فرمائے جو اس کے علاوہ کسی بھی اور کتاب کے لیے میسر نہیں تھے اور نہ ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں ، ان شاء اللہ ،
::::::: اِن اسباب میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پہلے بلا فصل خلیفہ ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا قران کولکھا ہوا جمع کرنا تھا ،
::::::: اور اِن اسباب میں سے یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تیسرے بلا فصل خلیفہ عُثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ُ کا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی رضا مندی سے قُران کو ایک کتاب کی صورت میں ثابت شدہ قرأٔتوں کے مطابق جمع فرمایا ، اور پھر اس کے نسخے لکھوا کر تمام ملکوں میں روانہ فرمائے ،اور اس کے علاوہ قُران کے جو بھی لکھے ہوئے حصے تھے انہوں جلوایا دیا تا کہ کسی پریشانی اور اختلاف کا باعث نہ بنیں ،
::::::: اوراِن اسباب میں سے سب سے بڑا اور معجزاتی سبب قُران کو زبانی یاد کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس محیر العقول کام کو مسلمانوں کے لیے اس قدر آسان فرما دیا کہ تاریخ میں کسی قوم کا کسی کلام کی اتنی بڑی تعداد کو حرف بہ حرف تو کیا ایک ایک زیر و زبر کی مطابقت کے ساتھ یاد کرنے کی کوئی مثال نہیں ۔ بلکہ ایسی کسی کوشش کی بھی کوئی مثال نہیں ، بلکہ ایسا کرنے کی سوچ کی بھی کوئی مثال نہیں ،
پس قُران کریم کو یاد کرنے والوں میں کسی کی کوئی تخصیص نہیں ، چھوٹے بڑے ، جوان بوڑھے ، عورت مرد ، عربی عجمی ، کالے گورے ، پیلے سُرخ ہر قسم کے مسلمان اس کو یاد کرتے ہیں ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اس کلام کو سب کے لیے آسان فرما دیا ہے اور اس کی خبر بھی فرمائی ہے ((((( وَلَقَدْ يَسَّرنَا الْقُرآنَ لِلذِّكرِ فَهَل مِن مُدَّكِرٍ ::: اور یقیناً ہم نے قران کو آسان فرما دیا ہے تو ہے کوئی نصحیت پانے اور یاد کرنے والا ))))) سورت القمر/ آیت17. ::::::: قران کریم کی حفاظت کے اس معجزاتی سبب اور طریقے کے ذریعے ہمیں بہت سے گواہ اور ثبوت ملتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما چکا ہے ، یہ واقعہ ہی دیکھیے :::
ایک دفعہ ایک یہودی مامون الرشید کے دربار میں حاضر ہوا اور مامون کے سامنے کچھ گفتگو کی جو بہت ہی بہترین انداز میں تھی ، اس کے انداز کلام اور علم کو دیکھ کر مامون بہت متاثر ہوا اور اس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور اسے مال و عطاء کی رغبت بھی دلائی ، لیکن وہ یہودی یہ کہہ کر چلا گیا کہ """میرے باپ دادا کا دین ہی میرا دین ہے """ ، پھر اگلے سال یہی یہودی مامون الرشید کے دربار میں آیا اور فقہ کے بارے میں بہت اچھے انداز میں بات کی ، مامون نے اس کی باتیں سن کر کہا """ کیا تُم وہی نہیں ہو ؟ """ یعنی وہی جسے میں نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور اُس نےقبول نہیں کی تھی ،
اس نے کہا """ جی ہاں میں وہی ہوں """
مامون نے کہا """ تو پھر(میری دعوت چھوڑ کر اس کے بعد )تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا بنا ؟ """
اُس نے کہا """ میں آپ کے پاس سے نکلا تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان ادیان (تینوں دین) کا امتحان کروں ، آپ جانتے ہیں کہ میری لکھائی بہت اچھی ہے ، لہذا میں نے یہاں سے جانے کے بعد سب سے پہلے تورات کے تین نسخے لکھے اور اُن میں کمی اور زیادتی کی ، پھر انہیں لے کر گرجا میں گیا اور سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر انہیں لے کر بیعۃ (یہودیوں کی عبادت گاہ) میں گیا اور وہ سب نسخے فروخت کر دیے ،
اس کے بعد میں نے قران کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی کمی اور زیادتی کی اور پھر اسے کچھ مسلمانوں کے پاس لے گیا تو انہوں نے ان نسخوں کو لےکر دیکھنا اور پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی بعد انہوں نے وہ نسخے خریدنے کی بجائے مجھے مارنے کے لیے پکڑ لیا ، کیونکہ انہوں نے ان نسخوں میں میری طرف سے کی گئی کمی اور زیادتی کو فوراً ہی پکڑ لیا تھا ، اس طرح مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ یہی کتاب محفوظ ہے اور یہی اس دِین کی حقانیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے ، لہذا میں نے اسلام قبول کر لیا اور مسلمان ہو گیا ،
یہ واقعہ اور اس طرح کے کئی واقعات قران حکیم کے محفوظ رہنے کی ایک مستقل حسی دلیل ہیں جن سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ، پس جو کوئی قران کریم میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی واقع ہو جانے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہی نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر جُھوٹ باندھنے والا ہے اور اللہ کے فرمان کا منکر یعنی کافر ہے ،
اللہ کے آخری اور حتمی دِین کی دو میں ایک بنیادی اساس قران کریم کی لفظی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا اور اللہ تعالی سے بڑھ کر اور کوئی سچا نہیں ، اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اور اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا نہیں ،
اسلام کے دشمنوں نے اپنے تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد یہ جان لیا کہ اللہ کی اس کتاب میں وہ لوگ کسی طرح کی لفظی تبدیلی نہیں کر سکتے نہ کوئی کمی کر کے اور نہ کوئی زیادتی کر کے ، تو انہوں نے قران کے فہم میں معنوی تحریف کا راستہ اپنایا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے ، اور ہیں ،
قران کو سمجھنے کے لیے اپنی اپنی عقل اور رائے ، منطق اور فلسفہ کا استعمال رائج کیا گیا ،ا ور ان کا سب سے پہلا زہریلا پھل یہ نکلا کہ قران کو سمجھنے کا سب سے پہلا ، بنیادی ترین اور درست ترین ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی ،فعلی اور تقریری سُنّت مبارکہ کو قران کے مقابل بنایا گیا اوراُمت مسلمہ کے ہر کس و ناکس کو بظاہر قران کا محب اور قران پر عمل پیرا ہونے کےزعم میں مبتلا کرنے کی کوشش کے ذریعے یہ کج روی سُجھائی جانےلگی کہ وہ اپنی سوچ و فکر کی بنا پر سُنّت کو رد یا قبول کرتا رہے ،
پس ہم ایسے کئی لوگوں کو دیکھتے ہیں جو قران کریم میں مذکور اللہ تبارک و تعالی کے الفاظ مبارک میں سے چند ایک کے بھی لفظی و لغوی معانی نہیں جانتے چہ جائیکہ ان کے احکام اور اللہ کی مراد جانتے ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کو رد کرتے ہیں ، اور قران کی معنوی تحریف کرتے ہیں ، لیکن یہ بھول جاتے ہیں ((((( إِنَّا نَحنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ::: بے شک یہ ذِکر (قران) ہم نے نازل فرمایا ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ))))) میں کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ ہر دور میں اپنے اِیمان والے بندوں میں سے ایسے بندے ظاہر فرماتا رہتا ہے جو اللہ کے کلام کی اس معنوی تحریف کے دجل کو بھی ظاہر کر کے باطل کرتے رہتے ہیں ، اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس آخری کتاب اور اس میں موجود اپنے احکامات کو محفوظ رکھے گا ،
((((( يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ::: چاہتے ہیں کہ اپنے منہوں (کی پھونکیں ) سے اللہ کی روشنی بُجھا دیں اور اللہ انکار کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنی روشنی مکمل کر کے ہی رہے گا بے شک کافر جتنا بھی نا خوش ہوں ))))) سورت التوبہ / آیت 32 ۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو کافروں کی ہر چال سے محفوظ رکھے اورہر شر سے محفوظ رکھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برقی نسخہ """ یہاں """ سے اتارا جا سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
Adeeba (24-10-09), shafresha (22-10-09), فاروق سرورخان (22-10-09), کنعان (14-12-09), مرزا عامر (10-09-10), حیدر Rehan (14-11-09), عبداللہ حیدر (22-10-09)
پرانا 22-10-09, 05:03 AM   #2
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,164
کمائي: 74,695
شکریہ: 8,791
2,967 مراسلہ میں 10,822 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نئے اور پرانے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 23-10-09, 01:18 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم بہت ہی شکریہ جزاک اللہ،
قران ہی ایک محفوظ کتاب ہے، مسلمانوں کو چاہئیے کہ انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب کو ہمیشہ قرآن حکیم فرمان رب عظیم کی کسوٹی پر پرکھیں کہ اس عظیم کتاب کا لفظ لفظ ، ایک بزرگ پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوا۔ صرف یہی کتاب درست یا غلط، حرام و حلال، صحیح و ضعیف کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 23-10-09, 04:00 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم، جزاک اللہ خیرا یا عمی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نئے اور پرانے فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
والسلام علیکم
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھتیجے ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی دُعا قبول فرمائے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 30-10-09, 04:11 AM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم بہت ہی شکریہ جزاک اللہ،
قران ہی ایک محفوظ کتاب ہے، مسلمانوں کو چاہئیے کہ انسانوں کی لکھی ہوئی نئی پرانی کتب کو ہمیشہ قرآن حکیم فرمان رب عظیم کی کسوٹی پر پرکھیں کہ اس عظیم کتاب کا لفظ لفظ ، ایک بزرگ پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوا۔ صرف یہی کتاب درست یا غلط، حرام و حلال، صحیح و ضعیف کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

والسلام
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، و ایاک فاروق بھائی ،
یقینا اس میں کسی شک و شبہے کی گجنائش ہی نہیں کہ قران ہی سب سے مکمل ترین اور محفوظ ترین کتاب ہے اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ اللہ کا کلام ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے ، اور اسی کے مطابق ہمیں کسی بھی اور بات کو پرکھنا ہے ، خواہ وہ کسی کتاب میں لکھی ہو یا ضبط کتابت میں آئے بغیر کسی اور صورت میں محو گردش ہو ،
فرق صرف وہاں سے ہوتا ہے جب قران میں بیان کردہ کسوٹیوں کے مطابق کسی چیز کو پرکھنے کے لیے قران کو انہی کسوٹیوں کی پرکھ چھوڑ کر سمجھا جانے لگتا ہے ، تو پھر مفاہیم کچھ کے کچھ سمجھے جاتے ہیں اور کچھ کا کچھ سمجھائے جاتے ہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اللہ کے کلام کو اللہ کے کلام سے ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ سے سمجھیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی قولی اور عملی تفسیر کی ذمہ داری دی تھی جو انہوں نے اللہ کی عطا کردہ ہدایت اور معصومیت کے ساتھ بہترین طور پر مکمل فرما دی ،
پس قران کریم کو اگر آخری معصوم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ سے ہٹ کر سمجھا جائے گا تو سوائے گمراہی کے کچھ ملنے والا نہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (30-10-09), کنعان (14-12-09), مرزا عامر (10-09-10)
پرانا 30-10-09, 10:12 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم،
ہر منسوب شدہ سنت ، صرف اس وقت صحیح سنت شمار ہوگی جب کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو۔ یعنی اللہ تعالی کے فرمان کے بنیادی فریم ورک پر پوری اترتی ہو۔

آئیے ایسے ایک موضوع پر بات کرتے ہیں جس پر ہم متفق ہیں۔ ایسے تو بہت سے موضوعات ہیں جن پر آپ جانتے ہیں کہ ہم سب میں اتفاق ہے۔ لیکن میں‌آپ کی توجہ کم از کم دو موضوعات کی طرف دلانا چاہوں گا۔

1۔ نکاح و طلاق کا موضوع، جہاں مسلمانوں کے نکاح کرنے کے طریقہ پر اور اس کی شرائط پر ہمارے خیالات ایک ہیں
2۔ متعہ کا موضوع، اس موضوع پر بھی ہم دونوں کا فہم ایک ہے۔

آپ نے درج ذیل روایت بھی پڑھی ہوگی:

Abu Sirma said to Abu Sa'id al Khadri (Allah he pleased with him): 0 Abu Sa'id, did you hear Allah's Messenger (may peace be upon him) mentioning al-'azl? He said: Yes, and added: We went out with Allah's Messenger (may peace be upon him) on the expedition to the Bi'l-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing 'azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allah's Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allah's Mes- senger (may peace be upon him), and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.

اگر کوئی تھوڑا سا بھی رسول پاک کے سوچنے کے انداز کو سمجھتا ہوں تو وہ یہ کہے گا کہ یہ روایات صاف صاف، قرآن کے بہت سارے فرامیں کے خلاف ہے۔

1۔ یہ ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جن سے اللہ تعالی راضی ہے۔ لیکن منسوب کرنے والوں نے ، ان صحابہ (ر) کرام کو قرآن کے فرامین کو نظر انداز کرتے ہوئے دکھایا ہے۔
1۔ منسوب کیا گیا ہے مال غنیمت پر خود ہی فیصلہ کرکے قبضہ کرلیا۔
2۔ مزید منسوب کیا گیا ہے کہ نکاح اور طلاق کے تمام فرامین کو نظر انداز کردیا
3۔ مزید یہ منسوب کیا گیا کہ یہ سوال ایک ایسے کام کے بارے میں ہے جس پر توراۃ‌ میں ممانعت آئی ہے۔
4۔ پھر مزید یہ منسوب کیا گیا کہ رسول اکرم نے نکاح اور طلاق کے فرامین کو بھی نظر انداز کردیا،
5۔ مزید یہ منسوب کیا گیا کہ اس طرح جو عورت محکوم نظر آئے تو اس کو "استعمال" کرلو اس طرح وراثت کے تمام قوانین کو نظر انداز کیا گیا۔
6۔ ایک ایسی ہی روایت میں مزید یہ منسوب کیا گیا کہ آخر میں قرآن کی ایک آیت کی مدد سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ سب کچھ قرآن کی رو سے حلال ہے کہ "حلال کو کیوں حرام کرتے ہو"

نرم دلی سے سوچئیے، یہ ایک ایسی روایت ہے فرامین الہی کے نکاح و طلاق کے مجموعی فریم ورک کے خلاف ہے ۔ یہ روایت نہ صرف اللہ تعالی کی ہتک کرتی ہے، قرآن کہ مذاق اڑاتی ہے، اور رسول اکرم کو قرآن حکیم کے خلاف عمل کرتا ہوا دکھاتی ہے۔ لیکن لکھی اس انداز سے گئی ہے کہ جب مسلمان پڑھے تو "واہ واہ" کرے اور جب مخالف پڑھے تو نفرت کرے۔

تو برادر من، تمام تر احترام کے ساتھ، عرض یہ ہے کہ ، جہاں رسول اکرم کا فرمان سر آنکھوں پر، وہاں دشمنان اسلام کی کاروائیوں پر تیز نظر بھی درکار ہے۔ اس کے لئے واحد کسوٹی ہے جناب قرآن حکیم۔

اللہ تعالی، اپنے بزرگ ترین رسول اکرم کی زبان مبارک سے قرآن حکیم کے ذریعہ، دنیا کے امن کے لئے حکم دیتا ہے کہ ہم باقاعدہ نکاح کریں اور اس کا اہتمام کریں نہ کہ پسند آجانے پر رات کے اندھیرے میں بناء‌ اجازت اور بناء‌نکاح کسی مجبور عورت کو "استعمال " کرلیں۔ اسی طرح فرمان الہی ہے کہ عدت کی مدت عورتیں چھوڑے جانے کے بعد پوری کریں اور مرد ان کی اس دوران کفالت کرے نہ کہ "استعمال " کے بعد رات کے اندھیرے میں گم ہوجائے۔ پھر دنیا کے بزرگ رسول، رسول اکرم جو ان فرامین کے اہتمام کا ذریعہ بنے، ان کو ہی ان احکام کو پامال کرتے دکھایا جائے ، اور احکام کو پامال کرنے والے صحابہ کو دیکھئے کہ کس رتبے والے ہیں۔

ایسی روایات کو جس کسی نے بھی منسوب کیا مسلمانوں پر بہت ظلم کیا۔ یہ وہ آئین ، وہ فرمان الہی نہیں جو رسول اکرم کی زبان سے ادا ہوا۔

آپ اس پر ٹھنڈے دل سے سوچئیے۔ یہ میرے نزدیک ایسی روایتوں میں سے ایک ہے جن کو مسلمانوں کے کردار کو داغدار کرنے کے لئے رسول اکرم سے منسوب کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے تور ہدایت سے روشن فرمائیں۔

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 13-11-09, 11:53 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
شکریہ فاروق بھائی ، آپ نے اپنے فلسفے کے لیے ایک روایت پیش کی ، اس کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے یہ درخواست کروں گا کہ اس روایت کا حوالہ تو عنایت فرمایے ،
اور بھلا ہو گا کہ جہاں یہ روایت ہے وہاں اس کے آگے پیچھے والی اسی موضوع کی دیگر روایات کا بغور مطالعہ فرمایے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،، یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والوں کے میسر کردہ انگلش ترجموں کی بجائے اصل عربی کتابوں میں ملاحظہ فرمایے ،
اور موضوع پر میسر ساری روایات کا مطالعہ فرمایے ،
کچھ شروح کا بھی مطالعہ فرمایے ، اس واقعے کے زمانہ کا بھی پتہ کجیے ،
ان شا اللہ ان معلومات کا حصول بہتری کا سبب ہو گا ،
باقی بات ان شا اللہ آپ کی طرف سے حوالہ دینے کے بعد ، و السلام علیکم
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-11-09), فاروق سرورخان (14-11-09), مسٹر شیف (14-11-09)
پرانا 14-11-09, 07:55 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بناء حوالہ کے آپ کیسے اس سائیٹ تک پہنچ گئے؟ حوالہ تو فراہم کیا ہے۔
یہ ویب سائیٹ یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا پر مسلم سٹوڈینٹ ایسوسی ایشن نے بنائی تھی، اب اس میں یہودی اور عیسائی بھی شامل ہوگئے ہیں تاکہ مذہب کا شعبہ ایک ہی رہے۔

انگریزی حوالہ کے مطابق، یہ صحیح مسلم کی کتاب نمبر 8 اور حدیث نمبر3371 ہے۔

اس کا عربی حوالہ یہ ہے۔

اس عربی حوالہ کے مطابق، اب یہ روایت نمبر 3330 ہے، بیچ کی 41 روایتیں کہاں گئیں کچھ پتہ نہیں۔ اس لئے کہ ان کتب کا کوئی معیار نہیں۔

یہاں (سعودی سائیت پر) یہ کتاب النکاح، حکم العزل کی روایت نمبر 3330 ہے۔
انگریزی حوالہ کے مطابق، ایک جگہ یہ کتاب نمبر 8 ہے اور عربی حوالہ کے مطابق دوسری جگہ کتاب نمبر 16، ایک کتاب میں یہ روایت نمبر 3371 ہے اور دوسری کتاب میں یہ روایت نمبر 3330 ہے۔

ان روایات کی کوئی تک نہیں ایک کتاب سے دوسری کتاب تک نہ تو ترتیب ایک جیسی، نہ متن ایک جیسا اور نہ ہی تعداد ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہی آپ احباب کو بتانے کی کوشش کی ہے۔

ترجمہ سے ملتا جلتا ایک عدد عربی متن یہ ہے۔ اگر مناسب نہیں تو دوسرا فراہم کردیجئے۔ آخر ترجمہ بھی تو کہیں سے آیا ہے؟

‏و حدثنا ‏ ‏يحيى بن أيوب ‏ ‏وقتيبة بن سعيد ‏ ‏وعلي بن حجر ‏ ‏قالوا حدثنا ‏ ‏إسمعيل بن جعفر ‏ ‏أخبرني ‏ ‏ربيعة ‏ ‏عن ‏ ‏محمد بن يحيى بن حبان ‏ ‏عن ‏ ‏ابن محيريز ‏ ‏أنه قال ‏
‏دخلت أنا ‏ ‏وأبو صرمة ‏ ‏على ‏ ‏أبي سعيد الخدري ‏ ‏فسأله ‏ ‏أبو صرمة ‏ ‏فقال يا ‏ ‏أبا سعيد ‏ ‏هل سمعت رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يذكر ‏ ‏العزل ‏ ‏فقال نعم غزونا مع رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏غزوة ‏ ‏بلمصطلق ‏ ‏فسبينا كرائم ‏ ‏العرب ‏ ‏فطالت علينا العزبة ورغبنا في الفداء فأردنا أن ‏ ‏نستمتع ‏ ‏ونعزل فقلنا نفعل ورسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏بين أظهرنا ‏ ‏لا نسأله فسألنا رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏فقال ‏ ‏لا عليكم أن لا تفعلوا ما كتب الله خلق نسمة هي كائنة إلى يوم القيامة إلا ستكون ‏
‏حدثني ‏ ‏محمد بن الفرج مولى بني هاشم ‏ ‏حدثنا ‏ ‏محمد بن الزبرقان ‏ ‏حدثنا ‏ ‏موسى بن عقبة ‏ ‏عن ‏ ‏محمد بن يحيى بن حبان ‏ ‏بهذا الإسناد ‏ ‏في معنى حديث ‏ ‏ربيعة ‏ ‏غير أنه قال فإن الله كتب من هو خالق إلى يوم القيامة


پڑھتے رہئیے انشاء اللہ ، روایات کی کتب کی اصلیت سمجھ میں آنے لگے گی۔

کبھی سوچئیے کہ صحاح ستہ مرتب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کے مرتبین کا خیال ہے کہ روایات کی چھ کتب میں صرف یہی روایات صحیح ہیں؟ کہ صرف انہی روایات کو جو صحیح قرار پائیں "صحاح ستہ" میں شامل کیا گیا ہے؟

رسول اکرم کا فرمایا ہوا بالکل درست لیکن یہ کبھی بھی قرآن حکیم کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ضرورت یہ کہ کہ قرآن کریم کو ان انسانوں‌کی مرتب کی ہوئی کتب کی مدد سے درست ثابت کرنے کے بجائے، ان روایات کو قرآن حکیم کی کسوٹی پر پرکھئی۔ جو کچھ قرآن حکیم کی روشنی میں‌ درست ہے وہ صحیح اور جو کچھ قرآن کی روشنی میں غلط وہ ضعیف موضوع، یعنی کمزور اور من گھڑت ۔

کم از کم کتب روایات کی نشر و اشاعت میں تعداد، متن اور ترتیب کی کمی پر ہی روشنی ڈالئیے۔

اب آپ سب سے استدعا ہے کہ اس کا اردو حوالہ عنایت فرمادیجئیے۔ تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اس کا کتاب نمبر کیا ہے اور روایت نمبر کیا ہے۔ اتنی اہم روایات کہ بہت سے فرقوں کا ان پر قرآن سے بڑھ کر ایما اور نہ ان کی تعداد یکساں ، نہ ان کا متن اور نہ ہی ان روایات کی ترتیب؟؟

یا حیرت !!

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 14-11-09 at 11:34 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 14-11-09, 10:59 AM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,463
کمائي: 45,666
شکریہ: 5,937
1,803 مراسلہ میں 4,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔
حیدر Rehan آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 15-11-09, 11:45 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
بناء حوالہ کے آپ کیسے اس سائیٹ تک پہنچ گئے؟ حوالہ تو فراہم کیا ہے۔
یہ ویب سائیٹ یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا پر مسلم سٹوڈینٹ ایسوسی ایشن نے بنائی تھی، اب اس میں یہودی اور عیسائی بھی شامل ہوگئے ہیں تاکہ مذہب کا شعبہ ایک ہی رہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم فاروق بھائی ،
اُس ویب سائٹ تک رسائی آپ ہی کے سبب سے ہوئی ہے ، آپ نے قران کے نسخوں والے تھریڈ میں اس کے کئی لنکس دیے ، اور میں نے جب ان کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ،
اسلام ایک مذہب نہیں ، دِین ہے ، بھائی جی ، مختلف ادیان کے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے اپنے اپنے دِین کے بارے میں ایک جگہ اکھٹا کرنا تو چلیے مناسب ہوا لیکن یہودی اور مسلم کو میل جول بڑھانے کا سبق دینا اور مسلمان کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار کرنے کے لیے بد دیانتی کا مظاہرہ کرنا کسی بھی طور خیر والا کام نہیں ،اللہ ہم سب کو ہر شر اور فتنے سے محفوظ رکھے۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), فاروق سرورخان (16-11-09)
پرانا 16-11-09, 12:08 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
انگریزی حوالہ کے مطابق، یہ صحیح مسلم کی کتاب نمبر 8 اور حدیث نمبر3371 ہے۔

اس کا عربی حوالہ یہ ہے۔

اس عربی حوالہ کے مطابق، اب یہ روایت نمبر 3330 ہے، بیچ کی 41 روایتیں کہاں گئیں کچھ پتہ نہیں۔ اس لئے کہ ان کتب کا کوئی معیار نہیں۔

یہاں (سعودی سائیت پر) یہ کتاب النکاح، حکم العزل کی روایت نمبر 3330 ہے۔
انگریزی حوالہ کے مطابق، ایک جگہ یہ کتاب نمبر 8 ہے اور عربی حوالہ کے مطابق دوسری جگہ کتاب نمبر 16، ایک کتاب میں یہ روایت نمبر 3371 ہے اور دوسری کتاب میں یہ روایت نمبر 3330 ہے۔

ان روایات کی کوئی تک نہیں ایک کتاب سے دوسری کتاب تک نہ تو ترتیب ایک جیسی، نہ متن ایک جیسا اور نہ ہی تعداد ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہی آپ احباب کو بتانے کی کوشش کی ہے۔

ترجمہ سے ملتا جلتا ایک عدد عربی متن یہ ہے۔ اگر مناسب نہیں تو دوسرا فراہم کردیجئے۔ آخر ترجمہ بھی تو کہیں سے آیا ہے؟

‏و حدثنا ‏ ‏يحيى بن أيوب ‏ ‏وقتيبة بن سعيد ‏ ‏وعلي بن حجر ‏ ‏قالوا حدثنا ‏ ‏إسمعيل بن جعفر ‏ ‏أخبرني ‏ ‏ربيعة ‏ ‏عن ‏ ‏محمد بن يحيى بن حبان ‏ ‏عن ‏ ‏ابن محيريز ‏ ‏أنه قال ‏
‏دخلت أنا ‏ ‏وأبو صرمة ‏ ‏على ‏ ‏أبي سعيد الخدري ‏ ‏فسأله ‏ ‏أبو صرمة ‏ ‏فقال يا ‏ ‏أبا سعيد ‏ ‏هل سمعت رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏يذكر ‏ ‏العزل ‏ ‏فقال نعم غزونا مع رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏غزوة ‏ ‏بلمصطلق ‏ ‏فسبينا كرائم ‏ ‏العرب ‏ ‏فطالت علينا العزبة ورغبنا في الفداء فأردنا أن ‏ ‏نستمتع ‏ ‏ونعزل فقلنا نفعل ورسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏بين أظهرنا ‏ ‏لا نسأله فسألنا رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏فقال ‏ ‏لا عليكم أن لا تفعلوا ما كتب الله خلق نسمة هي كائنة إلى يوم القيامة إلا ستكون ‏
‏حدثني ‏ ‏محمد بن الفرج مولى بني هاشم ‏ ‏حدثنا ‏ ‏محمد بن الزبرقان ‏ ‏حدثنا ‏ ‏موسى بن عقبة ‏ ‏عن ‏ ‏محمد بن يحيى بن حبان ‏ ‏بهذا الإسناد ‏ ‏في معنى حديث ‏ ‏ربيعة ‏ ‏غير أنه قال فإن الله كتب من هو خالق إلى يوم القيامة


پڑھتے رہئیے انشاء اللہ ، روایات کی کتب کی اصلیت سمجھ میں آنے لگے گی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم بھائی ، احادیث کی کتابوں کے مختلف ایڈیشنز میں ارقام کے مختلف ہونے کے بارے میں آپ سے پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے لیکن لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آپ نے اصل کتابوں کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ترجموں اور سوفٹ ایڈیشنز پر ہی انحصار کیے ہوئے ہیں ،
بھائی ، صحیح مُسلم کے ایک ہی باب میں درج روایات جو کہ ایک ہی موضوع پر ہوں اور ایک ہی صحابی کی روایت ہوں انہیں ایک ہی نمبر دیا گیا ہے ،
اب اگر کوئی ہر ایک روایت کو الگ الگ نمبر دینے لگے تو یقینا فرق پڑتا جائے گا ،

آپ نے یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی جس ویب سائٹ کے لنک دیے ہیں ، یہاں بھی اور ایک دوسرے تھریڈ میں بھی وہ اصل نہیں ، وہاں تو مجھے آج روایات تو کیا اصل کتاب کی اندرونی کتب کی ارقام بھی مختلف نظر آئی ہیں ، پس کوئی فاتر العقل ہی ایسی کسی جگہ پر لگائی گئی ارقام کی بنا پر اصل کتابوں کو با عیب سمجھے گا ،
صحیح مُسلم میں """ کتاب النکاح """ کا نمبر سولہ بنتا ہے اور اس میں """باب حکم العزل """ کا نمبر 22 ہے ، اور اس باب میں کل 18 روایات ہیں ، جن میں سے 12 روایت کا نمبر 1438 ہے ،
جیسا کہ میں نے ابھی ابھی لکھا
""""""" صحیح مُسلم کے ایک ہی باب میں درج روایات جو کہ ایک ہی موضوع پر ہوں اور ایک ہی صحابی کی روایت ہوں انہیں ایک ہی نمبر دیا گیا ہے ، """""""
پس یہ 12 روایات ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں ان کی اسناد مختلف ہیں ، لیکن ایک ہی صحابی کی ایک ہی روایت کے طور پر ان کو ایک ہی نمبر دیا گیا ہے ،
اس کے بعد جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی ایک روایت تین اسناد سے مذکور ہے لیکن ہر ایک سند کو الگ نمبر دینے کی بجائے تینوں کو الگ الگ لکھ کر ایک ہی نمبر دیا گیا ہوا ہے ،
اور پھر انہی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت کو تین مختلف اسناد سے ذکر کر کے اسی طرح تینوں کو ایک ہی نمبر دیا گیا ہے ،
یہ صحیح مسلم کی سب سے پہلی اور اصل ترقیم ہے جس پر آج تک """ محدثین اور عُلما """ کا اتفاق ہے ،
اب اگر آپ کے یہودیوں سے گٹھ جوڑ کی دعوت والی ویب سائٹ پر کوئی ""' پڑھا لکھا عالم """ ہر ایک روایت کو الگ الگ نمبر دے کر 1438 سے 3371 بنا دے تو اُس سے پوچھیے کہ اس نے غلط فہمیوں کو مزید نکھارنے کی یہ کوشش کیوں کی ،؟؟؟ شاید یہودیوں سے میل جوڑ بڑھانے کے لیے ایسا کرنے کا کہا گیا ہو ،
آپ نے سعودی عرب کی وزارت شوون الاسلامیہ کی سائٹ کا جو لنک دیا ہے وہاں تو یہ حدیث کسی نمبر کے بغیر نظر آ رہی ہے ، آپ نے وہاں 3330 کہاں دیکھا ہے !!!!!!!!!!!؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
فاروق بھائی چیزوں کو غور سے دیکھا کیجیے ، اور پوری طرح دیکھا کیجیے ،
قران کے نسخوں والے تھریڈ میں بھی آپ نے اسی قسم کی ادھوری معلومات کی بنا پر کچھ فلسفے ظاہر کیے ہیں ان شا اللہ ان کی بات وہیں پر ہو گی ،
صحیح مُسلم کی اندرونی کتابوں کی ترقیم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ آپ کی یہودیوں سے دوستیاں بنانے والی ویب سائٹ نے بد دیانتی سے کام لے کر وہاں ان کتابوں کی ترتیب میں ہیر پھیر کیا ہے ،
وزارت شئوون الاسلامیہ سعودی عرب کی جس سائٹ کا آپ نے لنک دیا ہے اس کو ہی ذریعہ گھوم پھر کر دیکھ لیتے تو صحیح مُسلم کے ابواب کے اصل قدیم عناوین اور ان کی ترقیم کا پتہ چل جاتا ،
اور آپ کی یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی ویب سائٹ کی بد دیانتی کا بھی پتہ چل جاتا کہ وہاں """ کتاب الصلاۃ """ کے بعد کی سات کتابوں کو گول کر دیا گیا ہے اور انہیں اپنے طور """ کتاب الصلاۃ """ میں داخل کر دیا گیا !!!
کیوں ؟؟؟
تا کہ آپ جیسوں کو حدیث کی کتابوں کے بارے میں مشکوک کیا جا سکے ،
ملاحظہ فرمایے ، اور غور فرمایے کہ آپ کن مصادر پر بھروسہ کر کے ساری امت کے بھروسے کے خلاف واویلا کرتے ہیں :::
صحیح مُسلم کی اندرونی کتابیں ::: اصل قدیم عناوین اور ترتیب
یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والی ویب سائٹ کی بد دیانتی والی ترتیب
ایسی حرکت کو نرم سے نرم الفاظ میں """ علمی بد دیانتی """ کہا جاتا ہے ،
جس کسی نے بھی یہ کیا ہے اسے کس نے یہ اجازت دی کہ وہ اپنے طور پر اس قسم کا ہیر پھیر کرے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میں آپ کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں فاروق بھائی کہ آپ نے ایک ایسی جگہ تک پہنچایا جہاں مسلمانوں کے‌خلاف شوگر کوٹڈ لو پوٹنسی پائزن تیار کیا جا رہا ہے ، یعنی سلو پائزننگ کا ایک ورکشاپ بنایا جا رہا ہے ،
اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے آپ کے ذریعے ہی آپ کی درسگاہوں میں سے ایک کی خبر دے دی ، و الحمد و المنۃ ،

،،،،،،،،،،،،، چلیے آپ کے اگلے فرامین کی طرف چلتے ہیں ،،،،،
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (16-11-09), کنعان (14-12-09), طاھر (16-11-09), عبداللہ حیدر (16-11-09)
پرانا 16-11-09, 12:24 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
پڑھتے رہئیے انشاء اللہ ، روایات کی کتب کی اصلیت سمجھ میں آنے لگے گی۔

کبھی سوچئیے کہ صحاح ستہ مرتب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کے مرتبین کا خیال ہے کہ روایات کی چھ کتب میں صرف یہی روایات صحیح ہیں؟ کہ صرف انہی روایات کو جو صحیح قرار پائیں "صحاح ستہ" میں شامل کیا گیا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جی فاروق بھائی پڑھ رہا ہوں ، اور الحمد للہ آپ کے افکار کی اصلیت مزید واضح ہو کر سمجھ میں آ گئی ،
احادیث کی کتابیں مرتب کرنے کی‌ضرورت اس لیے پیش آئی کہ دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں تک ان کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ اس طرح محفوظ ہو کر پہنچے کہ اس میں کم سے کم تبدیلی کا امکان ہو ، لکھی ہوئی با سند روایات ہوں اگر کہیں کوئی اونچ نیچ ہونے لگے تو ایک دوسرے کی یاد داشت کے ساتھ ساتھ لکھے ہوئے نسخوں کی مدد سے جانچ پڑتال کر لی جائے ،
بھائی جی آپ حدیث پاک کی کتابوں اور """ اُس """ کے مرتبین کے بارے میں غلط فہمی کا نہیں بلکہ جہالت کا شکار ہیں ،
صحاح ستہ ایک اصطلاح ہے جسے بہت بعد میں مسلمانوں نے بنایا ،
محدثین اور مححقق عُلما کے ہاں آج تک """ صحاح ستہ """ نامی کسی چیز کو نہیں مانا گیا ،
رہا معاملہ واقعتا احادیث کی روایات کے صحیح ہونے کا تو اس کا دعویٰ امام البخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کیا اور اللہ کی توفیق سے پورا کیا ، اور ان کے بعد امام مسلم نے اور اللہ کی توفیق سے انہوں نے بھی پورا کیا ،
کسی روایت کی درستگی اور نا درستگی کی جانچ کے لیے ایک وسیع علم ہے قواعد و قوانین ہیں جن کی شاید الف ب بھی آپ نہیں جانتے ، مجبورا پھر کہنا پڑتا ہے کہ محترم بھائی جی ، کسی علم کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اس کا تعارف اور اس کی تاریخ کے ابتدائی اسباق ہی سیکھ لیا کیجیے بلکہ آپ کو تو اس سے زیادہ کی شدید ضرورت ہے کیونکہ آپ نے محض اعتراضات ہی وارد کرنا ہوتے ہیں ، جن کی کوئی علمی وقعت نہیں ہوتی ۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), کنعان (14-12-09)
پرانا 16-11-09, 12:34 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

رسول اکرم کا فرمایا ہوا بالکل درست لیکن یہ کبھی بھی قرآن حکیم کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ ضرورت یہ کہ کہ قرآن کریم کو ان انسانوں‌کی مرتب کی ہوئی کتب کی مدد سے درست ثابت کرنے کے بجائے، ان روایات کو قرآن حکیم کی کسوٹی پر پرکھئی۔ جو کچھ قرآن حکیم کی روشنی میں‌ درست ہے وہ صحیح اور جو کچھ قرآن کی روشنی میں غلط وہ ضعیف موضوع، یعنی کمزور اور من گھڑت ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بہت خوبصورت بات ہے کہ """ رسول اکرم کا فرمایا ہوا بالکل درست""" لیکن بھائی میرے ، اقوال رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو پرکھنے کے لیے کسی ایسے شخص کی قران فہمی کو کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا جو بے چارہ """ تسبیح """ کو """ Singing """ سمجھتا ہو ،
جسے قران کے ناسخ و منسوخ ، اسباب نزول ، مطلق و مقید ، خاص اور عام کا کچھ درک نہ ہو ،
جو اپنے ایمان کی خبر گیری کرنے کی بجائے خلاف قران کام کرتے ہوئے لوگوں کے ایمان کا ماتحان لیتا ہو اور ان کے ایمان پر فتوے لگاتا ہو ،
جو انگریزی ترجموں اور علمی بددیانتی والی یہودیوں مکسچرویب سائٹس سے احادیث پڑھ کر سنت رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو قبول و رد کرتا ہو ،
جو ایسے مصادر سے سیکھ سیکھ کر امت کے اماموں اور علما کے کاموں میں نقص نکالتا ہو اور انہیں """ جاہل ملا """ کہتا ہو ،
اور ، ،،،،، اور ،،،،، اور ،،،،،،،
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), کنعان (14-12-09)
پرانا 16-11-09, 12:54 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,523
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں

کم از کم کتب روایات کی نشر و اشاعت میں تعداد، متن اور ترتیب کی کمی پر ہی روشنی ڈالئیے۔

اب آپ سب سے استدعا ہے کہ اس کا اردو حوالہ عنایت فرمادیجئیے۔ تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اس کا کتاب نمبر کیا ہے اور روایت نمبر کیا ہے۔ اتنی اہم روایات کہ بہت سے فرقوں کا ان پر قرآن سے بڑھ کر ایما اور نہ ان کی تعداد یکساں ، نہ ان کا متن اور نہ ہی ان روایات کی ترتیب؟؟

یا حیرت !!

والسلام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
فاروق بھائی ابھی ابھی آپ کی اس حیرت کو دور کرنے کے لیے کچھ باتیں لکھی ہیں انہیں بھی دوبارہ پڑھ لیجیے اور مزید یہ بھی دوباری پڑھ لیجیے :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
اور بھلا ہو گا کہ جہاں یہ روایت ہے وہاں اس کے آگے پیچھے والی اسی موضوع کی دیگر روایات کا بغور مطالعہ فرمایے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،، یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والوں کے میسر کردہ انگلش ترجموں کی بجائے اصل عربی کتابوں میں ملاحظہ فرمایے ،
اور موضوع پر میسر ساری روایات کا مطالعہ فرمایے ،
کچھ شروح کا بھی مطالعہ فرمایے ، اس واقعے کے زمانہ کا بھی پتہ کجیے ،
آپ نے صحیح مسلم کا حوالہ تو دے دیا اورحسب عادت اصل کتاب کو دیکھے بغیر کتب احادیث میں نقص نکالنے کی کوشش بھی کر ڈالی ، لیکن میری ان گذارشات پر غور نہیں کیا ،
ان میں آپ کے حدیث کو خلاف قران قرار دینے کا جواب تھا ، لیکن ،،،،،،،،،،،،،
ایک دفعہ پھر میری ان گذارشات پر غور کرتے ہوئے اصل کتاب کا مطالعہ فرمایے ، حدیث مبارک پر جو اعتراض آپ کی خود ساختہ قرن فہمی میں وارد ہوا ہے ، اگر میرے رب نے چاہا تو رفع ہو جائے گا ،
بھائی جی ، اس پیغام کے آخر میں پہلے بھی بہت بار کہی ہوئی بات میں کچھ اضآفے کے ساتھ یہ کہوں گا کہ بلا علم ، اصل کتب کا مطالعہ کیے بغیر خوامخواہ اعتراضات کرنے میں جو وقت لگاتے ہیں وہ ان کتابوں کے مطالعہ میں لگایے ، اللہ کو اگر منظور ہوا تو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت سے آپ کا سینہ منور فرما دے گا ،
اور ،،،،،، """"""" بھلا ہو گا کہ جہاں عزل والی یہ روایت ہے وہاں اس کے آگے پیچھے والی اسی موضوع کی دیگر روایات کا بغور مطالعہ فرمایے ،
لیکن ،،،،،،،،،،،، یہودیوں سے میل جول بڑھانے کی دعوت دینے والوں کے میسر کردہ انگلش ترجموں کی بجائے اصل عربی کتابوں میں ملاحظہ فرمایے ،
اور موضوع پر میسر ساری روایات کا مطالعہ فرمایے ،
کچھ شروح کا بھی مطالعہ فرمایے ، اس واقعے کے زمانہ کا بھی پتہ کجیے ،،، بلکہ اسی روایت میں لکھا ہوا ہے غور سے پڑہیے ، '"'''''''
اگر اس مطالعہ کے بعد بھی اس حدیث مبارک پر آپ کا اعتراض دور نہ ہو تو بھائی خدمت کے لیے حاضر ہو گا ان شا اللہ ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (14-12-09), کنعان (14-12-09)
پرانا 16-11-09, 01:11 AM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: Houston, Texas
عمر: 54
مراسلات: 3,251
کمائي: 25,774
شکریہ: 6,463
2,601 مراسلہ میں 7,614 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حسب دستور ، کچھ لوگ اصل معاملہ سے دور اور اصل موضوع سے دور ہو کر صرف اور صرف کردار کشی کی کوشش کی ہے۔
جب تک انسان صرف انسان کے نقص نکالتا رہے اور موضوع پر توجہ مرکوز نہ کرسکے اس کو چاہئیے کہ اپنی "عاقلانہ رائے" اپنے آپ تک محدود رکھے۔

میرے محترم بھائی، آپ کےتمام ذاتی حملے ایک طرف رکھ رہا ہوں اور آرہا ہوں واپس اس موضوع پر۔

اصل موضوع تھا۔ کہ ایک خلاف قرآن روایت پیش کی گئی جو کہ انگریزی اور عربی دونوں میں ہے۔ جن لوگوں‌کا یہ کارنامہ ہے کہ رسول اکرم صلعم اور صحابہ کرام (ر) پر اتنا بڑا بہتان باندھا، کہ وہی بزرگ نبی جس پر قرآن حکیم کی شادی و نکاح کی آیات نازل ہوئیں ، وہ اصحابہ جو ان کے اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار۔ ان پر ایسا بہتان کہ ویرانہ میں دو لڑکیاں‌پسند آگئیں اور ان سے فوری فائیدہ اٹھا کر ان صحابہ کو رسول اکرم کے پاس لایا جارہا ہے ، جس کو رسول اکرم درست قرار دے رہے ہیں۔ آپ سمجھانا کیا چاہتے ہیں صاحب؟ یہ وہی نبی ہیں‌جنہوں نے امت مسملہ میں نکاح کی قدریں قائم کیں اور اس روایت کو دیکھئے کہ منسوب کرنے والوں‌نے یہ تمام قدریں یک دم پامال کروادیں؟

کیا یہ جناب کا ایمان ہے کہ یہ کتب قرآن کی آیات کو منسوخ کرتی ہیں؟۔۔ کیا اسی قرآن کو جس میں ناسخ و منسوخ ہیں؟
بلکہ اس جھنجھٹ میں بھی کیوں پڑیں ان کتب کی روشنی میں تو تمام قرآن ہی منسوخ قرار پاتاہے۔ نعوذ باللہ

قرآن حکیم میں کوئی آیت ایسی نہیں جو قرآن کی آیات کو منسوخ کرتی ہو۔ ایسے احکامات ضرور ہیں جو پرانی کتب کے احکامات کو منسوخ کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی آیات کی تنسیخ ، معاذ اللہ۔

نکاح کے احکامات کو معطل کردینے والے یہ بہتان یقیناً ان کتب کے اصل مرتبین نے نہیں باندھے ہونگے، یہ یقینی طور پر دشمناں اسلام کی کاروائی ہے۔ ایسے بہتان باندھنے والوں نے جناب کے خیال میں‌ قرآن کی حفاظت کی؟ توبہ توبہ توبہ توبہ!

رسول اکرم کی سنت سے الحمد للہ یہ ذہن و قلب منور ہیں۔ الحمد للہ ، الحمد للہ

لیکن ان روایات کو جو ایک مرتبیں کو درست اور دوسرے کو غلط معلوم ہوں ، جو نہ عقلی معیار پر پوری اترتی ہوں اور نہ ہی قرآن سے ان کی توثیق ہو پائے ، ان پر کوئی بھی تاویل لے آئیے وہ پڑھنے کے قابل ہی نہیں۔

آپ کو ایک روایت کا اختصاریہ مفہوم عرض‌کرتا ہوں۔
"دعوت اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب رسول اللہ سے مکہ کے سرداروں نے دریافت کیا اے محمد (ص) تمہارے لائے ہوئے دین، اسلام سے ہوگا کیا تو رسول اکرم نے فرمایا ---- ایک نوجوان عورت، عرب کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک سونا اچھالتی چلی جائے گی اور کوئی اس کو کچھ نہ کہے گا ----"

یہ وہ معیار ہے جو ہمیشہ ذہن میں رکھئے ۔۔۔۔ اس معیار کو ذہن میں رکھتے ہوئے سوچئیے کہ کیا یہ عظیم نبی کسی طور بھی ، ایسے جرم کی صریح اجازت دے سکتے ہیں کہ اجنبی عورتوں‌سے بلا کسی کی اجازت کے پسند آنے پر جنسی فائیدہ اٹھایا جائے اور اس کی اجازت رسول اکرم نکاح کے تمام فریم ورک کو ایک طرف اٹھا کر دے دیں؟؟؟؟

بھائی قرآن حکیم کے علاوہ جن کتب پر آپ نے ایمان رکھا ہوا ہے وہ مشکوک مواد سے بھری ہوئی ہیں۔ یاتو مان لیجئے کہ قرآن کا فراہم کردہ نکاح‌کا فریم ورک رسول اکرم نے اس روایات کے ساتھ ساتھ متروک کردیا تھا یا پھر مان لیجئے کہ عزل کی اجازت دینے والی کم از کم یہ ایک روایت قرآن کے احکامات کے خلا ف ہے ۔۔ اور یقینی طور پر یہودی سازش ہے


یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا، جہاں‌ ان روایات کا انگریزی ترجمہ رکھا جارہا ہے اس پر مسلمان ہی کام کررہے ہیں ۔ آپ کو کوئی اعتراض ہے تو ان کو لکھئے۔ ان سے معلوم کیجئے کہ کیا صحیح‌ہے اور کیا درست؟ میں تو ان تمام کتب روایات کو جزوی طور پر مشکوک سمجھتا ہوں

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 16-11-09 at 01:23 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
color, com, فروخت, کوشش, کلام, کتابوں, واقعات, قران, نظر, مکمل, ایمان, امتحان, اسلام, بہترین, حال, خوش, خبر, راستہ, سال, عورت, عقل, عبادت, عربی, عظیم, صحابہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:46 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger